Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے نامزد بلدیاتی امیدواران اور انکے گارنٹرز کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں، وسیم اختر


ایم کیوایم کے نامزد بلدیاتی امیدواران اور انکے گارنٹرز کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں، وسیم اختر
 Posted on: 10/13/2015
ایم کیوایم کے نامزد بلدیاتی امیدواران اور انکے گارنٹرز کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں، وسیم اختر 
3دسمبر کو ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے قبل ایم کیوا یم کو دیوار سے لگانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں، وسیم اختر 
اسکروٹنی کے عمل کے بعد چھاپہ مار کر امیدواران کوگرفتار کرنا غیرقانونی اور صریحاً غلط عمل اور امیدواران کو خوفزدہ کرنے کے مترادف ہے، وسیم اختر 
اسکروٹنی کا عمل اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ امیدوار کسی قسم کا نادہندہ اور کسی بھی جرائم میں ملوث نہیں ہے، وسیم اختر 
کراچی میں ایم کیوایم کے سیاسی سیٹ اپ کو سازشوں سے دبانے اور عوام کو جبر کے ذریعے انکی پسند تبدیل کرنے کے عمل کافوری نوٹس لیاجائے ،و زیر اعظم،چیف جسٹس اور آرمی چیف سے وسیم اختر کا مطالبہ 
رابطہ کمیٹی کے ارکان زرین مجید ، کمال ملک ، شبیر قائم خانی اور مستعفی رکن سندھ اسمبلی وقار شاہ کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔13، اکتوبر2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے انچارج وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے نامزد بلدیاتی امیدواران اور انکے گارنٹرز کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کی گرفتاریوں کی جارہی ہیں ، ہمیں گرفتاریوں کے بعد سے اپنے نامزد بلدیاتی امیدواران کی زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات درپیش ہیں۔ایم کیوایم نامزد بلدیاتی امیدواران کی غیرقانونی گرفتاریوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کررہی ہے کہ کسی امیدوار کو اسکروٹنی کے عمل کے بعد چھاپہ مار کر گرفتار کرنا غیرقانونی اور صریحاً غلط عمل اور امیدواران کو خوفزدہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسکروٹنی کا عمل اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ امیدوار کسی قسم کا نادہندہ نہیں ہے اور کسی بھی جرائم میں ملوث نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حق پرست نامزد بلدیاتی امیدواران کی گرفتاریاں قائم علی شاہ کی حکومت کیلئے سوالیہ نشان ہے ؟۔ انہوں نے وزیراعظم ، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف آف آرمی اسٹاف سے سوال کیا کہ کیا جناب الطاف حسین کا ساتھ دینا اور ایم کیوا یم کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنا ملک کے آئین قانون کے مطابق کوئی جرم ہے؟، کیاآئین و قانون کے مطابق کراچی کے عوام کو اپنی مرضی سے سیاست میں حصہ لینے کی اجاز ت نہیں ہے؟اور اگر ہے تو پھرکراچی میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے ایم کیوایم جیسی محب وطن سیاسی امیدواران کے گھروں پر رات کی تاریکی میں بلاجواز چھاپوں اور انکی انکے اہل خانہ کی گرفتاریوں کا کیا جواز بنتا ہے؟۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے محترمہ ذرین مجید ، ارکان کمال ملک ، شبیر قائم خانی اور مستعفی حق پرست رکن قومی اسمبلی وقار شاہ کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وسیم اختر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حق پرست نامزد بلدیاتی امیدواران کے گھروں پر چھاپے و گرفتاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئےء کہا کہ آپ ہمارا مقدمہ پاکستان بھر کے عوام کے سامنے پیش کرکے ہمیں یہ جواب دے کہ کیا کراچی کے عوام سے انکا سیاسی حق بندوق کی طاقت سے چھیننا ملک کی ترقی کا سبب بنے گا یا ایسے اقدام سے پر امن و محب وطن عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کی تصویرمزید مسخ ہوگی ؟۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے UC-11ڈسٹرکٹ کورنگی سے وائس چےئر مین کیلئے نامزد امیدوار ندیم راؤ ولد اختر علی کو رینجرز نے 7اکتوبر 2015ء کو انکے گھر سے گرفتار کیا UC-7کیلئے نامزد چےئر مین اور وائس چےئر مین ارشد خان ولد محمد شفیق کو 9اکتوبر2015ء کی صبح 4بجے رینجرز نے انکے گھر سے گرفتار کرلیا جبکہ اسی روز انہیں اپنے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کیلئے پیش ہونا تھا،UC-16سے جنرل کونسلرکیلئے نامزد حق پرست امیدوار طاہر امتیاز ولد امتیاز قادری کو 9اکتوبرکو رات 12:30( ساڑھے بارہ)انکے گھر کے قریب سے پولیس اور انکے ہمراہ سادہ لباس اہلکاروں نے گھر کے نزدیک سے حراست میں لیا اور علاقہ مکینوں کی جانب سے سوال کرنے پر کہا کہ وہ ایک SPصاحب کی ٹیم کے اہلکار ہیں جبکہ UC-26سے چےئر مین کیلئے نامزد حق پرست امیدوا ر شیخ محمد کلیم ولد عبد الکریم کے گھر سادہ لباس اہلکاروں نے چھاپہ مارا اتفاق سے اس وقت شیخ محمد کلیم بھائی گھر میں موجود نہیں تھے لہٰذا سادہ لباس اہلکارانکے گھر سے انکے بھائی اور 3بھتیجوں کو گرفتار کرکے لے گئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کراچی کومذہبی انتہاء پسندوں، دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد، بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلرز اور اسٹریٹ کرمنلز سے پاک کرنے کیلئے ستمبر2013 ء میں ایم کیو ایم سمیت کراچی کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے رینجرز کی زیر نگرانی کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی منظوری دی تھی جس کا کپتان وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بنایا گیا تھا اور اس آپریشن کی شفافیت و غیر جانبداری کو یقینی بنانے کیلئے وزیر اعظم نے ایک مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا بھی وعدہ کیا تھا جو آج دو سال گزرنے کے باوجود تشکیل نہیں دی گئی ہے ،ایم کیوا یم کراچی میں امن اور پاکستان کے استحکام کیلئے کراچی آپریشن کی حمایت کی اور آج بھی ہم غیر جانبدار و شفاف کراچی آپریشن کی بھر پور و مکمل حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم واحد سیاسی جماعت ہے جس کے دفاتر اور کارکنان کے گھروں پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے سب سے زیادہ چھاپے مارے گئے اور ہمارے ہزاروں کارکنان و ہمدردوں کو گرفتار کیا گیا ،کراچی آپریشن 2013ء میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق ایم کیو ایم کے تقریباً4000ہزار کارکنان مختلف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے گرفتار کیا گیاہے ، جن میں سے 225کارکنان و ہمدردوں کو نہ تو تاحا ل کسی عدالت کے روبروپیش کیا گیا ہے اور نہ ہی انکے متعلق کسی کو کوئی خیر خبر فراہم کی گئی ہے جبکہ اس آپریشن کے دوران ہی ہمارے 55ساتھیوں کو مختلف انسانیت سوز طریقوں سے ماورائے عدالت قتل کیا گیاہے اور 440کارکنان و ہمدرد اسی آپریشن کے دوران ٹا رگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں لیکن قابل افسوس بات ہے کہ نہ تو ہمار ے کارکنان کے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی لاپتہ ساتھیوں کو بازیاب کروایا گیاہے لیکن شہر میں ہونیوالی کسی بھی تخریب کاری یا دہشت گردی میں ہمارے ہی بیگناہ کارکنان و ذمہ داران کو ملوث کرکے ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت کا میڈیا ٹرائل معمول بن چکاہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگ اخبار میں 6افراد کے حوالے سے اشتہارات چھپے جس پر انکوائری ہوئی اور افسران بھی معطل کئے گئے لیکن افسوس کہ کپتان صاحب نے یہ اشتہارات جن افراد کے حوالے سے شائع ہوئے تھے ان کے متعلق کوئی کمیٹی نہیں بنائی ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوا یم کے خلاف جاری ان زیادتیوں کے تسلسل میں نہ صرف ہماری سیاسی سرگرمیوں کو روکا گیا ہے بلکہ انسانیت کی خدمت و ملک کے غریب و مستحق خاندانوں کی فلاح و بہبود میں مصروف ہمارے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو بھی ریاستی تعصب کا نشانہ بنایاگیا ہے ، رمضان المبارک میں کے کے ایف کی فطرہ زکوۃ جمع کرنے کی مہم ہو یا عید الضحیٰ پر چرم قربانی اکھٹی کرنے کامرحلہ ہر جگہ ہم پر غیر اعلانیہ پابندی لگاکر ہمیں ہمارے بنیادی انسانی و شہری حق سے محروم کیا گیا لیکن یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ اب کراچی میں 3دسمبر کو ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے قبل بھی ایم کیوا یم کو دیوار سے لگانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں اور کراچی آپریشن کی آڑ میں یہ ساز ش کی جارہی ہے کہ کراچی میں گزشتہ3دہائیوں سے ایم کیو ایم کو ملنے والا عوامی مینڈیٹ بندوق اور ڈنڈے کے ذور پر انتہاء پسندوں اور اشتعال و فساد کی سیاست کرنے والوں کے حوالے کرکے کراچی کے باشندوں کو بھی انکی من پسند سیاسی جماعت اور من پسند قائد جناب الطاف حسین سے دور کردیا جائے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کا ہر محب وطن شہری وزیر اعظم ،چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف آف آرمی اسٹاف سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیاجناب الطاف حسین کا ساتھ دینا اور ایم کیوا یم کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنا ملک کے آئین قانون کے مطابق کوئی جرم ہے؟، کیاآئین و قانون کے مطابق کراچی کے عوام کو اپنی مرضی سے سیاست میں حصہ لینے کی اجاز ت نہیں ہے؟اور اگر ہے تو پھرکراچی میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے محب وطن سیاسی امیدواران کے گھروں پر رات کی تاریکی میں بلاجواز چھاپوں اور انکی انکے اہل خانہ کی گرفتاریوں کا کیا جواز بنتا ہے؟وسیم اختر نے ا وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب انور ظہیر جمالی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے اپیل ہے کہ وہ کراچی میں ایم کیوایم کے سیاسی سیٹ اپ کو سازشوں سے دبانے اور عوام کو جبر کے ذریعے انکی پسند تبدیل کرنے کے عمل کافوری نوٹس لیکر شہر میں امن و امان کی کوششوں کو مؤثر بنائیں اور ریاستی اداروں کے تقدس کو پامال کرنے والے مٹھی بھر عناصر کو اس قسم کی کارروائیوں سے روکیں ۔

9/30/2016 8:25:19 PM