Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سادہ لباس اور رینجرز اہلکاروں کے ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر اور گلیوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں پر رابطہ کمیٹی کااظہار مذمت


سادہ لباس اور رینجرز اہلکاروں کے ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر اور گلیوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں پر رابطہ کمیٹی کا اظہار مذمت
 Posted on: 10/9/2015
سادہ لباس اور رینجرز اہلکاروں کے ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر اور گلیوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں پر رابطہ کمیٹی کااظہار مذمت 
کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کو جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خاتمے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے کیلئے استعمال کرنا سراسر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی عمل ہے ، رابطہ کمیٹی 
کراچی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے کی تمام محب وطن ، پرامن اور جمہوریت پسند حلقوں 
کو مذمت کرنی چاہئے ،ر ابطہ کمیٹی ایم کیوایم 
ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے و گرفتاریوں کا سلسلہ بند اور کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کی جائے ، رابطہ کمیٹی کا وزیراعظم ، آرمی چیف ، وفاقی وزیر داخلہ ، وزیراعلیٰ سندھ ، کور کمانڈ کراچی اور ڈی جی رینجرز سے مطالبہ 
کراچی ۔۔۔9، اکتوبر2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے سادہ لباس اور رینجرز اہلکاروں کے ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر اور گلیوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی بلاجواز اور غیر قانونی گرفتاریوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اورکہا ہے کہ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے اور بلاجواز گرفتاریوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے روز کا معمول بنا لیا ہے۔ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ گزشتہ روز سادہ لباس اہلکاروں نے اورنگی ٹاؤن میں ایم کیوایم اورنگی ٹاؤن سیکٹر یونٹ 121-Bکے سرکل انچارج طاہر امتیاز ، اسی یونٹ کے جوائنٹ سرکل انچارج عدنان کو ان کے باہر گلیوں سے گرفتار کرلیا جبکہ سادہ لباس اہلکاروں نے اپنی ایک اور چھاپہ مارکاروائی کے دوران ایم کیوایم ماری پور سیکٹر یونٹ مواچھ گوٹھ کی یونٹ کمیٹی کے اراکین محمد ابراہیم اور محمد رفیق سنگھار کو ان کے گھروں سے حراست میں لے لیا ۔اسی طرح سادہ لباس اہلکاروں نے لیاقت آباد میں چھاپہ مار کاروائی کرکے ایم کیوایم لیاقت آباد سیکٹر یونٹ 156کے کارکن غلام فرید کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ رینجرز نے گزشتہ روز اپنی ایک چھاپہ مار کارورائی کے دوران ایم کیوایم شاہ فیصل سیکٹر یونٹ 109کے کارکن ارشد شاہ کو ان کی رہائش گاہ سے غیرقانونی طور پر گرفتار کرلیا اور اپنے ہمراہ لے گئے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کو جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خاتمے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے کیلئے استعمال کرنا سراسر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی عمل ہے جس کی تمام محب وطن ، پرامن اور جمہوریت پسند حلقوں کو مذمت کرنی چاہئے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جس بڑے پیمانے پر ایم کیوایم کے کارکنان و ذمہ داران کے گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں اور انہیں گرفتار کررہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایم کیوایم کو کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں دیوار سے لگایاجارہا ہے اور سیاسی کارکنان کے رجمہوری حقوق پامال کئے جارہے ہیں ۔ رابطہ کمیٹی نے ملکی و بین الاقوانی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ رینجرز ، پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے و گرفتاریوں کا نوٹس لیں اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں ۔ رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم نوازشریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان ، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ ، کور کمانڈ ر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور ڈی جی رینجرز بلال اکبر سے مطالبہ کیا کہ ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے و گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرایاجائے اور کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کی جائے ۔ 

12/9/2016 1:23:49 PM