Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ میں ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں بن رہے ہیں اوران کی رقم کرپشن کی نذرہورہی ہے۔الطاف حسین


سندھ میں ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں بن رہے ہیں اوران کی رقم کرپشن کی نذرہورہی ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت نوابشاہ کے ساتھ تعصب کامظاہرہ کرتے ہوئے اسے مسلسل نظراندازکررہی ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 11/17/2015
سندھ میں ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں بن رہے ہیں اوران کی رقم کرپشن کی نذرہورہی ہے۔الطاف حسین
پیپلزپارٹی کی حکومت نوابشاہ کے ساتھ تعصب کامظاہرہ کرتے ہوئے اسے مسلسل نظراندازکررہی ہے
حق پرست نمائندوں نے نوابشاہ میں 50بستروں کے اسپتال کی تعمیرشروع کرائی لیکن پیپلزپارٹی نے فنڈز جاری نہیں کئے 
نوابشاہ کیلئے ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے پانی کی ایک اسکیم منظور کی گئی تھی لیکن شہرکوپانی فراہم نہیں کیاگیا
حق پرست نمائندوں نے اپنے دورمیں جوپارک بنائے تھے وہ تمام پارکس بھی اجڑچکے ہیں
نوشہروفیروزمیں اسکولوں کی شدیدکمی ہے ،شہرمیں سڑکوں کانام نہیں،راستے کھنڈربنے ہوئے ہیں
دادواورٹھٹھہ میں یاتواسکول نہیں ہیں اورکہیں کوئی اسکول ہے تووہاں ٹیچرزنہیں ہیں
گنداپانی پینے کے سبب شہری ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں ،علاج کیلئے اسپتال نہیں ہیں
ہرسال سندھ کے بجٹ میں کروڑوں، اربوں روپے رکھے جاتے ہیں لیکن سندھ کے حقوق کے چیمپئن یہ تمام رقم کھا جاتے ہیں
دھابیجی یونین کونسل 30ہزار سے زائدآبادی پرمشتمل ہے ،اسے ٹاؤن کمیٹی کادرجہ دیاجائے
دھابیجی کی فیکٹریوں میں مقامی لوگوں کوروزگاردیاجائے۔ دھابیجی میں لڑکوں اورلڑکیوں کیلئے اسکول اورڈگری کالج قائم کئے جائیں
بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں نوابشاہ، نوشہروفیروز، دھابیجی اوردادومیں انتخابی جلسوں سے خطاب
لندن۔۔۔ 17 نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے سندھ میں ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں بن رہے ہیں اوران منصوبوں کی رقم کرپشن کی نذرہورہی ہے۔انہوں نے یہ بات نوابشاہ، نوشہروفیروز، دھابیجی اوردادومیں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ان شہروں کے مسائل کاخصوصی طورپرتفصیلی زکرکیا۔ نوابشاہ کے مسائل کازکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حق پرست نمائندوں نے اپنے دورمیں نوابشاہ میں 50بستروں کے اسپتال کی تعمیرشروع کرائی تھی لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے نوابشاہ کے ساتھ تعصب کامظاہرہ کرتے ہوئے اس کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے جس کی وجہ سے گزشتہ سات سالوں سے یہ اسپتال مکمل نہیں ہوسکا۔اسی طرح ایم کیوایم کی کاوشوں سے نوابشاہ میں ریلوے ٹریک پر اوورہیڈبرج کی تعمیرشروع ہوئی جو چھ ماہ میں مکمل ہوسکتی تھی لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس منصوبہ کودوسال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہونے دیا۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نوابشاہ کے ساتھ تعصب کامظاہرہ کرتے ہوئے اسے مسلسل نظراندازکررہی ہے ۔2007ء میں ایم کیوایم کی کوششوں سے نوابشاہ کیلئے ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کی ایک اسکیم منظور کی گئی تھی لیکن پیپلزپارٹی نے اس اسکیم کے تحت نوابشاہ کوپانی فراہم نہیں کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سابقہ شہری حکومت کے دورمیں نوابشاہ تعلقہ میں ایم کیوایم کے ناظمین نے یہاں پارکس بنائے تھے ،صفائی ستھرائی کانظام بہترتھالیکن گزشتہ پانچ سال کے دوران پیپلزپارٹی کی حکومت ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے نوابشاہ کو چلارہی ہے ،شہرمیں فراہمی ونکاسی آب اورصفائی ستھرائی کانظام ناقص ہے ، شہرمیں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیرہیں،کوئی نیاپارک قائم کرناتودورکی بات ہے ،حق پرست نمائندوں نے اپنے دورمیں جوپارک بنائے تھے وہ تمام پارکس بھی اجڑچکے ہیں ۔ نوابشاہ کے شہریوں کادیرینہ مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ میونسپل ہائرسیکنڈری اسکول کے گراؤنڈکو اسپورٹس اسٹیڈیم بنادیاجائے لیکن حکومت اس مطالبہ پر کوئی کان نہیں دھررہی ہے۔ شہرمیں کوئی ریسکیو سروس نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ نوابشاہ میں 2013ء کے الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی نے حکومتی طاقت کااستعمال کرتے ہوئے ایم کیوایم کے کارکنوں کوشہیداورزخمی کیا تھا ،کارکنوں پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے تھے ۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی یہاں پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومتی طاقت کااستعمال کیاجارہاہے ۔جناب الطاف حسین نے نوشہروفیروزکے مسائل کازکرکرتے ہوئے کہاکہ نوشہروفیروزمیں اسکولوں کی شدیدکمی ہے ،نوشہروفیروزکے علاقے نیوٹاؤن میں ایک ہائی اسکول ہے اس کی بلڈنگ کامسئلہ ہے ۔شہرمیں سڑکوں کانام نہیں،راستے کھنڈربنے ہوئے ہیں ، شہر میں پینے کاصاف پانی میسرنہ ہونے کے سبب یہاں کے شہری ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں اورصحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جوحال نوشہروفیروزکاہے وہی حال دادواورٹھٹھہ کابھی ہے ۔یہاں بھی عوام صحت وصفائی اورسیوریج کے ا نتہائی ناقص نظام ، سڑکوں کے نہ ہونے اور بے شمارمسائل سے دوچارہیں۔ دادواورٹھٹھہ میں بھی یاتواسکول نہیں ہیں اورکہیں کوئی اسکول ہے تووہاں ٹیچرزنہیں ہیں۔لوگوں کوپینے کاصاف پانی میسرنہیں ہے اور لوگ بھی گنداپانی پینے پر مجبورہیں جس کی وجہ سے ہردوسرافرد ہیپاٹائٹس B اور C میں مبتلاہورہاہے،شہریوں کے علاج کیلئے اسپتال نہیں ہیں اور لوگ سسک سسک کرمررہے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے تمام شہروں، گاؤں گوٹھوں میں سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں، اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے قیام ، پانی کی فراہمی اورگٹرلائنیں ڈالنے اور دیگر منصوبوں کیلئے ہرسال سندھ کے بجٹ میں کروڑوں، اربوں روپے رکھے جاتے ہیں لیکن یہ ساری رقم کرپشن کی نذرہوجاتی ہے ،سندھ کے حقوق کے چیمپئن یہ تمام رقم کھا جاتے ہیں،سندھ کے حکمراں اپنامال بنارہے ہیں لیکن عوام سسک سسک کرجی رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ٹھٹھہ کاعلاقہ دھابیجی یونین کونسل 30ہزار سے زائدآبادی پرمشتمل ہے لہٰذااسے ٹاؤن کمیٹی کادرجہ دیاجائے ۔دھابیجی میں یونین کونسل میں اردوبولنے والوں کے ساتھ ساتھ بنگالی اورپشتوبولنے والوں کی بڑی تعدادآبادہے لیکن انہیں شناختی کارڈکے حصول میں شدیدمشکلات کاسامنا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ اس مسئلے کوحل کیاجائے ۔ دھابیجی صنعتی علاقہ ہے لیکن یہاں کافی ملزبندہیں اورجوچل رہی ہیں ان میں مقامی لوگوں کو روزگار نہیں دیاجاتا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ فیکٹریوں میں مقامی لوگوں کوروزگاردیاجائے۔ دھابیجی میں لڑکوں اورلڑکیوں کے لئے اسکول قائم کئے جائیں، علاقے میں اسپتال قائم کیاجائے۔گھارو اوردھابیجی میں گرلزاوربوائزڈگری کالج قائم کئے جائیں اورعلاقے میں بجلی کامسئلہ حل کیاجائے ۔

9/26/2016 8:53:38 PM