Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلدیاتی نظام کو جنرل پرویز مشرف کے دور کے نظام جیسا بااختیار بنایا جائے۔ الطاف حسین


بلدیاتی نظام کو جنرل پرویز مشرف کے دور کے نظام جیسا بااختیار بنایا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 11/17/2015
بلدیاتی نظام کو جنرل پرویز مشرف کے دور کے نظام جیسا بااختیار بنایا جائے۔ الطاف حسین
کونسلر، ڈسٹرکٹ چیئرمین، وائس چیئرمین، میئر ڈپٹی میئرکو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں
پیپلزپارٹی نے شہری حکومتوں کا نظام ختم کرکے بلدیاتی اداروں کو پھر بیوروکریسی کے ہاتھ میں دیدیا ہے
جب تک بااختیار شہری حکومتوں کا نظام قائم نہیں کیا جائے گا ملک میں گڈگورننس نہیں آسکتی
پیپلزپارٹی جمہوریت کی علمبردار ہے لیکن اس نے کئی سال تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیے
اپنے بنیادی حقوق کے حصول اور پرامن زندگی گزارنے کیلئے صوبے کا مطالبہ کررہے ہیں
نئے صوبوں کے قیام سے ملک کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں۔ الطاف حسین
پیپلزپارٹی پانچویں مرتبہ سندھ میں برسراقتدار ہے، اس نے سندھ کے شہروں، گاؤں گوٹھوں کیلئے کیا کیا؟
دنیا 21 ویں صدی میں داخل ہوچکی ہے لیکن سندھ کے گوٹھ آج بھی 18ویں صدی کے تاریک دور میں رہ رہے ہیں
نام نہاد قوم پرست عناصر سندھیوں کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں لیکن حکومتوں سے مک مکاکرکے مفادات حاصل کرلیتے ہیں
قوم کامستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتاہے، سندھ کے نوجوان دھوکے بازوں کی باتوں میں ہرگزنہ آئیں
بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں نواب شاہ ،نوشیروفیروز، دھابیجی اوردادو میں منعقدہ جلسوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔17،نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جو بلدیاتی نظام لایا گیا ہے اس میں نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کئے گئے ہیں اور زیادہ اختیارات حکومت نے اپنے پاس رکھے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی نظام کوجنرل پرویزمشرف کے دورکے نظام جیسا بنایا جائے اور کونسلر،ڈسٹرکٹ چیئرمین، وائس چیئرمین ، میئر ڈپٹی میئرکوعوام کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ سے زیادہ بااختیار بنایا جائے ،جب تک اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں کئے جائیں گے اور بااختیار شہری حکومتوں کانظام قائم نہیں کیا جائے گا ملک میں گڈگورننس نہیں آسکتی۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں نواب شاہ ،نوشیروفیروز کے علاقے محراب پور، ٹھٹھہ کے علاقے دھابیجی اوردادومیں منعقدہ جلسوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ، سندھ تنظیمی کمیٹی کے اراکین، حق پرست عوامی نمائندوں اور نواب شاہ سے ایم کیوایم کے نامزد حق پرست امیدواران کے علاوہ خواتین، بزرگوں ، نوجوانوں اور بچوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ جناب الطاف حسین کا خطاب ایم کیوایم ویب ٹی وی کے ذریعہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں بھی دیکھا گیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے نواب شاہ سے ایم کیوایم کے نامزد امیدوار کے ہم زلف کے سفاکانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ، شہید کے بلند درجات اور سوگوارلواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی ۔ جناب الطاف حسین نے بلدیاتی انتخابات کے دوران سندھ حکومت کی ایماء پر مقامی انتظامیہ کے جانبدارانہ ، متعصبانہ اور ظالمانہ اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نواب شاہ کی انتظامیہ جس طرح سندھ حکومت کے اشارے پر تبادلے کررہی ہے ، پولنگ اسٹیشن تبدیل کرنے کا عمل کررہی ہے اور ایم کیوایم کے امیدواروں کو ہراساں کررہی ہے اس عمل سے گریز کیاجائے، حکومتی ہدایت پر کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے اورغیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف انتخابات کرائے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی سے کشمور تک سندھ کے حق پرست عوام میں شعوری بیداری پھیل رہی ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول اور پرامن زندگی گزارنے کیلئے صوبے کا مطالبہ کررہے ہیں۔60 سال کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں بہترانتظام حکومت چلانے کیلئے آبادی کے تناسب سے صوبوں کی تعداد میں دوگنا سے زائد اضافہ کیاجاچکا ہے لہٰذا پاکستان کے ارباب اختیار واقتدارکو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام سے ملک کمزورنہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آبادی کے تناسب سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ میں بھی نئے انتظامی صوبوں کا قیام عمل میں لایاجائے تو کسی جاگیردار ، وڈیرے ، ظالم حکمران ،کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل کرنے والے سرداروں کی حکمرانی نہیں ہوگی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم گزشتہ 38 برسو ں سے غریب عوام کے غصب شدہ حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کررہی ہے ۔سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں لیکن اس کے باوجود سندھ کے حکمراں کہتے ہیں کہ وہ تعصب نہیں کرتے ۔ انتہاء یہ ہے کہ سندھی جاگیردار اوروڈیرے غریب ہاری، کسانوں اور محنت کشوں سے بھاری رشوت لیکر نوکریاں فروخت کرتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پورے پاکستان میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے ، خواتین اپنے گھروں سے نکل کرآزادی سے خریدوفروخت نہیں کرسکتیں، بچے بچیاں بغیرخوف وخطر اسکول نہیں جاسکتے، فاٹا، صوبہ خیبرپختونخوا،بلوچستان ، رتوڈیرو، کشمور اور لاڑکانہ سمیت سندھ کے تمام شہری ودیہی علاقوں کے عوام اپنے مسائل کا رونا رو رہے ہیں اور کوئی بھی خوش نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے پیپلزپارٹی کیلئے قربانیاں دیں، کوڑے کھائے، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں وہ غریب عوام آج تک روٹی ، کپڑے اور مکان کی سہولت سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عوام خواہ امیر ہوں یا غریب انہیں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ عزت بھی درکار ہے اور سب چاہتے ہیں کہ امیروغریب کی برابری کی بنیاد پر عزت کی جائے ۔ انہوں نے پنڈال کے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا کسی حکمراں نے آج تک پاکستان کا عدالتی نظام ٹھیک کرنے کی کوشش کی ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ ’’بالکل نہیں ‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ غریب عوام کو انصاف کے حصول کیلئے وکیل کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہے اور انہیں لاکھوں روپے فیس ادا کرنی پڑتی ہے لیکن جس غریب کے پاس کھانے کو روٹی نہ ہو اگر اسے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کردیا جائے تو وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے وکلاء کی بھاری فیس کس طرح ادا کرسکتا ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عوام کو انصاف مہیا کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور جن ممالک میں انصاف نہ ملے ان ممالک پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس دن پورے پاکستان میں ایم کیوایم کی حکومت قائم ہوئی ، ایم کیوایم میں عدالتی نظام کو بہتر بنائے گی تاکہ امیروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کو بھی ان کی دہلیز پر انصاف مل سکے اور کسی غریب کو اپنی ماں ، بہن اور بیٹی کا زیور فروخت کرکے وکیل کا انتظام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جیلوں سے عدالتوں میں لانے کیلئے قیدیوں سے رشوت لی جاتی ہے ،ایم کیوایم جیلوں کا نظام ایسا بہتر بنائے گی کہ قیدیوں کو عدالت میں پیشی کیلئے کسی کورشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں آئے اور قیدیوں کو ان کی باری پر عدالت میں پیش کیاجاسکے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم دہرے معیار تعلیم کے خلاف ہے ، ملک میں امیروں کیلئے اعلیٰ معیار کے اسکول اور کالجز ہیں جبکہ غریب عوام کیلئے اگر اسکول کالج ہیں تو وہاں اساتذہ، طلبا کیلئے نشستوں ، پینے کے پانی اوردیگرسہولیات مہیانہیں ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنیات اور قدرتی گیس کی نعمت سے نوازا ہے ، ایسا نہیں ہے کہ پاکستان کے خزانے میں پیسہ نہیں ہے لیکن قومی خزانے کی رقم غریب عوام کی فلاح وبہبود کیلئے خرچ نہیں کی جاتی ۔ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور وزرائے اعلیٰ ہاؤسز میں صرف مہمانوں کی تواضع پر اربوں روپے خرچ کردیئے جاتے ہیں ، جس طرح پاکستان میں حکمرانوں کے عالی شان محلات ہیں اس طرح غریب ممالک کے صدر، وزیراعظم اوروزرائے اعلیٰ پرتعیش اور بڑے بڑے محلات میں نہیں رہتے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایران کے سابق صدر اپنے فلیٹ میں رہتے تھے اورفرش پر دری بچھاکرسوجاتے تھے ۔ خلفائے راشدین انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے ۔ ان کے ہاں ایسانظام تھاکہ ایک عام شہری بھی ان سے سوا ل کرنے کاحق رکھتاتھا۔ حضرت عمرؓ نے ایک جرم کے ارتکاب پر اپنے بیٹے کوکوڑے کی سزادی۔کیا ہمارا کوئی حکمراں اپنے بیٹے کی غلط بات پر اسے کوڑے کی سزادیناتودورکی بات ہے، کیااسے طمانچہ بھی لگاسکتاہے؟کسی وڈیرے کابیٹاکئی لوگوں کوبھی قتل کر آئے تووہ کیااپنے کوسزادلواتاہے یا پیسے دیکراسے چھڑالاتاہے؟انہوں نے سوال کیاکہ نوابشاہ کے حکمراں خاندان نے اپنے قلعے بنالئے لیکن کیااس ضلع کے غریب لوگوں کی حالت بہترہوگئی؟نوابشاہ میں شدیدگرمی پڑتی ہے ،اگریہاں کے حکمراں کچھ پودے ہی لگالیتے تووہ آج تناوردرخت بن چکے ہوتے اورنوابشاہ میں نہ صرف ہریالی ہوتی بلکہ اس شہرکاموسم بھی بہترہوجاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کی بدحالی اورتباہی کا اصل سبب یہاں رائج فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام ہے جوصدیوں سے جاری ہے ۔انہوں نے سوال کیاکہ جو لوگ سندھ کے قصبوں اور دیہات کے ہاریوں، کسانوں اورغریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکروزارتوں کی کرسیوں پربیٹھتے ہیں کیاوہ منتخب ہونے کے بعد دوبارہ شہروں کادورہ کرتے ہیں؟یہاں کے عوام کاحال پوچھتے ہیں؟ان منتخب ہونے والوں نے سندھ کے شہروں اورگاؤں گوٹھوں کیلئے کیاکیا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی چارمرتبہ پاکستان میں برسراقتدارآئی اورپانچویں مرتبہ سندھ میں اس کی حکومت ہے ، اس نے سندھ کے شہروں، گاؤں گوٹھوں کیلئے کیا کیا؟ دنیا 21 ویں صدی میں داخل ہوچکی ہے لیکن سندھ کے گوٹھ آج بھی 18ویں اور 17ویں صدی کے تاریک دورمیں رہ رہے ہیں اور پانی ، بجلی،گیس، تعلیم ، صحت اورزندگی کی دیگربنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی اپنی جاگیریں اور جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں جبکہ سندھ کے غریب ہاری آج بھی دووقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں اوروہ فاقہ کشی، غربت اور جہالت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ وڈیروں نے اپنے محل توبنالئے جبکہ لاڑکانہ ، نوڈیرواوررتوڈیرو کے غریب ہاری آج بھی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبورہیں۔ وڈیروں کے اپنے بچے توملک سے باہر پڑھ رہے ہیں لیکن سندھ کے قصبوں اورگوٹھوں میں اسکول نہ ہونے کے برابرہیں، اسکولوں کی جگہ پرجاؤتووہاں سوائے مٹی کے کچھ نہیں ہوتا،اسکول صرف فائلوں میں بنائے جاتے ہیں ۔جواسکول تعمیر ہو بھی جائیں تو ان اسکولوں کوبھی وڈیروں کی اوطاقوں ، اصطبل اور بھینسوں کے باڑوں میں تبدیل کرلیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ غریب ہاریوں کے بچوں کو جان بوجھ کرتعلیم سے محروم رکھاجاتاہے کیونکہ اگروہ تعلیم حاصل کرلیں گے توان میں اپنے حقوق کا شعورآئے گا اوروہ وڈیروں کے پاؤں چھونے کے بجائے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے نام نہاد قوم پرست عناصر، عوام کوبیوقوف بنانے کیلئے ایک طرف تو سندھیوں کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں لیکن دوسری طرف حکومتوں سے مک مکاکرکے اپنے لئے مفادات حاصل کرلیتے ہیں، یہ خودتوبڑی بڑی جیپوں میں گھومتے ہیں جبکہ غریب ہاریوں کے پاس سائیکل بھی نہیں ہوتی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی جمہوریت کی علمبردارہے لیکن اس نے کئی سال تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیے۔ اس نے جنرل پرویز مشرف کے دورمیں قائم کیا گیا شہری حکومتوں کانظام ختم کرکے بلدیاتی اداروں کو پھر بیوروکریسی کے ہاتھ میں دیدیاہے۔جوکونسلر،ڈسٹرکٹ چیئرمین، وائس چیئرمین ، میئرڈپٹی میئرمنتخب ہوں گے وہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے ہر معاملے میں کمشنراورسول بیوروکریسی کے محتاج ہوں گے جو بلدیاتی نظام لایا گیا ہے اس میں بھی نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کئے گئے ہیں اورزیادہ اختیارات حکومت نے اپنے پاس رکھے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ بلدیاتی نظام کوجنرل پرویزمشرف کے دور کے نظام جیسابنایاجائے اورکونسلر،ڈسٹرکٹ چیئرمین، وائس چیئرمین ، میئر ڈپٹی میئرکوعوام کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ سے زیادہ بااختیار بنایا جائے ۔ کیونکہ جب تک اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں کئے جائیں گے اور بااختیار شہری حکومتوں کانظام قائم نہیں کیا جائے گا ملک میں گڈگورننس نہیں آسکتی۔ جناب الطاف حسین نے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ حقوق مانگنے سے نہیں ملاکرتے ، اس کیلئے طویل جدوجہدکرنی ہوگی اورقربانیاں دینی ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ قوموں کامستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتاہے لہٰذا نوجوان دھوکے بازوں کی باتوں میں ہرگزنہ آئیں اورایم کیوایم اورالطاف حسین کی طرف دیکھیں جو اپنی ذات کے بجائے عوام کیلئے برسوں سے جدوجہدکررہاہے اورعوام کیلئے25برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ مشکلات سے ہرگزمایوس نہ ہوں اورثابت قدمی سے جدوجہدجاری رکھیں۔ 
تصاویر







12/4/2016 4:18:06 AM