Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا وفاقی حکومت کی جانب سے 40ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جانے کی مذمت


ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا وفاقی حکومت کی جانب سے 40ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جانے کی مذمت
 Posted on: 12/2/2015
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا وفاقی حکومت کی جانب سے 40ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جانے کی مذمت 
حکومت کی جانب اضافی ٹیکسزسے غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا پاکستانی کی سفید پوشی متاثر ہوگی،رابطہ کمیٹی 
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارٹیکسز میں اضافے کے اپنے اقدام پر نظر ثانی کریں ،مطالبہ
کراچی ۔۔۔2دسمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے ریگولیٹری ڈیوٹی کی مدمیں کھانے پینے کی درآمدی اشیاء سمیت روزمرہ استعمال کی 350چیزو ں پر تقریباً40ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ درآمدی ورروزمرہ استعمال کی اشیاء پرٹیکس کابراہ راست اثرغریب ومتوسطہ کے عوام پرپڑیگا۔ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ملک میں تیزی سے بڑھی ہوئی مہنگائی نے پہلے ہی غریب ومتوسطہ طبقے کے عوام کے کمرتوڑرکھی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے اضافی ٹیکس بالواسطہ طور پر ملک کے غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں پر اثر انداز ہوگاجس سے ان کی معاملات زندگی متاثرہوگی ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ حکومت کے اس اقدام سے بظاہر تویہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ٹیکس ملک کی اشرافیہ پر اثر انداز ہوگالیکن دراصل لگائے اس اضافی ٹیکس سے سب سے زیادہ ملک کا غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوگا اور اس سے آنے والے مہنگائی کا سیلاب غریب عوام کو بہا کر لے جائیگا اور غریب عوام پر اس کا اثربتدریج بڑھتاچلا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اعداد کے گورکھ دھندے اور الفاظ کے الٹ پھیر کے ذریعے سے ملک کے عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ اشیائے خوردنوش سمیت بیشتر اشیاء پر ڈیوٹی عائد کئے جانے اور دیگر اشیاء پر عائد ڈیوٹی میں اضافہ سیملک کی معیشت کو اتنا فائدہ نہیں ہوگا جتنااس اقدام کے باعث ملک کا غریب اور متوسط اور محنت کش طبقہ متاثر ہوگا۔انہوں کہا کہ رواں مالی سال میں 40ارب روپے کے محصولات کی کمی کو پوراکرنے کا حل ٹیکس یہ نہیں ہے کہ محصولات میں اضافہ کردیا جائے اگر ملک کے کل آمدنی کے ذرائع میں اضاٖفہ مقصود ہے تو ٹیکس بیس میں اضافہ کے ساتھ ساتھ زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 40ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے جانے کے اپنے اقدام پر نظر ثانی کریں ۔

9/30/2016 5:04:01 AM