Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آنے والی نسلوں کی بقاء وسلامتی اوران کے حقوق کے حصول کیلئے نظریاتی لباس پہننا ناگزیر ہے۔الطاف حسین


آنے والی نسلوں کی بقاء وسلامتی اوران کے حقوق کے حصول کیلئے نظریاتی لباس پہننا ناگزیر ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 9/20/2015
آنے والی نسلوں کی بقاء وسلامتی اوران کے حقوق کے حصول کیلئے نظریاتی لباس پہننا ناگزیر ہے۔الطاف حسین
جیسے حصول معاش انسانی زندگی کیلئے ضروری ہے اسی طرح نظریہ بھی انسانی بقاء کیلئے ناگزیر ہے
سیاسی نظریہ کے بغیرکسی معاشرے کی بقاء وسلامتی اور ترقی ممکن نہیں ہوسکتی
آج پوری دنیاکے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، دنیا کے کئی ممالک سے تاریخ کی بڑی ہجرتیں ہورہی ہیں
مذہبی انتہاپسندی اورشدت پسندی کی وجہ سے دنیابھرمیں مسلمانوں کوشک کی نظروں سے دیکھا جارہاہے
پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، ملک کوداخلی استحکام اوریکجہتی کی ضرورت ہے
بدقسمتی سے ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جوملک میں یکجہتی کے بجائے انتشارکوجنم دے رہے ہیں
اسٹیبلشمنٹ ، حکومتوں اور عمومی طورپر پاکستان کے عوام نے بانیان پاکستان کی اولاد’’ مہاجروں‘‘ کو قبول نہیں کیا
مہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، مہاجروں کو اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں سے محروم رکھنے کیلئے سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیا
آج بھی ایم کیوایم کوطاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے،مہاجروں کودیوارسے لگایاجارہاہے
ایم کیوایم اوورسیزکے کارکنان اپنی قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم سے دوسروں کوبھی آگاہ کریں،
مظالم کے خلاف جس طرح ممکن ہوآوازاٹھائیں اوران مظالم کانشانہ بننے والے ا پنے بھائیوں اوران کے بچوں کی ہر ممکن مددکریں
تحریکی ذمہ داران اور کارکنان خودکو نظریاتی طورپر پختہ کریں اور تحریک کے فکروفلسفہ کے فروغ کیلئے اپنا ہرممکن کردار ادا کریں
ایم کیوایم اوورسیز آسٹریلیا کے زیراہتمام آسٹریلیااورنیوزی لینڈ میں کارکنوں کے اجتماعات سے خطاب
لندن۔۔۔20،ستمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ خلوص نیت کے ساتھ خلق خدا کی خدمت ، آنے والی نسلوں کی بقاء وسلامتی اوران کے جائز حقوق کے حصول کیلئے نظریاتی لباس پہننا ناگزیر ہے لہٰذا دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم تحریکی ذمہ داران اور کارکنان خودکو نظریاتی طورپر پختہ کریں اور تحریک کے فکروفلسفہ کے فروغ کیلئے اپنا ہرممکن کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کی صبح ایم کیوایم اوورسیز آسٹریلیا کے زیراہتمام براعظم آسٹریلیاکے شہروں سڈنی، میلبورن، کینبرا، پرتھ اور نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں کارکنان کے اجتماعات سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جن میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل تھیں۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے پاکستان کے سیاسی ومعاشی حالات، بین الاقوامی صورتحال ، تحریک پاکستان، انسانی زندگی میں نظریہ کی اہمیت وافادیت اور دیگر امور پر فکرانگیز خیالات کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ آج میرے لئے ذاتی طور پر اور ایم کیوایم کیلئے اجتماعی طورپر انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ ایم کیوایم کا فکروفلسفہ دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں بھی پھیل رہا ہے ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت دنیا بھر میں ایم کیوایم کے کارکنان وہمدرد بھی حصول معاش اور حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی بساط کے مطابق تحریکی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ انسانی زندگی میں آئیڈیالوجی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، نظریہ سیاسی بھی ہوتا ہے اور غیرسیاسی بھی۔ غیرسیاسی نظریات میں سماجی و تہذیبی اقدار اورسوشیالوجی کو لیا جاتا ہے جبکہ سیاسی نظریات کو نظام حکومت میں لیاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تہذیبی تقاضے کے تحت انسان عموماً کھانا کھانے سے قبل اپنے ہاتھ دھوتا ہے اور ماسوائے چند افریقی اور ساؤتھ امریکہ کے جنگلات میں آباد قبائل کے پوری دنیا میں کوئی انسان لباس پہنے بغیراپنے گھر سے باہر نہیں نکلتاکیونکہ تہذیبی وسماجی تقاضہ اسے مجبورکرتا ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کے سامنے بھی کپڑوں سے اپنے جسم کو ڈھانپ کررکھے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح لباس سماجی ضرورت ہے اسی طرح عوام کی فلاح وبہتری ، انتظام مملکت چلانے اور خلق خدا کی خدمت کرنے کیلئے انسان کو نظریاتی لباس پہننا پڑتا ہے اور بسااوقات یہ نظریاتی لباس اتنی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ انسان اس نظریاتی لباس کے تحفظ کیلئے اپنی جان تک قربان کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے ۔ بنیادی طورپر ہرملک کا شہری چاہتا ہے کہ اس کے ملک میں ایسانظریہ ہو جس کے مطابق سب آرام وسکون اور عزت کی زندگی بسر کرسکیں، انہیں بہتر تعلیم، صحت اور ملازمت کی سہولیات میسرہوں اور وہ روزمرہ کے معمولات زندگی آزادی کے ساتھ بلاخوف وخطرانجام دے سکیں۔ انہوں نے کہاکہ جیسے حصول معاش انسانی زندگی کیلئے ضروری ہے اور اس معاش کے بغیرزندگی گزارنا ممکن نہیں اسی طرح نظریہ بھی انسانی بقاء کیلئے ناگزیر ہے اور سیاسی نظریہ کے بغیرکسی معاشرے کی بقاء وسلامتی اور ترقی ممکن نہیں ہوسکتی۔ جناب الطاف حسین نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ذمہ داران اور کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ جس ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور حصول علم کے بعد آپ کو تعلیمی قابلیت ، صلاحیت اور ہنر کے لحاظ سے اپنے ملک میں ملازمت کے مواقع میسرنہیں مل سکے تو رزق حلال کے حصول کیلئے آپ کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں معاش کے بہتر ذرائع نظرآئے تو آپ نے اپنا ملک چھوڑ کر یہاں سکونت اختیار کرلی۔ اسی طرح انسان حصول علم اور حصول معاش کیلئے اپنے ملک کی سرحدیں چھوڑ کرجہاں جہاں اسے تعلیم اور معاش کے ذرائع نظرآتے ہیں وہاں کا رخ کرتا ہے اوراس طرح انسانی ہجرت کا عمل جاری رہتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے حاظرین سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے اپنی خوشی سے اپنا وطن پاکستان چھوڑا ہے ؟ جس پر شرکاء نے بلند آواز سے جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘‘۔جناب الطاف حسین نے مزید دریافت کیا کہ دیارغیر میں یہ آپ کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوگا کہ آپ رزق حلا ل کی خاطر ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں اور اس سے فارغ ہونے کے بعد گھرواپس آتے ہیں لیکن جب آپ کو تنہائی میسرہوتی ہے تو کیا آپ کو اپنا گھر، محلہ اورگلیاں یا دنہیں آتیں؟ جس پر تمام شرکاء نے کہا’’بالکل یا دآتی ہیں ‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر جان ومال اور عزت وآبروکی تحفظ کے ساتھ آپ کو اپنے ملک اور اپنے شہر میں روزگار کے مواقع میسرآئیں اور آپ کو آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ میں ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ سے کچھ کم تنخواہ بھی ملے تو کیا آپ اپنے ملک ، شہر اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح نہیں دیں گے ؟ جس پر تمام شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا’’ بالکل ترجیح دیں گے‘‘۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم بانیان پاکستان کی اولاد ہیں، ہمارے بزرگوں نے ہندواکثریت کے تسلط کے خدشہ کے باعث آزاد ی کی زندگی کی خاطر پاکستان کی تحریک چلائی اور20 لاکھ قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے 1947ء میں علیحدہ وطن پاکستان بنایاتاکہ علیحدہ وطن میں آزادی کی زندگی گزارسکیں اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہوسکے ۔انہوں نے مزید کہاکہ قیام پاکستان کی جدوجہد اور پاکستان کا نعرہ لگانے کی پاداش میں برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں کے گاؤں گاؤں کے نذرآتش کردیئے گئے ، ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی، والدین کے سامنے ان کے بچوں کو کاٹاگیااور 20ہمارے بزرگوں نے لاکھ جانوں کی قربانیاں دیکر پاکستان بنایالیکن آج 69 سال گزرجانے کے باوجود بھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ، حکومتوں اور عمومی طورپر پاکستان کے عوام نے بانیان پاکستان کی اولاد’’ مہاجروں‘‘ کو قبول نہیں کیا، زندگی کے ہرشعبہ میں مہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا، مہاجروں کو اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں سے محروم رکھنے کیلئے صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیاتاکہ تعلیم، اہلیت اور صلاحیت کے لحاظ سے آپ جس ملازمت کے حقدار ہیں وہ ملازمت آپ کو نہ مل سکے ، آپ جس عزت کے مستحق ہیں وہ عزت آپ کو نہ دی جائے ، بانیان پاکستان کی قربانیوں کو یہ صلہ دیاگیا کہ مہاجروں کو ان کے اپنے بنائے ہوئے ملک میں مکڑ، تلیر، مٹروا اور بھیا جیسے القابات سے پکاراگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بھی صورتحال یہ ہے کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اوردنیاکے دیگرممالک میں آباد مہاجروں کے جوبچے اگر پاکستان جاکر ملازمت حاصل کرناچاہیں اوراپنی ڈگریاں دکھائیں تب بھی ان کی اہلیت اورقابلیت دیکھنے کے بجائے ان سے یہی پوچھاجائے گاکہ ان کے باپ داداکہاں پیداہوئے اوراس بنیادپر ملازمت کے لئے ان کی درخواست مسترد کردی جائے گی ۔ انہوں نے آسٹریلیا،نیوزی لینڈمیں آبادکارکنوں اورہمدردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کہیں بھی رہیں، آپ کافرض ہے کہ آپ اپنی قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نہ صرف خودآگاہ رہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کوبھی آگاہ کریں، ان مظالم کے خلاف جس طرح ممکن ہوآوازاٹھائیں اوران مظالم کانشانہ بننے والے ا پنے بھائیوں اوران کے بچوں کی ہر ممکن مددکریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح جسم کوچھپانے کیلئے لباس کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اپنی قوم کوبچانے کیلئے نظریاتی لباس کو اوڑھنے اورپھیلانے کی ضرورت ہوتی ہے، اگرآپ نے نظریاتی لباس اوڑھ لیاتووہ آپ کواس بات پر جھنجھوڑتارہے گاکہ آپ نے آج کونسانظریاتی کام کیا ، نظریہ کوبڑھانے کیلئے کونساکام کیا۔اگرآپ نے نظریہ کو اپنے جسم اورجین ( Gene ) کاحصہ بنالیاتوکوئی بھی آپ کونہیں بہکاسکے گا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پوری دنیاکے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، دنیا کے کئی ممالک سے تاریخ کی بڑی ہجرتیں ہورہی ہیں اورلوگ اپنی جانیں بچانے کیلئے زمینی اورسمندری راستوں کوعبورکررہے ہیں اوراس کوشش میں اپنی جانیں تک دے رہے ہیں، مذہبی انتہاپسندی اورشدت پسندی کی وجہ سے دنیابھرمیں مسلمانوں کوشک کی نظروں سے دیکھا جارہاہے، اگراس صورتحال کی وجہ سے کل خدانخواستہ آسٹریلیااورنیوزی لینڈسے پاکستانی مسلمانوں کو بیدخل کرنے کاسلسلہ شروع کیاجانے لگاتوکیاہوگا؟انہوں نے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے بڈھ بیر میں ایئرفورس کے بیس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، ایسے میں پاکستان کوداخلی استحکام اوریکجہتی کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جویکجہتی کے بجائے انتشارکوجنم دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعدسے ہی مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں اورزیادتیوں کاعمل جاری ہے ، مہاجروں کوسمندرمیں دھکیلنے کی باتیں کی گئیں، آج بھی ایم کیوایم کوطاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایم کیوایم کے کارکنوں کاماورائے عدالت قتل کیا جارہاہے، انہیں گرفتارکرکے سرکاری عقوبت خانوں میں بدترین تشددکانشانہ بنایاجارہاہے، ان کا میڈیا ٹرائل کیاجارہاہے،انہیں غائب کیاجارہاہے اورمہاجروں کو دیوارسے لگایاجارہاہے۔انہوں نے ایم کیوایم آسٹریلیااور نیوزی لینڈکے کارکنوں پرزوردیاکہ وہ انسانی حقوق کے اداروں کوان مظالم سے آگاہ کریں، قوم کی بقاء کیلئے نظریاتی کام کریں،تحریک کے پیغام کوپھیلانے کیلئے اپنی صلاحیتوں کوبروئے کار لائیں اورجدوجہدکواپنے ایمان کاحصہ بنالیں۔انہوں نے کہاکہ اپنے حقوق کے حصول اورآئندہ نسلوں کے بہترمستقبل کیلئے بیٹھنے کے بجائے عملی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے اجتماعات کے انعقادپر آسٹریلیااورنیوزی لینڈکے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں کو فرداً فرداً خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں سیلوٹ پیش کیا۔انہوں نے اجتماعات میں شریک تمام نوجوانوں، بزرگوں،خواتین اوربچوں کو بھی دعائیں دیتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے جذبے اورہمت وحوصلے میں اضافہ فرمائے۔










9/25/2016 10:41:02 AM