Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

الطاف حسین کی نہ مانو۔۔۔۔۔۔اب بھگتو ۔۔۔۔تحریر:طارق جاوید


الطاف حسین کی نہ مانو۔۔۔۔۔۔اب بھگتو ۔۔۔۔تحریر:طارق جاوید
 Posted on: 10/20/2015
الطاف حسین کی نہ مانو۔۔۔۔۔۔اب بھگتو ۔۔۔۔تحریر:طارق جاوید

آج بروز بدھ 14اکتوبرکی سب سے بڑی خبرسب سے بڑے اردو روزنامہ میں سب سے بڑی سرخی کے ساتھ یہ ہے کہ "سندھ میں داعش کا نیٹ ورک موجود 53دہشت گردوں کی فہرست تیار"اس کی کچھ تفصیل روزنامے کے مطابق یہ ہے کہ سندھ میں داعش کے نیٹ ورک کی موجودگی کا انکشاف ہو اہے ،کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)نے 53دہشت گردوں پر مشتمل فہرست بھی تیار کرلی ہے اس کے ساتھ ہی دوسری خبر ہے کہ’’ (کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے انچارج راجہ عمر خطاب نے کہا کہ کراچی میں داعش کے ہمدرد ضرور موجود ہیں لیکن یہ داعش سے باقاعدہ تعلق رکھنے والے لوگ نہیں ہیں‘‘ یہ خبر پڑھتے ہی مجھے ایک پرانی پاکستانی فلم انجمن کے گانے کے بول یاد آگئے جو کچھ اس طرح کے تھے کہ 
اظہار بھی مشکل ہے ،چپ رہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
پاکستان کے پالیسی سازوں سے گزارش ہے کہ میری اس تحریر کو ہلکا نہ لیں کیونکہ آپ لوگ پاکستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں ،لیکن قارئین سے پوچھتا ہوں کہ اپنے ذہن پر زور دے کر بتائیں مجھے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو بتائیں کہ آج سے کئی برس پہلے جب کراچی میں طالبانائزیشن کی ابتداء ہورہی تھی تو 20کڑوڑ عوام میں سے کس سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ بشمول فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں میں سے کس نے عوام کومتنبہ کیا تھا کہ کراچی میں طالبان کا قبضہ شروع ہو چکا ہے صرف ایک نام آپ کے ذہن میں آئے گا اور وہ ہے ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کا ۔اس وقت کے صدر پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ سمیت سب نے صاف انکار کیا۔الطاف حسین کی نہیں مانی گئی الطاف حسین کی نہ مانو تو اب بھگتو۔کراچی کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت کی عمل داری ختم ہو چکی ہے وہاں رینجرز اور پولیس داخل نہیں ہو سکتی وہ قبائلی علاقوں کا منظر پیش کرتی ہیں وہاں پر طالبان اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور جزا و سزا کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اسی طرح کچھ برس قبل جب داعش کا مشرق وسطیٰ میں ظہور ہوا اور بین الاقوامی اخبارات میں خبریں آنا شروع ہوئیں اس کے فوراًبعد جناب الطاف حسین نے ایک بھرپور پریس کانفرنس کر کے تمام ثبوت و شواہد کے ساتھ عوام اور اسٹیبلشمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ پاکستان میں داعش داخل ہو چکی ہے ،سب نے قائد تحریک کا مذاق اڑایا اور کہا کہ وہ بے پرکی اڑاتے ہیں وہ دو دہائیوں سے پاکستان میں نہیں ہیں، انہیں پاکستان کے زمینی حقائق کا کیا معلوم۔
جناب الطاف حسین کی سوچ و فکر اور تجربہ کی انتہا یہ ہے کہ ہر وہ وہ بات جو شروع میں نہ مانی گئی آگے چل کر سچ ثابت ہوئی ،آج بھی صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ داعش کی موجودگی سے انکار ی ہے بالخصوص اس ملک کے وزیر داخلہ جانب چوہدری نثار نے تو صاف صاف کہہ دیا پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے ۔جو لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں وہ سیاست کر رہے ہیں اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اور پنجاب کے کئی شہروں کی دیواریں داعش کے نعروں سے بھری پڑی ہیں لیکن میں نہ مانوں کے مصداق وہ انکاری ہیں اب بھی الطاف حسین کی نہ مانو گے تو مزید بھگتو گے۔آج سے دو روز قبل یعنی بروز پیر سندھ پولیس کےIGغلام حیدر جمالی نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ
" صفورہ گوٹھ کے سانحے میں 14لوگ مبیّنہ طور پر شامل تھے (غور کیجئے گا انکے لیئے بھی لفظ مبیّنہ استعمال ہو رہا ہے کہیں آپ کو لفظ دہشت گرد نظر نہیں آئے گا)،IGسندھ نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعہ میں 25لوگوں کا کردار ہے جس میں تمام کے تمام لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں کچھ نے ماسٹرز کیا ہوا ہے کچھ نےPhDکی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور یہ لوگ فلسفہ خلافت سے متاثر ہیں "۔اب آپ بتائیں کہ یہ داعش کے لوگ نہیں ہیں تو اور کون ہیں اتنے بڑے دہشت گردوں کیلئے جنہوں نے اسماعیلی برادری کے درجنوں افراد کوچشم زدن میں ختم کر دیا ان کیلئے ہمدرد انہ انداز میں حقائق کو دبا کر بیان کرنے کا کیا مطلب ہے IGنے جتنی بھی گفتگو کی ایک دفعہ بھی انکے لئے لفظ دہشت گرد کالفظ استعمال نہیں کیا جبکہ گھر میں سویا ہواایم کیو ایم کا کارکن پکڑا جاتا ہے اور اگلے دن دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے ۔IGسندھ نے اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو یہ بھی بتایا کہ "یہ گروپ دہشت گردی کے 37واقعات میں بھی شامل ہے یہ بھی بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ اور اندرون سندھ میں اغواء برائے تاوان میں بھی شامل ہےIG"کی زبان سے ایک دفعہ بھی ان لوگوں کیلئے دہشت گردکالفظ استعمال نہیں ہوا ۔یہ کس سوچ کی عکاسی ہے آپ سوچیئے اور سر دھنیئے۔ داعش کا نیٹ ورک پاکستان بالخصوص کراچی میں اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ اسماعیلی برادری کے درجنوں افراد کو انہوں نے قتل کردیا۔پورے ملک میں داعش کہاں کہاں اور کس کس انداز میں مضبوط ہو رہی ہے یہ وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے پردہ ہٹے گا سب کو معلوم ہوجائے گا ۔ابھی الطاف حسین کی نہ مانو آگے چل کر بھگتو گے ۔ابھی تو صرف اسماعیلی برادری نے قربانی دی ہے مزید کون کون قتل ہوں گے اور کتنی تعداد میں ہوں گے یہ وقت بتائے گا پھر اگر میں زندہ رہا تو بولوں گا الطاف حسین کی نہ مانو اب بھگتو
پاکستان کے پالیسی سازوں سے میری ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ خدارا جناب الطاف حسین کو ایک محبّ وطن پاکستانی سمجھتے ہوئے انکی باتوں پر توجہ دیں ورنہ خدا نخواستہ پاکستان میں اتنا بڑا LAND SLIDEہوگا کہ پورا پاکستان اس میں دب جائے گااور میرے منہ میں خاک پاکستان کا وجود خطّہ زمین سے غائب ہو جائے گا کیونکہ جمہوریت نہیں ہوگی داعشی خلافت ہوگی۔
اب بھی وقت ہے کہ فکر و شعوررکھنے والے اورپاکستان سے محبت کرنے والے جو پاکستان کو دنیا کا مضبوط ترین ملک بنانے کی فکر میں ہیں جس کا نام الطاف حسین ہے، ان کے خیالات انکی فکر انکی سوچ سے فائدہ اٹھانے کیلئے انہیں اپنے FOLDمیں لے لیں ورنہ 
"اپنی داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں" 

12/8/2016 4:00:24 PM