Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میری تمنا ہے کہ دنیا سے جاؤں تو میرے لب پر کلمہ طیبہ ہو اور میں عاشقِ رسول ؐکی حیثیت سے مروں۔ الطاف حسین


میری تمنا ہے کہ دنیا سے جاؤں تو میرے لب پر کلمہ طیبہ ہو اور میں عاشقِ رسول ؐکی حیثیت سے مروں۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/27/2015
میری تمنا ہے کہ دنیا سے جاؤں تو میرے لب پر کلمہ طیبہ ہو اور میں عاشقِ رسول ؐکی حیثیت سے مروں۔ الطاف حسین
انسانیت کی پیدائش اوروجودکائنات کامقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیامیں جوچیزیں پیداکی ہیں ہم ان کے بارے میں جانیں، پڑھیں اور سیکھیں
میں بہت گناہ گارانسان ہوں لیکن میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں پیارے نبی ؐ کی تعلیمات پرعمل کروں
میری پوری فلاسفی اوردرس کودیکھیں تواس میں نبی کریم ؐ کی تعلیمات نظرآئیں گی
مجھے اپنی ذات کیلئے نہ کل کچھ چاہیے تھااورنہ آج چاہیے ،میری جدوجہدیہ ہے کہ محروم لوگوں کوان کاحق مل جائے
دورجاہلیت میں عورتوں کوماراجاتاتھا،آج پاکستان میں عورتوں کے منہ پرتیزاب پھینکا جاتا ہے، ان کوبیدردی سے قتل کیا جاتا ہے، ہمارے مفتی اعظم کہاں سورہے ہیں؟
پاکستان میں سوائے الطاف حسین کے کوئی بھی طالبان،القاعدہ اور داعش کے خلاف نہیں بولتا
جماعت اسلامی کی خواتین درس کے نام پر بہکاتی ہیں ،خواتین ان کے درس میں نہ جائیں بلکہ ان کا سوشل بائیکاٹ کریں
کتنے ہی بڑے مقام پر کیوں نہ پہنچ جاؤ لیکن کبھی غرور وگھمنڈ میں مبتلا نہ ہونا، کیونکہ غرور و گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں
جناح گراؤنڈعزیزآبادمیں ایم کیوایم کے زیراہتمام منعقدہ ’’ محفل ذکرمصطفےٰ ﷺ ‘‘ سے فون پر خطاب
اجتماع میں مختلف مکاتب فکرکے جیدعلمائے کرام،مشائخ عظام،ممتاز ثناء خوانوں، مذہبی اسکالرز اور ہزاروں افراد کی شرکت 
لندن ۔۔۔ 27 دسمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میری تمناہے کہ میں دنیاسے جاؤں تومیرے لب پر کلمہ طیبہ ہواورمیں عاشقِ رسول ؐ کی حیثیت سے مروں۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کی شب جناح گراؤنڈعزیزآبادمیں ایم کیوایم کے زیراہتمام منعقدہ ’’ محفل ذکرمصطفےٰ ﷺ ‘‘ سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے جیدعلمائے کرام،مشائخ عظام،ممتاز ثناء خوانوں، مذہبی اسکالرز اور ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔یہ روح پرورمحفل ذکرمصطفےٰ ؐ فجرکے وقت تک جاری رہی جس میں علمائے کرام اورمذہبی اسکالرزنے نبی کریم ؐ کی سیرت طیبہ پرروشنی ڈالی جبکہ ثناء خوانوں نے حضوراکرمؐ کی شان میں گلہائے عقیدت پیش کئے جبکہ قوالوں نے نعتیہ اورعارفانہ کلام پیش کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج کی محفل جس مبارک ہستی کے نام پر ہے اس جیسی ہستی آج تک دنیامیں پیدانہیں ہوئی ۔یہ مبارک ہستی سرکاردوعالم حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کی ہے جو 12ربیع الاول کوحضرت بی بی آمنہ کے لعل کی صورت میں اس دنیامیں تشریف لائی۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے محسن انسانیت بناکربھیجاجنہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت مانگی۔ سرکاردوعالمؐ غارحرامیں جاکرعبادت کیاکرتے اوربرسوں وہاں عبادت میں مشغول میں رہے۔ ایک روزاللہ کے برگزیدہ فرشتے حضرت جبرائیل تشریف لائے اوراللہ کی وحی پیش کی ’’ اقرا باسم ربک الذی خلق ‘‘ یعنی ’’ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے آپ کوپیداکیا‘‘ ۔ اس پہلی وحی کاپہلا لفظ ’’اقراء ‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’ پڑھ ‘‘۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سمجھتاہوں کہ انسانیت کی پیدائش اوروجودکائنات کامقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتاتھاکہ اس نے دنیامیں جوجوچیزیں پیداکی ہیں ہم اس کے بارے میں جانیں، پڑھیں، سیکھیں۔اسی لئے قرآن مجیدکی ایک اورآیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ ’’اورہم نے زمین اورآسمان کومسخرکردیا ، اورنشانیاں ہیں علم والوں کے لئے ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سرکاردوعالم ؐ نے جس زمانے میں حق کی تبلیغ شروع کی اس زمانے میں عرب دورجاہلیت میں تھاجہاں بچیوں کوپیداہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا لیکن نبی کریمؐ نے تعلیم دی کہ بیٹیاں تواللہ کی رحمت ہوتی ہیں، مبارک ہوتی ہیں انہیں ماردیناسراسرظلم ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ14سوسال گزرگئے،اس دوران ہم نے کیاسیکھا، کیاپڑھا ،بعض علمائے کرام نے ظلم کے خلاف آوازاٹھائی لیکن جس طرح علمائے کرام اورمفتیان کرام کوآوازاٹھانی چاہیے تھی اس طرح نہیں اٹھائی۔میں پاکستان کے مفتی اعظم کومفتی اعظم نہیں مانتاکیونکہ اگروہ واقعی مفتی اعظم ہوتے توپاکستان میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھی فتویٰ جاری کرتے۔ حضورؐ کے زمانے مین بچیوں کوزندہ دفن کردیاجاتاتھا، اس پاکستان کے صوبہ سندھ میں کاروکاری کے نام پر بچیوں کوزندہ دفن کردیاجاتاہے،بلوچستان میں پانچ عورتوں کوایک سردارنے زندہ دفن کردیااوروہ اسمبلی میں کھڑے ہوکرفخر سے کہتا ہے کہ یہ ہماری روایت ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرمیں مفتی اعظم ہوتاتومیں صدریاوزیراعظم کوحکم دیتاکہ اس کوپکڑواورچوک پرسزادو۔ دورجاہلیت میں عورتوں کوماراجاتاتھا،آج پاکستان میں عورتوں کے منہ پرتیزاب پھینکاجاتاہے، ان کوبیدردی سے قتل کیاجاتاہے، ہمارے مفتی اعظم کہاں سورہے ہیں؟ اگر مفتی اعظم صدر،وزیراعظم یاحکومت سے ڈرتے ہیں مگرخداسے نہیں ڈرتے تووہ جعلی مفتی اعظم ہیں۔میں سچ بولتاتھا، بولتاہوں اورسچ ہی بولتارہوں گاچاہے میرے ساتھ ایک آدمی بھی نہ رہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ طالبان، القاعدہ اورداعش اسلام کے نام پر گھروں میں گھس کرماں باپ کوایک طرف کرتے ہیں اوران پردباؤ ڈالتے ہیں کہ لڑکیوں کی شادی مجاہدین کے ساتھ کروورنہ تمہیں قتل کردیں گے۔آخریہ کونسااسلام ہے؟پاکستان میں سوائے الطاف حسین کے کوئی بھی طالبان،القاعدہ اور داعش کے خلاف نہیں بولتا، میں چیخ چیخ کرکہتارہاکہ طالبان کراچی میں اپنے ٹھکانے قائم کررہے ہیں،طالبانائزیشن ہورہی ہے ،سب نے اس کا انکار کیا ، آج کراچی کے مضافات میں طالبان اورکالعدم تنظیموں نے اپنے مضبوط اڈے قائم کرلئے ہیں جہاں طالبان نے اپنی عدالتیں قائم کرلی ہیں۔وہاں پولیس ، رینجرزاوردیگرسرکاری اہلکارداخل نہیں ہوسکتے ۔یہ طالبان اورکالعدم تنظیموں کے لوگ اب شہرکے اندرونی علاقوں میں بھی پھیلناچاہتے ہیں۔انہوں نے اجتماع کے حاظرین کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرطالبان اورداعش نے شہرپرقبضہ کرنے کی کوشش کی تونوجوان اوربزرگ ہی نہیں بلکہ ماؤں بہنوں کوبھی میراساتھ دیناہوگا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم کسی بھی فقہ، مسلک،مذہب یاکمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ انہیں اپنابھائی سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ انہیں بھی شہرمیں اپنے عقائدکے مطابق زندگی گزارنے کاحق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اسماعیلی کمیونٹی کااحترام کرتے ہیں ا ورانہیں اپناحصہ سمجھتے ہیں لیکن کچھ دنوں قبل صفوراگوٹھ کے علاقے میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے کئی بے گناہ عورتوں، بچوں، نوجوانوں ، بزرگوں کو شہید کردیا لیکن بعض شیطان صفت اینکرزنے نام لئے بغیراس کاالزام بھی ایم کیوایم پرڈالنے کی کوشش کی لیکن بعدمیں اس میں جولوگ ملوث پائے گئے ان کاتعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے نکلا۔ا س سے قبل القاعدہ کے تمام لوگ بھی جماعت اسلامی والوں کے گھروں سے پکڑے گئے ۔انہوں نے اجتماع میں موجودخواتین کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کی خواتین درس کے نام پر بہکاتی ہیں لہٰذا ان کے درس میں نہ جائیں بلکہ ان کا سوشل بائیکاٹ کریں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے پیارے نبیؐ نے امت کویہ درس دیاکہ کسی کی عبادت گاہ کوپتھرنہ مارناکیونکہ اگرتم کسی کی عبادت گاہ کوپتھر مارو گے تو جواب میں وہ بھی تمہاری عبادت گاہ پرپتھرماریں گے۔ حضوراکرمؐ کاعمل تویہ تھاکہ ایک غیرمسلم عورت آپؐ پر روزانہ کچراپھینکاکرتی تھی، ایک دن اس نے کچرانہ پھینکاتوآپ ؐ نے معلوم کیاکہ آج اس عورت نے کچراکیوں نہ پھینکا؟معلوم کرنے پر پتہ چلاکہ وہ عورت بیمارہے توآپؐ اس کی عیادت کرنے اس کے گھرچلے گئے ۔آپؐ کایہ عمل دیکھ کروہ عورت آپؐ پر ایمان لے آئی۔ آپؐ تبلیغ اسلام کیلئے طائف گئے تووہاں کفارنے شرارتی بچوں کے ذریعے آپ پراس قدر پتھربرسائے کہ آپؐ لہولہان ہوگئے ۔ آپؐ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے ۔اس موقع پر جبرائیل تشریف لائے اورآپؐ سے کہا’’ اگرآپ ؐ کہیں تو دونوں پہاڑوں کوآپس میں ملادوں کہ یہ لوگ ختم ہوجائیں ‘‘ ۔ اس پرآپؐ نے فرمایا’’ نہیں، یہ لوگ نادان ہیں، یہ مجھے نہیں جانتے۔مجھے یقین ہے کہ کل یہی نادان لوگ ایمان لائیں گے‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرانبیؐ تو معاف کرنے والاتھا، دوسروں کی دکھ تکالیف دورکرنے والاتھا، بھوکوں کوکھانا کھلانے والاتھا۔آپ ؐ جس بات کی تلقین دوسروں کوکرتے پہلے اس پرخودعمل کرتے،آپ ؐ نے اگرمسجدکی تعمیرکے موقع پر صحابہ کرامؓ کوبھوک سے بچنے کے لئے پیٹ پر پتھرباندھنے کوکہاتوخودبھی پیٹ پرپتھرباندھے۔ آپؐ جوخودکھاتے وہی صحابہ کرامؐ کوکھلاتے تھے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں بہت گناہ گارانسان ہوں لیکن میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں پیارے نبی ؐ کی تعلیمات پرعمل کروں۔میری پوری فلاسفی اوردرس کودیکھیں تواس میں نبی کریم ؐ کی تعلیمات نظرآئیں گی ۔جوساتھی 1978ء سے میرے ساتھ ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں جودرس ساتھیوں کودیتاہوں اس پر خودبھی عمل کرتا ہوں ، میں آج بھی میں جو خود کھاتا ہوں وہی ساتھیوں کوکھلاتاہوں ۔میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کس طرح اللہ اوراس کے محبوب رسول ؐ کوراضی کرسکوں۔ میری تمناہے کہ میں دنیاسے جاؤں تو میرے لب پر کلمہ طیبہ ہواورمیں عاشقِ رسول ؐ کی حیثیت سے مروں۔ مجھے اپنی ذات کیلئے نہ کل کچھ چاہیے تھااورنہ آج چاہیے۔میری جدوجہدتویہ ہے کہ محروم لوگوں کوان کاحق مل جائے، مجھے اپنے لئے جائیدادیں اورمحلات نہیں چاہئیں،مجھے ہربے گھرانسان کے لئے ایک چھوٹاساگھرچاہیے جہاں وہ اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ عزت سے رہ سکے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ وقت کی باطل اورشیطانی قوتوں نے اپنی طاقت کااستعمال کرکے ایم کیوایم کوختم کرنے کی کوشش کی،میرے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکیا،لاپتہ کیا،اسیرکیا ، ہر قسم کاظلم وستم کیا۔اگرسرکاردوعالم ؐ کاکرم نہیں ہوتاتوآج ایم کیوایم صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہوتی لیکن یہ سرکاردوعالم ؐ کا کرم ہے کہ ایم کیوایم کوختم نہیں کیا جاسکا ۔میرے خلاف طرح طرح کے زہریلے پروپیگنڈے کئے گئے لیکن اللہ کا کرم ہے کہ اس کے باوجود میری فلاسفی پورے ملک میں پھیل رہی ہے ، میں نے کارکنوں میں سے قیادت نکالنے کی جومثالیں پیش کی ہیں اس کے اثرات آج ہرجگہ پھیل رہے ہیں اورہرسیاسی جماعت میں اب کارکنان اپنی قیادت کے سامنے یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ الیکشن میں کارکنوں کو ٹکٹ دیئے جائیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں کوہمیشہ یہ تعلیم دی کہ چاہے کتنے ہی بڑے مقام پر کیوں نہ پہنچ جاؤلیکن کبھی غروروگھمنڈ میں مبتلانہ ہونا، کیونکہ غروروگھمنڈاللہ تعالیٰ کوپسندنہیں۔میں نے اپنے ذمہ داروں کوہمیشہ یہی درس دیاکہ تمہارامقام تحریک اورکارکنوں کی بدولت ہے لہٰذاکبھی کارکنوں کادل نہ دکھانا، ان کے ساتھ پیارسے پیش آنا۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام علمائے کرام، مشائخ ، مذہبی اسکالرز، ثناء خوانوں اورقوالوں کاشکریہ اداکیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ اس محفل کاانعقادکرنے اوراسے کامیاب بنانے والے تمام افراداوران کی سات پشتوں کواس کااجرعطافرمائے ۔ 
   

12/8/2016 8:02:27 PM