Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وقت آگیا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، اسے ایک بااختیارحکومت دی جائے۔الطاف حسین


وقت آگیا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، اسے ایک بااختیارحکومت دی جائے۔الطاف حسین
 Posted on: 11/29/2015
وقت آگیا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، اسے ایک بااختیارحکومت دی جائے۔الطاف حسین
کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے یا تو اسلام آبادسے چلایاجاتا ہے یا لاڑ کانہ سے
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاجاتاہے، کراچی کی پولیس ،رینجرز ،بیورو کریسی باہر سے آتی ہے
کراچی کے نوجوانوں کونہ توپولیس میں لیا جاتا ہے ،نہ رینجرز میں اورنہ ہی سرکاری اداروں میں انہیں ملازمتیں دی جاتی ہیں
ہماراصوبہ صرف مہاجر وں کا نہیں بلکہ اس پریہاں رہنے والے تما م قومیتوں کامساوی حق ہوگا اورکسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں ہو گا
ایم کیوایم نے نوجوانوں کو آگے لانے کے نعرے نہیں لگائے بلکہ انہیں آگے لائی اور منتخب ایوانوں میں بھیجا 
ہم سمجھتے تھے کہ عمران خان لبرل اورپروگریسوہونگے لیکن پتہ چلاہے کہ وہ بھی اندرسے طالبان ہیں
جماعت اسلامی القاعدہ، داعش اورطالبان سے قریبی تعلق رکھتی ہے، مذہبی انتہاپسندی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے
دنیا تیسری جنگ عظیم کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں ہمیں اپنے ملک کی فکرکرنی چاہیے
پاکستان کو اب ایک پڑھی لکھی ،لبرل ،سمجھدار قیادت کی ضرورت ہے جوصرف ایم کیوایم پوری کر سکتی ہے
اگر ایم کیوایم کو کام کرنے کا موقع دیاجائے تو انشاء اللہ ہم پاکستان کے مسائل کابھی حل نکال لیں گے
ڈیفنس میں کونسل آف پروفیشنلز کے تحت منعقد ہ اجتماع سے تفصیلی فکرانگیزخطاب
لندن ۔۔۔ 29 نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرابڑاشہر ہے جسکی آبادی دو کروڑ35لاکھ ہوچکی ہے ۔ کراچی قومی خزانہ کو سب سے زیادہ ریونیودیتا ہے ، سب سے زیادہ ٹیکس اس شہر کی صنعتیں اور شہری ادا کرتے ہیں لیکن کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے یا تو اسلام آبادسے چلایاجاتا ہے یا لاڑ کانہ سے۔ دیہی اکثریت سے منتخب ہونے والی سندھ اسمبلی ،اس شہر کے ترقیاتی منصوبوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے ۔لہٰذا وقت آگیا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، اسے ایک بااختیارحکومت دی جائے جو اس شہر کے مسائل حل کر ے۔ خوشحال کراچی ، خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایم کیوایم لیگل ایڈکمیٹی کے انچارج محفوظ یارخان ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر کونسل آف پروفیشنلز کے تحت منعقد ہ اجتماع میں ایک تفصیلی لیکچر دیتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں وکلاء، ڈاکٹرز، نوجوان انجینئرز ، مختلف قومی وبین الاقوامی اداروں اوراین جی اوز میں کام کرنے والے ماہرین اورطلبہ وطالبات نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں انسان کی تخلیق اوراس حوالے سے کی جانے والی ریسرچ، انسانی نفسیات ،بین الاقوامی صورتحال، اس کے پاکستان پرپڑنے والے اثرات ، ملک خصوصاً کراچی کی صورتحال، کراچی اورسندھ کے دیگرشہری علاقوں کے ساتھ تعلیم، روزگاراوردیگرشعبوں میں کی جانے والی ناانصافیاں ،ان کی تاریخ ، اس کے اسباب اوراس حوالے سے ایم کیوایم کی جدوجہدپرتفصیل سے روشنی ڈالی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں کے ساتھ برسوں سے ناانصافیاں کی جارہی ہیں، 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹوبرسراقتدارآئے توانہوں نے قومی اسمبلی سے بل پاس کرکے صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذکردیاجس کے تحت ہرسطح کی ملازمتوں اورتعلیم کے شعبوں میں سندھ کے شہری علاقوں کیلئے40فیصد اوردیہی علاقوں کیلئے 60فیصدکوٹہ مقررکیاگیا۔ اس کوٹہ سسٹم کاجوازیہ پیش کیاگیاکہ سندھ کے دیہی علاقوں کوشہری علاقوں کے برابرلاناہے ۔سندھ کے شہری علاقوں کے عوام نے دیہی سندھ کے لوگوں کیلئے قربانی دیتے ہوئے اس غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کوتسلیم کرلیا۔ اگربھٹو کو سندھ کے دیہی علاقوں سے واقعتا ہمدردی ہوتی اوروہ مخلص ہوتااورکوٹہ سسٹم واقعی ایک اچھانظام ہوتاتوپاکستان کے تمام صوبوں میں نافذ کیاجاتا۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیادیہی علاقے صرف سندھ میں تھے؟ کیاپنجاب، بلوچستان اورصوبہ سرحد میں دیہی علاقے نہیں تھے ؟ پھرکوٹہ سسٹم صرف سندھ میں ہی کیوں نافذکیاگیا؟کوٹہ سسٹم دس سال کیلئے نافذ کیا گیا تھا لیکن یہ آج تک کیوں نافذ ہے؟انہوں نے کہاکہ اصل میں کوٹہ سسٹم کامقصد سندھ کے دیہی علاقوں سے ہمدردی نہیں تھی بلکہ اس کااصل مقصدسندھ کے شہری علاقوں کے اردوبولنے والے عوام پر تعلیم ،روزگاراورترقی کے دروازے بندکرنے تھے۔کیونکہ ہندستان کے اقلیتی صوبوں سے جو پڑھے لکھے خاندان ،ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے ان میں تعلیم کاتناسب زیادہ تھا،ان گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد تعلیم حاصل کر کے اچھی ملازمتوں میں جاتے تھے لیکن کوٹہ سسٹم کے غیر منصفانہ قانون نے ان نوجوانوں پر تعلیم کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے ۔سی ایس ایس کے امتحانات میں مہاجر نوجوانوں کو دھتکارا جانے لگا ۔ کر اچی کی مہاجر طالبات کومیڈیکل کی تعلیم کے حصول کیلئے نواب شاہ جانا پڑتا تھا کیونکہ انہیں کراچی میں داخلہ نہیں ملتاتھا ۔ میڈیکل ،انجینئر نگ او ردیگر پروفیشنل تعلیمی اداروں میں شہری علاقوں کی سیٹیں انتہائی کم کر کے شہری نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ تعلیم حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔اسی طرح ملازمتوں میں ان کا راستہ بند کر کے ان کو پیغام دیا گیا کہ تعلیم حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح کوٹہ سسٹم کے ذریعے مہاجروں کا تعلیمی استحصال ان کے معاشی استحصال میں تبدیل کر کے ان کو ایک محکوم طبقہ میں تبدیل کرنے کی سازش کی گئی۔ان ناانصافیوں کے خلاف ہمارے علاوہ کسی نے آوازنہیں اٹھائی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے ان ناانصافیوں کے خلاف جدوجہدشروع کی،جب ہم نے عوامی سطح پر ایم کیوایم بنائی تویہ بات ریکارڈپر موجودہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کے مینڈیٹ کو کبھی تسلیم نہیں کیاگیا، ہمیں کبھی حق حکمرانی نہیں دیاگیا۔ہم نے سندھ میں جام صادق سے اتحادکیا،لیاقت جتوئی سے اتحاد کیا اورارباب رحیم سے اتحادکیا ، مخلوط حکومت میں نمائندگی کے اعتبارسے ہم اکثریت میں تھے لیکن ہمیں چیف منسٹرشپ نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ اب سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوبھی اپناصوبہ اوراپناچیف منسٹرچاہیے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح گھرمیں افرادکے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزیدکمرے بنائے جاتے ہیں اسی طرح ملکوں میں بھی آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزیدصوبے اور نئے نئے انتظامی یونٹس قائم کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 1971ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑتھی اوراس وقت پاکستان کے چارصوبے تھے، آج پاکستان کی آبادی 19کروڑ ہوچکی ہے لیکن آج بھی پاکستان کے چارصوبے ہیں،گڈگورننس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں مزیدصوبے قائم کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کونئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کی اشدضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی اس پر سوچنے کیلئے بھی تیارنہیں ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ’’ وکی پیڈیا‘‘کے مطابق کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرابڑاشہر ہے جسکی آبادی دو کروڑ35لاکھ ہوچکی ہے ۔کراچی قومی خزانہ کو سب سے زیادہ ریونیودیتا ہے ، سب سے زیادہ ٹیکس اس شہر کی صنعتیں اور شہری ادا کرتے ہیں لیکن کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے یا تو اسلام آبادسے چلایاجاتا ہے یا لاڑ کانہ سے۔ دیہی اکثریت سے منتخب ہونے والی سندھ اسمبلی ،اس شہر کے ترقیاتی منصوبوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی 67فیصد ریونیو وفاق کو دیتاہے لیکن وفاق کراچی کو بھول جاتا ہے اور67فیصدریونیودینے والے اس شہرکواس کی ترقی اوراس کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے فنڈنہیں ملتا۔کراچی کو دودھ دینے والی گائے سمجھاجاتاہے لیکن اس کوکھانے کیلئے چارہ تک نہیں دیاجاتا، کراچی کے وسائل پرکراچی کا کوئی اختیارنہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم برسوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ کراچی کو ماس ٹرانزٹ سسٹم کی ضرورت ہے لیکن ایم کیوایم کی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ تو صوبائی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت کراچی کیلئے ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلئے فنڈز مہیا کرتی ہے ۔کراچی کو پانی اوربجلی کے بحران کا سامنا ہے ،شہر میں صفائی ستھرائی کا نظام برباد ہے ۔شہرمیں غیرقانونی کچی آبادیاں بڑھتی جارہی ہیں جہاں آبادلوگ غیرقانونی طورپرپانی اوربجلی حاصل کرتے ہیں جس کابل بھی دیگر علاقوں کے لوگوں کوبھرناپڑتاہے۔شہرمیں پانی چوری کرکے ٹینکوں کے ذریعے بیچا جاتا ہے لیکن کراچی کے منتخب نمائندوں کے پاس اس لوٹ مار کوروکنے کیلئے کوئی اختیار نہیں ہے ۔ کراچی کی پولیس ،رینجرز ،بیورو کریسی باہر سے آتی ہے ، اس شہر کے نوجوانوں کونہ توپولیس میں لیا جاتا ہے ،نہ رینجرز میں اورنہ ہی سرکاری اداروں میں انہیں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شہری سندھ نے بہت زیادتیاں اورناانصافیاں سہہ لی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ یہ روش ختم کرکے اس مسئلہ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل کیا جائے، مسائل کے حل کیلئے کراچی کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، اسے ایک بااختیارحکومت دی جائے جو اس شہر کے مسائل حل کر ے۔ خوشحال کراچی ، خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا صوبہ صرف مہاجر وں کا نہیں بلکہ اس پریہاں رہنے والے تما م پنجابیوں ، پختونوں ، سندھیوں ،بلوچوں ، سرائیکیوں ، کشمیریوں ، ہزار وال ، گلگتی ، بلتستانیوں ، تمام فقہوں اورمسلکوں کے ماننے والے مسلمانوں ،ہندؤں ، عیسائیوں، سکھوں، احمدیوں، آغاخانیوں، اسماعیلیوں سب کامساوی حق ہوگا ۔یہاں کسی کے ساتھ زبان، فقہ، مسلک ،مذہب یا کمیونٹی کی بنیادپرکوئی امتیاز نہیں برتاجائے گابلکہ ہرفیصلہ میرٹ کی بنیادپرکیاجائے گا۔ہماراصوبہ ہوگاتویہاں کی پولیس بھی مقامی ہوگی۔یہاں کے لوگوں کو ملازمتوں میں ان کاحق ملے گا،احساس محرومی کاخاتمہ ہوگا، حب الوطنی کے جذبات پروان چڑھیں گے، شہرترقی کرے گاتو ملک بھی مستحکم ہوگا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کوٹہ سسٹم اورحق تلفیوں کے مسلسل عمل کی وجہ سے ملک میں لسانی منافرتیں بڑھی ہیں، ایک قوم کاتصورکمزورہواہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچ اورپختون رہنما اس غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کے خلاف اسلئے بات نہیں کرتے کیونکہ تمام صوبوں میں وڈیروں اورجاگیرداروں کی حکمرانی ہے اورایم کیوایم غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔وہ فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ چاہتی ہے ،وہ کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل ،کاسلسلہ بند کراناچاہتی ہے ، دیہات میں خواتین کے ساتھ غلاموں جیساسلوک کیا جاتاہے ،ایم کیوایم خواتین کے ساتھ ظالمانہ سلوک ختم کرکے انہیں معاشرے میں ان کاجائزمقام دلانا چاہتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے جلسوں میں خواتین سب سے زیادہ اسی لئے آتی ہیں کہ یہاں کوئی ان خواتین کودھکے نہیں دیتا،ان کے دوپٹے نہیں کھینچتا بلکہ اپنی ماؤں بہنوں کی طرح انہیں عزت اوراحترام دیاجاتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر موروثی نظام چل رہاہے ، سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کی حکمرانی ہے جونسل درنسل ملک پر حکمرانی کررہے ہیں، جماعتوں کے بجائے خاندان ملک پر حکومت کرتے ہیں۔نہ صرف سیاسی جماعت کاسربراہ ایوان اقتدامیں پہنچتاہے بلکہ اس کا ، بیٹا، بھائی ، بہن ، بیٹی، داماد پوراخاندان حکومت کرتاہے اوراس سیاسی جماعت کے اہل اورباصلاحیت لوگ سائڈ لائن کردیے جاتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم سمجھتے تھے کہ عمران خان لبرل اورپروگریسوہوگا لیکن پتہ چلاہے کہ وہ بھی اندرسے طالبان ہیں، طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں اسی لئے انہوں نے کراچی میں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی وہ جماعت ہے کہ جونہ صرف مذہبی انتہاپسندی پریقین رکھتی ہے بلکہ القاعدہ، داعش اورطالبان سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکی صحافی ڈینئل پرل کا قاتل خالدشیخ محمدجماعت اسلامی والوں کے گھرسے گرفتارہوا۔ اسی طرح القاعدہ اورداعش کے دیگر تمام بڑے بڑے لوگ بھی جماعت اسلامی والوں کے گھروں سے پکڑے گئے۔سانحہ صفورامیں اسماعیلی کمیونٹی کی بس پربیدردی سے فائرنگ کرکے کئی معصوم افرادکوشہید کرنے والے دہشت گردوں کاتعلق بھی جماعت اسلامی کی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک کی تما م سیاسی ومذہبی جماعتیں نوجوانوں کی باتیں تو کرتی ہیں لیکن نوجوانوں کو آگے لانے کے ان کے دعوے محض زبانی ہیں ، ایم کیوایم پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نعرے نہیں لگائے ،دعوے نہیں کئے بلکہ نوجوانوں کو واقعتاImpoweredکیا ہے ،ان کو آگے لائی ہے اوران کو منتخب ایوانوں میں بھیجا ہے ۔ پاکستان کو کم عمر ترین میئر دینے کا اعزازبھی ایم کیویم کو حاصل ہے ،1987میں جب کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا اس وقت ایم کیوایم نے 27سالہ نوجوان ڈاکٹر فاروق ستار کو کراچی کا میئر بنایا ۔ڈاکٹر فاروق ستار کسی وڈیر ے یاجاگیر دار گھر انے سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ کراچی کے ایک متوسط طبقہ کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اورانہیں ان انکی میرٹ کی بنیادپرمیئربنایاگیا ۔ایم کیوایم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو سندھ اسمبلی ، قومی اسمبلی اورسینیٹ میں بھیجا جہاں اس سے پہلے صرف جاگیر دار وڈیرے وڈیرے پہنچتے رہے۔ ایم کیوایم نے غریب متوسط طبقہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایم این اے ،ایم پی اے بنایا ۔فاروق ستار کے بعد حیدر عباس رضوی ، فیصل سبزواری ،ریحان ہاشمی ، علی راشد ،علی رضاعابدی ،سمن جعفری ،سمیتاافضال سید ،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،خواجہ اظہار الحسن اورایسے ہی کئی نوجوانوں کو اسمبلیوں میں بھیجا۔ایم کیوایم کے علاوہ کوئی اورجماعت ایسی نہیں ہے کہ جس نے اتنی بڑی تعدادمیں نوجوانوں کوایوانوں میں بھیجاہو۔ ایم کیوایم ہی ملک کی وہ جماعت ہے جو نوجوانوں کی نمائندہ جماعت ہے ،جو نوجوان ٹیلنٹ کی قدر کرتی ہے ،ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتی ہے اور دعوے کرنے کے بجائے عملی طور پر ان کو Impower کرتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک طرف توکراچی کے نوجوانوں کوپروفیشنلز تعلیمی اداروں میں داخلوں سے محروم رکھا جارہاہے ،ان پراعلیٰ تعلیم کے دروازے دانستہ طورپربندکئے جارہے ہیں اوردوسری طرف کراچی میں بڑی تعدادمیں مدرسے قائم کئے جارہے ہیں۔کراچی کے تمام نواحی علاقوں میں مدرسوں کے جال بچھائے جارہے ہیں اورجب آپ تعلیمی اداروں کے بجائے مدرسوں کاجال پھیلائیں گے تواس سے یقیناًمذہبی انتہاپسندی پھیلے گی۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کو مذہبی انتہاء پسندی سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مذہبی انتہاپسندی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں جب قوم کومسلسل آگاہ کررہاتھاکہ کراچی میں طالبانائزیشن بڑھ رہی ہے تو میرا مذاق اڑایاجاتاتھالیکن آج خوداخبارات لکھ رہے ہیں کہ کراچی کے فلاں فلاں علاقے طالبان اورکالعدم تنظیموں کے گڑھ بن چکے ہیں۔ چندروزقبل اتحاد ٹاؤن کے علاقے میں رینجرزگئی تووہاں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں نے اس پرحملہ کیاجس کے نتیجے میں چاراہلکارشہیدہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ جب ہم خودانتہاپسند تنظیموں کی سرپرستی کریں گے توانکی جڑیں مضبوط ہوں گی ۔
جناب الطاف حسین نے شام کے حوالے سے ترکی اورروس میں بڑھنے والی کشیدگی،فرانس میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعہ اورچین اورامریکہ کے درمیان منصوعی جزیروں کے قیام کے معاملے پرپائی جانے والی تلخیوں اورعلاقائی صورتحال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں ہمیں اپنے ملک کی فکرکرنی چاہیے ۔ایسے میں پاکستان کو اب ایک پڑھی لکھی ،لبرل ،سمجھدار قیادت کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت صرف ایم کیوایم پوری کر سکتی ہے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے پانی ، بجلی، توانائی کے بحران اورآلودگی کے مسئلہ پربھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں پینے کے صاف پانی کا بحران بڑھتا جارہا ہے ، اگلے چند برسوں میں پاکستان کو بھی پانی کے شدید ترین بحران کا سامنا ہوگا ، پاکستان کو اس بحران سے نمٹنے کیلئے ایک مربوط پالیسی کی اشدضرورت ہے ۔گندے پانی کی وجہ سے ہیپاٹائٹس اورطرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو نئے Water Dams اورریزروائرزکی ضرورت ہے ۔نوجوانوں کوبھی چاہیے کہ وہ اس بحران کو حل کرنے کیلئے ریسرچ کریں۔اسی طرح توانائی کے بحران کو حل کرنے کیلئے ایک مربوط پالیسی اوراس میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔انہوں نے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر بھی تشویش کااظہارکیااوراس عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لئے بھی کوششیں کرنے کاذکرکیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایم کیوایم کو کام کرنے کا موقع دیاجائے تو انشاء اللہ ہم پاکستان کے حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسائل کابھی حل نکال لیں گے تاکہ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ ہوسکے ۔




تصاویر

12/6/2016 4:19:40 AM