Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملٹری پولیس پر ان دہشت گردوں نے حملہ کیا جو جمہوریت اور مثبت تبدیلی دیکھنا نہیں چاہتے۔الطاف حسین


ملٹری پولیس پر ان دہشت گردوں نے حملہ کیا جو جمہوریت اور مثبت تبدیلی دیکھنا نہیں چاہتے۔الطاف حسین
 Posted on: 12/1/2015
ملٹری پولیس پر ان دہشت گردوں نے حملہ کیا جو جمہوریت اور مثبت تبدیلی دیکھنا نہیں چاہتے۔الطاف حسین
متعصبانہ ذہنیت رکھنے والے کراچی کے عوام پر بیہودہ الزام لگاکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں
کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے کراچی کے عوام پر مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کی
صرف مہاجر ہی نہیں بلکہ تمام قومیتوں،برادریوں کے لوگ ایم کیوایم کے ساتھ ہیں اور5دسمبرایم کیوایم کو کامیاب بنائیں گے
گڈ گورننس ،ملک کی ترقی ،اختیارات کونچلی سطح تک منتقل کرنے اورعوام کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے 20صوبے بنائے جائیں
ہم کراچی کو پاکستان کا ایک مثالی اور ماڈل صوبہ بنائیں گے جہاں امن واستحکام ہوگا، ترقی اور خوشحالی ہوگی
شاہ فیصل کالونی، ملیر اور بلدیہ ٹاؤن میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ کارنر میٹنگوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔یکم ، دسمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس پر ان دہشت گردوں نے حملہ کردیا جو ملک میں جمہوریت اور مثبت تبدیلی دیکھنا نہیں چاہتے ۔ جو چاہتے ہیں کہ ملک پر 70 سال سے رائج فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام مسلط رہے اور موروثی سیاست کے محافظ اپنی آل اولاد کو اقتدار میں لاتے رہیں ۔متعصبانہ ذہنیت رکھنے والے کراچی کے عوام پر اس قسم کے بیہودہ الزام لگاکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے شاہ فیصل کالونی ، ملیر اور بلدیہ ٹاؤن میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ کارنرمیٹنگوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تینوں مقامات پر منعقد ہونے والے اجتماعات میں بزرگوں ، خواتین ، نوجوانوں اور بچے بچیوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر اجتماعات کے شرکاء کا جوش وخروش قابل دید تھا، شرکاء وقفے وقفے سے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے اور جناب الطاف حسین سے والہانہ عقید ت ومحبت کااظہارکرتے رہے ۔ ایم کیوایم ویب ٹی وی کے ذریعہ تینوں مقامات پر منعقد ہونے والے اجتماعات بیک وقت نشر کیے گئے ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کراچی کے علاقے تبت سینٹر کے قریب دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے ملٹری پولیس کی گاڑی پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں دواہلکار وں ارشد اور ارشاد کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت ویکجہتی کااظہارکیا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس افسوسناک واقعہ پر ٹیلی ویژن پر تبصرے کیے جارہے ہیں کہ یہ ضرب عضب اور کراچی آپریشن کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے لیکن متعصبانہ ذہنیت رکھنے والے کراچی کے عوام پر اس قسم کے بیہودہ الزام لگاکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ سازشی عناصر نے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کاالزام ایم کیوایم پر عائد کرنے کی کوشش کی ، بعض تجزیہ نگاروں اوراینکرپرسنز نے صفورا چورنگی پر اسماعیلی برادری کی بس پر فائرنگ کے واقعہ میں بھی ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی کوشش کی لیکن جب پولیس نے اس واقعہ میں ملوث عناصر کوگرفتارکیا تو ان کا تعلق جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم جمعیت سے نکلالیکن اس پر کوئی ایک لفظ تک بولنے کو تیارنہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میں صرف تین روز باقی ہیں اورآج تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس پر ان دہشت گردوں نے حملہ کردیا جو ملک میں جمہوریت اور مثبت تبدیلی دیکھنا نہیں چاہتے ۔ جو چاہتے ہیں کہ ملک پر 70 سال سے رائج فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام مسلط رہے اور موروثی سیاست کے محافظ اپنی آل اولاد کو اقتدار میں لاتے رہیں ۔انہوں نے کہاکہ عام انتخابات میں یہ جاگیردار اوروڈیرے قسمیں کھا کر عوامی مسائل حل کرنے کا یقین دلاتے ہیں لیکن الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد عوام ان کی شکلیں دیکھنے کو ترس جاتے ہیں اور ان کے چہرے دوبارہ انتخابات کے موقع پر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ منتخب جمہوری حکومتوں کے ادوار میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے دانستہ گریز کیاجاتا ہے کیونکہ جاگیردار اور وڈیرے نہیں چاہتے کہ انتظام حکومت ، گراس روٹ لیول تک پہنچے ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں نے غریب عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رکھا ہے اور انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کو اپنی عادت بنارکھا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلدیہ ٹاؤن ، ملیر اور شاہ فیصل کالونی کراچی کے دوردراز کے علاقے ہیں اوران علاقوں کی ترقی وخوشحالی اور عوام کے جائز مسائل کے حل کیلئے کسی بھی حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ سازشی عناصر نے ان علاقوں میں اسکول، اسپتال کی تعمیر کے بجائے یہاں قتل وغارتگری کا بازار گرم کیے رکھا تاکہ ان علاقوں کے عوام امن وسکون، اچھی تعلیم اور اچھی صحت کی سہولیات سے محروم رہیں۔ایم کیوایم کے خلاف 19، جون1992ء سے آپریشن کیاجارہا ہے ملیر، شاہ فیصل کالونی اور بلدیہ ٹاؤن سمیت شہر کے دیگر علاقوں کے کارکنان وعوام کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاگیا ، ہزاروں کارکنان کو شہید کیاگیا، کارکنان کو گرفتارکرکے لاپتہ کیاگیا، ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبورکیاگیالیکن حق پرست کارکنان و عوام خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ جام شہادت نوش کرتے رہے ، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور جئے ایم کیوایم کانعرہ لگاتے رہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 2013ء کے عام انتخابات میں ایم کیوایم کو انتخابی مہم چلانے سے روکاگیا ، ایم کیوایم کے انتخابی دفاتر پر بموں سے حملے کیے گئے لیکن پھربھی عوام نے ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر کامیاب بنایالیکن ایم کیوایم کوحاصل عوامی مینڈیٹ کو آج بھی تسلیم نہیں کیاجارہا ہے ، ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کیلئے کراچی آپریشن کا آغاز کرکے سینکڑوں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، کارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا ، گرفتارکارکنان کو حراست کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنایاگیا ، ایم کیوایم نے انصاف کے حصول کیلئے ہردروازے پردستک دی لیکن مظلوم عوام کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے اور کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے کراچی کے عوام پر مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کی ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموشی اختیارکرنے والے آج اچانک برساتی مینڈک کی طرح نکل آئے ہیں اور دعوے کررہے ہیں کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کو شکست دے دیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے بلدیہ ٹاؤن ، ملیر اور شاہ فیصل کالونی کے عوام سے دریافت کیا کہ کیا کراچی دشمن عناصر ، ایم کیوایم کوشکست دے سکتے ہیں ؟ جس پر تینوں پنڈال کے عوام نے یک زبان ہوکر جواب دیا’’ ہرگز نہیں‘‘ اس موقع پر تینوں پنڈال ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین کے حق میں فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھے جس کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے وہ وقت آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب میں ملیر، شاہ فیصل کالونی اور بلدیہ ٹاؤن آتاتھااوریہاں کے عوام مجھ سے والہانہ پیارومحبت کااظہارکرتے تھے لیکن حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ پسندنہیں آیا اورمجھے جلاوطن ہونے پر مجبور کردیا گیا،میں 25سالوں سے اپنے پیاروں سے دور ہوں لیکن اللہ کاکرم ہے کہ نہ میں نے عوام کو چھوڑانہ عوام نے مجھے چھوڑا ۔ انہوں نے کہاکہ آج صرف مہاجرہی نہیں بلکہ پنجابی، پختون، بلوچ ، سندھی، سرائیکی، ہزارے وال، گلگتی ، بلتستانی، کچھی، میمن ، کاٹھیا واڑی، مارواڑی، بوہری، آغاخانی، اسماعیلی ، احمدی،ہندو،سکھ ،عیسائی تمام لوگ ایم کیوایم کے ساتھ ہیں اورایم کیوایم کوکامیاب بنائیں گے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم5 دسمبرکے بعد قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی میں قرا ردادبھی پیش کریں گے، پٹیشن بھی دائرکریں گے کہ ملک کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے لہٰذا گڈگورننس کیلئے ،ملک کوترقی دینے اور عوام کونچلی سطح تک اختیارات دینے اورعوام کااحساس محرومی دور کرنے کیلئے ملک میں 20صوبے بنائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ آج تک ہمیں فرزندزمین نہ ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں ،جب صوبہ ہوگاتو کوئی یہ طعنہ نہیں دے سکے گا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں کراچی میں رہنے والے تمام پنجابی، پختون، بلوچ ، سندھی، سرائیکی، ہزارے وال، گلگتی ، بلتستانی، کچھی، میمن، کاٹھیا واڑی، مارواڑی، بوہری، آغاخانی، اسماعیلی، احمدی،ہندو،سکھ ،عیسائی تمام نسلی ولسانی اکائیوں اور برادریوں کویہ یقین دلاتاہوں کہ جوبھی کراچی میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے اس کاصوبہ پر مساوی حق ہوگااورتقرریاں رنگ ونسل اورزبان کی بنیاد پرنہیں بلکہ میرٹ کی بنیادپرکی جائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ ہم کراچی کوپاکستان کا ایک مثالی اورماڈل صوبہ بنائیں گے جہاں امن واستحکام ہوگا،ترقی اورخوشحالی ہوگی اور عوام کوسکون اورتحفظ کااحساس ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے عوام سے کہا کہ وہ 5دسمبر کواپنافرض سمجھتے ہوئے ووٹ ڈالنے ضر ورجائیں اوراپنے اتحادسے ایم کیوایم کوکامیابی سے ہمکنارکریں۔







ملیرتصاویر
شاہ فیصل تصاویر
بلدیہ ٹاؤں تصاویر

9/27/2016 12:19:46 AM