Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہمارے کارکنا ن کی گرفتاریاں کرنا ہی مقصود ہے تو ہم 5دسمبر کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیدیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار


ہمارے کارکنا ن کی گرفتاریاں کرنا ہی مقصود ہے تو ہم 5دسمبر کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیدیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 11/26/2015
ہمارے کارکنا ن کی گرفتاریاں کرنا ہی مقصود ہے تو ہم 5دسمبر کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیدیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار 
خدا کی قسم نظم و ضبط ہمارا شعار نہ ہوتا تو یہاں موجود عوام کا خون جوش مار سکتا تھا اور ساری رکاوٹوں کوعبور کرسکتا تھا، ڈاکٹر فاروق ستار 
ہمیں رینجرز ہیڈ کوارٹر جانے کے آئینی ، قانونی، سیاسی او ر جمہوری حق سے محروم رکھاگیا ہے ، فارو ق ستار 
ہماری سیاست امن و محبت کی ہے اگر ہم آج ناانصافی پر احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں تو محبت کا پیغام دے رہے ہیں، فاروق ستار 
نامعلوم افراد بے نقاب ہوگئے تو اب مشکوک افراد کی اصطلاح متعارف کرادی گئی ہے، ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا 
ایک مرتبہ پھر بانیان پاکستان کی اولادیں اپنی حرمت ، بقاء اور مستقبل کی ضمانت کیلئے اپنے گھروں سے نکلی ہیں، رکن رابطہ کمیٹی محمد حسین 
لاکھوں عوام کی ریلی میں شرکت گواہ ہے کہ ہمارا احتجاج ناجائز نہیں ہے، سی ای سی رکن حیدر عباس رضوی 
ہم نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کو کراچی میں آپریشن کیلئے اعتماد دیا، ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی، فیصل سبزواری 
ایم کیوایم کے انتخابی سرگرمیوں میں مصروف کارکنان کی گرفتاریوں اور انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے خلاف مزار قائد پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء سے مقررین کا خطاب
ریلی لیاقت آباد نمبر 10سے شروع ہوئی جسے مزار قائد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روک دیا اور رینجرز ہیڈ کوارٹر جانے نہیں دیا
کراچی ۔۔۔26،نومبر2015ء 
قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ الیکشن مہم میں مصروف ایم کیوایم کے 100گرفتار کارکنان کو فی الفور رہا کیاجائے ، ہمیں بلدیاتی الیکشن لڑنے کا حق دیاجائے ، ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کیاجائے اگر ہمارے کارکنا ن کی گرفتاریاں کرنا ہی مقصد ہے تو ہم 5دسمبر کے بلدیاتی انتخابات کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیدیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم مخالفین اوردشمنوں کوپتا ہے کہ ایم کیوایم کو الیکشن میں ہرایا تو جاسکتا نہیں ہے لیکن ایم کیوایم کی جیت کے مارجن کو کم کیاجائے اور اسی لئے بلدیاتی انتخابات کے موقع پریہ حربے ایم کیوایم کے خلا ف استعمال کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں رینجرز ہیڈ کوارٹر جانے کے آئینی ، قانونی ، سیاسی او ر جمہوری حق سے محروم رکھاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دو برس سے شہرمیں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے جس کے دوران ہمارے 5ہزار سے زائد کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ، گرفتاریوں کی گئیں، 750جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں قید ہیں ، 50کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا اور 150سے زائد جبری طور پر گمشدہ ہیں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہاں پاکستان کا آئین وقانون چلانا ہے یا جنگل کا قانون؟ ان خیالا ت کااظہار انہوں نے جمعرات کی شب رینجرز کی جانب سے بلدیاتی الیکشن مہم کے سلسلے میں مصروف ایم کیوایم ذمہ داران و کارکنان کی سیکٹر آفسوں سے چھاپہ مارا کارروائیوں اور بلدیاتی انتخابات میں آزادانہ طور پر حصہ لینے سے روکنے کے خلاف منعقد کی گئی عظیم الشان احتجاجی ریلی کے ہزاروں شرکاء سے مزار قائد پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔احتجاجی ریلی کے شرکاء سے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا ، رکن رابطہ کمیٹی محمد حسین ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن حیدر عباس رضوی اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے خطاب کیا ۔ احتجاجی ریلی کے شرکاء کا جوش و خروش قابل دید تھا اور وہ اس موقع پر ایم کیوایم کے قائد جناب الطا ف حسین کے حق میں پرجوش نعرے بازی کررہے تھے ۔ریلی لیاقت آباد نمبر 10سے شروع ہوئی جو براستہ لیاقت آباد داکخانہ ، تین ہٹی ، گرومندر سے ہوتی ہوئی مزار قائد پر پہنچی جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریلی کے شرکاء کو رینجرز ہیڈ کوارٹر ز جانے سے روک دیا ۔ 
ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ دو برس سے ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کو تشدد کرنے والی جماعت ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان الزامات ریاستی ظلم کے سامنے ، آئین و قانون کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی بے دردی سے پامالی کے باوجود جناب الطاف حسین مسلسل عدم تشدد کا درس دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری سیاست امن و محبت کی ہے اگر ہم آج ناانصافی پر احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں تو پرامن ہیں اور محبت کا پیغام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کا اتحاد کراچی کے عوام اوربرادریوں کے ساتھ ہے جبکہ ایم کیوایم مخالفین اپنی انتخابی مہم اور کارنر میٹنگیں تک ڈرائینگ روم میں کررہے ہیں جس سے ان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایم کیوایم کا آئینی و قانونی حق ہے کہ رینجرز ہیڈ کوارٹر جاکر احتجاج کرتی لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں ، یہاں لاکھوں کا مجمع ہے خدا کی قسم نظم و ضبط ہمارا شعار نہ ہوتا تو یہاں موجود عوام کا خون جوش مار سکتا تھا اور ساری رکاوٹوں کوعبور کرسکتا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ آج ملین مارچ کامیاب ہوا ہے اور انشاء اللہ 5دسمبر کے بعد بلین اور ٹریلین مارچ ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم امن کا پیغام دے رہے ہیں تو اپنے لفظوں کو بھی قابو میں رکھا ہوا ہے ، ہمارے صبر کی بھی ایک انتہاء ہے ، ہمارے ملک کے ریاستی اداروں کے اہلکار ایم کیوایم کے انتخابی دفاتر پر روزانہ چھاپہ ماریں اور کارکنان کوبلاجواز گرفتار کریں تو ہم انصاف کیلئے کہاں جائیں ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ دوبرس سے ایم کیوایم بلاجواز اور غیر قانونی حربے جھیل رہی ہے ان دو برسوں میں کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں ہوا کہ ایم کیوایم کے کارکنان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دیا ہو ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے کارکنا ن کی گرفتاریاں کرنا ہی مقصد ہے تو ہم 5دسمبر کے بلدیاتی انتخابات کے بعد رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیدیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ جماعتیں جو پنجاب میں آگ و پانی ہیں وہ حیدآباد میں ایم کیوایم کے خلاف متحد ہوگئیں اور یہاں آگ لگانے کی سازش کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مائنس ون فارمولا کامیاب نہیں ہوا تو اب شہر کراچی کو تقسیم کی سازشیں کی جارہی ہیں لیکن یہ شہر تقسیم نہیں ہوگا سب جناب الطاف حسین کی قیادت میں متحد ہیں ۔ 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا نے احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں ایم کیوایم کے ساتھ ظلم روا رکھاجارہا ہے اور کارکنان کو انسان نہیں سمجھا جارہا ہے ۔ پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نامعلوم افراد کی رٹ لگا رکھی تھی جب یہ نامعلوم افراد بے نقاب ہوگئے تو ابمشکوک افراد کی اصطلاع متعارف کرادی ہے جس کے تحت ایم کیوایم کے سیکٹر ، یونٹ کے ذمہ داران و کارکنان کو گرفتار کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم مخالفین کوشک ہے کہ اگر ایم کیوایم کو اقتدار دیا گیا تو ایم کیوایم دو فیصداستحصالی عناصر سے حکمرانی چھین لے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے ہر اس کارکن اورہمدرد کو پکڑا جارہا ہے جو الیکشن مہم میں شریک ہے اور اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ مشکوک افراد پکڑ ا گیا ہے جبکہ آج مزار قائد پر لاکھوں مشکوک افراد بیٹھے ہیں انہیں بھی پکڑ لیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تصاویر اور تقاریر پر میڈیا پر پابندی عائد ہے لیکن ملک کی عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ ہمارے شہر سے بینرز اتارے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج کی لاکھوں کی ریلی گواہی دے رہی ہے کہ کوئی بھی ہتھکنڈہ استعمال کرلیا جائے ایم کیوایم بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ ہرگز نہیں کریگی ۔ 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن محمد حسین نے کہاکہ آج ایک مرتبہ پھر بانیان پاکستان کی اولادیں اپنی عزت ، حرمت ، بقاء اور مستقبل کی سلامتی کی ضمانت کیلئے اپنے گھروں سے نکلی ہیں اور ایسے حالات آخر بانیان پاکستان کی اولادوں کیلئے کیوں پیدا کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجر عوام کو کبھی دہشت گر د، ملک دشمن ، ٹارگٹ کلر کہاجاتا ہے اور کبھی بھتہ خور کے نامناسب القابات کے نوازا جاتا ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ 
ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن حیدر عباس رضوی نے کہاکہ آج کی لاکھوں کی احتجاجی ریلی کا اعلان چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہوا تھا لیکن یہاں لاکھوں عوام کا سمندر گواہی دے رہا ہے کہ ہمارا احتجاج ناجائز نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم بلدیاتی انتخابی مہم میں کارنر میٹنگ ، جلسے اور انتخابی مہم کے بجائے اگر احتجاج پر مجبور ہوئی تو اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے بے گناہ کارکنوں کودفاتر سے گرفتار کیاجارہا ہے ، ہم نے کبھی بھی یہ بات نہیں کی کہ جو مجرم ہو اس کو گرفتار نہ کیاجائے ، ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمارے دفاتر میں الیکشن کا کام ہورہا ہے ان کی حرمت کا خیال رکھاجائے ورنہ ایسے حربوں سے پورے انتخابی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور لوگوں میں خوف کی فضا پیدا کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج ضرورت یہ ہے کہ ایم کیوایم کے دکھ اور پریشانیوں کو سمجھا جائے اور اس کا سدباب کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی لبر ل شہر ہے اور شہر سے یہ شناخت چھین کر اسے انتہاء پسند اور فرقہ واریت اور مذہبی جنیونیت میں جھونکنے کا پروگرام بنا یاجارہا ہے جیسے اہلیان کراچی نے آج مسترد کردیا ہے ۔ 
حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے کہاکہ ایم کیوایم کی جانب سے ظلم و ستم اور گرفتاریوں پر آواز اٹھانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ایم کیوایم پرامن نہیں ہے ، ایم کیوایم کے پاس شہر کا85فیصد مینڈیٹ ہے اورہم نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کو اعتماد دیا تو انہوں نے کراچی میں آپریشن شروع کیا لیکن انہوں نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ۔ انہوں نے کہاکہ آج کی لاکھوں کی ریلی کے شرکاء نے قانون نافذ کرنیو الوں سے شکوہ کیا ہے اور آج ریلی کے شرکاء اس امید اور دعا کے ساتھ جائیں گے کہ آج کے بعد ایم کیوایم ہی نہیں سب کو سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں کی آزادی دی جائے گی اور صرف جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کو ہی پکڑا جائے اور سیاسی مخالفت میں ایم کیوایم دیوار سے لگانے کا عمل بند کیاجائے ۔ 

9/30/2016 6:49:05 PM