Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر پر پابندی کے خلاف لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے،ڈاکٹر محمد فاروق ستار


جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر پر پابندی کے خلاف لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے،ڈاکٹر محمد فاروق ستار
 Posted on: 9/18/2015
جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر پر پابندی کے خلاف لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے،ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
جب عوا م کے بنیادی حقوق سلب کئے جاتے ہیں تو وہ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ،
عدلیہ کی جانب سے ایسے فیصلے قابل تشویش ہیں
ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر محمد فاروق ستار کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ لاہورپریس کلب میں پریس کانفرنس
لاہور۔۔۔۔۔18 ستمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے لاہور پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قائد تحریک جنا ب الطاف حسین کے بیانات ،تقاریر، ریکارڈ پروگرام حتی کہ ان کی تصاویر کے نشر و اشاعت پرلگائی جانے والی پابندی کے خلاف ایم کیو ایم نے لاہور ہائی کورٹ کے اس بینچ سے رجوع کیا ہے اور ان سے اس درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ اس موقع پرڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ کنور نوید جمیل ، بیرسٹر سیف،ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے صدر محفوظ یار خان ،ایم کیوا یم پنجاب کے صدر میاں عتیق و ایم کیو ایم ایڈہاک کمیٹی سینٹرل پنجاب کے اراکین میاں راشد ، سید افضال حسین نقوی، حارث خان کاکڑ، ملک وسیم کھوکھر، ناصر ولیم ، بشیر احمد خان و دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے گذشتہ چار سماعتوں پر ایم کیو ایم کو کوئی نوٹس نہیں جاری کیا گیا اور ہمارا موقف سنے بغیر ہی مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیاتھا جس پر ایم کیو ایم آج خودپانچویں سماعت پر اس میں فریق بنی ہے ، آج ہم نے اعلیٰ عدلیہ سے یہ بھی کہا کہ جب حکومت ، پیمرا یا دیگر انتظامی اداروں کی جانب سے بنیادی حقوق صلب کئے جاتے ہیں تو عوام عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اپنے حق کیلئے انصاف کی اپیل کرتے ہیں لیکن جب عدالت کی جانب سے ہی ایسا فیصلہ آ جائے جس میں کسی شخص کے بنیادی انسانی و آئینی حقوق کو صلب کرتے ہوئے اس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی لگا دی جائے تو وہ اپنے حق و انصاف کیلئے کس کے پاس جائے گا؟۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم عدلیہ کا احترام کرتی ہے اسی لئے ہم آج سپریم کورٹ کی بجائے لاہور ہائی کورٹ کے اسی فاضل بینچ کے روبرو پیش ہوئے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہماری آواز کو بھی سنا جائے اور ہماری داد رسی کی جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج عدالت نے ہم سے جناب الطاف حسین کے تازہ ترین انٹرویوز و بیانات کی ویڈیوز و کاپیاں مانگی ہیں جو عدالت میں پیش کر دی جائیں گی اور ہمیں امید ہے کہ عدالت ہماری درخواست کا از سر نو سے جائزہ لے گی اور آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی صرف الطاف حسین یا ایم کیو ایم پر ہی نہیں بلکہ میڈیا پر بھی ہے ،جتنا یہ میرا مسئلہ ہے اتنا ہی صحافیوں کا بھی ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کی کوئی بات قابل اعتراض ہے تو قانون کے مطابق اس پر کاروائی ہونی چاہیے لیکن یہ ہرگز نہ کیا جائے کہ کسی کا موقف سنے بغیر ایسے فیصلے کر دیئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کرپشن کرنے والے گرفت میں آئے تو آج پی پی کو میثاق جمہوریت یاد آگیا عمرا ن خان درست چشمہ لگا کر دیکھیں تو انہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو اایم میں فرق نظر آئے گا ۔انہوں نے کہاکہ کرپشن چاہئے کوئی بھی کرے اسے قانون کی گرفت میں لانا چاہئے نیب کی کرپشن کے خلاف کارروائیاں درست ہیں اگر یہ دوسال پہلے ہی شروع ہو جاتیں تو حیرت نہ ہوتیں ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے اور کراچی آپریشن کے مقاصدبھی یہی ہوں تو درست ہے،ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایم کیوا م کراچی آپریشن میں رینجرز کے خلاف نہیں لیکن ہمیں انکے بعض اقدامات پر تحفظات ہیں ، بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم سے بلدیاتی نظام میں مئیرز اور منتخب نمائندے بے اختیار ہوں گے انکا کردار محض نمائشی ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ شفاف بلدیاتی الیکشن سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار اور کنور نوید جمیل نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دیہی و شہری علاقوں کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آج کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ کنور نوید جمیل نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے اپنے سیاسی مفادات کا خیال کرتے ہوئے حلقہ بندیاں کی تھیں جس پر ایم کیو ایم نے سندھ ہائی کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی تھیں جس پر سندھ ہائی کورٹ نے ان حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا بعدازاں سندھ حکومت سپریم کورٹ میں چلی گئی وہاں سے بھی یہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور آج ایک مرتبہ ہی سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ آیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ بلدیاتی نظام با اختیار اور موثر ہونا چاہیے نمائشی نہیں ، عوامی نمائندوں کے پاس اختیار بھی ہوں تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔


10/1/2016 5:19:38 PM