Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیو ایم مسائل کے حل کا حصہ ہے. تحریر: طارق جاوید


ایم کیو ایم مسائل کے حل کا حصہ ہے.  تحریر: طارق جاوید
 Posted on: 12/4/2015
ایم کیو ایم مسائل کے حل کا حصہ ہے 
تحریر: طارق جاوید
برلاس صاحب!ذاتی طور پرمیں آپ کو نہیں جانتا اور نہ ہی آپ مجھے جانتے ہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں کی تحریریں چاہے کالم کی شکل میں ہوں یا مضمون کی شکل میں ہوں یا پوری کتاب تحریر کی ہوئی ہو بلاوجہ پسند آنے لگتی ہے۔ان لوگوں میں ایک آپ کی شخصیت بھی تھی جن کا کالم میں ذوق اور شوق سے پڑھا کرتا تھا ، دھیان رہے کہ میں ماضی کا صیغہ استعمال کر رہاہوں کیونکہ اردو روزنامہ جنگ میں 27نومبر بروز جمعہ کو آپ کا کالم نظر سے گزرا جس کا عنوان ہے ’’ جنرل بلال اکبر کو شاباش مگر‘‘ اس کالم کو پڑھنے کے بعد ذوق رفوچکر ہوگیا یعنی ذوق اور شوق میں سے ذوق بالکل ختم ہوگیا اور اس نوعیت کے آپ نے مزید دوچار کالم تحریر کردیئے ( مجھے امید ہے کہ آ پ ایسا ہی کریں گے )۔ تو شوق کا عنصر بھی ختم ہوجائے گا یعنی نہ ذوق رہے گا اور نہ ہی شوق رہے گا میں چار صاحبان کے کالمز بڑے ذوق اور شوق سے پڑھا کرتا تھا ان میں سب سے پہلا نام حسن نثار صاحب کا ہے اور دیگر تین ناموں میں ایاز امیر صاحب ، آپ ( مظہر برلاس صاحب) اور حامد میر صاحب شامل ہیں ، صبح اٹھتے ہی اپنا آئی فون آن کرنے کے بعد اور خبروں سے Updateہونے کے بعد ’’ اخبار جنگ‘‘ کے کالمز کا صفحہ (Page)کھولتا ہوں اور ان چاروں صاحبان میں سے جن کا بھی مضمون نظر آتا ہے فوراً پڑھنا شروع کردیتا ہوں کیونکہ یہ چاروں لکھاری اپنے جذبات کا اظہار ،
اپنی سوچ اور نظریہ کے علاوہ ان کے مضامین میں معلوماتی مواد بہت ملتا ہے جس سے بہت معلومات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آج کے بعد میری فہرست میں ایک نام کٹ جائے گا اور چار میں سے تین رہ جائیں گے ۔ ان تینوں صاحبان کے مضامین میں ذو ق و شوق سے پڑھتا رہونگا اور اپنی معلومات میں اضافہ کرتا رہونگا اور دعا کرتا رہوں گا اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی دے اور انکے قلم میں طاقت اور ان کی تحریروں میں اور زیادہ تاثیر پیدا کرے ۔ آپ کی تحریرمیں شوق سے پڑھونگا لیکن ذوق کا عنصر معدوم رہے گا ، اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے پر میں معذرت خواہ ہوں لیکن مجبوری ہے کیونکہ آپ کے 27نومبر کے کالم نے اس عمارت کو دھڑ سے گرادیا جو میں نے اپنے ذہن میں آپ کے حوالے سے تعمیر کی ہوئی تھی۔
جن چاروں صاحبان کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے کوئی بھی ایم کیو ایم کے نظریہ یا فلسفہ یا طریقہ کار سے مکمل طورپر اتفاق نہیں رکھتے ان میں ایک عاد ایسے ہیں جو کبھی کبھی ایم کیو ایم کے حق میں ایک دو باتیں کردیتے ہیں لیکن جس بات سے مخالفت کرنی ہو تو بھرپور مخالفت بھی کردیتے ہیں جو ان کا حق ہے اور اپنی تحریروں میں مخالفت کے ساتھ ساتھ مثبت اور مفید مشورے بھی کبھی کبھی دے دیتے ہیں جس کی قدر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی کرتے ہیں لیکن 27نومبر 2015ء کے کالم ’’ جنرل بلال اکبر کو شاباش مگر ‘‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ انسان کتناتغیرپسند ہے۔
آپ( مظہر برلاس صاحب) نے ذکر کیا کہ ایک ہفتہ کراچی میں گزار کر عام لوگوں سے ملاقاتیں کیں ، کاروباری حضرات سے ملاقاتیں کیں ، ان لوگوں سے ملاقاتیں کیں جو کراچی سے جرائم کو پاک کررہے ہیں ، چند بیورو کریٹ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور سب نے یہ کہا کہ ہم سب بہت خوش ہیں ، اب کراچی میں گھومتے ہوئے ڈر نہیں لگتا ڈر صرف اس بات کا ہے کہ کہیں یہ تسلسل ٹوٹ نہ جائے پھر ہمارا کراچی مافیا کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے ، اپنے مضمون میں آپ نے ایم کیوا یم کی قیادت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاست کریں ، آپ کی سیاست کو کوئی نہیں روکتا مگر آپ دہشت گردوں کی حمایت میں دھرنے سے گریز کریں ، کراچی شہر آپ کو مینڈیٹ دیتا ہے تو آپ کیوں کراچی کو آگ میں جھونکتے ہیں آپ کو تو چاہئے کہ آپ کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں ، آپ کے لہو میں پاکستان سے محبت دوڑتی ہوئی نظر آنی چاہئے ۔
قارین کرام ! دنیا میں بے شمار لکھاری تاریخ داں اور بڑے بڑے فلسفی گزرے ہیں لیکن صرف ان لکھاریوں ، تاریخ دانوں کو پذیرائی حاصل ہوئی جنہوں نے قلم کی حرمت کا پاس کرتے ہوئے تعصب کی عینک اتار کر اپنے خیالات اپنی فکر ، اپنے فلسفہ کو عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی اور جنہوں نے اپنے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کو یا حالات و واقعات کو غلط ملط کرنے کی کوشش کی انکی تحریریں ردی کی ٹوکری میں چلی گئیں ان کو آج کوئی یاد نہیں کرتا ، ایسا ہی کچھ برلاس صاحب آپ نے کیا ۔ آپ نے آج کے کراچی کے حالات صرف پچھلے دو سال کے حالات کے مقابلہ میں جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ، آپ نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ جو کراچی دو سال پہلے تھا وہ نہیں رہا ، وہاں بھتے کا راج تھامگر اب ایسا نہیں ہے ، اب زندگی رعنائیوں سمیت لوٹ آئی ہے، اب کراچی میں روشنیاں بکھرتی ہیں اور اپنا حسن بکھیرتی ہیں ۔اگر آپ متعصب نہیں ہیں تو میں آپ کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ اپنے مضمون میں 2002ء سے 2007ء تک کراچی اور سندھ کے امن و امان اور 2008ء سے 2013ء تک کا تقابلی جائزہ تفصیل سے پیش کردیں اور عوام الناس کو بتائیں کہ جب 2002ء سے 2007ء تک ایم کیو ایم کے پاس سندھ کی وزارت داخلہ تھی اس وقت کا کراچی کیسا تھا اور اس کے بعد کا کراچی یعنی2008ء جب سے پی پی پی کی حکومت ہے ، کراچی کا امن و امان کیسا ہے ۔آپ نے آ ج کے کراچی کے حالات صرف پچھلے دو سال کے حالات کے مقابلہ میں بتانے کی کوشش کی ہے جو کہ ایک غلط تجزیہ ہے کیونکہ سندھ میں تو رینجرز 25سال سے زائد عرصے سے موجود ہے اور سندھ کے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ جو ترقیاتی کاموں میں خرچ ہوسکتا تھا وہ رینجرز کے اخراجات پورے کرنے پر صرف ہورہا ہے ۔ 2008ء سے یعنی جب سے پیپلز پارٹی کی حکومت آئی امن و امان کے حالات قابو سے باہر ہوگئے اور ہوتے چلے گئے اس وقت ہوش کیوں نہ آیا ۔ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جو اس وقت سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ تھے ان سے یاری نبھائی جارہی تھی کیونکہ مہاجروں کا قتل عام ہورہا تھا ، ہونے دو ، اگر یہ یہی سوچ رہی تو کراچی کے وقتی سکون کو دیرپا نہ سمجھیں ۔
آپ نے ایم کیو ایم کیلئے تو سوال اٹھادیا ہے کہ ایم کیو ایم دہشت گردوں کی حمایت میں دھرنے سے گریز کرے لیکن پورے مضمون میں نام نہاد مذہبی دہشتگردوں ،جہادی تنظیموں، انتہا پسندوں ، فوجیوں کے گلے کاٹ کر اس سے فٹ بال کھیلنے والوں اور 50ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو بم دھماکوں سے خود کش حملوں کے ذریعے قتل اور شہید کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا گوارا نہ کیا۔۔۔ کیا یہ لوگ کراچی میں نہیں ہیں ؟ ان لوگوں نے بندوقوں سے پھول برسائے تھے؟ آپ ذرا ماضی قریب کا مشاہدہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ جب 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت مرکز اور صوبہ میں آئی ایم کیو ایم کے قائد نے مرکز اور صوبائی حکومت کو تنبیہ کی اور عوام کے سامنے بھی یہ بات رکھی کہ کراچی میں طالبان داخل ہوچکے ہیں وہ کراچی میں اپنے گڑھ مضبوط کررہے ہیں ، عوام سے اپیل کی کہ اپنے اپنے علاقے اور محلے میں چوکیداری نظام مضبوط کریں اور نظر رکھیں ۔ عوام نے جناب الطاف حسین کی بات پر عمل کرتے ہوئے چوکیداری نظام مضبوط کیا ، وینجلینس کمیٹیاں بنائیں جس کے نتیجے میں ہم کئی حادثات سے محفوظ ہوئے لیکن اس وقت کی مرکزی اور صوبائی حکومت نے کان نہیں دھرا ۔ جناب الطاف حسین کا مذاق اڑایا گیا یہ الزام لگایا گیا کہ الطاف حسین عوام کو خوفزدہ کررہے ہیں اس کے بعد کراچی شہر کا جو حشر ہوا کہ روزانہ کی بنیاد پر 12سے 15لاشیں گرنا شروع ہوگئیں ۔ اس میں ایم کیو ایم کے تین ایم پی ایز کی لاشیں بھی شامل ہیں اس کے علاوہ طرفہ تماشہ یہ کہ پیپلز پارٹی کے اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے لیاری گینگ وار کو مضبوط کیا اور با بانگ دہل کہا کہ ہم نے ان کو ایک لاکھ اسلحے کے لائسنس اس لئے تھوڑی دیئے ہیں کہ اس سے وہ پرندوں کا شکار کریں ۔ جناب برلاس صاحب آپ کا قلم اس حوالے سے کیوں نہیں اٹھتا ۔ آپ کے قلم کی سیاہی کیوں خشک ہو جاتی ہے کیا آپ بھول گئے کہ کراچی میں شیر شاہ کی کباڑی مارکیٹ میں دن دہاڑے عوام کے سامنے قتل عام ہوا تھا اور 12دکاندار چشم زدن میں شہید کردیئے گئے تھے جب یہ لیاری گینگ وار کے قاتل پکڑے گئے تو صوبائی وزیر داخلہ نے انہیں تھانوں سے چھڑا کر آزاد کرادیا تاکہ وہ صوبائی وزیر کو مزید تحفہ دے سکیں ۔ کیا آپ بھول گئے کہ کراچی کے بسوں اور ویگنوں میں سوار مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرکے اردو بولنے والوں کو لیاری گینگ واروالوں نے اتار کر لیاری میں قائم ٹارچر سیلوں میں لے جاکر کیسا بھیانک سلوک کیا ان کے ساتھ بدفعلی کی گئی اس کی ویڈیو ز بناکر سوشل میڈیا میں چلائی گئی اور انہیں پہلے مختلف طریقوں سے بہیمانہ ٹارچر کیا گیا پھر ان کی لاشوں کے ٹکڑے کرکے بوری میں بند کرکے شہر کے مختلف علاقوں میں پھینکا گیا یہ عمل ایک دو دن نہیں کئی دنوں تک ہوتا رہا اور رمضان کے مقدس مہینے میں ہوتا رہا تمام انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری سندھ حکومت مرکزی حکومت پورا ملک خاموش رہا کسی نے کچھ نہیں کہا آج تک ایک مجرم بھی نہیں پکڑا گیا جبکہ سوشل میڈیا میں بدفعلی کی فلمیں چلائیں گئیں اگر حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہتے تو انکو پکڑنا کون سا مشکل کام تھا کیا انہیں نہیں معلوم کہ کس گھر کے تہہ خانے میں ٹارچر سیل بنایا ہوا تھا یہ اس لئے نہیں ہوا کیونکہ یہ سب کچھ حکومت کی آشیرواد سے ہورہا تھا۔ مگر۔کہاں ہے آپ کا قلم کیوں حرکت میں نہیں آیا اس لئے کہ یہ مہاجروں کے ساتھ ہورہا ہے ہونے دو ۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ آپ نے دہشت گردوں کی حمایت میں دھرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے تو یہ کہہ کر آپ نے متحدہ قومی موومنٹ کے ہزاروں ماورائے عدالت قتل ہونے والے شہیدوں کے خون کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے ورنہ آپ کسی ایک دہشت گرد کا نام بتادیں جس کے حق میں ایم کیوا یم نے دھرنا دیا ہے ۔
آپ کے اس مضمون کو پڑھنے سے پہلے مجھے قطعی یہ اندازہ نہ تھا کہ آپ کا بھی شمارا ن قلم کاروں میں ہوتا ہے جو چند ٹکوں کی خاطر قلم کی حرمت کو بیچ دیتے ہیں ۔
پچھلے دنو ں کر اچی کے علا قے اتحاد ٹاؤن میں رینجرز کے چار اہلکا ر شہید ہو ئے ۔کو ن نہیں جا نتا کہ یہ علاقہ نا م نہا د مذہبی انتہا پسند وں اور لوگو ں کے گلے کا ٹنے والو ں کا گڑ ھ ہے لیکن اگر نہیں معلو م تو حکو مت وقت اور قانو ن نا فذ کر نے والے ادارو ں کو نہیں معلو م کیو نکہ اس واقعہ کے بعد اتحاد ٹاؤن کا گھیر اؤ کر کے ان ظا لمو ں کو پکڑنے کے بجا ئے پو رے کراچی میں باالخصوص کورنگی اور پی آئی بی کے علاقوں سے 100سے زائد ایم کیو ایم کے کا رکنان گرفتار کرلیے گئے با لخصوص کو رنگی کے ایم کیو ایم کے الیکشن آفس میں چھا پہ ما ر کر درجنوں کارکنان کو گر فتار کر لیا گیا اور آپ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم والے دھر نا نہ دیں ۔تو کیا مٹھائی با نٹیں !اور رینجرز اور دیگر قانون نا فذ کر نے والو ں کو آپ کی طرح خرا ج تحسین پیش کر یں اور یہ کہیں کہ جنر ل بلا ل اکبر کو شابا ش ۔مسٹربرلاس خدانہ خداستہ آپ کے گھر میں کسی کا ماورائے عدالت قتل ہوجائے تو آپ کے دل پر کیا گزر ے گی ۔مظلو موں کی آہ سے بچیں۔۔۔ خد ا نہ کر ے کہ آپ کی واہ آپکی آہ میں تبد یل ہو جائے کیونکہ خد اکے ہا ں دیر ہے اند ھیر نہیں ۔آپ ایم کیو ایم سے اختلا ف ضرور رکھیں ۔یہ آپ کا حق ہے جس کی ہم قدر کر تے ہیں کیو نکہ اگر اختلا ف نہیں ہو گاتو غلطیو ں کی نشا ند ہی کیسے ہو گی ۔لیکن خد ا کے واسطے اپنے قلم کے زریعے عوام کو گمرا ہ نہ کر یں اور یہ ثا بت کر نے کی کو شش نہ کر یں کہ ایم کیو ایم کی دہشت گر دی کی وجہ سے کر اچی کے حا لا ت خراب ہیں یا تھے ۔اگر آپ کو کر اچی سے محبت ہے اور کر اچی میں دیر یا امن بر قرار رکھنا چاہتے ہیں تو سندھ حکو مت اور مر کزی حکو مت کو مشورہ دیں اور تجا ویز دیں کہ وہ بر ائی کی جڑ تک پہنچیں ۔کر ا چی کے جتنے داخلی اور خا رجی راستے ہیں ان جگہو ں پر جو لو گ قابض ہیں اور کر اچی کے پہاڑ ی علا قے جیسے اورنگی ٹا ؤن کی پہاڑیا ں ہیں ایسے علا قو ں کی خبر لیں تا کہ لو گو ں کی مز ید گر دنیں نہ کٹیں اور انکی کٹی ہو ئی گر دن فٹ بال نہ کھلیں۔لیا ری گینگ والو ں کی سر پر ستی بند کر ائیں کیو نکہ پیپلزپارٹی کی مدد سے لیاری گینگ واروالے تو ایم پی اے ایم این اے بن بیٹھے ہیں اور یہ با ت یا د رکھنے کی ہے کہ 
MQM is not a part of Problem 
MQM is a part of Solution 
یعنی ایم کیو ایم کو گلے لگا ئیں کیونکہ ایم کیو ایم کبھی بھی مسائل کا حصہ نہیں رہی ہے بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہی ہے ۔

12/2/2016 12:05:53 PM