Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتی بلکہ اس کے ساتھ بہترتعلقات چاہتی ہے۔الطاف حسین


ایم کیوایم اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتی بلکہ اس کے ساتھ بہترتعلقات چاہتی ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 11/10/2015
ایم کیوایم اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتی بلکہ اس کے ساتھ بہترتعلقات چاہتی ہے۔الطاف حسین
اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کواپناحریف یادشمن نہیں بلکہ اپناحلیف سمجھے، ایم کیوایم کواپنے ساتھ ملائےہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر ملک کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیارہیں
میں امن پسند انسان ہوں اور ہرقسم کے تشدد کے خلاف ہوں چاہے کتناہی ظلم کرلیاجائے ، کتناہی زہریلاپروپیگنڈہ کرلیاجائے لیکن عوام کوالطاف حسین سے دورنہیں کیاجاسکتا 
عوام الطاف حسین سے اختلاف کریں لیکن القاعدہ، طالبان اور داعش سے اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ہوجائیں
ایم کیوایم کے نامز د امیدوار بلدیاتی الیکشن مہم کو ایک چیلنج سمجھ کر چلائیں
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کے اجلاس سے خطاب

لندن۔۔۔10، نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتی بلکہ اس کے ساتھ بہترتعلقات چاہتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کوبھی چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کواپنے خلاف سمجھنے کے بجائے ایم کیوایم کی فلاسفی کوسمجھے اورایم کیوایم کوختم کرنے کی سوچ کوذہنوں سے نکال دے۔ اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کواپناحریف یادشمن نہیں بلکہ اپناحلیف سمجھے، ایم کیوایم کواپنے ساتھ ملائے،ہم اس کے ساتھ ملکر ملک کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیارہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں فنڈز ریزنگ کے سلسلے میں منعقدہ رابطہ کمیٹی ،منتخب عوامی نمائندوں، مختلف شعبہ جات کے ارکان اور بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کے مشترکہ اجلاس سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جناب الطاف حسین کی اپیل پر شرکاء نے ایم کیوایم الیکشن فنڈمیں دل کھول کرعطیات جمع کرائے۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی 38 سالہ تاریخ میں انگنت نشیب وفراز آتے رہے ہیں اور تحریک مالی پریشانیوں اور تنگ دستی کا شکار رہی ہے۔ 19، جون1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن اورپھر مختلف ادوارحکومت میں بھی ایم کیوایم شدیدمالی بحران کا شکاررہی اور آج ایک مرتبہ پھر شدید مالی بحران کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کا ہررکن اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک فیصد متحدہ قومی فنڈ(MQF) میں جمع کراتا ہے جبکہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کیلئے اس ادارے کے اکاؤنٹ میں فنڈ جمع کرائے جاتے ہیں۔ ایم کیوایم کی مالی پریشانیوں کے باعث خدمت خلق فاؤنڈیشن کی امدادی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثرہوئیں ، اس سال خدمت خقل فاؤنڈیشن کیلئے رمضان المبارک میں زکوٰۃ ،فطرہ اوردیگر عطیات جمع نہیں کرنے دیا گیا اور عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی کھالیں بھی جمع نہیں کرنے دی گئیں ،کے کے ایف کیلئے عطیات کا سلسلہ بند ہونے کے باعث خدمت خلق فاؤنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کیلئے ایم کیوایم کے فنڈز استعمال کیے گئے اور غریب بیواؤں ، یتیموں ،مساکین ، ناداروں اورغریب طلباء کوماہانہ وظائف دیئے جاتے رہے اور حال ہی میں پاکستان میں آنے والے ہولناک زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کی امداد کیلئے کروڑوں روپے مالیت کا امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں بھیجاگیا ہے لیکن اب متحدہ قومی فنڈ میں بھی عطیات جمع کرائے جارہے ہیں جس کے باعث خدمت خلق فاؤنڈیشن کی امدادی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثرہورہی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم اورخدمت خلق فاؤنڈیشن کے سوا پاکستان اور اس کے غریب عوام سے محبت کا دعویٰ کرنے والی کسی ایک بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سامان نہیں پہنچایا ۔ایک جانب ایم کیوایم کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے ، گرفتاریاں اورماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری تھا اوردوسری طرف ایم کیوایم کے کارکنان دکھی انسانیت کی عملی خدمت میں مصروف تھے ، ہم ایک ایک پائی کیلئے محتاج ہیں اس کے باوجود ہم نے کروڑوں روپے مالیت کا امدادی سامان زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے بھیجا۔انہوں نے کہاکہ اب تک ہم نے مستحق خاندانوں کی امداد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کامرحلہ درپیش ہے اور بلدیاتی انتخابات کے اخراجات کیلئے ایم کیوایم کو شدید مالی مشکلات کاسامنا ہے ۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران اور منتخب عوامی نمائندوں پرزوردیا کہ وہ حسب توفیق تحریک کی مالی مدد کریں اورمخیرحضرات سے عطیات کی اپیل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جیب سے بھی عطیات جمع کرائیں۔انہوں نے خلق خدا کی خدمت کیلئے رابطہ کمیٹی کے ارکان ، مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران اور خدمت خلق فاؤنڈیشن کے رضاکار دن رات کام کرنے پر ایک ایک ساتھی کو دل کی گہرائی سے خراج تحسین پیش کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ کئی برسوں میں کراچی میں چوری ، ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوااورمیرا چیلنج ہے کہ ان وارداتوں میں گرفتارہونے والوں کا کراچی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ٹی وی ٹاک شوز میں جماعت اسلامی کے تھنڈراسکواڈ کاکوئی تذکرہ نہیں کیاجاتا لیکن 1978ء سے اے پی ایم ایس اواور ایم کیوایم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے عوامی جماعت کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،بھتہ خوری اوردیگر جرائم کی بات کی جاتی ہے تو ایم کیوایم پر الزام عائد کردیا جاتا ہے اور کراچی کے بعض صنعتکار اور تاجر جو لاکھوں اور کروڑوں روپے تاوان دیکر اپنی اور اپنے بچوں کی رہائی حاصل کرتے ہیں لیکن وہ بھی یہ تذکرہ نہیں کرتے کہ انہیں اغواء کرنے والے کون لوگ تھے اورنہ ہی ان اغواکرنے والوں کو برابھلا کہاجاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سازشی عناصر کی جانب سے ایم کیوایم اور الطاف حسین کی غلط تصویر پیش کرکے میرا پاکستان میں داخلہ بند کرادیا ہے جبکہ الطاف حسین، پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جس نے سرکاری خزانے سے ایک پائی بھی نہیں لوٹی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ روز ایم کیوایم کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے ملاقات کرکے انہیں بعض پولیس افسران کی غیرقانونی سرگرمیوں ، سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاری اور لاکھوں روپے رشوت کے عوض رہائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ پولیس ،شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ہیں ، اگرحکومت ، انہیں چور اورڈاکو بننے سے نہیں روک سکتی تو اسے رضاکارانہ طورپر حکومت چھوڑدینا چاہیے۔ سادہ لباس میں پولیس اہلکار بے گناہ کارکنوں کو گرفتارکرکے بھاری رشوت لیکر رہا کررہے ہیں ، پاکستان کے ارباب اختیار ظلم وستم اورناانصافی کایہ عمل دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس ناانصافی کا خاتمہ کرانا چاہیے۔ یہ ناانصافی پاکستان کی سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اورسیشن کورٹ کے ججز بھی دیکھ رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں انصاف کی کرسی پرفائز کیا ہے ، اگرانہوں نے بھی انصاف سے کام نہ لیا تو روزمحشرانہیں بھی اس کا حساب دینا ہوگا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر انسان نیند کی حالت میں ہو اور اسے کوئی مچھر کاٹے تو لاشعوری طورپر ردعمل کرتا ہے لیکن 1973ء سے صوبہ سندھ میں دیہی اور شہری تفریق کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیا، لسانی بل کی آڑ میں فسادات کرائے گئے ،شہری عوام پر تعصب اورنفرت کے تھپڑ کھاتے رہے لیکن اب تک بیدار نہیں ہوئے ۔ مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے نمائندے اور متعصب اینکرپرسنز مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں کہ کراچی میں قیام امن کیلئے آپریشن ہونا چاہیے اور ایم کیوایم والوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا ، ہم لاکھ کہتے رہے کہ یہ ایم کیوایم کی پالیسی نہیں ہے اور اس عمل میں ایم کیوایم ملوث نہیں ہے ، میرے 70 سالہ بزرگ بڑے بھائی ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو گرفتارکرکے تین روزتک بھیانک تشددکانشانہ بناکر شہید کردیا گیاجب ان کی شہادت کی خبرلندن میں موصول ہوئی تو تمام ساتھی بہت غصے میں تھے جس کے باعث میں نے انہیں بیان لکھنے سے منع کردیا اور خود بیان تحریرکیا کیونکہ میں ذاتی طورپر امن پسند انسان ہوں اور ہرقسم کے تشدد کے خلاف ہوں۔ میرے بہن بھائیوں نے ناصر حسین اور عارف حسین کی شہادت پر مجھ سے تعزیت کی اور کبھی بدلہ لینے کی بات نہیں کی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ چاہے کتناہی ظلم کرلیاجائے ، کتناہی زہریلاپروپیگنڈہ کرلیاجائے لیکن عوام کوالطاف حسین سے دورنہیں کیاجاسکتا کیونکہ جسے اللہ تعالیٰ بناتاہے اسے اللہ تعالیٰ ہی ختم کرسکتاہے ، کوئی اورختم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہاکہ ذاتی طورپر میری یہ سکت نہیں تھی کہ میں چندافرادکی کفالت کرسکوں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ آج میرے توسط سے ہزاروں خاندانوں کی کفالت ہورہی ہے۔جناب الطاف حسین نے اسٹیبلشمنٹ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ایم کیوایم کواپناحریف یادشمن نہیں بلکہ اپناحلیف سمجھیں، ایم کیوایم کواپنے ساتھ ملائیے،ہم آپ کے ساتھ ملکر ملک کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیارہیں۔ ایم کیوایم اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتی بلکہ اس کے ساتھ بہترتعلقات چاہتی ہے۔اسٹیبلشمنٹ کوبھی چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کواپنے خلاف سمجھنے کے بجائے ایم کیوایم کی فلاسفی کوسمجھے اورایم کیوایم کوختم کرنے کی سوچ کوذہنوں سے نکال دے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ عدم تشددپریقین رکھتی ہے، ایم کیوایم تحریر، تقریراور اظہاررائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔وہ سمجھتی ہے کہ ہرشہری کواس بات کاپوراحق ہوناچاہیے کہ وہ اپنی پسندکی کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیارکرے۔ایم کیوایم پورے ملک میں جمہوریت اورشہری آزادی چاہتی ہے۔ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ تمام شہریوں کورنگ، نسل، زبان، برادری،جنس ، فقہ، مسلک اورمذہب کے امتیازکے بغیرمساوی حقوق دیے جائیں۔ ایم کیوایم ملک کے تمام اداروں سے کرپشن ، رشوت اورچوربازاری کاخاتمہ چاہتی ہے ،وہ کرپشن فری سوسائٹی چاہتی ہے۔ایم کیوایم کے ہاں کرپشن کیلئے زیروٹولیرنس ہے۔ایم کیوایم ملک میں منصفانہ نظام چاہتی ہے ، غریبوں،نچلے طبقہ کوبھی روزگار اورزندگی کی تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرناچاہتی ہے،ایم کیوایم ملک میں ایک سسٹم قائم کرنا چاہتی ہے جہاں خواتین کو تعلیم،روزگاراورزندگی کے ہرشعبہ میں مردوں کے مساوی مواقع میسرہوں اوران کے ساتھ جنس کی بنیادپر کسی قسم کاامتیازنہ برتا جاتا ہو ۔ایم کیوایم کاروکاری، جبری شادی اورغیرت کے نام پر قتل کے خلاف ہے ۔ایم کیوایم اقلیتوں کیلئے یکساں حقوق چاہتی ہے اوریہ سمجھتی ہے کہ تمام مذہبی اقلیتوں کوبھی برابرکاشہری سمجھاجائے۔ایم کیوایم پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ چاہتی ہے اوریہ سمجھتی ہے کہ فرسودہ جاگیردارانہ نظام جمہوریت کی ضد ہے اورصحیح اورحقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ ضروری ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں شروع دن سے یہ بات کہتا چلاآیا ہوں کہ جماعت اسلامی ایک فسادی جماعت ہے ، القاعدہ، طالبان اورداعش کے دہشت گردوں کیلئے کراچی میں سب سے محفوظ پناہ گاہیں جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھر ہیں ،ایم کیوایم دشمن عناصر نے پوری کوشش کی تھی کہ سانحہ صفوراچورنگی میں بے گناہ اسماعیلی برادری کے لوگوں کے سفاکانہ قتل کا الزام بھی ایم کیوایم پر عائد کیا جاسکے لیکن اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ اس قتل وغارتگری میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتارکرلیاگیا اور ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ثابت ہوا۔ تحریک انصاف کے لوگ بظاہر داڑھی نہیں رکھتے لیکن ان کی داڑھیاں ان کے پیٹ میں ہیں اور اندر سے یہ سب بھی طالبان کے حامی ہیں ۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران پر زوردیا کہ وہ کراچی کے خوشحال علاقوں کے عوام سے رابطہ کرکے انہیں کراچی میں القاعدہ ، طالبان اور داعش کے خطرے سے آگاہ کریں، انہیں پیغام دیں کہ وہ بے شک الطاف حسین سے اختلاف کریں لیکن القاعدہ، طالبان اور داعش کے دہشت گردوں سے اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے وہ ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ہوجائیں، میں پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون، کشمیری ، سرائیکی ، ہزار وال ، دیگر قومیتوں کے علاوہ ہندو، عیسائی اور سکھ برادری سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ہوکرایک ہوجائیں ۔ جناب الطا ف حسین نے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کے نامز د امیدواروں کو تلقین کی کہ وہ بلدیاتی الیکشن مہم کو ایک چیلنج سمجھ کر چلائیں ، ایم کیوایم کے امیدواروں کی بھاری اکثریت سے کامیابی کیلئے دن رات محنت کریں ، گھرگھر جاکر عوام سے رابطہ کریں اور حسن اخلاق ،کرداروعمل اورتہذیب وشائستہ طریقے سے عوام کے دلوں کو تسخیرکریں۔ جناب الطاف حسین نے کراچی ، حیدرآباد ،میرپورخاص اور سندھ بھرکے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں ، انشاء اللہ ایم کیوایم بلاامتیازرنگ ونسل سب کی خدمت کرے گی اورماضی کی طرح سندھ بھرمیں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھادے گی۔ اجلاس میں جناب الطاف حسین نے تمام شرکاء سے فنڈکی اپیل کی جس پر تمام شرکاء نے دل کھول کرعطیات جمع کرائے ۔

9/28/2016 8:41:07 AM