Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اب سندھ میں کوٹہ سسٹم اور کمشنری نظام نہیں چلے گا، میئر ڈپٹی میئر کو تمام بلدیاتی اختیارات دینے ہوں گے۔ الطاف حسین


اب سندھ میں کوٹہ سسٹم اور کمشنری نظام نہیں چلے گا، میئر ڈپٹی میئر کو تمام بلدیاتی اختیارات دینے ہوں گے۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/9/2015
اب سندھ میں کوٹہ سسٹم اور کمشنری نظام نہیں چلے گا، میئر ڈپٹی میئر کو تمام بلدیاتی اختیارات دینے ہوں گے۔ الطاف حسین
اگر بلدیاتی اختیارات نہیں دیئے گئے تو عوام سندھ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے
ہم بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلیں تب بھی ہماری جیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور اسے دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے
کولیشن میں ہماری اکثریت ہونے کے باوجود مہاجر چیف منسٹر نہیں بنایا جاتا بلکہ مخلوط حکومت میں اقلیت رکھنے والے کو چیف منسٹر بنایا جاتا ہے، تعصب ہم کررہے ہیں یا ہمارے ساتھ تعصب ہورہا ہے؟ 
اب ملک میں چارصوبے نہیں چلیں گے بلکہ بہترانتظام حکومت کے لئے 20صوبے بنانے ہوں گے
میری تقریرپر توپابندی لگادی گئی ہے لیکن طالبان اورداعش کوکھلے عام سپورٹ کرنے والے مولانا عبد العزیز کو گرفتار نہیں کیا جاتا میں فوج کے خلاف نہیں، انکے خلاف ہوں جو طالبان، القاعدہ اور داعش کی حمایت کرتے ہیں
میرا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ میں نے اس سسٹم کو چیلنج کیا اور کرپٹ پولیٹیکل سسٹم کوختم کرنے کی ابتداء کی 
اگر فوج ایم کیوایم کا جائز طریقے سے ساتھ دے اور ایمانداری سے الیکشن کرائے تو میں پورے ملک سے چور اچکوں کا صفایا کردوں گا
’’یوم شہداء‘‘ کے موقع پر کراچی سمیت سندھ کے 32 مقامات پر منعقد کئے جانے والے اجتماعات سے بیک وقت خطاب
لندن ۔۔۔ 9 دسمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے اسٹیبلشمنٹ اورسندھ حکومت کومخاطب کرتے ہوئے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ اب سندھ میں 40/60 کاکوٹہ سسٹم اورکمشنری نظام نہیں چلے گا، اب میئرڈپٹی میئرکو تمام بلدیاتی اختیارات دینے ہوں گے، اگریہ بلدیاتی اختیارات نہیں دیئے گئے توعوام سندھ حکومت کوچلنے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے یہ بات آج ’’ یوم شہداء ‘‘ کے موقع پر کراچی سمیت سندھ کے 32مقامات پر منعقدکئے جانے والے اجتماعات سے بیک وقت خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس سلسلے کامرکزی اجتماع کراچی میں جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں منعقد کیا گیا جس میں تحریک کے شہداء کے لواحقین سمیت ہزاروں افرادنے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں برصغیرپرانگریزوں کے قبضہ، تحریک آزادی ہند میں ہندوؤں اورمسلمانوں کی قربانیوں، ہندومسلم رہنماؤں اوراکابرین کی جدوجہد، مسلم لیگ کے قیام، تحریک پاکستان کی جدوجہد کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی۔تاریخی حوالے سے انہوں نے کہاکہ انگریزو ں نے برصغیرپر قبضہ کے بعد نظام حکو مت چلانے کے لئے پورے برصغیرمیں جاگیرداروں،زمینداروں اورنوابوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنادیں اوران ریاستوں میں رہنے والے ان کی رعایاہواکرتے تھے اوررعایامیں سے جوبھی ان کے خلاف آوازاٹھایاکرتاتھااسے پھانسی دیدی جاتی تھی ۔انگریزوں کاظلم حدسے بڑھاتو برصغیرمیں آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا،برصغیرکی آزادی کی تحریک میں بڑے بڑے ہندواورمسلم رہنما اور اکابرین شامل تھے جن میں گاندھی، مولاناحسرت موہانی، مولانامحمدعلی جوہر، مولاناشوکت علی، قائداعظم محمدعلی جناح اوردیگربڑے بڑے اکابرین شریک تھے ۔ آزادی کی تحریک چلانے والے رہنماؤں کوگرفتارکرکے جیلوں میں ٹھونساجاتااوران سے وہاں مشقت لی جاتی ۔ ایک طرف پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم جاری تھی اوردوسری طرف برصغیرکی آزادی کی تحریک زورپکڑرہی تھی ۔ انگریزوں نے سوچاکہ اگر مسلمان اورہندوایک ساتھ رہے توکہیں یہ آزادی کے بعد انگریزوں پر ہی چڑھائی نہ کردیں لہٰذا انگریزو ں نے تقسیم ہندکامنصوبہ بنایا،اس منصوبہ کے تحت کانگریس میں وہ ہندولیڈرشامل کئے گئے جوطبیعتاًمسلمانوں سے نفرت وتعصب رکھتے تھے ،ان متعصب ہندؤوں نے ایسے حالات پیداکردیئے کہ قائداعظم محمدعلی جناح کوکانگریس چھوڑکرمسلم لیگ میں شامل ہوناپڑا۔ نہ توقائداعظم علیحدگی چاہتے تھے اورنہ ہی علامہ اقبال چاہتے تھے بلکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ 1930ء میں علامہ اقبال نے جوخطبہء الہ آبادپیش کیااس میں بھی انہوں نے یہی تصورپیش کیاکہ ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں میں جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کی خودمختارریاستیں بنادی جائیں۔اس پر علامہ اقبال کے ایک شاگرد راغبؔ نے اسے علیحدہ وطن کے مطالبے سے تعبیرکیاتوعلامہ اقبال نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔قائداعظم نے بھی مسلمانوں کاجائزحصہ مانگاتھا اوراس کے لئے انہوں نے 14نکات اورمختلف تجاویزبھی پیش کیں لیکن بعض ہندورہنماؤں کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے قائداعظم کوعلیحدہ وطن کامطالبہ کرناپڑا۔ انہوں نے کہاکہ مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی بیش بہاقربانیوں کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوالیکن قیام پاکستان کے فوری بعداسٹیبلشمنٹ میں شامل وہ لوگ جن کی برین واشنگ انگریزوں نے کی تھی انہوں نے اقتدارپرقبضہ کرنے کے لئے پہلے بانیء پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کوقتل کیا، پھرپاکستان کے دست راست اورملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کوراولپنڈی میں قتل کردیا۔ انہوں نے کہاکہ انڈیامیں وہاں کی لیڈرشپ نے آزادی کے فوری بعد سوچاکہ جب تک انگریزوں کی قائم کی ہوئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں اورراجواڑوں کو ختم نہیں کیاجائے گا،عام ہندوستانی کو آزادی حاصل نہیں ہوسکتی لہٰذاانہوں نے فوری طورپر انڈیامیں جاگیردارانہ نظام ختم کردیا لیکن پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام کوختم نہیں کیاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ انڈیامیں آج نچلی ذات کے ہندویعنی دلت اورشودر تک اسمبلیوں میں پہنچ رہے ہیں ، صوبوں کے وزیراعلیٰ بن رہے ہیں لیکن پاکستان میں آج بھی غریب ہاریوں، کسانوں اورمزدوروں کواسمبلیوں میں جانے کاحق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں غریب مزدوروں، گنے کارس نکالنے والے ، پان والے، کلرک کے بیٹے کوقومی وصوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ کے ایوانوں میں بڑے بڑے جاگیرداروں،وڈیروں،سرداروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں کے برابرمیں کسی جماعت نے بٹھایاہے تووہ صرف اورصرف ایم کیوایم ہے۔ ملک میں اس اسٹیٹس کو کوتوڑنے کاعمل اگرکسی نے کیاہے تووہ الطاف حسین ہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیااندرون سندھ کاکوئی ہاری، پنجاب کاکوئی کسان، بلوچستان یاخیبرپختونخوا کاکوئی غریب پٹھان اسمبلی کاممبربن سکتاہے ؟جب میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام کوللکاروں گاتوکیاسندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وڈیرے جاگیرداراورسردارمیرے بارے میں عوام میں اچھی باتیں کریں گے؟انہوں نے کہاکہ میراسب سے بڑاجرم یہی ہے کہ میں نے اس سسٹم کوچیلنج کیااورکرپٹ پولیٹیکل سسٹم کوختم کرنے کی ابتداء کی ۔ اگرفوج ایم کیوایم کاجائزطریقے سے ساتھ دے اورایمانداری سے الیکشن کرائے تومیں پورے ملک سے چوراچکوں کاصفایاکردوں گا۔ انہوں نے کہاکہ اب غریب سندھیوں، پنجابیوں، بلوچوں،پختونوں،ہزارے وال، سرائیکیوں، کشمیریوں، گلگتی ، بلتستانیوں اورتمام قومیتوں کے عوام کوسوچناہوگاکہ انہیں جاگیرداروں اورسرداروں کے ساتھ جاناہے یاالطاف حسین کی طرف آناہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سقراط نے فلسفہ پیش کیاتواس وقت کے حکمرانوں نے اسے زہرکاپیالہ پلادیا، میں نے ایک فلسفہ پیش کیاتو مجھ پر غداری کے الزامات لگادیے گئے ، اسٹیبلشمنٹ نے میری تقریرپرپابندی لگادی۔اللہ کافرمان ہے کہ ہرانسان کوموت کامزاچکھناہے ،میرے ساتھیوں نے میرے فلسفہء حقیقت پسندی وعملیت پسندی کے تحت جدوجہدجاری رکھی توپاکستان میں انقلاب آجائے گا ورنہ پاکستان کوبرسوں سے لوٹنے والے جاگیردار اوروڈیرے ملک کوکھاجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایم کیوایم کی حکومت آئی توقومی خزانہ لوٹنے والوں کی جائیدادیں نیلام کرکے ان سے لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے ساتھ قیام پاکستان کے بعدسے مسلسل تعصب برتاجارہاہے اورتعصب کاالزام بھی ہم پرہی لگایاجاتاہے۔ ہم سندھ کے شہری علاقوں میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلیں تب بھی ہماری جیت کوتسلیم نہیں کیاجاتااوراسے دھاندلی کانتیجہ قراردیا جاتاہے، جب سندھ میں مخلوط حکومت بنے تواس کولیشن میں ہماری اکثریت ہونے کے باوجود مہاجرچیف منسٹرنہیں بنایاجاتابلکہ مخلوط حکومت میں اقلیت رکھنے والے کوچیف منسٹربنایاجاتاہے۔انہوں نے سوال کیاکہ تعصب ہم کررہے ہیں یاہمارے ساتھ تعصب ہورہاہے؟تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے مطالبے پر کراچی میں پولنگ اسٹیشن کے باہراوراندرفوج تعینات کی گئی اس کے باوجود ہم بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت گئے ۔انہوں نے کہاکہ اب ملک میں چارصوبے نہیں چلیں گے بلکہ بہترانتظام حکومت کے لئے 20صوبے بنانے ہوں گے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اورسندھ حکومت کومخاطب کرتے ہوئے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاکہ اب سندھ میں 40/60 کاکوٹہ سسٹم اورکمشنری نظام نہیں چلے گا، اب میئرڈپٹی میئرکو تمام بلدیاتی اختیارات دینے ہوں گے، اگریہ بلدیاتی اختیارات نہیں دیئے گئے توعوام سندھ حکومت کوچلنے نہیں دیں گے اوراپنے حقوق کے لئے پرامن جدوجہدکریں گے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں طالبان، القاعدہ اورداعش کامخالف ہوں تومیری تقریرپر توپابندی لگادی گئی ہے لیکن لال مسجدکے مولانا عبد العزیز جوطالبان اورداعش کوکھلے عام سپورٹ کرتے ہیں ان کوگرفتارنہیں کیاجاتا۔انہوں نے کہاکہ میں فوج کے خلاف نہیں ،میں انکے خلاف ہوں جو طالبان ، القاعدہ اورداعش کی حمایت کرتے ہیں۔میں اس بات پریقین رکھتاہوں کہ پاکستان پراس کے تمام شہریوں کا مساوی حق ہے، شیعہ ،سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث ، بوہری، اسماعیلی، احمدی سب کامساوی حق ہے ۔ اسی طرح ملک میں آبادتمام ہندؤوں، سکھوں، عیسائیوں اورتمام عقائدکے ماننے والوں کا مساوی حق ہے ۔ ہم نہ ڈنڈے اوربندوق کے زورپرنہ تواپنی شریعت پھیلاناچاہتے ہیں اورنہ ہی بندوق کے زذورپر کسی کی شریعت ماننا چاہتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے بلدیاتی انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی پر تمام کارکنان وعوام کومبارکبادپیش کی اورکہاکہ میں انتخابات میں ایم کیوایم کوبھرپورانداز میں کامیاب بنانے پر کراچی میں آبادتمام لسانی اکائیوں اوراسماعیلی، بوہری اورتمام برادریوں کوجھک کراپناسلام پیش کرتاہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں۔انہوں نے تمام کارکنوں سے کہاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قائم تمام مساجد، امام بارگاہوں، گرجاگھروں، مندروں ، گردواروں اورتمام عقائد کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کانہ صرف احترام کریں بلکہ ان کی حفاظت بھی کریں۔ انہوں نے کامیاب امیدواروں کوتاکید کی کہ وہ عوام کی بلاامتیازخدمت کریں ، بے ایمانی نہ کریں، دوستی یاری اورپسندناپسندکے بجائے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کی تاریخی کامیابی شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت ہے ،جب تک میری زندگی ہے میں اپنے شہیدوں کے خون کاسودانہیں ہونے دوں گا، تحریک کے تمام کارکنان اورمنتخب امیدواران بھی اپنے شہیدوں کوفراموش نہ کریں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے شہیدوں کے لئے دعائے مغفرت کی اورانہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ 

یوم شہداء کراچی کی تصاویر

12/10/2016 10:41:02 AM