Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اونچی دکان ۔۔۔ پھیکے پکوان ۔۔۔تحریر:ارشد حسین


اونچی دکان ۔۔۔ پھیکے پکوان ۔۔۔تحریر:ارشد حسین
 Posted on: 10/28/2015
اونچی دکان ۔۔۔ پھیکے پکوان 
تحریرارشد حسین 
’’اونچی دکان ، پھیکے پکوان ‘‘ یہ کہاوت تو برسوں سے چلی آرہی ہے ۔۔۔ لو گ اسے دہراتے بھی رہتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جونمود ونمائش اور شوبازی پر یقین رکھتے ہیں کہ’’ اونچی دکان ۔۔۔ پھیکے پکوان‘‘ جسے ہرآدمی دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ بڑی دکان ہے ، خوبصورتی سے سجائی گئی ہے، اس کا معیار بھی بظاہر اچھا ہے اوریہ اونچی دکان ہے لہٰذا اس دکان کے پکوان کھانے میں بھی خوب مزہ آئے گا ۔۔۔ ذائقہ دوبالا ہوجائے گا ۔۔۔چند روز قبل میں ایسی ہی ایک اونچی دکان کے قریب سے گزررہاتھا ۔۔۔سوچا کہ موقع سے فائد ہ اٹھاکراس اونچی دکان میں چلا جاتا ہوں اور وہاں کے پکوانوں کا مزہ لیتا ہوں ۔۔۔سوچا کہ شادی کے بعد بیگم کے ساتھ پہلی بار باہر کھانا کھارہا ہوں تو مزہ اور زیادہ دوبالا ہوجائے گا ۔مزیدار اور لذیز کھانوں کا ارمان لئے ہم اس اونچی دکان میں داخل ہوئے ، اپنی پسند کے پکوان منگوائے لیکن ایک نوالہ منہ میں لیتے ہی ہماری تمام خوشی کافور ہوگئی۔۔۔
بس آگے نہ پوچھوکہ۔۔۔ہماری تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور اس دکان کے سارے پکوان پھیکے نکلے ۔۔۔ ہم غمزدہ دل لئے نظریں جھکائے اور واپسی کا راستہ لیا ۔۔۔اونچی دکان کے پھیکے پکوانوں نے ہمارے موڈ کا ستیا ناس کردیا تھا ۔۔۔خود کواس اداس کیفیت سے باہر نکالنے کیلئے سوچا کہ موجودہ واقعہ سے طبیعت اداس ہوگئی ہے ، اس اداسی کو وور کرنے کی غرض سے کوئی شام کے اخبار کامطالعہ کرکے حالات حاظرہ جانتے ہیں تاکہ دھیان بٹے اور ہم اپنی اداس کیفیت سے باہر نکل جائیں لہٰذا قریب کی دکان سے شام کا اخبار خریدا اورپھرہم بس اسٹاپ کی جانب رواں دواں ہوگئے ۔۔۔ مطلوبہ بس آئی توہم نے بس کے اندر داخل ہوتے ہوئے مناسب سیٹ تلاش کی اور اس پر براجمان ہوگئے ۔۔۔اپنی سیٹ پر بیٹھ کرہم نے دائیں بائیں نظریں دوڑائی اوراخبار کے مطالعہ میں مصروف ہوگئے ۔۔۔ایک خبر کی شہ سرخی پر نظر پڑی تو پوری خبرپڑھنے کا تجسس ہوا خبرکے مطابق ۔۔۔گزشتہ روز ایک عام سے جہاز میں سواربھارتی وزیراعظم نریندرمودی صرف اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ امریکی ایئر پورٹ پر اترے توان کا شاندار استقبال کیاگیا۔۔۔ یہ خبرپڑھ کرہم اپنے آپ کو حیر ت زدہ ہونے سے نہ بچاسکے اور ہمارادماغ شائیں شائیں کرکے سوچنے کی دہائیاں دینے لگا کہ اتنے بڑے ملک کا وزیر اعظم صرف چند افراد کے ساتھ امریکہ کے دورے پر آیا ہے۔۔۔ لیکن ان کا ایسا شاندار استقبال ہواکہ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کی یاد آگئی ۔بھارتی وزیراعظم کے استقبال کیلئے امریکی صدر ،ان کی اہلیہ ،کیبنٹ کے ارکان اور سیکٹروں اعلیٰ نامی گرامی افراد کا مجمع موجود تھا، استقبال کرنے والوں نے چہروں پر مسکر اہٹ سجا کے۔۔۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی او ران 
کے ہم نواؤں کا ۔۔۔استقبال کیا۔۔۔استقبال کرنے والے گرم جوشی اور خوشی ومسرت سے بھارتی وزیراعظم پر ایسے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے ملکہ وکٹوریہ کی والدہ۔۔۔ ملکہ وکٹوریہ اور دیگر ارکان کے ساتھ تشریف لارہی ہیں ۔
ہرشخص کی دلی تمنا ،آرزو اور چمک آنکھوں سے جھلکتی صاف نظر آرہی تھی۔۔۔ہرایک کی بس یہی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح بھارتی وزیراعظم نریند ر مودی سے اگربغل گیر نہ ہوسکے توکم ازکم صرف ہاتھ ہی ملالے۔۔۔ پھر بے اختیار خیال آیا کہ واقعتا اونچی دکان میں لزیذپکوان ہوں تو اونچی دکان میں بیٹھنے اور کھانے کا مزہ آجاتا ہے ۔۔۔ اتنے بڑے ملک کا وزیر اعظم کس قدر سادگی سے امریکی ایئر پورٹ پر اترا کہ اس کی سادگی دیکھ کرخود امریکہ کی اعلیٰ شخصیات بھی حیرت زدہ ہوگئیں۔ابھی ہم اس حیرت انگیزخبرکے سحر سے نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ ہمارے برابر والی سیٹ پر بیٹھا ایک شخص اپنی منزل پرپہنچنے کیلئے اپنی سیٹ سے اٹھا اوربس سے اترکرایک سمت کی جانب رواں دواں ہوگیا ۔۔۔بس سے اتر کرجانے والے مسافر نے اپنا اخبار اپنی سیٹ پرہی چھوڑدیا۔۔۔ ہم نے سوچا کہ ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے میں ابھی پانچ چھ منٹ مزیددرکار ہیں لہٰذا جب تک اس مسافرکے اخبار کا مطالعہ کر لیا جائے ۔۔۔ یہی سوچ کرابھی اخبار اٹھا یا ہی تھااور اس کی پہلی خبر پر نگاہ ہی پڑی تھی کہ اس خبرکی سرخی نے ہمارے منہ کا سارا مزا کر کرا کر دیا۔۔۔خبر تھی کہ سینکڑوں افراد کے ساتھ جمبو جیٹ طیارے سے غریب ملک پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف چند لوگوں کے نہیں بلکہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ شاہانہ انداز میں سینکڑوں افراد کے ساتھ جہاز سے باہر آتے ہیں۔۔۔ اوران کے استقبال کیلئے امریکہ کی کوئی اعلیٰ شخصیت نہیں پہنچتی۔۔۔وزیراعظم پاکستان اور ان کے خاندان کے افراد جہاز میں لگی سیڑھیوں سے اتر کر دیکھتے ہیں تو انہیں ایک بھی امریکی نظرنہیں آتا ہے بلکہ پاکستانی وزیراعظم کے استقبال کیلئے امریکہ کے ائیرپورٹ پر پاکستانی مصالحوں کی خوشبوؤں میں لپٹے صرف پاکستانی کھڑ ے تھے۔وزیر اعظم نواز شریف حیران اور پریشان ہوکر دائیں بائیں دیکھنے لگے کہ کوئی بھی امریکی انہیں لینے نہیں آیا۔۔۔ارے بھائی !!!کوئی امریکی ہوتا تو نظر آتا؟ ۔۔۔وزیر اعظم نواز شریف صاحب دل ہی دل میں سوچتے ہوں گے کہ اتنابڑا جہاز،پاکستانی قوم کے ٹیکسوں سے ہونے والے اتنے بڑے سفری اخراجات کرنے اوراتنی بڑی فوج ظفر موج لانے کا کیا فائدہ ۔۔۔؟اس خفت آمیز صورتحال کو سبھی محسوس کررہے تھے، اس صورتحال کودیکھتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کے قافلے میں شریک لوگ بھی دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں گے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مود ی کاتوان کے شایان شان طریقے سے پرتپاک استقبال کیاگیا تھا ۔۔۔جبکہ ہمارے وزیراعظم کے استقبال کیلئے تو ایک آدمی بھی لینے نہیں آیا ۔۔۔جبکہ بھارتی 
وزیراعظم نریندر مودی صاحب تو صرف چند لوگوں کے ساتھ تشریف لائے تھے جبکہ یہاں تو ایک بڑے جہاز کوخوب سجا کر خوب تزئین وآرائش کرنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف، اپنے خاندان کے افراد سمیت زیادہ لوگوں کو اس لئے لائے تھے کہ پاکستانی ،اونچی دکان کو کتنی اہمیت دیتے ہیں ۔قافلے میں شریک دوسرا گر وپ آپس میں باتیں کرر ہا تھا کہ افسوس کیوں کرتے ہو۔۔۔پاکستانی وزیراعظم کے استقبال کیلئے اگر کوئی نہیں آیا تو جہنم میں جائے ۔۔۔چھڈو جی ۔۔۔سانوکی ۔۔۔ہم کیوں پریشان ہوں ۔۔۔ ہمیں تو چاہیے کہ خوب شاپنگ کریں ،مزے کریں ، ہمیں کس بات کی فکر کہ اتنا بڑا جہا ز لانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔جبکہ تیسرا گروپ آپس میں گفتگو کرنے لگا کہ ایک انتہائی غریب ملک کے وزیر اعظم کو بھی کفایت شعاری اور سادگی کامظاہرہ کرنا چاہیے تھالیکن اس کے برعکس پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کے دورے کیلئے اتنا شاہانہ اندازاختیار کیا اور اپنے جہاز کو خوب سجاکراورخاندان بھر کر لائے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ یہ صورتحال تو اس محاورے کہ ’’ اونچی دکان اور پھیکے پکوان‘‘ کے مصداق ہے ۔
اب اگربھارتی وزیراعظم اور پاکستانی وزیراعظم کے سفری طرزعمل کا موازانہ کیاجائے ۔۔۔تو معلوم ہوگا کہ اگر کسی ملک کا سربراہ کفایت شعاری اور سادگی پسند ہو، نمود ونمائش اور شوبازی کے بجائے اپنے مقصد پر نگاہ رکھے تو اس ملک کی معیشت بہتر ہوگی جبکہ کوئی دوسرا وزیراعظم کفایت شعاری اور سادگی کے بجائے نمود ونمائش کا خواہشمند ہو ، ایک بڑے جہاز میں خاندان سمیت سینکڑوں افراد کے سفری اخراجات، ہوٹل میں ٹھہرنے اورکھانے پینے کے اخراجات کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالے تو اس غریب ملک کے سربراہ کی اس طرح کی عیاشیوں کے باعث اس غریب ملک کی معیشت کاکیاحال ہوگا ۔۔۔؟
جب خود دار اوردنیا کے بڑے طاقتورملک کا سربراہ غیرملکی دوروں کے مواقع پر سادگی اختیار کرے ، قومی خزانے کو قوم کی امانت سمجھ کر استعمال کرے توایسے ملک اور ان ممالک کے سربراہوں کو دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ایسے ملک کے سربراہ جب کسی غیرملکی خواہ سپرپاورملک کا بھی دورہ کریں توانکا شایان شان طریقے سے استقبال کیاجاتا ہے جیسا استقبال امریکہ میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر موودی کا کیاگیا ہے ۔بہرحال قارئین سوچیں۔۔۔اور بھارتی وپاکستانی وزرائے اعظم کے دورہ امریکہ کے بارے میں خود انداز لگائیں کہ امریکہ کے دورے کے موقع پر انڈیا نے کیا پایا او رپاکستان نے کیا پایا ؟ ہماری نظر میں تو صرف اونچی دکان او رپھیکے پکوان والی صورتحال ہی پاکستان کے حصے میں آئی ہے ۔ 


12/3/2016 5:52:36 PM