Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مذہبی انتہاء پسندی کسی بھی معاشرے کیلئے اجتماعی خودکشی کے رحجان سے کم نہیں ہے، الطاف حسین


مذہبی انتہاء پسندی کسی بھی معاشرے کیلئے اجتماعی خودکشی کے رحجان سے کم نہیں ہے، الطاف حسین
 Posted on: 11/1/2015
مذہبی انتہاء پسندی کسی بھی معاشرے کیلئے اجتماعی خودکشی کے رحجان سے کم نہیں ہے، الطاف حسین
یہ رحجان باقیماندہ پاکستان کو غیرمستحکم اور تباہ کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ، الطاف حسین
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زائد ہوچکی ہے لیکن ملک میں آج بھی صوبوں کی تعداد وہی چار ہے، الطاف حسین
پاکستان کی سلامتی وبقاء، ترقی وخوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ملک بھر میں نئے صوبے بنائے جائیں، الطاف حسین
ایم کیوایم جمہوری، لبرل اور روشن خیال جماعت ہے ، الطاف حسین
میں نے ہمیشہ تمام مذاہب اور مکاتب فکر کے احترام کا درس دیا ہے ، الطاف حسین
میری خواہش ہے کہ پاکستان سے لفظ ’’اقلیت ‘‘ ختم کردیا جائے اور پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کو
بلاامتیاز برابر کا پاکستانی تسلیم کیاجائے، الطاف حسین
اگر الطاف حسین جیسے محب وطن لوگوں کو کنارے لگاکر چوروں کو ’’شرفا‘‘ قراردیاجاتا رہے گا تو باقیماندہ 
پاکستان کا اللہ حافظ ہے ،الطاف حسین
سابق رکن قومی اسمبلی سنجے پروانی کی رہائش گاہ پرڈیفنس کلفٹن ریزیڈنٹس کمیٹی کے ارکان سے وڈیو لنک کے ذریعہ خطاب
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ مذہبی انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت کسی بھی معاشرے کیلئے اجتماعی خودکشی کے رحجان سے ہرگز کم نہیں ہے اوریہ رحجان باقیماندہ پاکستان کو غیرمستحکم اور تباہ کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ڈیفنس میں سابق رکن قومی اسمبلی سنجے پروانی کی رہائش گاہ پرڈیفنس کلفٹن ریزیڈنٹس کمیٹی کے ارکان سے وڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں معروف صنعتکاروں ، تاجروں ، فلمی اداکاروں اور زندگی کے دیگر شعبہ سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے علاوہ رابطہ کمیٹی کے ارکان اور مستعفی حق پرست ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زائد ہوچکی ہے لیکن ملک میں آج بھی صوبوں کی تعداد وہی چار ہے جو آج سے 68 سال پہلے تھی، صوبہ پنجاب کی جتنی آبادی کے دنیا میں پچاس سے زائد ممالک ہیں، وقت کا تقاضا ہے کہ گڈگورنس، پاکستان کی سلامتی وبقاء، ترقی وخوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ملک بھر میں نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ عوام کی محرومیوں کا خاتمہ ہو، ملک میں امن وامان کی فضا بہتر بنائی جاسکے اور ملک کی معاشی ترقی میں اضافہ ہوسکے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ معاشرے کی ترقی وخوشحالی کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے تاہم ایسی تعلیم جو انسان کے فرسودہ مائنڈ سیٹ کوتبدیل نہ کرسکے اور انسان کو اچھے برے کی تمیز نہ سکھا سکے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی کو فروغ دیا جارہا ہے ، صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو دن دہاڑے قتل کردیا جاتا ہے اور قتل کرنے والا فخر سے اس کی ذمہ داری قبول بھی کرتا ہے لیکن جب قتل کے ملزم کو عدالت میں پیش کیاجاتا ہے تو تعلیم یافتہ وکلاء کی جانب سے قتل کے ملزم کا استقبال کیاجاتا ہے اور اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، صورتحال یہ ہے کہ جب جج انتہاء پسند عناصر کو مقدمہ سننے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اتنا دھمکایا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبورہوجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم ایک جمہوری، لبرل اور روشن خیال جماعت ہے ، میں نے کبھی یہ نہیں کہاکہ مذہب کو نہ مانیں بلکہ میں نے ہمیشہ تمام مذاہب اور مکاتب فکر کے احترام کا درس دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں پاکستان کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان، مسلک ، عقیدہ اور مذہب برابر کاشہری سمجھتا ہوں ، میری خواہش ہے کہ پاکستان سے لفظ ’’اقلیت ‘‘ ختم کردیا جائے، پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کوبلاامتیاز برابر کا پاکستانی تسلیم کیاجائے اورتمام مذاہب ومسالک کے ماننے والوں کو یکساں عزت اور حقوق حاصل ہوں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے مذہب، مسلک اور عقائد کی بنیاد پر تفریق کے خاتمے کی بات کی تو مجھے اسلام دشمن قراردیا گیا ، میں نے کہاکہ طالبانائزیشن ہورہی ہے اور طالبان دہشت گردفاٹا سے کراچی سمیت ہرجگہ چھارہے ہیں تو وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے میری باتوں کو غلط قراردیا اورکہاکہ کراچی میں کوئی طالبانائزیشن نہیں ہورہی ہے ۔ اسی طرح جب میں نے کراچی میں داعش کی موجودگی کی بات کی تو کہاگیا کہ الطاف حسین جھوٹے بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ صفورا گوٹھ میں اسماعیلی برادری کی بس پر وحشیانہ حملہ اور بے گناہ شہریوں کے سفاکانہ قتل میں داعش کے دہشت گرد ملوث تھے، القاعدہ ، طالبان اور داعش کے لوگ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے گرفتار کئے گئے لیکن جماعت اسلامی کو دہشت گرد قرارنہیں دیاجاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم اپنی عاقبت نااندیشی سے آدھاملک گنواچکے ہیں ، اگر الطاف حسین جیسے محب وطن لوگوں کو کنارے لگاکر چوروں اوراچکوں کو ’’شرفا‘‘ قراردیاجاتا رہے گا تو باقیماندہ پاکستان کا اللہ حافظ ہے ۔الطاف حسین پر ہرقسم کاجھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن مجھ پر کوئی کرپشن کا الزام نہیں لگاسکتا۔اگر میں چاہتا تو ملک اوربیرون ملک محلات بناسکتا تھا لیکن مجھے محلات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں رہتا ہوں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری باتیں تلخ ضرور ہیں لیکن سچائی پر مبنی ہیں ، جاگیردار اوروڈیرے خود کو محب وطن قراردیکر ملک کو دیمک کی طرح چاٹتے رہیں لیکن میں ان کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر سچ بول کر ملک بچانے کی کوشش کرتا رہوں گا۔انہوں نے کہاکہ یہ سراسر ظلم اور نسل پرستانہ عمل ہے کہ الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور تصویر نشر وشائع کرنے پر پابندی عائد کی جائے لیکن دوسری جانب عالمی سطح پر جن تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیاگیا ہے انہیں پاکستان میں کھلی آزادی دی جائے۔جناب الطاف حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں ،حق پرست عوامی نمائندے انہیں کبھی مایوس نہیں کریں گے، ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے ۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے شرکاء کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے ۔

9/30/2016 5:02:06 AM