Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لیاقت علی خان کی شہادت کے وقت ان کی نہ توپاکستان میں کوئی جائیددادتھی جبکہ ان کابینک بیلنس بھی صرف 12سوروپے تھا،رابطہ کمیٹی


لیاقت علی خان کی شہادت کے وقت ان کی نہ توپاکستان میں کوئی جائیددادتھی جبکہ ان کابینک بیلنس بھی صرف 12سوروپے تھا،رابطہ کمیٹی
 Posted on: 12/12/2015
لیاقت علی خان کی شہادت کے وقت ان کی نہ توپاکستان میں کوئی جائیددادتھی جبکہ ان کابینک بیلنس بھی صرف 12سوروپے تھا،رابطہ کمیٹی
لیاقت علی خان کے والدنواب رستم علی خان ہندوستان کے بہت بڑے آدمی تھے اورجنہیں رکن الدین دولہ شمشیرجنگ کاخطاب بھی ملاتھا
لیاقت علی خان 1946کے الیکشن میں میرٹھ سے ہندوستان کی مرکزی قانون سازمجلس کے ممبرمنتخب ہوئے تھے جس الیکشن میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی منتخب ہوئے تھے
ایسی شخصیت پرجس کاماضی حال کھلی کتاب کی طرح ہواس پرکرپشن کے الزامات لگاتے وقت وزیراعلیٰ کوشرم آنی چاہئے
کراچی:۔۔۔12دسمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کے بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے اس کی شدیدالفاظ میں مذمت جس میں سندھ کے وزیراعلیٰ سیدقائم شاہ نے 10 دسمبر2015کوکرپشن کے حوالے ایک سمینارسے تقریرکرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں کرپشن لیاقت علی خان کے دورسے شروع ہوئی ہے،یہ خبرڈان اخباراوردوسرے اخبارات میں بھی 11دسمبرکوشائع کی گئی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہاکہ حقائق کوتوڑموڑکرپیش کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ کے بیان کی شدیدمذمت کرتی ہے۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ہم وزیراعلیٰ کویہ بتاناچاہتے ہیں کہ لیاقت علی خان کے والدنواب رستم علی خان ہندوستان کے بہت بڑے آدمی تھے اورجنہیں رکن دین دولہ شمشیرجنگ کاخطاب بھی ملاتھاوہ ہندوستان کے ایک بڑے جاگیردارتھے ،تاہم لیاقت علی خان نے کبھی بھی اپنے والدکی اس زمین کوکلیم نہیں کیااوراس کے بدلے میں پاکستان میں کوئی زمین حاصل نہیں کی۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ لیاقت علی خان کی شہادت کے وقت ان کی نہ توپاکستان میں کوئی جائیددادتھی جبکہ ان کابینک بیلنس بھی صرف 12سوروپے تھااور جب خان لیاقت علی خان کو غسل دیا گیا تو ان کے بدن پر پہنی ہوئی بنیان میں جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اورایسے ایماندار و دیانتدار قومی رہنما پر کرپشن کا الزام لگانا سرار احسان فراموشی ہے۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ لیاقت علی خان 1946کے الیکشن میں ہندوستان کی مرکزی قانون سازمجلس کے ممبرمنتخب ہوئے تھے اوراسی الیکشن میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی منتخب ہوئے تھے۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایسی شخصیت پرجس کاماضی حال کھلی کتاب کی طرح ہواس پرکرپشن کے الزامات لگاتے وقت وزیراعلیٰ کوشرم آنی چاہئے۔رابطہ کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہاکہ وہ لیاقت علی خان پربے بنیادالزامات پرقوم سے معافی مانگیں۔

9/28/2016 8:40:36 AM