Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انتہائی طاقت انسانوں کے ذہنوں کوکرپٹ بنادیتی ہے۔الطاف حسین


انتہائی طاقت انسانوں کے ذہنوں کوکرپٹ بنادیتی ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 11/9/2015
انتہائی طاقت انسانوں کے ذہنوں کوکرپٹ بنادیتی ہے۔الطاف حسین
جہاں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور جاگیردارانہ ذہنیت ہوگی وہاں مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت ہوگی 
انگریزوں کی آمد کے بعد غیراعلانیہ طورپر ہندوؤں اورمسلمانوں کی جو تفریق شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے
ہندوستان میں انتہاپسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل پر غیرمسلم فنکار ، ادیب ، شاعراوردانشورمیدان میں آگئے جبکہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کونشانہ بنانے کے خلاف کوئی باہرنہیں نکلا
جہاں فیوڈل سسٹم اورفیوڈل مائنڈسیٹ ہوتاہے وہاں اختیارات کونچلی سطح پرمنتقل نہیں کیاجاتا
عوام کی محرومی دورکرنے،اختیارات نچلی سطح پرمنتقل کرنے اور گڈگورننس کے لئے انتظامی بنیادوں پر یونٹس قائم کئے جائیں
کراچی وفاق کو67فیصدریونیودیتاہے لیکن کراچی کواس کی تعمیروترقی کے لئے جائزحصہ نہیں ملتا
میئراورڈپٹی میئر پانی اوربجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کام کریں گے
سینئر سیاستداں محفوظ یارخان کی رہائش گاہ پر مختلف شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکے اجتماع سے خطاب
لندن۔۔۔9، نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ انتہائی طاقت انسانوں کے ذہنوں کوکرپٹ بنادیتی ہے اورانتہائی طاقت رکھنے والے حکمراں اپنے آپ کوہی صحیح اورجائزسمجھتے ہیں۔ جہاں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور جاگیردارانہ ذہنیت ہوگی وہاں مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت ہوگی ،وہاں نہ تو مخالف مذاہب ومسالک کے ماننے والوں کو برداشت کیاجائے گا اورنہ ہی انہیں برابری کی بنیاد پر عزت واحترام دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر سیاستداں اورمعروف قانون داں ڈاکٹر محفوظ یارخان کی رہائش گاہ واقع ڈیفنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکے ایک اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلا س میں معروف صنعتکاروں، تاجروں ، ڈاکٹروں ، وکلاء، پروفیسرز اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء نے شرکت کی ۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے انسانی تاریخ، کلچر،سماجی اقدار، فرسودہ جاگیردارانہ نظام،جاگیردارانہ ذہنیت اور مائنڈسیٹ کے نتیجے میں معاشرے پیدا ہونے والی خرابیوں پر انتہائی فکرانگیز خیالات کااظہار کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پانچ ہزار سالہ انسانی تاریخ کے مطابق کسی بھی زمانے میں سچائی کا علم بلند کرنے والوں کی آواز میں آواز نہیں ملائی گئی ، اس سلسلے میں پیغمبروں، ولیوں اور فلاسفرز کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ، سقراط ، گیلے لیو، آئن اسٹائن، نیوٹن ، ارشمیدس نے جب اپنااپناسائنسی وفکری نظریہ پیش کیا تو اس زمانے کے حکمرانوں اور مذہبی رہنماؤں نے اسے تہذیب اور مذہبی اقدار کے منافی قراردیا، سقراط کو موت کی سزا سنائی گئی ،سقراط نے زہرپی کرمرنے کو ترجیح دی لیکن وہ سچ بولنے سے پیچھے نہیں ہٹا۔ سقراط نے اپنی موت کوبھی لوگوں کو ایک علم سے روشناس کرانے کاذریعہ بنایا۔ زہرپینے سے قبل سقراط نے اپنے شاگردوں کو تلقین کی کہ جب میں زہرکا پیالہ پی لوں تومیری کیفیت کے ایک ایک لمحہ کو نوٹ کرتے رہنا کہ تاکہ معلوم ہوسکے کہ زہرپینے کے بعد انسان کے جسم سے کس طرح جان نکلتی ہے۔ لکھنے والے شاگردوں نے جب سقراط کی موت کا اجتماعی منظر تحریرکرکے پیش کیا تو معلوم ہوا کہ زہرپینے کے بعد پہلے ٹانگیں بے جان ہوئیں پھر جسم کے اوپر کے حصے بے جان ہوئے اور آج سائنس یہ بات ثابت کررہی ہے کہ جب انسان کی روح جسم سے نکلتی ہے تو سب سے پہلے اس کے پیربے جان ہوتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ انسانی تاریخ کے ہردور میں ایک کلچر، روایت اور اقدار ہوتی ہے۔ ایک زمانے میں لوگوں کا کلچر تھا کہ وہ برہنہ زندگی گزارتے تھے اوراسے برا تصورنہیں کیاجاتا تھا۔ جب انہیں شعورآنے لگا تو انہوں نے درختوں کے پتوں سے اپنی شرم گاہ چھپانی شروع کی اوراسی لباس میں زندگی کا ہرکام کرنے لگے۔اسی طرح کسی بھی ملک کا سیاسی کلچر ، نظام اور اقدار ہوتی ہیں ، جوبھی ان سے ٹکراتا ہے تو خود ٹوٹ جاتا ہے لیکن اس سسٹم کو نہیں توڑپاتا۔ انہوں نے کہاکہ16 ویں صدی میں انگریزتجارت کی غرض سے برصغیر پاک وہند میں داخل ہوئے تھے لیکن تجارت کرتے کرتے وہ برصغیر کے تاجدار بن گئے ۔اس زمانے میں برصغیرکے مسلمان ، ہندو اور سکھ سب آپس میں مل جل کررہتے تھے۔ اس وقت بھی مند ر، مسجداور گردوارے ہواکرتے تھے لیکن کوئی کسی کی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچایاکرتا تھایہ اس وقت کا کلچر تھا لیکن برصغیرمیں انگریزوں کی آمد کے بعد غیراعلانیہ طورپر ہندوؤں اورمسلمانوں کی تفریق شروع ہوگئی جو بڑھتے بڑھتے ایک مائنڈ سیٹ میں تبدیل ہوگئی ۔ اس مائنڈ سیٹ کوکئی سو سال کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن آج کے دن تک ہندو اور مسلم تضاد جاری ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بھارت میں نریندرمودی کی حکومت ہے جوگجرات کے مسلمانوں کے قتل عام کے حوالہ سے بدنام شہرت رکھتے ہیں ، کئی برس قبل رام مندر اور بابری مسجد کا تنازعہ کھڑا کیا گیا ، آج انتہاء پسند ہندو جماعتوں کی جانب سے گائے کا گوشت کھانے پرمسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے جس پر یہی کہاجاسکتا ہے کہ انتہاپسند ہندوؤں کی تنظیمیں، بھارت کی القاعدہ ، طالبان اور جماعت اسلامی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان اوربھارت 1947ء میں ایک ہی دن آزاد ہوئے لیکن بھارت کے حکمرانوں نے اپنے ملک کی ترقی ، خوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو گراس روٹ لیول تک کی خرابیوں اوربرائیوں کی جڑ قراردیا اورپورے ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کردیا۔ جس یہ نتیجہ نکلا کہ بھارت ترقی اور خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوگیا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ بھارت میں باربار ہندومسلم فسادات ہوتے ہیں لیکن آج تک ہندوؤں کے ہاتھوں اتنے مسلمان نہیں مارے گئے جتنے پاکستان میں طالبان کے ہاتھوں قتل کیے جاچکے ہیں ۔ پاکستان میں فرقہ واریت کے نام پرفسادات میں مسلمان ، مسلمان کے ہاتھوں مارے گئے کیونکہ پاکستان میں آج بھی فرسودہ جاگیردارانہ مسلط ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جہاں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور جاگیردارانہ ذہنیت ہوگی وہاں مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت ہوگی اور وہاں نہ تو مخالف مذاہب ومسالک کے ماننے والوں کو برداشت کیاجائے گا اورنہ ہی انہیں برابری کی بنیاد پر عزت واحترام دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک مائنڈ سیٹ ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے صرف جاگیرداروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہریوں میں بھی پھیل جاتا ہے جوکہ مائنڈ سیٹ کا تسلسل ہے اور ایسے معاشرے میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کا محاورہ تیزی سے عمل کرتا ہے کیونکہ انتہائی طاقت ، حکمراں طبقہ کو کرپٹ بنادیتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جہاں جاگیردارانہ نظام ہوگا وہاں جاگیردارانہ ذہنیت ہوگی،جہاں جاگیردارانہ ذہنیت ہوگی وہاں مذہبی رواداری نہیں بلکہ مذہبی جنونیت ہوگی، انتہاپسندی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کوانتہاپسندوں نے قتل کیاتووہاں کے مسلمان ہی نہیں بلکہ غیرمسلم فنکار ، ادیب ، شاعراوردانشورمیدان میں آگئے اورانہوں نے احتجاجاً اپنے سرکاری ایوارڈ واپس کردیے جبکہ پاکستان میں اتنے عیسائی ماردیے گئے، گرجاگھر اور مندر جلادیئے گئے ، دیگرمذہبی اقلیتوں کونشانہ بنایاگیا لیکن پاکستان میں ان واقعات کے خلاف کوئی بھی احتجاجاً باہرنہیں نکلا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں ہردورمیں آپریشن ہوتارہاہے اورآج بھی کراچی کوٹارگٹ کیاجارہاہے اسلئے کہ کراچی والے پڑھے لکھے لوگ ہیں، وہ نہ توفیوڈل ہیں اورنہ ہی فیوڈل مائنڈسیٹ رکھتے ہیں بلکہ وہ فہم وفراست رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ، بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں مختلف ادوارمیں آپریشن ہوتے رہے اورآج بھی ان تینوں صوبوں میں آپریشن ہورہاہے،پنجاب میں بھی نہ صرف جرائم ہوتے ہیں بلکہ وہاں مذہبی دہشت گردوں کے مراکز ہیں،آخرکیاوجہ ہے کہ آج تک پنجاب میں آپریشن نہیں ہوا؟ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک سازش کے تحت ہرواقعہ کاالزام ایم کیوایم پر لگادیاجاتاہے ، ہرواقعہ کی طرح سانحہ صفورامیں بھی ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بعد میں سامنے آگیاکہ اس واقعہ میں ملوث جوافرادگرفتارہوئے ان کاتعلق جماعت اسلامی کی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے رہاہے۔ جماعت اسلامی کے لوگ القاعدہ اورداعش کے عناصر کوپناہ دے رہے ہیں،داعش کے لئے کام کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے حقوق سے محروم لوگوں کیلئے حق مانگاتوہماراقتل عام کیاگیا، ہمارے ہزاروں ساتھیوں کوگرفتارکرنے کے بعدتشدد کرکے شہیدکیاگیا، ان کی کھالیں اتاری گئیں،ان کے جسموں کوجلایاگیا، آنکھیں نکالی گئیں۔ہمارا جرم یہی تھاکہ ہم نے آوازاٹھائی کہ کوٹہ سسٹم ختم کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں کوٹہ سسٹم 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹوکے دورمیں نافذ کیاگیاتھااوراس کیلئے یہ جواز پیش کیاگیا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کو تعلیم اورترقی کے میدان میں شہری علاقوں کے برابرلایاجائے۔ سوال یہ ہے کہ اگردیہی اورشہری علاقوں کی تفریق پرمبنی یہ کوٹہ سسٹم اتناہی اچھاتھاا ورواقعی اس کامقصددیہی علاقوں کی ترقی تھاتویہ کوٹہ سسٹم صرف صوبہ سندھ ہی میں کیوں نافذ کیاگیا؟اسے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی کیوں نافذ نہیں کیا گیا؟1973ء میں کوٹہ سسٹم نافذ کرتے وقت کہاگیاتھاکہ یہ صرف دس سال کیلئے ہے لیکن کوٹہ سسٹم آج تک نافذ ہے ۔جب ہم نے اس غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کے خلاف آوازبلندکی توکہاگیاکہ ہم لسانیت اورتعصب کی بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی وفاق کو 67فیصدریونیودیتاہے لیکن اس کے جواب میں کراچی کواس کی تعمیروترقی کیلئے جائزحصہ نہیں ملتا،جوملتاہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عوام کی محرومی دورکرنے،اختیارات نچلی سطح پرمنتقل کرنے اور گڈگورننس کے لئے انتظامی بنیادوں پر یونٹس قائم کئے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے انتظامی یونٹس قائم کرنے کی بات کی توبعض لوگوں نے اسے ’’ مہاجر صوبہ ‘‘ کانام دیدیا۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ سندھ میں علیحدہ صوبہ کوکوئی بھی نام دیاجائے لیکن یہ میراوعدہ ہے کہ جو بھی پنجابی، پختون، بلوچ ، سندھی،سرائیکی ،کشمیری،ہزارے وال یاکسی بھی قومیت یابرادری کے لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ یہاں رہتے ہیں،جویہیں کماتے اوریہیں خرچ کرتے ہیں ان سب کاصوبہ پربرابرکاحق ہوگا، ہمارے ہاں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کوئی امتیازنہیں برتاجائے گا ، سب کے ساتھ مساوی سلوک ہوگا۔ اس موقع پر حاظرین نے جناب الطاف حسین سے کراچی کے ساتھ مختلف شعبوں میں کی جانے والی زیادتیوں اور موجودہ صورتحال کے بارے میں مختلف سوالات بھی کئے ۔بلدیاتی نظام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جہاں فیوڈل سسٹم اورفیوڈل مائنڈسیٹ ہوتاہے وہاں اختیارات کونچلی سطح پرمنتقل نہیں کیاجاتا،وہاں یاتوبلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے اوراگرہوتے بھی ہیں توبلدیاتی نمائندوں کواختیارات نہیں دیئے جاتے ۔ہم کوشش کریں گے کہ بلدیاتی اداروں کومغربی ممالک کی طرح مکمل طورپربااختیاربنایاجائے۔ شہرمیں پانی کے بحران کے بارے میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگرہمارے اندراتحادرہا توہم شہرکے حصہ کاپانی حاصل کرلیں گے، ہم چوری چکاری ختم کریں گے اورسمندرکے پانی کومیٹھابنانے کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ لگائیں گے اورمیئراورڈپٹی میئر پانی اوربجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ کراچی کے ساتھ سراسرازیادتی ہے کہ پورے ملک میں پراپرٹی کی اسٹیمپ ڈیوٹی ایک ہزار روپے ہے لیکن کراچی میں اسٹیمپ ڈیوٹی تین ہزارروپے ہے ۔انہوں نے ارکان اسمبلی کوہدایت کی کہ وہ نچلی سطح پرچھوٹے اسکول قائم کرنے پربھی توجہ دیں۔ 






تصاویر

12/3/2016 5:55:48 PM