Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم ملک میں برسوں سے جاری اسٹیٹس کو کا خاتمہ چاہتی ہے،الطاف حسین


ایم کیوایم ملک میں برسوں سے جاری اسٹیٹس کو کا خاتمہ چاہتی ہے،الطاف حسین
 Posted on: 12/21/2015
ایم کیوایم ملک میں برسوں سے جاری اسٹیٹس کو کا خاتمہ چاہتی ہے،الطاف حسین
ایم کیوایم ایسامنصفانہ نظام قائم کرناچاہتی ہے جس میں تمام پاکستانیوں کویکساں حقوق حاصل ہوں
اگرملک میں اسٹیٹس کو اسی طرح چلتارہاتویہ اسٹیٹس کو خدانخواستہ ملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا
قومی یکجہتی پیداکرنے اورایک قوم کے تصورکو مضبوط بنانے کیلئے تمام نسلی ولسانی و ثقافتی اکائیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے 
کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیاجائے ،کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نہ کی جائے اورانہیں انکے حقوق دیے جائیں 
گڈگورننس کیلئے لازم ہے کہ پاکستان میں 20صوبے بنائے جائیں،سندھ میں بھی شہری علاقوں پرمشتمل صوبہ بنایاجائے
سندھ میں بلدیاتی انتخابات تو ہوگئے ہیں لیکن حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات چھین لئے ہیں
بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حصول کیلئے تمام شعبوں کے افرادہمارے ساتھ جدوجہدمیں شامل ہوں
غیرمسلم ہونے کی بنیادپر کسی بھی شہری کوقتل کرنا اوراس کی بستیوں اورعبادت گاہوں کو تباہ کرنے کاعمل سراسر ظلم ہے
تمام مذاہب اورعقائد کے ماننے والوں کواپنے عقائدکے مطابق عبادت کرنے اورزندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے
ڈیفنس میں سابق رکن قومی اسمبلی اخلاق حسین عابدی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجتماع سے فون پر خطاب
لندن ۔۔۔ 21 دسمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم ملک میں برسوں سے جاری اسٹیٹس کو خاتمہ چاہتی ہے، ایم کیوایم پاکستان میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ کرکے ایسامنصفانہ نظام قائم کرناچاہتی ہے جس میں تمام پاکستانیوں کویکساں حقوق حاصل ہوں اور شہریوں کے درمیان رنگ،نسل ، زبان، فرقہ، مسلک اورمذہب کا امتیاز ختم کرکے سب کے ساتھ مساوی سلوک کیاجاتاہو۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارگزشتہ روز ڈیفنس میں سابق رکن قومی اسمبلی اورڈیفنس کلفٹن ریزیڈینٹس کمیٹی کے رکن اخلاق حسین عابدی کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک اجتماع سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں وکلاء ،انجینئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز،ریٹائرڈبیوروکریٹس اورمختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ٹیکنوکریٹس نے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جمہوریت کاحقیقی مطلب یہ ہے کہ ’’ حکومت ، عوام کی ، عوام کے لئے اورعوام میں سے ‘‘ مگر پاکستان میں بدقسمتی سے جمہوریت کامطلب یہ بنا ہوا ہے کہ ’’ حکومت فیوڈلز کی ، فیوڈلز کیلئے اورفیوڈلزمیں سے ‘‘۔ قیام پاکستان کے بعدسے مراعات یافتہ طبقہ کے چندخاندان ہردورمیں چہرے بدل بدل کر ملک پر حکمرانی کررہے ہیں، کسی بھی جماعت کی حکومت ہو،ملک پر انہی چند خاندانوں کی حکمرانی ہوتی ہے، ایم کیوایم کی جدوجہدکسی بھی قوم کے خلاف نہیں بلکہ اسٹیٹس کو کے خلاف ہے ۔ایم کیوایم مظلوم طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے اورباصلاحیت افرادکو ملک کے ایوانوں میں پہنچاکرانہیں بااختیار بنانا چاہتی ہے ، ایم کیوایم ملک کے عام آدمی کی حالت بہتربناناچاہتی ہے اوراسی کیلئے جدوجہدکررہی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اگرملک میں یہ اسٹیٹس کو اسی طرح چلتا رہایہ اسٹیٹس کو توقائم رہے گالیکن خدانخواستہ ملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچ جائے گا۔اسلئے ملک کوبچانے کیلئے اسٹیٹس کوکاخاتمہ ضروری ہے ۔ انہوں نے حاظرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے پڑھے ،لکھے ،باصلاحیت اورپروفیشنلز ہونے کی حیثیت سے آپ کابھی فرض ہے کہ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری اس اسٹیٹس کو کے خاتمے کیلئے آپ بھی اپنے فرض کوپہچانیں اورملک میں صحیح اورسچی جمہوریت کے قیام اورمحروم ومظلوم عوام کوبااختیار بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میراتعلق ایک لوئرمڈل کلاس خاندان سے ہے اور میں یہ بات کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتاکہ میں نے طالبعلمی کے زمانے میں رمضان المبارک میں عیدکارڈزاورگارمنٹس کے اسٹال لگائے،میں بنیادی طورپرایک فارماسسٹ ہوں لیکن میں نے بچوں کوٹیوشن پڑھا ئی اوراس سے حاصل ہونے والے پیسوں سے ا پنی تعلیم مکمل کی ۔کراچی یونیورسٹی میں تعلیم شروع کی تو وہاں تمام قومیتوں کی طلبہ تنظیمیں دیکھیں اورجامعہ کراچی میں ہاسٹل بھی تمام قومیتوں کی طلبہ تنظیموں کیلئے مخصوص تھے ، میں نے بڑی مشکل سے ہاسٹل میں کمرہ لیاتوایک لسانی طلبہ تنظیم نے میراسامان ہاسٹل سے نکال کر پھینک دیااورمجھے ماراپیٹا۔یونیورسٹی میں تمام قومیتوں کے طلبہ اپنی شناخت کی بات کرتے تھے لیکن مہاجروں کی کوئی شناخت نہیں تھی اور مہاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اورحق تلفیوں کے خلاف آوازاٹھانے والی کوئی طلبہ تنظیم نہیں تھی چنانچہ میں نے مہاجرطلبہ تنظیم ’’ آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن‘‘ قائم کی جس نے آگے چل کرایم کیوایم کوجنم دیا۔ 
Ethenic Diversities یعنی مختلف نسلی ولسانی وثقافتی اکائیوں کی علیحدہ علیحدہ شناخت کے تصور کے موضوع پراظہارخیال کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ دنیاکے کسی بھی ملک یاکسی بھی جغرافیہ میں صرف اورصرف ایک زبان بولنے والے آبادنہیں ہوتے بلکہ وہاں کم ازکم دویاتین بڑی زبانیں بولنے والے آبادہوتے ہیں لیکن اگرکسی بھی جغرافیہ میں آبادمختلف زبانیں بولنے والے اورمختلف ثقافتیں رکھنے والے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے اور کسی کیساتھ بھی کوئی امتیازنہ برتاجائے تووہاں Ethno Linguistic Cultural Pluralism یعنی نسلی ولسانی ثقافتی اتحادو ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے لیکن اگروہاں آبادنسلی ولسانی وثقافتی اکائیوں کے ساتھ برابری کاسلوک نہ کیاجائے، ان کے درمیان زبان و ثقافت کی بنیادپر تفریق کی جاتی ہو توعدم مساوات، امتیازاورتفریق کے اس عمل کی وجہ سے وہاں Ethno Linguistic Cultural Particularism یعنی نسلی ولسانی ثقافتی شناخت کا تصورمضبوط ہوتاہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کوئی بھی قوم مختلف ذیلی قومیتوں کامجموعہ ہوتی ہے ، اگرسب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتوذیلی قومیتوں کاتصور کمزور اورایک قوم کاتصورمضبوط ہوتاہے،لیکن اگر ذیلی قومیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجائے توایسی صورت میں ایک قوم کاتصورکمزور اورذیلی قومیتوں کا تصورمضبوط ہوتاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ دنیاکے ہرملک میں کم ازکم دویاتین بڑی زبانیں بولنے والے آبادہیں لیکن زبان اورثقافت کے فرق کے باوجود وہ وہاں چین وسکون کے ساتھ رہتے ہیں اورزبان یاثقافت کی بنیادپر ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جاتی ۔لہٰذا ان کے ہاں نیشنل ازم پایاجاتاہے ۔ پاکستان میں بھی مختلف زبانیں بولنے والے اورمختلف قومیتیں آبادہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں مختلف نسلی ولسانی وثقافتی اکائیوں کے درمیان یکسا ں سلوک نہیں کیاجاتا ، اس امتیازی سلوک کے باعث ملک میں Ethno Linguistic Cultural Particularism یعنی نسلی ولسانی ثقافتی شناخت اوران کے حقوق کی آوازیں بلندہورہی ہیں اورقومی یکجہتی کاتصور دن بدن کمزورہورہا ہے۔پاکستان میں قومی یکجہتی پیداکرنے اورایک قوم کے تصورکو مضبوط بنانے کیلئے Ethno Linguistic Cultural Pluralism یعنی نسلی ولسانی ثقافتی اتحادو ہم آہنگی کوفروغ دیناہوگااوراس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میںآبادتمام نسلی ولسانی و ثقافتی اکائیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے ،کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیاجائے ،کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نہ کی جائے اورانہیں انکے حقوق دیے جائیں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں نے پاکستان بنایالیکن وہ آج تک اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، ہم اپنی شناخت سے محروم رہے لیکن آج ہم یہ کہنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں کہ برسوں کی جدوجہداورہزاروں شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت 1996ء میں عالمی سطح پر مہاجرو ں کی شناخت کوتسلیم کرلیاگیا اورآج اقوام متحدہ کی دستاویزمیں جب پاکستان کی دیگر ذیلی قومیتوں کاذکرکیاجاتاہے وہیں مہاجروں کابھی ذکرکیاجاتاہے اورٹائمزسمیت تمام انٹرنیشنل مستندجریدوں میں مہاجروں کی شناخت کاذکرہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے محروم مہاجروں کے حقوق کے لئے جدوجہدکی توہمارے ہزاروں ساتھیوں اورمیرے بڑے بھائی اوربھتیجے کوشہیدکردیاگیااورہم پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے ،ہم مایوس نہیں ہوئے اورآج بھی اپنی پرامن جدوجہدکررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں گڈگورننس کے لئے لازم ہے کہ پاکستان میں 20صوبے بنائے جائیں،سندھ میں بھی شہری علاقوں پرمشتمل صوبہ بنایاجائے، اس شہری صوبے میں تمام زبانیں بولنے والوں کورنگ ،نسل، زبان ، مسلک اورمذہب کے امتیاز کے بغیرمساوی حقوق حاصل ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ گڈگورننس کے لئے وفاق سے صوبوں اورصوبوں سے بلدیاتی اداروں تک اختیارات کی منتقلی لازمی ہے ، سندھ میں بلدیاتی انتخابات تو ہوگئے ہیں لیکن حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات چھین لئے ہیں۔ان اختیارات کے حصول کیلئے تمام شعبوں کے افرادہمارے ساتھ جدوجہدمیں شامل ہوں تاکہ آنے والے میئراورڈپٹی میئر شہریوں کی بہتراندازمیں خدمت کرسکیں۔انہوں نے حاظرین سے کہاکہ کراچی آپ سب کاہے ، آپ سب میئرکے ساتھ ملکرشہرکی بہتری اورتعمیر وترقی کے لئے کام کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ایک لبرل اور پروگریسوجماعت ہے جومذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہے ،ایم کیوایم فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورمذہبی رواداری پر یقین رکھتی ہے ، ہم تمام مسالک اور مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرتے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام مذاہب اورعقائد کے ماننے والوں کواپنے عقائدکے مطابق عبادت کرنے اورزندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے ، غیرمسلم ہونے کی بنیادپر کسی بھی شہری کوقتل کرنا اوراس کی بستیوں اورعبادت گاہوں کو تباہ کرنے کاعمل سراسر ظلم ہے، ہم اس کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں،بین الاقوامی حالات وواقعات اوران کے پاکستان پرپڑنے والے اثرات کابھی جائزہ لیناچاہیے۔اس موقع پر انہوں نے حاظرین کے مختلف سوالوں کے جوابات بھی دیے ۔ قبل ازیں ایم کیوایم کے نامزدمیئرکراچی وسیم اختر، رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹرعبد القادر خانزادہ، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی اورڈی سی آرسی کے رکن اخلاق حسین عابدی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
تصاویر

9/26/2016 7:11:28 PM