Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ کے اضلاع نوابشاہ، ٹنڈوالہیار اور ٹنڈوجام میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے کرانے کیلئے فوج کی نگرانی میں کرائیں جائیں، محمدحسین رکن رابطہ کمیٹی


سندھ کے اضلاع نوابشاہ، ٹنڈوالہیار اور ٹنڈوجام میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے کرانے کیلئے فوج کی نگرانی میں کرائیں جائیں، محمدحسین رکن رابطہ کمیٹی
 Posted on: 12/28/2015
سندھ کے اضلاع نوابشاہ، ٹنڈوالہیار اور ٹنڈوجام میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے کرانے کیلئے فوج کی نگرانی میں کرائیں جائیں، محمدحسین رکن رابطہ کمیٹی 
کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں سے ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کی اکثریت سے کامیابی ثبوت ہے کہ تمام ظلم و ستم، جبر اور منفی ہتھکنڈوں کے باوجود عوام آج بھی قائد تحریک الطاف حسین اور ایم کیوایم کے ساتھ ہیں، محمد حسین
نوابشاہ کے عوام 30 دسمبر کے بلدیاتی انتخابات میں حق پرستوں کاچیئرمین منتخب کرینگی، سید امین الحق
رینجرز کو تمام سندھ میں آپریشن کرنے کے اختیارات دیئے جائیں تاکہ سندھ سے جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ ممکن ہو
ارکان رابطہ کمیٹی سید امین الحق، اسلم آفریدی، سلیم بندھانی اور دیگر کے ہمراہ محمد حسین کی نوابشاہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب
نوابشاہ:۔۔۔28؍ دسمبر 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے محمد حسین نے مطالبہ کیاہے کہ سندھ کے اضلاع نوابشاہ،ٹنڈوالہیاراورٹنڈوجام میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات شاف اور شفاف طریقے سے کرانے کیلئے فوج کی نگران میں کرائیں جائیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں سے ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کی اکثریت سے کامیابی اس بات کاثبوت ہے کہ تمام ظلم وستم ،جبراورمنفی ہتھکنڈوں کے باوجود عوام آج بھی قائدتحریک الطاف حسین اورایم کیو ایم کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رینجرزکوتمام سندھ میںآپریشن کرنے کے اختیارات دیئے جائیں تاکہ سندھ سے جرائم پیشہ لوگوں خاتمہ ممکن ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز نوابشاہ شاہ پریس کلب میں اراکین رابطہ کمیٹی امین الحق ، اسلم آفریدی،حق پرست رکن سندھ اسمبلی سلیم بندھانی اوردیگرکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔محمدحسین نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت اور سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے جو فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور ملک بھر کے غریب و متوسط طبقے کو حقوق دلانے کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ چاہتی ہے کہ ملک خوشحال ہو اور ترقی یافتہ ہو ،تمام پاکستانیوں کو برابر کے حقوق میسر ہوں ،انصاف کا بول بالا ہواور جمہوریت پروان چڑھتی رہے۔انہوں نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ سمجھتی ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی پر امن ، صاف و شفاف اور غیر جانب دار الیکشن میں پنہاں ہے ۔عوام کو آزادانہ طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا پورا پور ا حق ہونا چاہیئے اور الیکشن کا ایسا ماحول ہو کہ ہر امیدوار مکمل آزادی کے ساتھ اپنی انتخابی مہم جاری رکھ سکے ۔متحدہ قومی موومنٹ نے ہمیشہ ہر اس عمل کی تائید و حمایت کی ہے کہ جس کے ذریعے پر امن، صاف و شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کا عمل ممکن ہو۔محمدحسین نے کہا کہ مورخہ30 دسمبر کو میونسپل کمیٹی نواب شاہ کے لئے بلدیاتی الیکشن منعقد ہورہے ہیں ۔جس میں متحدہ قومی موومنٹ بھرپور حصہ لے رہی ہے ۔ایم کیو ایم نے میونسپل کمیٹی نواب شاہ کے 43وارڈز میں سے 41وارڈز پر اپنے امیدواران نامزد کیئے۔حق پرست امیدواران عوام کے درمیان موجود ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس ضمن میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے کئی پریشانیوں کاسامنا ہے اور ہمیں پر امن ، صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد میں شدید تحفظات درپیش ہیں ،جن کی تفصیلات ہم آپ تمام معزز صحافی حضرات کے توسط سے ارباب اختیار اور عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر میونسپل کمیٹی نواب شاہ کو 46وارڈز میں تقسیم کیا اور مخصوص مفادات کے حصول کے لئے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں میں شامل کیا۔ ہم نے اس غیر قانونی عمل کے خلاف معزز عدلیہ سے رابطہ کیا ۔ معزز عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت سندھ اور الیکشن کمیشن کو پابند کیا کہ قانون کے تحت دیہی علاقوں کو شہری علاقوں سے نکال کر منصفانہ انداز میں حلقہ بندیاں کی جائے مگر اب بھی حکومت سندھ نے الیکشنکمیشن کے ساتھ مل کر غیر منصفانہ حلقہ بندیاں کی ہے جوکہ معزز عدلیہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ہم ایک مرتبہ پھر معزز عدلیہ کے پاس گئے ہیں جہاں ہمیں انصاف ملنے کی پوری امید ہے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ دیگر علاقوں کی طرح میونسپل کمیٹی نواب شاہ کی حلقہ بندیاں بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے پری پول دھاندلی کے منصوبے کا ایک حصہ ہے اور پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح نواب شاہ کی بلدیہ پر قبضہ کیا جائے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے پری پول دھاندلی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں نواب شاہ سمیت پورے ضلع میں پی پی پی کے جیالے پولیس افسران ، اپنے من پسند ریٹرننگ افسران کو تعینات کیا ہے اور ان ریٹرننگ افسران کے ذریعے پولنگ اسٹیشنزبھی تبدیل کرائے گئے ہیں ،پی پی پی کے بھرتی کئے گئے افسران پر مشتمل پولنگ عملے کو تعینات کرکے الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے خاص طور پر پیپلز پارٹی کی جانب سے پولیس افسران کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ ہرصورت میں پیپلز پارٹی کے امیدواران کو کامیاب کرایا جائے۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ الیکشن میں بھی پولیس ،انتظامیہ اور الیکشن عملے کے ساتھ مل کر سیاسی دہشت گردی کی بدترین مثالیں قائم کی۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کے 3کارکنان کو شہید کیا گیا اور درجنوں کارکنان و ہمدردوں کو زخمی کیا گیا ، پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کیئے گئے اور بیلٹ بوکسز کو اٹھاکر لے جایا گیا اور ہمارے پولنگ ایجنٹس پر بدترین تشدد رکر تے ہوئے انہیں اغواء کیا گیا ۔یہی پریکٹس پیپلز پارٹی نواب شاہ کے حالیہ بلدیاتی الیکشن میں بھی کرنا چارہی ہے ۔پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ دھونس ، دھاندلی خوف و دہشت گردی کی فضا قائم کرکے بلدیاتی الیکشن جیتا جائے ۔ابھی کچھ عرصے پہلے نومبر2015میں وارڈ 27سے حق پرست امیدوار عبدالحمید راٹھور کے بہنوئی کو قتل کردیا گیا جس کی FIRبھی درج نہیں کی گئی ۔اس کے علاوہ ہمارے امیدواران ، کارکنان اور ہمدردوں کو الیکشن میں حصہ نہ لینے کے لئے دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ہمیں انتخابی عمل سے دور کیا جارہا ہے مگر نواب شاہ کے غیور حق پرست عوام کا عزم ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کریں گے اور حق پرست امیدواران کو کامیاب کرائیں گے۔محمدحسین نے کہاکہ نواب شاہ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کی تمام تر صورتحال سے آپ کو آگاہ کیا ہے اور آپ کے توسط سے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ملک کے تمام حکام بالا کو بھی آگاہ کررہے ہیں ماضی میں سندھ میں ہونے والے الیکشن اور موجودہ بلدیاتی الیکشن کی صورتحال حقائق اور ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان اور تمام ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نواب شاہ کے حالیہ بلدیاتی انتخابات پاک فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں اور تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر پاک فوج کو تعینات کیا جائے تاکہ صاف و شفاف ،پرامن الیکشن کا انعقاد یقینی ہو۔بعدازاں ایک سوال کے جواب میں محمد حسین نے نوابشاہ میں بلدیاتی انتخابات شاف اور شفاف طریقے سے کرانے کیلئے فوج کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔رینجرز کو پورے سندھ میں اختیارات دیئے جائیں ، ٹارگٹڈ آپریشن کے خلاف نہیں آپریشن بلاتفریق کیا جائے ۔کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کیا جائے رینجرز کو تمام سندھ میں آپریشن کرنے کے اختیارات دیئے جائیں تاکہ سندھ سے جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ ہوسکے۔کراچی کا 85فیصد مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے ، نوازشریف پورے ملک کے وزیراعظم ہیں صرف کسی ایک خطے کے وزیراعظم نہیں تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چاروں صوبوں کو اپنے ساتھ لے کرچلیں ان کو چاہئے تھا کہ جو کراچی پورے ملک کو پال رہا ہے اس کے مسائل کو سمجھیں ، پریس کانفرنس سے رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق نے کہاکہ 30دسمبر کو سندھ کے علاقے نوابشاہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیے جارہے ہیں ،ایم کیو ایم پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس نے سب سے زیادہ خواتین ، غیر مسلم اور سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو الیکشن کے ٹکٹ دیئے ہیں ،انشااللہ تعالیٰ 30دسمبرکوہونیو الے بلدیاتی انتخابات میں نوابشاہ کے عوام حق پرستوں کوووٹ دیکربھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں گے اورڈسٹرکٹ نواب شاہ کاچیئرمین بھی حق پرستوں کا ہی ہوگا۔


English

12/10/2016 8:10:44 PM