Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ٹھٹھہ کے قریب "کے بی فیڈر کینال" میں بڑے پیمانے پرمردہ جانوروں کی موجودگی اوراس کے باعث شہریوں میں وبائی امراض پھیلنے کے خدشات پرحق پرست اراکین سندھ اسمبلی کااظہارِ تشویش


ٹھٹھہ کے قریب "کے بی فیڈر کینال" میں بڑے پیمانے پرمردہ جانوروں کی موجودگی اوراس کے باعث شہریوں میں وبائی امراض پھیلنے کے خدشات پرحق پرست اراکین سندھ اسمبلی کااظہارِ تشویش
 Posted on: 12/21/2015
ٹھٹھہ کے قریب "کے بی فیڈر کینال" میں بڑے پیمانے پرمردہ جانوروں کی موجودگی اوراس کے باعث شہریوں میں وبائی امراض پھیلنے کے خدشات پرحق پرست اراکین سندھ اسمبلی کااظہارِ تشویش 
حکومت سندھ اس سلسلے میں فوری اقدامات کرے اورکراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ محکمہ ایریگیشن، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ کے افسران کو ہدایت جاری کرے،حق پرست اراکین سندھ اسمبلی
کراچی۔۔۔۔21دسمبر 2015
حق پرست ارکان سندھ اسمبلی نے ٹھٹھہ کے قریب "کے بی فیڈر کینال" میں بڑے پیمانے پرمردہ جانوروں کی موجودگی اوراس کے باعث شہریوں میں وبائی امراض پھیلنے کے خدشات پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔اپنے ایک مشترکہ بیان میں ارکین سندھ اسمبلی نے کہاکہ کراچی کو پانی سپلائی کے سب سے بڑے ذریعے کینجھر جھیل کا پانی محکمہ ایریگیشن، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ کی نااہلی اور عدم توجہی کے باعث ٹھٹھہ کے قریب "کے بی فیڈر کینال" میں مردہ جانوروں کی آلائش کاڈھیرلگ گیاہے جبکہ اس مقام پرمختلف قسم کے کیمیکلز پانی میں شامل ہونے کی وجہ سے بھی پانی مسلسل آلودہ اور زہریلا ہوتا جارہاہے جس کے باعث کراچی کے شہریوں میں بڑے پیمانے پر پیٹ ، آنتوں کی بیماریوں کے ساتھ جلدی امراض اور ہیپاٹائٹس "بی" جیسے موذی امراض بھی پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی صفائی اور ان کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے کلورین اوردیگر ادویات کی مد میں کروڑوں روپے کا بجٹ رکھا جاتا ہے ۔کینجھرجھیل سے سپلائی ہونے والے پانی کوچوبیس گھنٹے میں چار سے چھ مرتبہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن محکمہ ایریگیشن، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ کی نااہلی اور عدم توجہی اورکراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے درمیان رابطوں کے فقدان کے باعث کراچی کے شہری مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت سندھ اس سلسلے میں فوری اقدامات کرے اورکراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ محکمہ ایریگیشن، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ کے افسران کو ہدایت جاری کرے کہ کینجھر جھیل کے ذریعے سپلائی ہونے والے پانی کوجراثیم سے پاک کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں تاکہ عوام بیماریوں سے محفوظ رہیں۔

12/3/2016 3:44:14 AM