Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عوام ، 5، دسمبر کو ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں، الطاف حسین


عوام ، 5، دسمبر کو ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں، الطاف حسین
 Posted on: 12/2/2015
عوام ، 5، دسمبر کو ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں، الطاف حسین
قیام پاکستان کے بعد سے اردوبولنے والوں کے ساتھ تعصب اور عصبیت کامظاہرہ کیاجاتارہا ہے ، الطاف حسین
سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ارکان کی اکثریت کے باوجود مہاجروزیراعلیٰ قبول نہیں کیاگیا، الطاف حسین
سندھ کے شہری عوام نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیں گے، الطاف حسین
پاکستان کے استحکام اور بہتر حکمرانی کیلئے انتظامی بنیادوں پر مزید 20 صوبے قائم کیے جائیں، الطاف حسین
صوبہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کیلئے بھی علیحدہ صوبہ بنایاجائے، الطاف حسین
ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے تعلیم یافتہ رکشہ ڈرائیور اور گنے کا رس بیچنے والے کو اسمبلیوں میں بھیجا،الطاف حسین
خواتین میں اعتماد پیدا کیا، انہیں مردوں کے برابر حقوق فراہم کرنے کی جدوجہد کی ،الطاف حسین
بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ناظم آباد میں ایک بڑ ے عوامی اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطا ف حسین نے تمام حق پرست عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 5، دسمبر کو ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو اپنا قیمتی ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں،انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد سے اردوبولنے والوں کے ساتھ تعصب اور عصبیت کامظاہرہ کیاجاتارہا ہے ۔ اب سندھ کے شہری عوام نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیں گے اور کسی بھی قیمت پر غلامی کی زندگی گوارا نہیں کریں گے ، پاکستان کے استحکام اور بہتر حکمرانی کیلئے انتظامی بنیادوں پر مزید 20 صوبے قائم کیے جائیں اورصوبہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کیلئے بھی علیحدہ صوبہ بنایاجائے۔
یہ بات جناب الطاف حسین نے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ناظم آباد میں ایک کارنر میٹنگ سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجتماع میں بزرگوں ، خواتین ، نوجوانوں ، طلبا وطالبات اور بچوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے تحریک پاکستان کی جدوجہد، برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی جانی ومالی قربانیوں، قیام پاکستان کے بعد بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مہاجروں کے سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کا مختصراحوال بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ناظم آباد ، تحریک پاکستان کے عظیم رہنما اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے دیرینہ ساتھی خواجہ ناظم الدین کے نام سے منسوب ہے جو شہید ملت خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کے وزیراعظم بنے ۔خواجہ ناظم الدین کو اس طبقہ نے سازش کرکے اقتدار سے محروم کرنے کے بعد حکومت پرقبضہ کرلیا تھا جس کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب انگریزوں نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کرلیا اور ہندوستان پر برطانوی راج مسلط ہوگیاتو وہاں کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کی غلامی سے نجات کیلئے جدوجہد کی ، مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی جوہر سمیت دیگر مسلم اکابرین کے ساتھ ساتھ ہندو رہنماؤں نے بھی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں،اس وقت ہندوستان کی تقسیم کا کوئی تذکرہ نہیں تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح آل انڈیا کانگریس کے رکن تھے ، جب مسلم اکابرین نے دیکھا کہ ہندو، عددی اکثریت کی بنیاد پر پورے ہندوستان پر اپنی حکمرانی چاہتے ہیں تو مسلمانوں میں علیحدہ وطن کے قیام کا خیال پیدا ہوا ۔ انگریزوں نے ہندوستان کے عوام کوآزادی کے نام پر برصغیرپاک وہند کو دوحصوں میں تقسیم کردیا۔ مسلم اکثریتی صوبوں میں پاکستان قائم کیاگیا جہاں انتظام حکومت چلانے کا کوئی انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے مہاجراکابرین نے یہاں اسکول، کالج، بنک ، انشورنس کمپنیاں اورصنعتیں قائم کیں اور جب پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگئی تو مہاجروں کو غیرفرزند زمین کے طعنے دیئے گئے اور کہاگیا کہ پاکستان ہمارا ہے ، مہاجروں کا پاکستان پر کوئی حق نہیں ہے اور وہ انڈیا واپس چلے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے ہی بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کے ساتھ تعصب اورنفرت کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا جوآج کے دن تک جاری ہے لیکن آج یہ بہتان تراشی کی جاتی ہے کہ ایم کیوایم اور الطاف حسین نے تعصب پھیلایا ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1964ء میں صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی پاداش میں صدر ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے صوبہ سرحد سے اپنے حمایتیوں کولاکر مہاجرآبادیوں پر حملے کرائے ، بے گناہ مہاجروں کا قتل عام کرایا، ان کی املاک کو نذرآتش کیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے دو صوبے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان تھے ، 1971ء میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا اور باقیماندہ پاکستان میں چارصوبے صوبہ پنجاب ، سندھ ، سرحد اور بلوچستان بنے ، ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرپاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد تھے لیکن ان کی اکثریت صوبہ سندھ میں آباد تھی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں سینکڑوں مہاجر بیوروکریٹس کوبیک جنبش قلم انکی ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا ۔1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کے دور حکومت میں صرف صوبہ سندھ میں دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذکردیا گیا اور کہاگیا کہ سندھ کی دیہی آبادی کو شہری آبادی کے برابر لانے کیلئے یہ کوٹہ سسٹم نافذ کیاجارہا ہے تاکہ دیہی آبادی کامعیار زندگی بہتر بنایاجاسکے ۔ اس غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کو اصولی طوپر 1983ء میں ختم ہوجاناچاہیے تھا لیکن آج 42 سال گزرجانے کے باوجود یہ کوٹہ سسٹم نافذ ہے اورسوائے ایم کیوایم اور الطاف حسین کے کوئی سیاسی ومذہبی جماعت اس کوٹہ سسٹم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی ، ہم جب ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو اسے لسانیت اورتعصب قراردیکر دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکی جاتی ہے ۔انہوں نے طلبا وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کیا صوبہ پنجاب ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دیہی علاقے نہیں تھے ؟ پھر ان صوبوں میں کوٹہ سسٹم کیوں نافذ نہیں کیاگیا؟ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم اورالطاف حسین پر بہتان تراشی کی جاتی ہے لیکن مہاجربستیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا تذکرہ کوئی نہیں کرتا۔ 14، دسمبر1986ء کومیں جیل میں اسیر تھا اورعلیگڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں پہاڑیوں سے اتر کردہشت گردوں نے مہاجربزرگوں ، خواتین ، نوجوانوں اور بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا ، 30، ستمبر1988ء کو حیدرآباد میں کاروں میں سوار مسلح ڈاکوؤں نے اندھادھند فائرنگ کرکے 200 سے زائد بے گناہ شہریوں کو خاک وخون میں نہلادیاگیالیکن مہاجروں کی آبادیوں پر مسلح حملے اوران کے قتل عام کا کوئی تذکرہ نہیں کیاجاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صفورا چورنگی پر اسماعلی برادری کی بس پر فائرنگ کرکے بے گناہ شہریوں کو شہید کردیاگیا اور معلوم ہوا کہ یہ قتل عام کرنے والے داعش کے لوگ ہیں جو جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلباء سے تعلق رکھتے ہیں ۔آج مدارس قائم کرکے کراچی کو چاروں جانب سے گھیراجاچکا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مہاجراکثریتی علاقوں کا محاصرہ کرکے گھرگھر تلاشی لی جاتی ہے ۔چندروز قبل رینجرز نے اتحاد ٹاؤن میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تو دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کے چار اہلکار شہید ہوگئے اورتبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس کے دواہلکاروں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیالیکن اتحاد ٹاؤن کا محاصرہ کرکے قاتل دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے ناانصافیوں کے خاتمہ اور حقوق کے حصول کیلئے اے پی ایم ایس او پھر ایم کیوایم بنائی تاکہ ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ کرسکیں ، ملک بھرکے غریب ومظلوم عوام کو تعلیم، صحت اور ملازمت کے یکساں مواقع میسرآسکیں اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے تعلیم یافتہ رکشہ ڈرائیور اور گنے کا رس بیچنے والے کو اسمبلیوں میں بھیجا، خواتین میں اعتماد پیدا کیا، انہیں مردوں کے برابر حقوق فراہم کرنے کی جدوجہد کی ، درس وتبلیغ کے ذریعہ نوجوانوں کو خواتین کے احترام کا درس دیا جس کے باعث خواتین سب سے زیادہ ایم کیوایم کے جلسوں میں شرکت کرتی ہیں۔جناب الطاف حسین نے مہاجروں کے سیاسی استحصال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروں سے تعصب اورعصبیت کا یہ حال ہے کہ ایم کیوایم نے مختلف ادوار میں ارباب غلام رحیم ، مظفر شاہ، لیاقت جتوئی اورجام صادق علی کے ساتھ صوبہ سندھ میں مخلوط حکومت شمولیت اختیار کی ، سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ارکان کی اکثریت کے باوجود مہاجروزیراعلیٰ قبول نہیں کیاگیا۔ہم نے صوبہ سندھ میں اتحاد ویکجہتی اور بھائی چارے کی فضاء کے فروغ کیلئے پیپلزپارٹی سے اتحاد کیا اور تجویز دی کہ سندھ میں یکجہتی کے فروغ کیلئے ڈھائی سال کیلئے پیپلزپارٹی اور ڈھائی سال کیلئے ایم کیوایم کا وزیراعلیٰ بنایاجائے لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تعصب اور ناانصافیوں کے سبب صوبہ سندھ میں کبھی مہاجر وزیراعلیٰ نہیں آسکتا۔ اب سندھ کے شہری عوام نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیں گے اور کسی بھی قیمت پر غلامی کی زندگی گوارا نہیں کریں گے ،بانیان پاکستان نے قیام پاکستان کیلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ، اگراپنے جائز حقوق کیلئے ان کی اولادوں کو مزید قربانی دینی پڑی تو ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک کے استحکام اور بہتر حکمرانی کیلئے انتظامی بنیادوں پر مزید 20 صوبے قائم کیے جائیں اورصوبہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کیلئے بھی علیحدہ صوبہ بنایاجائے جہاں چپراسی سے بابوتک ، رینجرز، پولیس اور بیوروکریٹس مقامی ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا جانتی ہے کہ الطاف حسین جو کہتا ہے وہ کرتا ہے ، ہمارے صوبے میں رہنے والے تمام مذاہب، مسالک اور قومیتوں کے پنجابیوں، پختونوں،سندھیوں،بلوچوں کو،ہزاروال ، گلگتی، بلتستانیوں کوسرائیکیوں اور کشمیریوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہوں گے ، مذہب اور قومیت کی بنیادپر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا، سب کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق مسجد ، امام بارگاہ، جماعت خانے، چرچ، مندراور گردوارے میں عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی ۔ جناب الطاف حسین نے نوجوانوں بالخصوص طلبا وطالبات پر زور دیا کہ وہ قوم اورآنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کرتحریک کو دیں اور اپنی فنی وتعلیمی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے حق پرستانہ فکروفلسفہ کے فروغ کیلئے بھرپورکردارادا کریں۔ جناب الطاف حسین نے عوام سے پرزوراپیل کی کہ وہ 5، دسمبر کو اپناجمہوری حق لازمی استعمال کریں اور ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو اپنا قیمتی ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں ۔اگرماؤں ، بہنوں اوربزرگوں نے این اے 246 کے ضمنی الیکشن کی طرح جراتمندی کامظاہرہ کیا تو انشاء اللہ کراچی کا میئر اورڈپٹی میئر ایم کیوایم کا ہی ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے ناظم آباد میں عوامی اجتماع کے انعقاد کیلئے محنت ولگن سے کام کرنے پرایم کیوایم کے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں کو دل کی گہرائی سے زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔





مزید تصاویر

12/7/2016 4:39:07 AM