Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے بلدیاتی الیکشن 2015ء کیلئے تیار کئے گئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بلدیاتی منشور کا اجراء کردیا 2013ء کا بلدیاتی نظام نوکر شاہی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار


ایم کیوایم نے بلدیاتی الیکشن 2015ء کیلئے تیار کئے گئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بلدیاتی منشور کا اجراء کردیا 2013ء کا بلدیاتی نظام نوکر شاہی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 11/25/2015
ایم کیوایم نے بلدیاتی الیکشن 2015ء کیلئے تیار کئے گئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بلدیاتی منشور کا اجراء کردیا 2013ء کا بلدیاتی نظام نوکر شاہی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
نچلی سطح کے بلدیاتی اداروں کا تصور آج کی دنیا میں بہت تبدیل ہوگیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
کراچی میں دوسری سطح کا اسٹرکچر وضع ہونا چاہئے اور اوپر میٹرو پولیٹن کارپوریشن ، سٹی گورنمنٹ ہوں، اس کے نیچے ٹاؤن میونسپل حکومت ہوں، ڈاکٹر فاروق ستار 
صوبوں نے اقتدار ، اختیار کی لالچ میں 2001ء کے بلدیاتی قانون کو ملتوی کردیا اور اس کے بدلے میں جو قانون دیا گیا ہے اس میں بلدیاتی حکومت کوجو اختیار ات تھے وہ تمام اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
بلدیاتی انتخابی منشور میں پانی و نکاسی آب ، صحت و صفائی کے نظام کو بہتر بنانا ترجیحات میں ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
کے فور ، سرکلر ریلوے ، مانس ٹرانزٹ منصوبے ، صحت عامہ ، تعلیم ، کھیل کی اکیڈمیوں کے قیام ، روزگار کی فراہمی ،کاٹیج نڈسٹری کے شعبوں کو بھی منشور میں کلیدی اہمیت دی گئی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
کورنگی ، شاہ فیصل اور ہجرت کالونی میں رینجرز کے چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں، ڈاکٹر فارو ق ستار
ہمارے خدشات واپس آرہے ہیں کہ ہمارا گراؤنڈ چھین کر زبردستی کسی اور کو دینے کی سازش کی جارہی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
کراچی:۔۔۔25،نومبر2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی الیکشن 2015ء کیلئے تیار کئے گئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بلدیاتی منشور کا اجراء کردیاہے ۔بلدیاتی انتخابی منشور میں پانی و نکاسی آب ، صحت و صفائی کے نظام کو بہتر بنانا ترجیحات میں ہے جبکہ کے فور ، سرکلر ریلوے ، مانس ٹرانزٹ منصوبے ، صحت عامہ ، تعلیم ، کھیل کی اکیڈمیوں کے قیام ، روزگار کی فراہمی ،کاٹیج نڈسٹری کے شعبوں کو بھی منشور میں کلیدی اہمیت دی گئی ہے ۔بلدیاتی انتخابات کے منشور کا اجراء بدھ کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کی رکن محترمہ ذرین مجید ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے انچارج وسیم اختر ، رکن حیدر عباس رضوی اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی سید سردار احمد کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ سیاسی اور جمہوری عمل کے فروغ کیلئے ایک ایسا بلدیاتی منشور آپ کے سامنے رکھا ہے جس میں جناب الطاف حسین کے ویژن کو سمو سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ نچلی سطح کے بلدیاتی اداروں کا تصور آج کی دنیا میں بہت تبدیل ہوگیا ہے ، غربت ، مہنگائی کے خاتمے کیلئے ، معاشی ، معاشرتی انصاف کو قائم کرنے کیلئے ایک صحیح معنوں میں شراکتی اور شمولیتی جمہوریت قائم کرنے کی غرض سے بلدیاتی نظام بہت طاقتور ہونا چاہئے جبکہ ملک میں رائج2013ء کا بلدیاتی نظام نوکر شاہی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ، یہ انگریزوں کے زمانے کا نوآبادیاتی اور ایک کمشنری نظام کو ہی قائم و دائم رکھتا ہے اور اس نظام میں اختیارات منتخب نمائندوں کے پاس نہیں بلکہ اختیارات افسر شاہی اور نوکر شاہی کے پاس ہیں ۔ ا نہو ں نے کہا کہ ہماری سابقہ بلدیاتی کارکردگی ہمارا منشور ہے ، ہمیں جب بھی کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں اس سے پہلے عوام کی خدمت کا موقع ملا اور ہم جس طرح سے عوام کی خدمت کی وہ ہر خاص و عام کے علم میں ہے ۔ اسی کارکردگی کو لیکر ہم نے الطاف حسین کے ویژن کو آج کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا اور اپنا ایک تصور آپ کے سامنے رکھا ہے جو صھیح معنوں میں شراکتی اور شمولیتی جمہوریت قائم کرے گا اور عام پاکستانی کوبا اختیار بنائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے لگ بھگ یا زیادہ ہے اور موجودہ نظام جس بلدیاتی ڈھانچے کو وضع کرتا ہے اس میں 209یونین کونسلز ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ کمشنری نظام کی بنیاد پر یہان ڈسٹرکٹ قائم ہیں ، کراچی میں دوسری سطح کا اسٹرکچر وضع ہونا چاہئے اور اوپر میٹرو پولیٹن کارپوریشن ، سٹی گورنمنٹ ہوں، اس کے نیچے ٹاؤن میونسپل حکومت ہوں لیکن یہ بلدیاتی نظام کے دائرے میں یہ ڈھانچہ قائم ہونا چاہئے اور نچلی سطح یوسی کی ہوگی اور اختیارات صوبے سے میٹرو پولیٹن حکومت کو حاصل ہونا چاہئے اور میٹر و پولیٹن حکومت اپنے اختیارا ت ڈسٹرکٹ اورٹاؤن کو منتقل کریں ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کا بلدیاتی ڈھانچہ وضع ہونا چاہئے جس میں سیاسی فیصلے اور انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار اور مالی خود مختاری یعنی اپنے وسائل خود پیدا کرنا اپنے مقامی ٹیکسوں کو خود وصول کرنا شامل ہے ہم نے اسی بات پر اپنے منشور کو جاری کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج کی دنیا میں جدید بلدیاتی نظام میں بلدیاتی اداروں کا کام صرف صفائی کا نہیں ہے ، نکاسی آب ، فراہمی آب، اسٹریٹ لائٹس ، فوتھ پارٹ ، سڑکیں ، کھیلوں کے میدان ، پارک ، فائر بریگیڈ کے محکمے کو دیکھنا نہیں ہے بلکہ تیسری دنیا کے ممالک میں بھی بلدیاتی ادارے آج اس قدر بااختیار ہیں کہ وہ جس ملک میں بھی قائم ہیں اس ملک کی معاشی ، سماجی معاشرتی ،انسانی وسائل کی ترقی ،، امن و امان کے قیام ، استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور دہشت گردی ، انتہاء پسندی کے خاتمے میں بھی یہ ایک کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں بھی اگر واقعتا ایک جمہوری کلچر چاہتے ہیں تو یاد رکھناچاہئے کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی نرسری ہے یہ مضبوط نہیں ہوں گے تو جمہوریت کی عمارت اس پر مضبوط نہیں رہ سکتی ، جمہوریت کو مستحکم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ پوری دنیامیں جو بلدیاتی نظام کا تصور ہے وہ اپنے ہاں رائج کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم موجودہ بلدیاتی نظام عوام کو ڈلیور ہماری دو جہتی حکمت عملی ہے کہ اس نظام میں ہم کیسے عوام کو ڈلیور کریں ، اور قانون سازی کے کیا بل جمع کرائے اور اس طرح حکومتوں کو پابند کریں کہ وہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں ۔ انہوں نے کہاکہ کمیونیٹی پارٹی سی پیشن اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ور شہری سینس کو ہم فروغ دیں گے جن کے ذریعے بلدیاتی حکومتیں بہترطور پرکام کرسکیں گی ، کے فور منصوبے کو وفاقی اور صوبائی حکومت نے پنگ پانگ بنایا ہوا ہے او ردونوں ادھر سے ادھر اس مسئلے کو دھکیل رہے ہیں اس کے نتیجے میں سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے عوام پس رہے ہیں ۔کے فور کے پہلے مرحلے کی تکمیل سے 240ایم جی بی پانی آئے گا ۔ کراچی مین پانی کی کمی پر فسادات ہوسکتے ہیں جو لسانی فسادا ت میں بدل سکتے ہیں ان کوروکنے کیلئے 6ارب کا منصوبہ ہے ، میر پور خاص ، نوابشاہ میں اسی طریقے کے چھوٹے منصوبے وضع کریں گے ہمیں موقع ملا تو گرمیوں کے مہینے سے پہلے پانی کی فراہمی اور نکاسی پر زیادہ سے زیادہ قابو پائیں گے ۔ کوڑے سے انرجی بنائی جاسکتی ہے اور اس انرجی کو کھارے پانی کو میٹھا کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتاہے ۔ پینے کا پانی صاف ہونا چاہئے ، ڈینگی نگلیریا عام ملیر یا اور دیگر وبائی امراض کی روک تھام کیلے نظام وضع کریں گے ۔: سرکلر ریلوے کی بحالی ، ماس ٹرانزٹ : اس میں ہمیں وفاق کی مدد کی ضرورت ہوگی ، صوبائی حکومت کو بھی اپنا کردا ر ادا کرنا ہوگا ۔ بین الاقوامی تعاون موجود ہے اور اس کو یقینی بنا کر منصوبے پر کام کا آغاز ز کرنا ہے سرکلر ریلوے کی بحالی حق پرست مئیر کی ترجیح ہوگی ۔ہیٹ ویوز جو موسم کی تبدیلی سے آئی تھی اس کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھائیں گے اس کا آئندہ کیسے مقابلہ کیاجائے اور نقصان کس طرح کم سے کم ہوں ، اس کی ٹریننگ دی جائے ، اسپتالوں میں اس کا نظام وضع کیاجائے ۔ روزگار کی فراہمی کیلئے دو طریقے ہیں ایک ہنر سکھانے کے مراکز بنائیں جائیں ، ٹینکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور وکیشنل انسٹی ٹیوٹ بنائے جائیں تاکہ لوگوں کو روزگار پاکستان اور اس سے باہربھی دیا جاسکے ۔کاٹیج انڈسٹریز کے زون مکمل کرکے نئے زون بن سکتے ہیں ، سستی زمینے ، چھوٹا قرضہ دیکر مقامی حکومت اس طرح کی اسکمم بنا کر لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونا کا موقع فراہم کرسکتی ہے ۔ یہ پانچ ترجیحات لوگوں کو بااختیار عوام اور خوشحالی پاکستان اور کراچی کیلئے ہیں ۔ آج کے دور میں مقامی حکومتیں ترقی کا انجن ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کھیل اور تفریح کیلئے گراؤنڈ ہی نہیں ہونا چاہئے اکیڈمی اور نرسری بنانے کی ضرورت ہے پرائمری سطح سے بچوں کو لاکر تربیت اور موقع دینے کی ضرورت ہے ۔ ثقافت وفنون لطفی :کے شعبے میں مزید سینما بننے چاہئیں ، ٹھیٹر بننے چاہئیں، کافی ہاؤسز ہونی چاہیئے ۔ بچوں کو تخلیقی سرگرمیاں فراہم کی جائیں گی ۔کمیلے اور مصباح خانے ؛ تجہیز و تکفین کے مقامات نہیں ہیں ۔ قرستان کی زمینیں بورڈ آف ریونیو سے لیکر قبرستان کی تعداد بڑھائی جائے گی ،؂عوامی بیت الخلاء کا کوئی تصور نہیں ہے ، آگ بجھانے اوربچاؤ کے اقدماات میں نئے فائر بریگیڈ ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ یہ ہے کہ ٹمبر مارکیٹ واقعہ کو دیکھیں تو واٹر ہائیڈرینس مارکیٹوں کے پاس ہونا چاہئے ۔ 
ماسٹر پلان کو اپ ڈیٹ کرنا ہے ، بلڈنگ کنٹرول اتھارتی کو صوبے سے حاصل کرنا ہے ، یہ سارے کام کرکے کمیونٹی پولیس ، ٹریفک کیلئے وارڈن کا نظام وضع کرنا ہے ، چوکیداری کا نظام علاقوں میں وضع کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلدیاتی بجٹ منظور کرنے کا مالی اختیار بھی کونسلوں کو دیا جائے بجٹ کونسلیں پاس کرتی ہیں لیکن صوبائی حکومت بجٹ دیتی ہے جو خود مختاری 
میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ ترقیاتی منصوبوں میں کونسل کو خود مختار ہونا چاہئے ۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کورنگی، شاہ فیصل اور ہجرت کالونی سیکٹر آفس پر چھاپوں کی مذمت کی اور کہاکہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی حکومت کی طرف سے ہم اپنے دفاتر کھولیں ، سیاسی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیں، انتخابی مہم، عوامی رابطوں کو شروع کریں ، کارنر میٹنگ اور جلسوں کا انعقاد کریں ہم نے مختصر وقت میں انتخابی مہم چلائی اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پھر کوئی پالیسی میں تبدیلی ہوئی ہے اور گزشتہ چار دنوں سے بلاجواز ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے اور کوئی 100کے قریب کارکنان گرفتار ہوچکے ہیں ۔ یہ وہ کارکنان ہیں جو انتخابی دفاتر میں بیٹھے ہیں،پرچم اور بینرز لگا رہے ہی، کارنر میٹنگ میں شامل ہیں ، عوامی رابطہ کررہے ہیں نہ صرف ان کی گرفتاریاں ہورہی ہے ، بلکہ ہمارے بینرزز اورپینا فلکس کو اتار جارہا ہے ۔ اسی طریقے سے ہمارے اور بینرز اتارے جارہے ہیں ، شاہراہ فیصل پر سے ایک ایک بینرز ، پرچم اور پنیا فلکس سب اتار دی گئی جبکہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے بینرز پرچم اسی طرح لگے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ اچانک صورتحال انتہائی تشویشنا ک ہے ، یہ پری پول ریگنگ کے زمرے میں آتاہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ کام کررہے ہیں یہ بینرز کون لگا رہا ہے ، ہمار ے بینرز اتار خڑ پی ٹی آئی کے بینرز لگے رہنے دیئے گئے ، نو کرپشن کے جو بینرز لگ رہے ہیں یہ کون لگا رہے ہیں ؟نہ ان کا کوئی نام ہے ؟نہ اتا پتا ہے؟ یہ چیزیں انتخابی فضا کو خراب کررہی ہیں ، ہمارے ووٹرز اور حلقے میں بھی کسی سے بھی پوچھ لیں کہ وہ کہ رہے ہیں کہ اگر کسی جماعت کے ورکرز ہیں اور الیکشن میں جوش نظر آرہا ہے تو وہ ایم کیوایم کے کارکنان ہیں باقی سب سے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے اور حیلے بہانے سے راہِ فرار اختیار کررہے ہیں سب کے تعزیئے ٹھنڈے پڑے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ لانڈھی میں جان بوجھ کر لوگوں کو خو ف زد کیاجارہا ہے ۔ گھروں اور دفاتر سے کارکنان کو گرفتار کیاجارہاہے اس تمام صورتحال کا الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہئے ، اس طرح کی غیرآئینی ، غیر قانونی پابندیوں کو روکنا چاہئے جو ہماری سیاسی انتخابی سرگرمیوں پر کیون پابندی عائد کی جارہی ہے ہم اس کی مذمت اور اس پر احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم ،وزیراعلیٰ سندھ ، چیف آف آرمی اسٹاف ، کور کمانڈ ر اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ہماری انتخابی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے اس کا نوٹس لیاجائے ، دس رینجرزاور پولیس کی گاڑیاں اگر ہمارے دفاتر ، الیکشن دفاتر پر آکر کھڑی ہوجائیں تو لوگوں کو کیا پیغام دیاجارہا ہے؟ہماری انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کی حوصلہ شکنی کیلئے یہ سب کچھ ہورہا ہے ۔ ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے انہوں نے کہا کہ کورنگی سیکٹر کے آفس سے سیکٹر انچارج وسیم شمع ،سیکٹر ممبر اصغر یعقوب کارکنان، ندیم اختر ، رفیق شیخ، ابراہیم ، شہباز ، وسیم ، بوبی شامل ہیں جو کہ الیکشن مہم چلا رہے ہیں۔یہ سب کس کو اسپیس دینے کیلئے کیاجارہاہے ،ہمارے خدشات واپس آرہے ہیں کہ ہمارا گراؤنڈ چھین کر زبردستی کسی اور کو دینے کی سازش کی جارہی ہے ۔اس خدشہ کو رینجرز، پولیس ، صوبائی ووفاقی حکومتیں زائل کریں اور سیای جموری اور آئین کی عمل داری کو قائم کیا جائے۔ 

12/8/2016 2:05:28 PM