Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آٹھ؍ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے میں ایم کیوایم کے علاوہ کسی بھی سیاسی تنظیم نے امدادی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا ، طاہر کھوکھر


آٹھ؍ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے میں ایم کیوایم کے علاوہ کسی بھی سیاسی تنظیم نے امدادی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا ، طاہر کھوکھر
 Posted on: 10/7/2015
8؍ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے میں ایم کیوایم کے علاوہ کسی بھی سیاسی تنظیم نے امدادی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا ، طاہر کھوکھر
8؍ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزے میں ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کی خدمات تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی
8؍ اکتوبر2005 ء کے تباہ کن زلزلہ کو دس برس مکمل ہونے کے بعد انفرااسٹرکچر بحال نہ کرانا آزاد کشمیر حکومت کی ناکامی ہے ، طاہر کھوکھر،
تعمیر نو میں تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کر کے کڑی سزا اور لوٹی ہوئی امدادی رقوم واپس سرکاری خزانہ میں جمع کروائی جائیں ، حکومت سے مطالبہ
آزادکشمیرقانون سازاسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرطاہرکھوکھرکا سنٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب
مظفرآباد۔۔۔۔۔۔07 اکتوبر
آزادکشمیر اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر محمد طاہرکھوکھر نے 2005 کے تباہ کن زلزلہ کو دس برس مکمل ہونے اور اربوں روپے کی بیرونی امدادکے باوجود تباہ شدہ انفراسٹرکچر بحال کرنے میں ناکامی پر حکومت آزادکشمیر کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے وفاقی حکومت اور نیب سیرا کا ا سپشل آڈٹ کرے اور تعمیر نو میں تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کرکے کڑی سزا اور لوٹی ہوئی امدادی رقوم واپس سرکاری خزانہ میں جمع کروائی جائیں ۔ بدھ کے روز یہاں سنٹرل پریس کانفر س میں پریس کلب میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ 67 فیصد منصوبے مکمل کرنے کا سیرا کا دعویٰ جھوٹ کاپلندا ہے ۔زمین پر 50 فیصد منصوبے بھی مکمل نہیں ہوئے ‘682تعلیمی اداروں اور2014 دیگر عمارات کا کام شروع نہ ہونا حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے‘ تعلیم ‘ صحت‘ لوکل گورنمنٹ‘ ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں کا تباہ شدہ 50 فیصدسٹرکچر بھی بحال نہیں کیاجاسکا۔طاہرکھوکھر نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ ایک بدترین انسانی المیہ تھا میں چند سیکنڈمیں آزادکشمیر میں 46570 افراد شہید ہوئے‘34ہزار زخمی ‘18 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ‘977 گاؤں متاثر ہوئے ‘ 3,14,474گھر تباہ ہوئے‘ 810 کلومیٹر سڑکیں اور 2800 کلومیٹر پل تباہ ہوئے ‘دیہی علاقوں کی تقریبا 2 ہزار کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں ‘ درجنوں چھوٹے پل تباہ ہوئے ‘تعلیمی اداروں کی 2792 عمارات تباہ ہوئیں‘ 176 ہسپتال اور مراکز صحت تباہ ہوئے‘لائیوسٹاک ‘ سیاحت کاناقابل تلافی نقصان ہوا۔ آج دس برس مکمل ہونے کو ہیں تاحال یہ انفراسٹرکچر بحال نہیں ہوا ۔ٹرانسپورٹ ‘ صحت ‘ تعلیم کے سیکٹرزمیں عملی طور پر 50 فیصد منصوبے ادھورے ہیں‘ حتی کہ دار الحکومت میں دس برس گزرنے کے باوجود واحد یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر بھی نہیں کی جاسکے جبکہ اس کے مقابلے میں برادر ملک ترکی نے صرف چند ماہ کے قلیل عرصہ میں یونیورسٹی کا ڈھانچہ کھڑا کر کے دے دیاتھا جہاںآج بھی بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔آج بھی مظفرآباداور باغ میں سینکڑوں پرائمری سکول عمارات سے محروم ہیں اور بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں‘ دیہی علاقوں میں بنیادی مراکزصحت کی عمارات تعمیر نہیں کی جاسکیں اور اگر کہیں عمارت کسی این جی او نے تعمیر کر کے دی ہے تو وہاں عملہ اور ادویات دستیاب نہیں ہیں۔دیہی علاقوں میں 30 فیصد سے زائد سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نہیں کی جاسکے ۔حتی کہ بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود ایراء ‘ سیرا حکام اور حکومت آزادکشمیر ریڈزون میں بسنے والے شہریوں کو تاحال محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں ناکام ہے ۔دار الحکومت میں متاثرہ تاجروں کیلئے بننے والے شاپنگ پلازوں میں بھاری کمیشن کے عوض منظور نذر افراد کو دوکانیں الاٹ کی جارہی ہیں۔طاہرکھوکھر نے کہا کہ یہ عوام اور خصوصا شہداء زلزلہ کی روحوں کے ساتھ بھی بدترین مذاق ہے ۔مزید حکومت عوام کو بتائے کہ اربوں ڈالر کدھر گئے ۔ ہزاروں جانوں کی قربانی کے باوجود آج بھی ناقص تعمیرات کیوں کی جارہی ہیں ‘ کیوں ناقص سڑکیں اور عمارات تعمیر کی جارہی ہیں۔ طاہرکھوکھر نے میڈیا‘ سول سوسائٹی ‘ سیاسی و سماجی تنظیموں اور اپوزیش کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ 08 اکتوبر کے موقع پر سب یک زبان ہو کر کڑے احتساب کا مطالبہ کریں اور صرف چند لوگوں کے کمیشن کی خاطر ہم دوبارہ اپنی آنے والی نسل کی قربانیں نہیں دے سکتے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے سوال کریں کہ اربوں ڈالر کدھر گئے ‘ حکومت کیوں خاموش ہے ‘ زلزلہ متاثرین کیلئے آنے والے فنڈز پر عیاشیاں کیوں کی جارہی ہیں۔طاہرکھوکھر نے تجویز دی کہ ایراء ‘ سیرا کو فوری طور پر ختم کر کے ان دونوں اداروں کا انتظامی بجٹ متاثرہ علاقہ کے معذور افراد کی بحالی پر خرچ کیاجائے ۔ آخر میں طاہرکھوکھر نے کہاکہ ایم کیو ایم ہر سطح پر متاثرین کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی اورتعمیر نو کے تمام منصبوبے مکمل ہونے تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔علاوہ ازیں شہدائے زلزلہ کی دسویں برسی کے موقع پرجمعرات کو سنٹرل پریس کلب میں ایم کیو ایم آزادکشمیر کے زیراہتمام خدمت خلق فاؤنڈیشن کی خدمات پر مبنی تصویری نمائش منعقد کی جائے گی ۔یاد رہے کہ کی خدمت خلق فاؤنڈیشن نے 08 ؍اکتوبر کے زلزلہ کے بعد متاثرہ علاقہ میں بڑا آپریشن کیاتھا اور متاثرین میں کروڑوں روپے کی ریلیف تقسیم کی تھی ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر طاہرکھوکھر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایم کیوایم کے علاوہ کسی بھی سیاسی تنظیم نے امدادی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا اورخدمت خلق فاؤنڈیشن کی خدمات تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔

12/6/2016 2:11:08 AM