Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے قیام سے پہلے بھی اردو بولنے والوں کا سیاسی، معاشی، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کیا جاتا رہا ہے، الطاف حسین


ایم کیوایم کے قیام سے پہلے بھی اردو بولنے والوں کا سیاسی، معاشی، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کیا جاتا رہا ہے، الطاف حسین
 Posted on: 11/30/2015
ایم کیوایم کے قیام سے پہلے بھی اردو بولنے والوں کا سیاسی، معاشی، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کیا جاتا رہا ہے، الطاف حسین
اردو بولنے والوں کے ساتھ قیام پاکستان سے آج کے دن تک تعصب برتا جارہا ہے، الطاف حسین
اگر نوجوانوں نے حقوق کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تو پوری قوم غلامی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی، الطاف حسین
سندھ اسمبلی میں اکثریت رکھنے کے باوجود مہاجر وزیراعلیٰ قبول نہیں کیا گیا، الطاف حسین
امتیازی سلوک کے باعث آج سندھ کے شہری علاقوں کا بچہ بچہ انتظامی بنیاد پر علیحدہ صوبے کا مطالبہ کررہا ہے، الطاف حسین
مہاجر بستیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا تذکرہ کوئی نہیں کرتا، الطاف حسین
اگر ہم سیسہ پلائی چٹان کی طرح متحد رہے تو دنیا کی کوئی طاقت ایم کیوایم اور ہمارے اتحاد کو ختم نہیں کرسکے گی، الطاف حسین
گلشن اقبال ریذیڈنٹس کمیٹی کے تحت عمائدین کے اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم کے قیام سے پہلے بھی اردوبولنے والوں کا سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کیاجاتارہا ہے ، قوم اورآنے والی نسلوں کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اگرانہوں نے حقوق کی جدوجہد میں اپنا کردارادا نہیں کیاتو پوری قوم غلامی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد سے اردوبولنے والے مہاجروں کے ساتھ تعصب ، عصبیت اور نفرت کا مظاہرہ کیاجاتارہا ہے اور زندگی کے ہرشعبہ میں امتیازی سلوک کے باعث آج سندھ کے شہری علاقوں کا بچہ بچہ انتظامی بنیاد پر علیحدہ صوبے کا مطالبہ کررہا ہے ۔ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے گلشن اقبال ریذیڈنٹس کمیٹی کے تحت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔جناب الطاف حسین کا خطاب ایم کیوایم ویب ٹی وی کے ذریعے پوری دنیا میں دیکھا اور سنا گیا۔ اجتماع میں مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباوطالبات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے نئی نسل بالخصوص نوجوان طلباوطالبات کو تحریک پاکستان کی جدوجہد ، پاکستان میں مہاجروں کے ساتھ غیرمنصفانہ وظالمانہ طرزعمل اور ایم کیوایم کے قیام کے اسباب کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اردوبولنے والے مہاجر ،ان بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں جنہوں نے برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں میں تحریک پاکستان چلائی اور قیام پاکستان کیلئے 20 لاکھ سے زائد قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے لیکن پاکستان ، برصغیرکے ان مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم ہوا جہاں کے رہنے والوں نے نہ صرف قیام پاکستان کی جدوجہد کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کی مخالفت کی بلکہ قیام پاکستان کی مخالف جماعت یونینسٹ پارٹی کی حمایت بھی کی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آگیا اوربرصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے پاکستان ہجرت کی اوراپنے آپ کو پاکستانی کہلانا پسند کیا لیکن یہاں بسنے والی قومیتیں خود کو پاکستانی کے بجائے پنجابی ، سندھی ، بلوچ، پختون کہلانے میں زیادہ فخرمحسوس کرتی تھیں ۔ جب ہم نے مہاجرطلباء کے حقوق کی جدوجہد کا آغاز کیا تو ہمارے بزرگوں کی جانب سے درس دیا جاتا تھا کہ تم نے کیا مہاجر،مہاجر کی رٹ لگارکھی ہے ، ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں جبکہ آج بھی بعض اردوبولنے والے خود کو مہاجر کہلوانے میں شرم محسوس کرتے ہیں ۔ایم کیوایم پر تنقید کی جاتی ہے کہ ایم کیوایم اور الطاف حسین نے تعصب پھیلارکھا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم نے جامعہ کراچی میں مہاجرطلباء کے حقوق کیلئے اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی اس وقت جامعہ کراچی میں مختلف قومیتوں کی طلبا تنظیمیں پہلے ہی سے موجود تھیں ، مہران یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی میں متعصب سندھی طلباء کی جانب سے مہاجر طلباء کو تشدد کا نشانہ بناکرنکال دیاجاتا تھا،انہیں تعلیم حاصل کرنے نہیں دی جاتی تھی اور ان تعلیمی اداروں میں مہاجرطلباء کا داخلہ بند کردیا جاتا تھا جس کے باعث اندرون سندھ کے مہاجر طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ بانیان پاکستان کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والا پاکستان 25 سال بعد دولخت ہوگیا اور سابقہ مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بن گیا۔ 1971ء میں سابقہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے مہاجروں جنہیں عرف عام میں بہاری کہاجاتا ہے ، نے پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کا بڑھ چڑھ کرساتھ دیا لیکن جب پاکستان دولخت ہوگیا تو لاکھوں محصورین بنگلہ دیش کو وطن واپس لانے کے بجائے انہیں ریڈ کراس کے 66کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ۔ یہ محب وطن پاکستانی آج کئی برسوں سے ریڈ کراس کے کیمپوں میں بھوک ، افلاس اور کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں اور خواتین پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے عصمت فروشی کرنے پر مجبورہیں۔ انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ ساڑھے تین لاکھ محب وطن پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانا کیاتعصب نہیں ہے ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’بالکل تعصب ہے ‘‘
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو لوگ ایم کیوایم اورالطاف حسین پر تعصب کا الزام لگاتے ہیں وہ غورکریں کہ جب ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں سینکڑوں مہاجر بیوروکریٹس کوبیک جنبش قلم انکی ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا ، اس وقت ایم کیوایم اور الطاف حسین موجودنہیں تھے ۔1964ء میں صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی پاداش میں صدر ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے صوبہ سرحد سے پٹھانوں کولاکر مہاجرآبادیوں پر حملے کرائے ، بے گناہ مہاجروں کا قتل عام کرایا، ان کی املاک کو نذرآتش کیا گیا ، اس وقت ایم کیوایم اور الطاف حسین موجودنہیں تھے ۔ 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کے دور حکومت میں صرف صوبہ سندھ میں دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذکردیا گیا اور جواز یہ دیاگیا کہ سندھ کی دیہی آبادی کو شہری آبادی کے برابر لانے کیلئے یہ کوٹہ سسٹم نافذ کیاجارہا ہے تاکہ دیہی آبادی کامعیار زندگی بہتر بنایاجاسکے ۔ اس کوٹہ سسٹم کو اصولی طوپر 1983ء میں ختم ہوجاناچاہیے تھا لیکن آج 42 سال گزرجانے کے باوجود یہ کوٹہ سسٹم نافذ ہے ، سی ایس ایس کے امتحان میں مہاجر طلباء نے حصہ لینا چھوڑدیا کہ انہیں اہلیت اور صلاحیت کے باوجود باپ دادا کی جائے پیدائش کی بنیادپرفیل کردیاجاتا ہے ، اس وقت ایم کیوایم اور الطاف حسین موجودنہیں تھے ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کے خلاف ظلم وناانصافی اورکوٹہ سصٹم کے خلاف کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت کی جانب سے صدائے احتجاج بلند نہیں کی گئی۔ ان تمام ظالمانہ ومتعصبانہ طرزعمل کے باعث الطاف حسین میدان عمل میں آیا ، 38 سال سے میں مظلوم عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہا ہوں اور اس جدوجہد کی پاداش میں 25 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں لیکن میں آج تک تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم اورالطاف حسین پر بہتان تراشی کی جاتی ہے لیکن مہاجربستیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا تذکرہ کوئی نہیں کرتا۔ 14، دسمبر1986ء کو علیگڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں پہاڑیوں سے اتر کردہشت گردوں نے مہاجربزرگوں ، خواتین ، نوجوانوں اور بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا ، 30، ستمبر1988ء کو حیدرآباد میں کاروں میں سوار مسلح ڈاکوؤں نے اندھادھند فائرنگ کرکے 200 سے زائد بے گناہ شہریوں کو خاک وخون میں نہلادیا ، 1990ء میں پکاقلعہ آپریشن کے دوران پانی ، بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کرنے کے خلاف قرآن مجید اٹھاکر دہائیاں دینے والی خواتین پر گولیاں برساکر انہیں شہید کردیا گیا ، ہزاروں نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیااور سینکڑوں کارکنان کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا لیکن مہاجروں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کاتذکرہ نہیں کیاجاتا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے کراچی میں القاعدہ ، طالبان اور داعش کی موجودگی کی بات کی اور عوام کو بتایا کہ داعش نے کراچی کے بہت سے علاقوں میں قبضہ کرلیا ہے تو میرا مذاق اڑایا گیا لیکن صفورا چورنگی پر اسماعلی برادری کی بس پر فائرنگ کرکے بے گناہ شہریوں کو شہید کردیاگیا اور معلوم ہوا کہ یہ قتل عام کرنے والے داعش کے لوگ ہیں جو جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلباء سے تعلق رکھتے ہیں ۔آج یہ صورتحال ہے کہ کراچی کے داخلی راستوں پر چاروں جانب سینکڑوں مدارس قائم کرائے جاچکے ہیں ، 8، نومبر2015ء کے ڈان میں پوری فہرست شائع ہوچکی ہے کہ کن کن علاقوں کو جہادیوں نے اپنی آماجگاہ بنارکھی ہے جہاں ان کی شرعی عدالتیں چل رہی ہیں اوروہاں پولیس رینجرز داخل تک نہیں ہوسکتی ، ان علاقوں میں اتحادٹاؤن بھی شامل ہے ۔ چندروز قبل رینجرز نے اتحاد ٹاؤن میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تو دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کے چار اہلکار شہید ہوگئے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ غورکریں کہ اگر یہ افسوسناک واقعہ مہاجراکثریتی علاقے میں پیش آتا تو اس علاقے کاکیا حال کردیاجاتا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں سے تعصب اورعصبیت کا یہ حال ہے کہ ایم کیوایم نے مختلف ادوار میں ارباب غلام رحیم ، مظفر شاہ اور لیاقت جتوئی کے ساتھ صوبہ سندھ میں مخلوط حکومت شمولیت اختیار کی ، سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ارکان اکثریت میں تھے اور اصولی طورپر ایم کیوایم کا وزیراعلیٰ سندھ بننا چاہیے تھا لیکن تینوں مرتبہ اکثریت رکھنے کے باوجود مہاجروزیراعلیٰ قبول نہیں کیاگیا۔ اس کے باوجود کہاجاتا ہے کہ ایم کیوایم اور الطاف حسین تعصب پھیلارہے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ قوم اورآنے والی نسلوں کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے اگرآپ نے حقوق کی جدوجہد میں اپنا کردارادا نہیں کیاتو پوری قوم غلامی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی اور جاگیرداروڈیروں کی غلام بن جائے گی ۔ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک ہمیں ہمارے جائز حقوق نہیں ملے ، ہمیں ظلم وناانصافی کی چکی میں پیسا جاتارہا، ہمیں فرزند زمین نہ ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں اور زندگی کے ہرشعبہ میں امتیازی سلوک کے باعث آج سندھ کے شہری علاقوں کا بچہ بچہ انتظامی بنیاد پر علیحدہ صوبے کا مطالبہ کررہا ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کو مضبوط ومستحکم بنایاجائے ، اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو ملک میں نئے انتظامی صوبے قائم کرنے ہوں گے اور سندھ کے شہری عوام کیلئے بھی علیحدہ صوبہ بنانا ہوگا۔۔انہوں نے مزید کہاکہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے صوبے میں کسی کے ساتھ تعصب اور نفرت کا مظاہرہ نہیں کیاجائے گا ،اس صوبے میں رہنے والے خواہ کسی بھی قومیت یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ، سب کا برابر کاحق ہوگاکیونکہ الطاف حسین انصاف پسند ہے اور کسی سے تعصب نہیں کرتا۔جناب الطاف حسین نے نوجوان طلبا وطالبات سے اپیل کی کہ وہ اپنی قومی ذمہ داری محسوس کریں اور اپنی تعلیمی وذہنی صلاحیتوں کو تحریک ، قوم اور آنے والی نسلوں کیلئے استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ میرا ایمان ہے کہ اگرہم سیسہ پلائی چٹان کی طرح متحد رہے تو دنیا کی کوئی طاقت ایم کیوایم اور ہمارے اتحاد کو ختم نہیں کرسکے گی ۔





مزید تصاویر

12/10/2016 4:50:09 AM