Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم عدلیہ میں اپنی قانونی جنگ آخر وقت تک لڑتے رہیں گے، الطاف حسین


ہم عدلیہ میں اپنی قانونی جنگ آخر وقت تک لڑتے رہیں گے، الطاف حسین
 Posted on: 11/3/2015
ہم عدلیہ میں اپنی قانونی جنگ آخر وقت تک لڑتے رہیں گے، الطاف حسین
ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی لڑائی جھگڑانہیں کررہے ہیں، ہمارے وکلاء اس معاملے کودیکھ رہے ہیں
ظلم کرنے والے اپناظلم کرتے رہیں، ہم ظلم پر صبرکرتے رہیں گے، دیکھتے ہیں کہ ان کاظلم کام کرتاہے یاہماراصبرکام آتاہے
میری تقریرپربابندی ضرور لگائی جاسکتی ہے لیکن میری سوچ وفکرپر پابندی نہیں لگائی جاسکتی
مہاجروں کے خلاف ریاستی آپریشن کیاجارہا ہے جبکہ دوسری جانب داعش، طالبان اور القاعدہ کے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، متعصب اورشاؤنسٹ عناصر مہاجروں کوختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں
خیرپورمیں 13 افراد کو گولیاں مارکرقتل کردیاگیالیکن نہ تو خیرپورمیں کرفیونافذکیاگیا اورنہ ہی اسلحہ کی بازیابی کیلئے گھرگھر چھاپے مارے گئے
پورے پاکستان کوچھوڑ کر صرف کراچی میں یہ قانون مسلط کیاجارہا ہے کہ بغیرلائسنس گاڑی چلانے والے کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی
وقت کا تقاضا ہے کہ تحریک سے وابستہ ایک ایک فرد کو اپنی اور اپنی نسلوں کی بقاء کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے 
رابطہ کمیٹی ، منتخب عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ جات کے ارکان کے اجلاس سے خطاب
لندن۔۔۔3، نومبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی لڑائی جھگڑانہیں کررہے ہیں، ہمارے وکلاء اس معاملے کودیکھ رہے ہیں اورہم عدلیہ میں اپنی قانونی جنگ آخروقت تک لڑتے رہیں گے ،ظلم کرنے والے اپناظلم کرتے رہیں، ہم ظلم پر صبرکرتے رہیں گے، دیکھتے ہیں کہ ان کاظلم کام کرتاہے یاہماراصبرکام آتاہے۔ کارکنان و ذمہ داران میری تقریرپر پابندی سے ہرگزمایوس نہ ہوں،ٹی وی پرمیری تقریرپربابندی ضرور لگائی جاسکتی ہے لیکن میری سوچ وفکرپر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، میری سوچ وفکر، نظریہ اورآئیڈیالوجی کوقیدنہیں کیاجاسکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی شب عزیزآباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ، منتخب عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ جات کے ارکان کے ہنگامی اجلاس سے وڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب امریکہ ، کینیڈا، بیلجیم ، ساؤتھ افریقہ ، ناروے ، آسٹریلیا،سوئیڈن، برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھا اور سنا گیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم کے قیام کے اسباب اور حق پرستانہ جدوجہد کے دوران پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروں کے خلاف 1947ء سے مختلف ادوار حکومت اور اسٹیبشلمنٹ کی جانب سے متعصبانہ اور جانبدارانہ اقدامات کئے جاتے رہے ، 11، جون1978ء کو جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کا قیام عمل میں لایاگیا اور اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد بھی قوم کو تمام تر واقعات اور تاریخی حقائق سے آگاہ کیاجاتارہا ، آہستہ آہستہ حق پرستی کا پیغام پھیلتا رہا ۔ ابھی جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کے قیام کو محض تین سال کا عرصہ ہی ہوا تھا کہ 3 ، فروری 1981ء کو جمعیت نے اے پی ایم ایس او پر وحشیانہ حملہ کردیا،پورے سندھ، پورے کراچی خصوصاً جامعہ کراچی میں جماعت اسلامی کی طلبا تنظیم اسلامی جمعیت طلبا اور دیگر طلباء تنظیموں کی جانب سے مہاجر طلبا وطالبات کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنایاجاتارہا، ان پر طنزیہ جملے کسے جاتے اور انہیں دیگر طریقوں سے پریشان کیاجاتا رہا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بالکل ویساہی عمل تھا جیسا کہ مغربی پاکستان کے علاقوں میں غریب بنگالی دکاندار وں کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ شرارتی لڑکوں کا گروپ غریب بنگالی دکاندار سے سامان لیتا اور پیسہ ادا کیے بغیر چلاجاتا تھا اور جب وہ غریب دکاندار اپنے پیسے لینے کیلئے ان لڑکوں کے پیچھے جاتا تو شرارتی لڑکے اس کی دھوتی کھینچ کراسے برہنہ کردیاکرتے تھے۔ان کے ساتھ ایسا سلوک کیاجاتا تھا کہ گویا غریب بنگالی انسان نہیں ہمارے غلام یا الگ مخلوق ہوں۔ حکومت ، انتظامیہ ، پولیس اور اہل محلہ یہ المناک مناظر دیکھتے رہتے تھے لیکن کوئی ان شرارتی لڑکوں کو نہیں روک کر نہیں کہتا تھا کہ یہ عمل غلط ہے ۔یہ عمل صرف مغربی پاکستان میں ہی نہیں ہوتا تھابلکہ سابقہ مشرقی پاکستان جہاں بنگالیوں کی اکثریت تھی وہاں بھی مغربی پاکستان سے جانے والے حکومت کیاکرتے تھے اور بنگالی عوام کے ساتھ غیروں جیسا سلوک کیاکرتے تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صوبہ سندھ میں سندھی ، اردوبولنے والوں، پٹھان ، پنجابی اور بلوچ سمیت مختلف قومیتیں آباد ہیں لیکن سندھ میں دوبڑی آبادیاں ہیں جن کی مادری زبان سندھی اور اردو ہے ۔ سندھ میں اکثریت میں بلوچ ہیں جو سندھی کہلاتے ہیں لیکن ان کے گھروں میں مادری زبان بلوچی بولی جاتی ہے ، اسی طرح پنجابی ، پٹھان اور دیگر قومیتیں بھی رہتی ہیں جنکی مادری زبان علیحدہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 17 برسوں سے سندھ میں مردم شماری نہیں ہوئی جبکہ 1998ء میں ہونے والی مردم شماری محض جھٹکا مردم شماری تھی جبکہ آج صوبہ سندھ کی آبادی تقریباً 8 سے 9 کروڑ ہے اور کراچی کی آبادی سوا2 کروڑ سے زائد ہوچکی ہے لیکن صوبہ سندھ اور کراچی میں مردم شماری کے بجائے اعدادوشمارکا گورکھ دھندا اور گمراہ کن اعداد وشمار پیش کرکے صوبہ سندھ اور کراچی کی اصل آبادی کو چھپایاجاتا ہے تاکہ سندھ اورکراچی کے عوام کو بجٹ اور این ایف سی ایوارڈ میں جائز حصہ نہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اپنی عددی اکثریت دکھانے کیلئے جاگیرداروں، وڈیروں اور دولت مندوں نے اردوبولنے والوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا، اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں اردوبولنے والوں کی بڑی تعداد میں زمینیں تھیں جوکہ ایوب خان اور یحییٰ خان کے زمانے تک ان کی ملکیت تھیں لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد سندھ میں ایک سازش کے تحت لسانی فسادات کرائے گئے اور ایسے حالات پیدا کردیئے گئے کہ اردوبولنے والوں کا اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں رہنا مشکل بنادیا گیا، جواردوبولنے والے زراعت کے پیشہ سے وابستہ تھے ، ان کی زمینوں اورکھڑی فصلوں کو آگ لگاکر انہیں مالی نقصان پہنچایا جانے لگا اور ان پر حملے کیے جانے لگے م اب ہر قبضہ کیاجانے لگاجس کے باعث اردوبولنے والوں کو ان شہروں سے اپنے بھرے بھرائے گھر، کاروبار اور زمینیں اونے پونے فروخت کرکے یاچھوڑ کربھاگنا پڑا۔اس موقع پر متعدد افراد نے اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کرکے جناب الطاف حسین کے بیان کردہ واقعات کی گواہی دی ۔ جناب الطاف حسین نے اپنی تقریراور تصویر کی اشاعت ونشر کرنے پر پابندی کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ آج سپریم کورٹ نے بھی اس حوالہ سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقراررکھا ہے جبکہ اس سے قبل فاضل ججوں نے یہ آبزرویشن دی تھی کہ لاہورہائی کورٹ نے یہ پابندی 15 دن کیلئے عائد کی تھی جوکہ ختم ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقراررکھ کر اس کیس کودوبارہ لاہورہائی کورٹ بھیج دیا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ میرے خلاف مقدمہ کرنے والوں کے بڑے بڑے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے لیکن سماعت کے دوران وہ وکلاء اتنا نہیں بولے جتنا کہ نواز شریف حکومت کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بات کی ، وہ عدالت میں کافی دیرتک دلائل دیتے رہے کہ یہ وطن کی آبرو کا مسئلہ ، غداری ہے اور اس پر تو غداری کا مقدمہ بنناچاہیے ، ایم کیوایم کے قائد کی تقریرپر پابندی کے بجائے اس جماعت پر ہی پابندی لگاکر اسے ختم کردیا جائے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ حکومت کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ اگر انہیں اجازت ہوتی تو وہ کھل کر کہتے کہ جیٹ طیاروں کے ذریعہ بمباری کرکے ایک ایک اردوبولنے والے کو ختم کردیا جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آخر ہمارا قصور کیا ہے ؟کیاحقائق بیان کرنا کوئی جرم ہے ؟ اگرملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے بھی مجھے انصاف نہ ملے تومیں کہاں جاؤں؟ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی لڑائی جھگڑانہیں کررہے ہیں، ہمارے وکلاء اس معاملے کودیکھ رہے ہیں اورہم عدلیہ میں اپنی قانونی جنگ آخر وقت تک لڑتے رہیں گے۔جناب الطاف حسین نے کارکنوں وذمہ داروں سے کہاکہ آپ سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی کے فیصلے پر کسی بھی طرح مایوس نہ ہوں ، ظلم کرنے والے اپناظلم کرتے رہیں، ہم ظلم پر صبرکرتے رہیں گے، دیکھتے ہیں کہ ان کاظلم کام کرتاہے یا ہماراصبرکام آتاہے۔الطاف حسین نے کارکنوں اورذمہ داروں سے کہاکہ آپ میری تقریرپر پابندی سے ہرگزمایوس نہ ہوں،ٹی وی پرمیری تقریرپرپابندی ضرور لگائی جاسکتی ہے لیکن میری سوچ و فکر پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، میری سوچ وفکر، نظریہ اورآئیڈیالوجی کوقیدنہیں کیاجاسکتا۔آئیڈیالوجی یانظریہ دینے والے کوتوجیل یا سرحد میں قید کیا جاسکتاہے لیکن کسی آئیڈیالوجی یاپولیٹکل فلاسفی کوقیدنہیں کیاجاسکتاکیونکہ نظریہ سرحدوں کامحتاج نہیں ہوتا،نظریہ سرحدوں کی دیواریں توڑکرپھیلتارہتاہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ آپ کے علم میں ہوگا کہ بلدیاتی الیکشن کے دوران خیرپورمیں 13 افراد کو گولیاں مارکرقتل کردیاگیالیکن نہ تو خیرپورمیں کوئی کرفیو نافذ کیا گیا اورنہ ہی اسلحہ کی بازیابی کیلئے گھرگھر چھاپے مارے گئے ۔انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیاکراچی میں جہادیوں کے کسی ایک بھی مدرسہ پر رینجرز نے چھاپہ مارا؟ جس پر شرکاء نے جواب دیا ’’بالکل نہیں‘‘ جناب الطاف حسین نے پھردریافت کیاکہ کیارینجرز نے ایسی کسی جگہ پر کوئی کارروائی کی جہاں القاعدہ ، طالبان اور داعش کے لوگوں کا کنٹرول ہے ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہاں ’’ہرگز نہیں‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرز والوں نے بعض جگہوں پر کارروائی کی تو انہیں جہادیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایم کیوایم کے اکثریتی علاقوں میں ہزاروں چھاپے مارے گئے لیکن وہاں کسی نے رینجرزیا پولیس کو کسی ایک کنکر تک نہیں مارا اس کے باوجود ہمیں ملک دشمن ، دہشت گرد اورغدار قراردیاجاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دہشت گردوں کی گرفتاری کے خلاف نہیں ہیں ، آپ دہشت گردوں کو ثبوت وشواہدکے ساتھ گرفتارکریں چاہے ان میں الطاف حسین کا بھائی ہی کیوں نہ شامل ہو اسے بھی پکڑیں اور قانون کے تحت سزا دیں لیکن ماورائے عدالت قتل ، حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل اوران 200 کارکنان کی گمشدگی کا حساب کون دے گا جنہیں ان کے والدین کے سامنے گرفتارکیاگیا تھا۔جناب الطاف حسین نے تمام ذمہ داران اور کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ میری قیادت میں تحریکی جدوجہد کرتے رہے ، شہید وزخمی اور لاپتہ ہوتے رہے ، دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے اورقربانیاں دیتے رہے لیکن اب آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایم کیوایم کوقائم رکھنا ہے یا نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ظلم وستم اورتعصب کی انتہاء یہ ہے کہ بغیرلائسنس کے گاڑیاں پورے پاکستان میں چلائی جاتی ہیں حتیٰ کہ ملک بھرمیں بغیرنمبرپلیٹ کے بھی گاڑیاں اورموٹرسائیکل چلائی جاتی ہیں اگر اس عمل کے خلاف پورے پاکستان میں قانون کے مطابق ایکشن لیاجاتا تو یہ انصاف پر مبنی ہوتا لیکن پورے پاکستان کوچھوڑ کر صرف کراچی میں یہ قانون مسلط کیاجارہا ہے کہ اگرکسی نے ایک ماہ میں ڈرائیونگ لائسنس نہ بنایا تو بغیرلائسنس گاڑی چلانے والے کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی ۔ میرا سوال ہے کہ یہ قانون پورے ملک میں کیوں لاگونہیں کیا جاتا ؟ کراچی میں اسلحہ کی تلاش کی آڑ میں گھرگھر چھاپے مارے جارہے ہیں لیکن بلدیاتی الیکشن کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے درمیان مسلح تصادم ہوئے ، متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے لیکن نہ تو ان علاقوں میں فوج اوررینجرز بھیجی گئی اور نہ ہی گھرگھر تلاشیاں لیکر اسلحہ ضبط کیاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اندرون سندھ سے مہاجروں کو بیدخل کرکے اور ان کے کاروبار، گھربار،زمینوں اور جائیداد پر قبضہ کرنے کے بعد اب کراچی میں جہاں مہاجروں کی اکثریت ہے اورعوام ایک پرچم تلے متحد ہے وہاں ایک جانب مہاجروں کے خلاف ریاستی آپریشن کیاجارہا ہے جبکہ دوسری جانب داعش، طالبان اور القاعدہ کے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ سانحہ صفورا گوٹھ پر اسماعلیوں کی بسوں پر مسلح حملہ کرنے والے پکڑے گئے جوکہ تعلیم یافتہ تھے اور ان کا تعلق اسلامی جمعیت طلبا سے ثابت ہوگیا ورنہ اس سانحہ میں بھی ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی سازش تیار کرلی گئی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ جمعیت سے تعلق رکھنے والے ان دہشت گردوں نے داعش جوائن کررکھی تھی اور آج میری یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ جہاں جہاں جماعت اسلامی اور جمعیت موجود ہے وہاں اور ان کے گھروں میں داعش کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ اس وقت شہری علاقوں میں واحد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبا ہے جہاں داعش کے لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے ۔ دورو زقبل جامعہ کراچی میں جمعیت کے دہشت گردوں نے کرکٹ کھیلنے والی طالبات پر حملہ کرکے انہیں زدوکوب کردیا ، یہ امرافسوسناک ہے کہ عوام ،اخبارات اور ٹی وی پر منفی پروپیگنڈے سن کر ان پر یقین کرلیتے ہیں مگر اپنی قوم پر مظالم کرنے والوں کو نہیں پہچانتے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ تحریک سے وابستہ ایک ایک فرد کو اپنی اور اپنی نسلوں کی بقاء کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے لیکن بعض ذمہ داران، کارکنان اورعوام جدوجہد کرنے کے بجائے گروپ بندیوں کا شکار ہیں ، پسند ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کررہے ہیں اور اپنے مشترکہ دشمن کی سازشوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے اگست 1991ء میں اعلان کیاکہ آئندہ سال 14اگست 1992ء کو ’’ مہاجرقومی موومنٹ ‘‘ کو ’’ متحدہ قومی موومنٹ ‘‘ میں تبدیل کرنے کااعلان کریں گے لیکن اس سے قبل کہ 14 اگست 1992ء آتی اس سے پہلے ہی 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کاآغازکردیاگیا جوآج تک جاری ہے ۔ صرف جنرل پرویزمشرف کے دور میں فوج کی پالیسی تبدیل ہوئی جس کے دوران ہمیں تھوڑابہت کام کرنے کاموقع ملا۔1992ء سے آج یہ دن آگیاہے اورہم پر جبروستم کاسلسلہ جاری ہے، آج یہ دن آگیاہے کہ میری تقریرپر پابندی ہے، اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بے گناہ شہریوں کوپکڑکر تشددکرکے اورگولیاں مارکران کی تشددزدہ لاشیں سڑکوں پر پھینک دیں توکیااس عمل کوآئینی بات کہیں گے ؟ میں نے اس کے ناجائزعمل کو ناجائزکہاتومیری تقریرپر پابندی لگادی گئی ہے، میں ظلم وجبرکے آگے جھکوں گانہیں چاہے جتنا ہی ظلم کیا جائے ۔جناب الطاف حسین نے کارکنوں اورذمہ داروں سے کہاکہ میری تقریرپرپابندی کامعاملہ وکلاء دیکھ رہے ہیں ،آپ اس پر مایوس ہونے کے بجائے ہمت وحوصلے سے کام لیں، اپنی تمام ترتوانائیاں بلدیاتی انتخابات میں تحریک کوکامیاب بنانے میں صرف کریں، گلی گلی ، محلہ محلہ پھیل جائیں، عوام کومتحرک کریں، ثابت قدمی اورمستقل مزاجی سے کام کریں،باقی اللہ پرچھوڑدیجئے، انشاء اللہ ہم کامیابی سے ہمکنارہوں گے۔انہوں نے کہاکہ جومتعصب اورشاؤنسٹ عناصر 1947ء سے آج تک ہردورمیں مہاجروں کوختم کرنے کی کوششیں اورسازشیں کرتے آئے ہیں ، وہی عناصر آج بھی ہمیں ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم نے ہرجماعت، ہرسیاسی رہنماکا ساتھ دیا، اس کے ساتھ اتحادکیالیکن ہرایک نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیااورہم پر ظلم کیا۔ان تمام تر حالات کے باوجود ہم نہ کل مایوس ہوئے تھے اورنہ آج مایوس ہوں گے اورتمام ترمظالم اورجبروستم کے باوجوداپنے حقوق کی جدوجہدجاری رکھیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرا شروع دن سے یہی درس رہاہے کہ تحریک میں دوستی کارشتہ تحریک کیلئے زہرقاتل ہوتاہے کیونکہ دوستی کارشتہ گروپ بندی کو جنم دیتاہے اورگروپ بندی تحریک میں انتشارپیداکرتی ہے۔اس تحریک کے مشن ومقصدکی جدوجہدمیں ہزاروں کارکنوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا ہے،اسیروں نے قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کی ہیں لہٰذا تحریک کے ذمہ داران وکارکنان شہیدوں کے لہوکاپاس رکھتے ہوئے آپس میں دوستی اورگروپ بندی ختم کریں، ان برائیوں کواپنے ذہن ہی سے نہیں بلکہ جسم کے ایک ایک خلیہ سے نکال دیں،ایک ہوجائیں،تحریک کواس کی منزل سے قریب تر کرنے کیلئے اپنی ذات کے مفادات کے بارے میں سوچنے کے بجائے تحریک اورقوم کے اجتماعی مفادات کیلئے کام کریں، پسند ناپسند کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کریں اورالیکشن میں ایسے ایماندارلوگوں کوآگے لائیں جواپنے ذاتی مفادکیلئے نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی مفاد کیلئے کام کریں،جو آپ کونہیں بلکہ اپنے علاقوں کی حالت بہتربنائیں، اپنے علاقوں میں صحت وصفائی اورسیوریج کانظام بہتربنائیں، اپنے علاقوں میں سڑکیں، اسکول اورکالج بنائیں۔ انہوں نے تمام ذمہ داروں پرذوردیاکہ وہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کیلئے محنت میں کوئی کسرنہ اٹھارکھیں اورکسی فردکاچہرہ دیکھنے کے بجائے تحریک کی کامیابی کوپیش نظررکھیں۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ہماراامتحان ختم کرے، ظالموں پر اپناعذاب نازل کر، ہمیں انصاف دلا، ہمارے شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرما ، تحریک کے کارکنوں کے اتحادکومزیدمضبوط بنا ، ان کے دلوں کوصاف کرکے انہیں دوستی ، رشتہ داری، اقرباء پروری اورذاتی مفادکے بھنورسے نکال دے اورہمیں کامیابی سے ہمکنار فرما۔

English Viewers


12/4/2016 4:21:27 AM