Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جماعت اسلامی والے بنگلہ دیشی رہنماؤں کی پھانسی پر تو مظاہرے کررہے ہیں لیکن محصور پاکستانیوں کیلئے مظاہرے کیوں نہیں کئے جاتے؟ الطاف حسین


جماعت اسلامی والے بنگلہ دیشی رہنماؤں کی پھانسی پر تو مظاہرے کررہے ہیں لیکن محصور پاکستانیوں کیلئے مظاہرے کیوں نہیں کئے جاتے؟ الطاف حسین
 Posted on: 11/23/2015
جماعت اسلامی والے بنگلہ دیشی رہنماؤں کی پھانسی پر تو مظاہرے کررہے ہیں لیکن محصور پاکستانیوں کیلئے مظاہرے کیوں نہیں کئے جاتے؟ الطاف حسین
جو پاکستانی1971ء سے بنگلہ دیشن کے ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں ان کووطن واپس لانے کی بات کیوں نہیں کی جاتی ؟
بنگالیوں نے اپنے حقوق کی جدوجہد شروع کی اورحقوق کی جدوجہد کانعرہ بنگلہ دیش کی آزادی کے نعرے میں ڈھل گیا
میں غدارنہیں بلکہ ظلم اورناانصافیوں کے فرسودہ نظام کا باغی ہوں
نارتھ ناظم آباد ریذیڈنٹس کمیٹی کے تحت عمائدین کے ایک بڑے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔22، نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ بنگلہ دیش میں دورہنماؤں کو پھانسی دی گئی تواس پر جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرے کئے ،جماعت اسلامی والے کہتے ہیں کہ ان کے ر ہنماؤں نے غداری نہیں کی بلکہ پاکستان کاساتھ دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی والے ان کیلئے توجلوس نکال رہے ہیں لیکن محصورپاکستانی نوجوان،بزرگ، مائیں، بہنیں، بچے جو1971ء سے بنگلہ دیش کے ریڈکراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں،جہاں محصوربہنیں بیٹیاں فاقہ کشی سے مجبورہوکرا پنی عزتیں بیچنے پر مجبورہیں، آخر ان محصورپاکستانیوں کووطن واپس لانے کی بات کیوں نہیں کی جاتی ؟ان کے لئے مظاہرے کیوں نہیں کیے جاتے؟یہ بات انہوں نے نارتھ ناظم آباد ریذیڈنٹس کمیٹی کے تحت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے ایک بڑے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں بزرگوں ، خواتین اور طلباوطالبات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے برصغیرپاک وہند کی تاریخ، تحریک پاکستان کے اسباب ، وجوہات ، بانیان پاکستان کی قربانیوں اورتاریخی حوالوں کی روشنی میں قیام پاکستان کے بعد بانیان پاکستان کی اولادوں کے ساتھ ناانصافیوں کی مختصراً تاریخ بیان کی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تقسیم ہند سے قبل برصغیر پاک وہند میں بادشاہوں اور نوابوں کی حکومت ہواکرتی تھی جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے امن وسکون سے زندگی بسر کیاکرتے تھے جن میں ہندو اور مسلم دونمایاں مذہبی اکائیاں تھیں۔ اس پانچ سو سے زائد برسوں کے دوران ہندوؤں اورمسلمانوں میں کبھی فسادات نہیں ہواکرتے تھے لیکن جیسے ہی برصغیر میں انگریزوں کی آمد ہوئی تو مسلمانوں اور ہندوؤں میں تفریق پیدا کی گئی ۔ یہ تفریق اتنی بڑھتی گئی کہ برصغیرپاک وہند کی تقسیم کا سبب بن گئی ،’’لڑاؤ اور حکومت کرو ‘‘ کی پالیسی کے تحت مسجد کے سامنے سور اور مندر کے سامنے گائے کا سرکاٹ کرڈال ہندومسلم فسادات کرائے گئے۔ مسلم آبادی کہنے لگی کہ مسلمانوں کا ہندوؤں کے ساتھ گزارا ممکن نہیں ہے اور ہندو اکثریت کی بنیادپر زیادہ حق کا مطالبہ کرنے لگے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ پہلے آل انڈیاکانگریس کے رکن تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو ان کا جائز حق نہیں مل رہا اور ان کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں تو انہوں نے کانگریس کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریک پاکستان کی جدوجہد برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں میں ہوئی ، قیام پاکستان کی جدوجہد میں 20 لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے ، خواتین نے اپنی عصمتوں کے تحفظ کیلئے کنوؤں میں کود کر جان دیدی، معصوم بچوں کو نیزوں پر اچھالاگیا، بوڑھے والدین کے سامنے ان کے جوان بچوں کو سفاکی سے قتل کیاگیا لیکن بانیان پاکستان تمام تر مظالم کے باوجود اپنی جدوجہد میں ڈٹے رہے اور ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان ، لیکے رہیں گے پاکستان ‘‘ کا نعرہ لگاتے رہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کے مسلمانوں کو پکارتے رہے کہ مسلمانو!! تم صدیوں سے اس زمین پر رہتے چلے آئے ہو ، اس زمین میں تمہارے اجداد کی تاریخ ہے لہٰذا اپنی زمین چھوڑ کر مت جاؤ کیونکہ تم اپنی زمین چھوڑ کر جہاں جارہے ہو وہاں تمہیں کوئی قبول نہیں کرے گا لیکن مولانا ابوالکلام آزاد کو ہندوؤں کا ایجنٹ قراردیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب بانیان پاکستان کی جانی ومالی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوگیا تو قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں نے دفتری کام سنبھالا اور پاکستان کو انفراسٹرکچر دیا ، قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان چلانے کیلئے اپیلیں کرکے اردوبولنے والے سی ایس پی افسران اور بیوروکریٹس کو ہندوستان سے بلایا جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا اور پاکستان کو سیاسی ومعاشی طورپر مستحکم بنایا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایوب خان کے دورحکومت میں اردوبولنے والے اعلیٰ سول بیوروکریٹس کو تعصب کی بنیاد پر بیک جنبش قلم ان کی نوکریوں سے برطرف کردیا گیا ، پھر یحییٰ خان کے دورحکومت میں سینکڑوں مہاجربیوروکریٹس کو ان کی ملازمتوں سے نکالاگیا اور رہی سہی کسر ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں پوری کردی گئی اور باقیماندہ مہاجربیوروکریٹس کو سندھ کے سرکاری محکموں سے برطرف کردیاگیا۔یہی نہیں بلکہ نیشنلائزیشن کے نام پر مہاجروں کی صنعتیں ، اعلیٰ معیار کے کالجز، اسکول، بنک ، ملیں اور انشورنس کمپنیوں پر قبضہ کرلیاگیا۔ جب ڈی نیشنلائزیشن کی گئی تو مہاجروں کو ان کی چھینی گئی املاک واپس کرنے کے بجائے غیر مہاجروں کو دے دی گئیں اور مہاجروں کا بدترین معاشی قتل عام کیاگیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے آئین کا سہار ا لیکر 1973ء میں مہاجروں کا تعلیمی قتل عام کرنے کیلئے صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کردیا اور کہاگیا کہ یہ کوٹہ سسٹم دس سال کیلئے نافذ کیاجارہا ہے تاکہ دیہی سندھ کے طلبا کا تعلیمی معیار شہری سندھ کے طلباء کے برابر لایاجاسکے جبکہ دیہی آبادی صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں بھی تھی لیکن وہاں کوٹہ سسٹم نافذنہیں کیاگیا۔صوبہ سندھ میں تعصب کی بنیادپر نافذ کیاجانے والا کوٹہ سسٹم آج کے دن تک نافذ ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر سندھ میں کوٹہ سسٹم کے نفاذ کامقصد دیہی آبادی کو شہری آبادی کے برابر لانا ہوتا تو یہ کوٹہ سسٹم پاکستان کے دیگر تین صوبوں میں بھی نافذ کیاجاتا ، سندھ میں کوٹہ سسٹم کا مقصد محض تعصب اورنفرت کی بنیاد اردوبولنے والے مہاجروں کوسیاسی ، معاشی اورتعلیمی میدان میں پسماندہ کرنا تھا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1970ء کے انتخابات میں مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن مغربی پاکستان کے کرتادھرتاؤں نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیااور اقتدار مجیب الرحمان کو دینے سے انکارکردیاجس کے نتیجے میں بنگالیوں نے اپنے حقوق کی جدوجہد شروع کی اورحقوق کی جدوجہد کانعرہ بنگلہ دیش کی آزادی کے نعرے میں ڈھل گیا۔ انہوں نے کہاکہ مغربی پاکستان کے لوگ سابقہ مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کو پاکستان کی معیشت پربوجھ قراردیاکرتے تھے ، بنگالیوں کو پتلا دبلا اور کمزور کہاکرتے تھے ، انہیں پاکستانی کے بجائے اپنا غلام اور کیڑا مکوڑا سمجھاجاتاتھا لیکن انہی کمزوربنگالیوں نے نہ صرف اپنا علیحدہ وطن قائم کرلیا بلکہ آج بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں یہ تاریخی حقائق بیان کرتا ہوں تو مجھے غدار قراردیاجاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں غدارنہیں بلکہ ظلم اورناانصافیوں کے فرسودہ نظام کا باغی ہوں۔ایم کیوایم سے قبل مہاجروں کو سندھ کے شہری علاقوں میں تعصب اورنفرت کا نشانہ بنایاجاتا تھا، مہاجروں سے بھری بس میں مہاجربزرگ یا نوجوان کو تشددکانشانہ بنایاجاتا تھا اور تمام مہاجر ظلم وناانصافی کا یہ منظر دیکھ کر خاموش رہا کرتے تھے لیکن ایم کیوایم نے مہاجروں کومتحد کردیا۔آج میری تقاریراورتصاویر نشر وشائع کرنے پر اس لئے پابندی عائد ہے کہ الطاف حسین نے کمزور اور بکھرے ہوئے مہاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے ایک قوت میں تبدیل کردیا ہے اور وہ مہاجروں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے مظلوم ومحروم اورپسماندہ عوام کو حقوق دلوانے کی بات کرتا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل جماعت اسلامی کے دورہنماؤں کوبنگلہ دیش میں پھانسی دی گئی تواس پر امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے مذمت کی ،آج جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرے کئے۔انہوں نے سوال کیاکہ بنگلہ دیش اب پاکستان کاحصہ ہے یاعلیحدہ ملک ہے؟انہوں نے اپنے قانون کے مطابق سزادی ہے ۔جماعت اسلامی والے کہتے ہیں کہ ان کے ر ہنماؤں نے غداری نہیں کی بلکہ پاکستان کاساتھ دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی والے ان کیلئے توجلوس نکال رہے ہیں لیکن محصورپاکستانی نوجوان،بزرگ، مائیں، بہنیں، بچے جو1971ء سے بنگلہ دیش کے ریڈکراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں،جہاں محصوربہنیں بیٹیاں فاقہ کشی سے مجبور ہوکرا پنی عزتیں بیچنے پر مجبورہیں، آخر ان محصورپاکستانیوں کووطن واپس لانے کی بات کیوں نہیں کی جاتی ؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب میں نے کہاکہ کراچی میں طالبان آگئے ہیں توپوری پیپلزپارٹی چیخ اٹھی، وزیراعلیٰ سندھ سمیت تمام وزراء نے اس سے انکار کیا، مجھے طعنے دیے،میں نے کہاکہ القاعدہ آگئی ہے تواس پر میرامذاق اڑایاگیا، میں نے کہاکہ یہاں داعش آگئی ہے تو کہا گیا کہ الطاف حسین جھوٹ بولتاہے،لیکن آج میری باتیں سچ ثابت ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پہلے کہیں کوئی قتل کا واقعہ ہوجائے تواس کاالزام ایم کیوایم پر لگا دیا جاتا تھا۔ چندماہ قبل سانحہ صفوراہواجس میں مسلح دہشت گردوں نے اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر حملہ کرکے درجنوں معصوم وبے گناہ لوگوں کوبیدردی سے شہید کردیاگیا۔ٹی وی ٹاک شوزمیں بعض لوگوں نے یہ تاثردینے کی کوشش کی کہ اس واقعہ میں ایم کیوایم ملوث ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس واقعہ میں جودہشت گردپکڑے گئے ان سب کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔انہوں نے کہاکہ طالبان، القاعدہ کے تمام بڑے بڑے دہشت گردجماعت اسلامی والوں کے گھروں سے پکڑ ے گئے لیکن جماعت اسلامی والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ۔ دوروزقبل کراچی کے علاقے اتحادٹاؤن میں مسلح دہشت گردوں نے رینجرزکے چار اہلکاروں کوفائرنگ کرکے شہیدکردیاجس کاہمیں بھی بہت افسوس ہے ۔ ہوناتویہ چاہیے تھااتحاد ٹاؤن کامحاصرہ کرکے اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کوپکڑاجاتا لیکن اس کے بجائے ایم کیوایم کے کارکنوں کوگرفتار کیا جارہا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 27دسمبر2007ء کوبینظیربھٹوکی شہادت کاواقعہ ہوا تو کراچی میں تین روزتک بڑے پیمانے پر گھیراؤجلاؤہوتارہا، دکانوں، بینکوں، فیکٹریوں،گاڑیوں کوجلایاجاتارہا، کئی بے گناہ شہریوں کوقتل کیاگیا لیکن ہم نے کوئی ردعمل نہیں کیاکیونکہ میں امن چاہتاہوں۔آصف زرداری نائن زیروآئے ، انہوں نے معافی تلافی کی ، میں نے صدرکے عہدے کیلئے ان کانام تجویز کیا،ہم نے ان کے ساتھ اتحادکیا، ہرمشکل وقت میں زرداری کاساتھ دیا۔زرداری سے میری جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ان میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگابلکہ ان سے یہی کہاکہ کراچی کیلئے ماس ٹرانزٹ، پانی کامنصوبہ کے فور، ٹرانسپورٹ سسٹم دیدیں، کراچی اور شہری علاقوں کے نوجوانوں کیلئے ملازمتیں دیدیں لیکن انہوں نے وعدوں کے باوجود کسی بات پر عمل نہیں کیا۔ شہری علاقوں کے ساتھ حق تلفیوں اور ناانصافیوں کاسلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سندھ میں جام صادق، لیاقت جتوئی یاارباب رحیم کے ساتھ اتحادکریں اوروہ گروپ اقلیت میں ہوں اورہم اکثریت میں ہوں لیکن ہمارا وزیراعلیٰ نہیں آسکتا۔کراچی وفاق کو67فیصدریونیودیتاہے لیکن اسے اس کاجائز حصہ نہیں ملتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کوبچاناہے اورحکومتی نظام کو چلانا ہے توپاکستان میں 20صوبے بنانے ہوں گے۔سندھ میں بھی شہری علاقوں پر مشتمل صوبہ بناناہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ الطاف حسین کاوعدہ ہے کہ شہری علاقوں پر مشتمل صوبہ صرف مہاجروں کا نہیں ہوگا بلکہ یہاں آباد تمام پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سندھیوں، ہزارے وال، سرائیکیوں،کشمیریوں، تمام مذہبی اقلیتوں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں ، اسماعیلیوں،بوہریوں، تمام برادریوں کاصوبہ ہوگا، یہاں کسی کے ساتھ کوئی تعصب نہیں ہوگابلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا، ہرایک کومیرٹ کی بنیادپراس کاحق ملے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ایک ترقی پسند، لبرل اورپروگریسوجماعت ہے جو ملک میں ایسامعاشرہ اورنظام قائم کرناچاہتی ہے جہاں سب کوان کے یکساں حقوق میسرآئیں سب امن وسکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے اجتماع کے انعقادپر نارتھ ناظم آبادریزیڈینٹس کمیٹی کے تمام ارکان کوخراج تحسین پیش کیا۔ 
تصاویر






12/3/2016 5:55:00 PM