Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جماعت اسلامی،تحریک انصاف اوردیگرجماعتیں بلدیاتی الیکشن سے فرارکے بہانے ڈھونڈرہی ہیں۔الطاف حسین


جماعت اسلامی،تحریک انصاف اوردیگرجماعتیں بلدیاتی الیکشن سے فرارکے بہانے ڈھونڈرہی ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 11/21/2015
جماعت اسلامی،تحریک انصاف اوردیگرجماعتیں بلدیاتی الیکشن سے فرارکے بہانے ڈھونڈرہی ہیں۔الطاف حسین
ایم کیوایم الیکشن کی منسوخی یا التوا ء ہرگز نہیں چاہتی بلکہ وہ ہرقیمت پرالیکشن کاانعقادچاہتی ہے
میں غریبوں کی جدوجہد کررہا ہوں ملک میں ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہوں جہاں سب کومساوی حقوق میسرہوں
سندھ کے شہری علاقوں کے عوام میں یہ سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے کہ ان کاعلیحدہ صوبہ ہوناچاہیے
کراچی کے علاقوں سرجانی ٹاؤن، محمودآباد اورسوسائٹی میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ جلسوں سے خطاب

لندن ۔۔۔21، نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جماعت اسلامی،تحریک انصاف اوردیگرجماعتیں حیدرآباداورمیرپورخاص میں ایم کیوایم کے مقابلے میں شکست کھانے کے بعد کراچی میں الیکشن سے راہ فراراختیارکرنے کے بہانے ڈھونڈرہی ہیں اورامن وامان کابہانہ بناکر بلدیاتی الیکشن ملتوی کراناچاہتی ہیں ، ایم کیوایم الیکشن کی منسوخی یا التوا ء ہرگز نہیں چاہتی بلکہ وہ ہرقیمت پرالیکشن کاانعقادچاہتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارجمعہ کی شب کراچی کے علاقوں سرجانی ٹاؤن، محمودآباد اورسوسائٹی میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ جلسوں سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ان جلسوں میں ہزاروں افرادنے شرکت کی ۔ جلسوں میں بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کے نامزدامیدواروں کاتعارف کرایاگیا۔ اس موقع پرایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ، حق پرست ارکان اسمبلی اوردیگر ذمہ داروں نے بھی خطاب کیا۔ 
سرجانی ٹاؤن میں خطاب
سرجانی ٹاؤن میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج کراچی کے علاقے اتحادٹاؤن میں ایک افسوس ناک واقعہ ہوا،مسلح دہشت گردوں نے رینجر ز کے 4اہلکار شہیدکردیے ۔ جس نے میرے کہے کو سچ ثابت کر دیا کہ داعش کے لوگ کراچی میں گھس آئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ شہید اہلکاروں کی مغفرت فرمائے ۔انہوں نے اس واقعہ پر چیف آف آرمی اسٹاف،کورکمانڈر،مسلح افواج اور ڈی جی رینجرز سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اتحادٹاؤن میں پیش آنے والے اس واقعہ کو جواز بنا کر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی والوں نے یہ بیانات دیئے کہ پانچ دسمبر کو الیکشن ملتوی کر دیئے جائیں چونکہ حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قومیں حالت جنگ میں بھی کاموں کو روکا نہیں کرتیں۔یہ عوامی حق رائے دہی کامعاملہ ہے ۔کئی باربلدیاتی انتخابات کوملتوی کیاگیاہے۔ ایم کیوایم الیکشن کی منسوخی یا التوا ہرگزنہیں چاہتی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں چند خاندانوں کی حکمرانی ہے باقی غریب لوگوں کا ایک ہی حال ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم صرف مہاجروں کی نہیں بلکہ پنجابیوں کی بھی ،پختونوں کی بھی ، سندھیوں کی بھی ،بلوچوں کی بھی کشمیریوں ،گلگتیوں کی جماعت ،بنگالیوں کی بھی جماعت ہے ، ایم کیوایم غیر مسلمو ں کی بھی جماعت ہے، وہ حق پرست جماعت ہے۔انہوں نے پختون ، سندھی ،پنجابی ،بلوچی ،گلگت بلتستانی ،کشمیریوں سمیت تمام قومیتوں اوربرادریوں سے اپیل کی کہ وہ پانچ دسمبر کو حق پرستوں کے انتخابی نشان پتنگ پر مہر لگائیں اور ایم کیوایم کو کامیاب کرائیں۔
محمودآبادمیں خطاب
محمودآبادمیں خطاب میں خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ چاہے مہاجرہو،پنجابی ہو ، سندھی ہو ،بلوچی ہو ،پختون ہو ،کاٹھیاواڑھی ہو ،میمن ہو ،اسمائیلی ہو ،گجراتی ہو ،ہندو ہو ،مسلمان ہو،کرسچن ہو ،سکھ ہوں ،سب کے خون کا رنگ ایک ہی جیسا ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ہی جیسے ہیں ،ہمارے مسائل ایک ہی جیسے ہیں ۔ہم میں کوئی فرق نہیں غریب کسی بھی قومیت کاہووہ بیمار ہوتا ہے تو و ہ سرکاری اسپتالوں کے چکر لگاتا ہے اور جو چھوٹی موٹی دوائی ملتی ہے اسے لے آتا ہے ۔ لیکن امیرپنجابی ہوں ،کشمیری امیر ہوں ،اردوبولنے والا ،پختون امیر ہو سندھی امیر ہو، بلوچی امیر ہو وہ سرکاری اسپتال میں نہیں جاتے بلکہ بڑے بڑے پرائیویٹ اسپتالو ں میں جاکر علاج کراتے ہیں اور ہم غریب دوائیوں کیلئے ترستے رہتے ،پانی کیلئے ترستے رہتے ہیں ، بجلی کے لئے ترستے رہتے ہیں اورامیرکے گھرمیں اگر بجلی نہ ہو تووہ امیر لوگ پرائیوٹ جرنیٹر لے کر اپنے گھر کا اے سی بھی چلاتے ہیں ٹی وی بھی چلاتے ہیں مزے کرتے ہیں ۔ اور ہم ہاتھ سے پنکھے جھلتے رہتے ہیں ،ہم لالٹین جلا کر یا موم بتی جلاکر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ہم سب کے مسائل ایک ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس ملک کو جاگیر دار وڈیروں ذمینداروں سرمایہ داروں نے لوٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے او رغریبوں کو بے سہار ا کردیا ہے ، غریبوں کا اگر پاکستان میں کوئی سچا ہمدرد ہے جو 38سال سے جدوجہد کررہا ہے،جو خود بھی غریب ہے اس کا نام الطاف حسین ہے اور حق پرست جماعت ہے تو وہ متحدہ قومی موومنٹ ہے جس میں غریب ہیں کسان ہیں ،،مزدور ہیں محنت کش ہیں ، اس میں کوئی وڈیر ہ سرمایہ دار نہیں ہے۔ اگر قومی و صوبائی اسمبلی ،سینیٹ میں غریبوں کو منتخب کراکے ایوانوں میں کسی نے بھیجا تو وہ متحدہ قومی موومنٹ ہے ۔ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے رکشہ چلانے والا گیا ،گنے کا رس نکالنے والا ،سبزی کا ٹھیلالگانے والا اسمبلیوں میں گیاجو کبھی الیکشن لڑنے کی کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس کے پاس پیسے نہیں تھے ۔ ایم کیوایم نے یہ نئی ریت ڈالی کہ وہ اپنی جیب سے یعنی اپنی تنظیم سے غریبوں کے فارم بھی بھرواتی ہے ، ان کے بینرز بھی بناتی ہے ان کے پمفلٹ بھی بناتی ہے ،ان کے اخراجات بھی برداشت کرتی ہے اور انہیں ایوانویں میں پہنچاتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ تمام زبانیں بولنے والوں کی جماعت ہے، ایم کیوایم صرف مسلمانوں کی نمائندہ جماعت نہیں وہ عیسائیوں کی بھی جماعت ہے ،ہندوؤں ،سکھوں اوردیگرمذہبی اقلیتوں کی بھی جماعت ہے اوران کی عبادت گاہوں کاتحفظ کرنے والی جماعت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم سندھیوں، پنجابیوں،پٹھانوںیا بلوچوں سے نفرت کرتی ہے وہ آکر دیکھ لیں کہ تما م قومیتوں سے تعلق رکھنے والی مائیں بہنیں ،نوجوان اوربزرگ ایک خاندان کی طرح بیٹھے ہیں ۔انہوں نے تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا ہوں ،غریبوں کا ہوں ،غریبوں کی جدوجہد کررہا ہوں ملک میں ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہوں جہاں پر امیروں کے اسکول اور غریبوں کے اسکو ل الگ الگ نہ ہوں بلکہ ایک جیسے اسکول ہوں ،اسپتال ایک جیسے ہوں ،تما م سہولتیں جو امیروں کی امیروں کو میسر ہیں وہ سہولتیں غریبوں کوبھی میسر ہوں ۔ متحدہ کی حکومت میں کوئی عورتوں پر کاروکاری کا الزام لگا ان کو قتل نہیں کر سکتا ،غیر ت کے نام پر عورتوں کو قتل نہیں کرسکتا ،عورتوں پر تیزاب نہیں پھینک سکتا ۔کسی کے مائی کے لعل کی ہمت نہیں ہوگی جو ماں بہن بیٹی کے تقدس اور عزت سے کھیلے ۔ الطاف حسین خواتین کیلئے مردوں کے برابر حقوق چاہتا ہے ،وہ خواتین کیلئے کالج ، میڈیکل کالج ،انڈسٹریل ہوم ، ٹیکنکل کالج اور آئی ٹی کالج کاقیام چاہتاہے ۔الطاف حسین خواتین کے ساتھ متعصبانہ سلوک کا خاتمہ چاہتا ہے اور بحیثیت مسلمان، الطاف حسین اللہ پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک قرآن پر اور ایک نبی پریقین رکھتاہے۔ 
سوسائٹی میں خطاب
سوسائٹی کے علاقے میں انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند اورامن پسند جماعت ہے، اس نے پیپلز پارٹی کاساتھ دیاتاکہ ملک میں جمہوریت چلتی رہے اور سندھ کے اندرسندھی مہاجر خلیج ختم ہو۔انہوں نے کہاکہ آصف زرداری سے میری جتنی ملاقاتیں ہوئیں میں نے ان سے یہی کہاکہ سندھ میں جو40/60 کاجوکوٹہ نافذہے کم ازکم اس پر عمل کرتے ہوئے شہری علاقوں کے نوجوانوں کو پولیس اوردیگراداروں میں ملازمتیں دی جائیں ،شہری علاقوں کی ترقی کیلئے فنڈ زجاری کئے جائیں لیکن آصف زرداری نے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ۔انہوں نے کہاکہ جب 1972ء میں سندھ میں بھٹونے شہری اوردیہی تفریق کا کوٹہ سسٹم نافذ کیااس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں نہیں تھا ۔ کوٹہ سسٹم کے نفاذ کاجوازیہ پیش کیاگیاتھاکہ دیہی علاقوں کوشہری علاقوں کے برابرلاناہے ،انہوں نے سوال کیاکہ کیا دیہی علاقے پنجاب،بلوچستان یاصوبہ سرحدمیں نہیں تھے، پھریہ کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں کیوں نافذ کیاگیا؟دس سال کے لئے نافذکیاجانے والاکوٹہ سسٹم آج تک کیوں نافذہے؟انہوں نے کہاکہ ناانصافیوں کے مسلسل عمل کی وجہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام میں یہ سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے کہ ان کاعلیحدہ صوبہ ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ دنیاکے ہرملک نے آبادی کے بڑھنے پر بہترنظام حکومت کیلئے نئے نئے صوبے قائم کئے ہیں لیکن پاکستان کی آبادی آج 20کروڑ کے لگ بھگ ہوچکی ہے لیکن پاکستان کے آج بھی صرف چارصوبے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی ملک کو 67فیصد دتیا ہے اور ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈ میں اس کو کچھ نہیں ملتا ۔انہوں نے کہاکہ ہم کہتے ہیں ملک میں سرائیکی صوبہ بنائیں ،ہزار وال صوبہ بھی بنائیں ،فاٹا بھی بنائیں آپ 20 صوبے بنادیجئے اور اب سند ھ میں ایک صوبہ نہیں چلے گا ،سندھ میں آپ دو یا دو سے زیادہ صوبے بنایئے ۔انہوں نے کہاکہ میں قسمیہ کہتا ہوں کراچی میں جو پنجابی ، سندھی، بلوچی، پختون ،ہزار وال کشمیری گلگتی بال بچوں کے ساتھ یہیں رہتے ہیں یہیں کھاتے ہیں ،یہیں خرچ کرتے ہیں ،جنہوں نے اپنا جینا مرنا کراچی سے وابستہ کر لیا ہے اگر کراچی صوبہ بنتا ہے تو یہاں رہنے والے پنجابی، سندھی ،پختون ،بلوچ اور مہاجر کا برابر کا حق ہوگا کسی کا زیادہ یا کم نہیں ہوگا ۔یہاں کسی پنجابی ،بلوچی ،سندھی کسی بھی بھی نسلی یالسانی اکائی پر انگلی لگانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا، ہم اگر کچھ کریں تو صرف محبت کریں گے نفرت نہیں کریں گے،ہمارا صوبہ ہوگا تو کوئی کسی کوغلط نظر سے نہیں دیکھ سکے گا ،یہاں معاشی حالت بہتر ہوگی ،بجلی ہوگی ،پانی ہوگا ،گیس ہوگی تعلیم ہوگی صحت کی سہولت ہوگی ۔اس موقع پر اجتماع میں موجود تمام افرادنے نئے صوبوں کے قیام کی مکمل حمایت کااظہارکیا۔ 

Election Corner Meeting in Mehmodabad 

Election Corner Meeting in Surjani

Election Corner Meeting in Society 

9/25/2016 10:39:21 PM