Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم، فوج یا رینجرز کے دشمن نہیں ہیں، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے۔ الطاف حسین


ہم، فوج یا رینجرز کے دشمن نہیں ہیں، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/17/2015
ہم، فوج یا رینجرز کے دشمن نہیں ہیں، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے۔ الطاف حسین
خدا کیلئے ہم سے دشمنی ختم کردو، اگر کوئی ناراضگی ہے تو ہمیں بتاؤ، تم ہمارے لئے غیر نہیں ہو بلکہ ہمارے اپنے ہو
اگر ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو ہمیں تم سے معافی مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی
میری تقریروں اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کیوں عائد کی گئی ہے؟ 
حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید، ان کے ظلم کو ظلم، جبر کو جبر اور ناانصافی کو ناانصافی کہیں تو اس کو نفرت انگیز تقریر کیسے کہا جاسکتا ہے؟
62ویں سالگرہ کے موقع پر جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب
قائد تحریک الطاف حسین کا خطاب کراچی سمیت پاکستان کے 39 شہروں میں بیک وقت سنا گیا
اجتماع میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود تھی
اجتماع میں تمام قومیتوں، تمام مسالک اور مذاہب کے ماننے والے شریک تھے
لندن ۔۔۔ 17 ستمبر 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ، فوج یا رینجرز کے دشمن نہیں ہیں، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے ۔ خداکیلئے ہم سے دشمنی ختم کردو، اگر کوئی ناراضگی ہے توہمیں بتاؤ، تم ہمارے لئے غیرنہیں ہوبلکہ ہمارے اپنے ہو، اگر ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو ہمیں تم سے معافی مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی ۔ میں نے ہر موقع پر فوج اور رینجرز کی حمایت کی ، فوج کے آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں ایک ملین کی ریلی نکالی ، خود کھڑے ہوکرفوج اور رینجرز کو سیلوٹ کیا اور لاکھوں افرادسے بھی سیلوٹ کروایا، اس جماعت اوراس کے رہنماپرپابندی لگانا، اس کی زبان پر تالے ڈالنا کیا درست اور جائز ہے؟ انہوں نے ان خیالات اظہار آج اپنی 62ویں سالگرہ کے موقع پر جناح گراؤنڈعزیزآبادمیں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کایہ خطاب کراچی سمیت پاکستان کے 39شہروں میں بیک وقت سناگیا۔ اجتماع میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجودتھی۔ اجتماع میں تمام قومیتوں، تمام مسالک اورمذاہب کے ماننے والے شریک تھے۔ اجتماع سے ا پنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ موجودہ حالات بہت کٹھن ہیں، ہمارے ہزاروں ساتھی اسیرہیں، ایم کیوایم کے کارکنوں کوگرفتارکر کے میڈیا پر ان کے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی خبریں دی جارہی ہیں،انہیں من گھڑت اورجھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب مجھے دوسری مرتبہ گرفتارکیاگیاتومجھ پردیگرمقدمات کے ساتھ ساتھ پولیس والوں کی ٹوپی اوربیلٹ چوری کرنے کامقدمہ بھی بنایاگیا۔انہوں نے کارکنان وعوام سے کہاکہ جب تک عدالت سے ثابت نہ ہوجائے آپ ان الزامات پر یقین نہ کیجئے۔ حالات بہت سخت ہیں لیکن آپ ان سے قطعی مایوس نہ ہوں،آپ نے اپنے نظریہ اورمشن ومقصدکی سچائی پر یقین کرتے ہوئے اوراللہ کے بھروسے پر اعتمادکرکے ماضی میں بھی کڑی آزمائشوں کامقابلہ کیاہے ، آج بھی کررہے ہیں،اپنے نظریہ پر یقین رکھئے ، مایوس نہ ہوں، ایک نہ ایک دن آپ کامیاب ہوں گے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج میری تقریرمیڈیاپرنشرکرنے پرپابندی عائد ہے، میرابیان نشرکرنے ، ریکارڈڈ انٹرویونشرکرنے حتیٰ کہ میری تصویرتک چھاپنے پربھی پابندی عائد ہے۔حکومتی وزراء کہتے ہیں کہ الطاف حسین کی تقاریرپرپابندی ہم نے نہیں عدالتوں نے لگائی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میراسوال یہ ہے کہ میری تقریروں اوربیانات نشرکرنے پر پابندی کیوں عائد کی گئی ہے ؟ کیامیں نے آپ کے گھرمیں چوری کی ہے ؟ ڈاکہ ڈالاہے ؟کیا میں نے کسی کو قتل کیاہے؟میں نے کسی سے جبرسے پیسہ لیاہے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں عدالتوں کااحترام کرتاہوں لیکن بہت ادب سے میرا یہ سوال ہے کہ آپ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، آپ بتائیے کہ کیا انسانوں پر اعتراض کرنا اوراللہ تعالیٰ پر اعتراض کرناکیابرابرہوتاہے؟انسان غلطیوں ا ورخطاؤں کا پتلہہے، پاک صاف اورخطاؤں سے پاک ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ،اگرآپ حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ پرتنقیدکریں، ان کے ظلم کوظلم ، جبرکوجبر اورناانصافی کوناانصافی کہیں تواس کونفرت انگیزتقریرکیسے کہاجاسکتا ہے؟ میری تقریراوربیانات نشراورشائع کرنے پرپابندی کرنے کافیصلہ میرے سرآنکھوں پرہے لیکن بحیثیت پاکستانی شہری میرا سوال یہ ہے کہ کیاپورے ملک میں کسی اورلیڈرکے منہ سے آپ نے ایسے جملے نہیں سنے کہ جنہیں غیراخلاقی اورنفرت انگیزکہاجاسکے؟ کیاعمران خان کی فوج کے جرنیلوں کے بارے میںیہ گفتگوریکارڈپر موجودنہیں ہے کہ ’’ 20ہزارسڑکوں پرلے آؤ، جرنیلوں کاپیشاب نکل آئے گا، یہ اتنے بزدل ہوتے ہیں ‘‘ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ کیاکسی گھرمیں بزرگ بچوں کوڈانٹتے ہوئے انہیں برابھلانہیں کہتے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کا قتل پوری انسانیت کاقتل ہوتاہے اوراگرکوئی یہ کہے کہ بے گناہ کوقتل کرنے والاکتے کی موت مرے تویہ گالی نہیں بلکہ بددعاہے۔ اس بددعا کونفرت انگیزقراردینے کے بجائے اس پرہونے والے ظلم کوسمجھنے اوراسے انصاف دینے کی ضرورت ہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیامیں فوج ہویاپیراملٹری فورسزہوں لیکن فوج یاپیراملٹری کے قانون میں یہ کہاں لکھاہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے جلسے جلوس، ریلی کے بارے میں تبصرہ کرے،کوئی سیاسی جماعت سوگ کی اپیل کرے تو پیراملٹری فورس دکانداروں پر دباؤڈال کرزبردستی دکانیں کھلوائے اور پھرسیاسی جماعتوں کی طرح یہ بیان دے کہ فلاں پارٹی کی ہڑتال ناکام ہوگئی ہے ؟یہ ان کاکام نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے توہر موقع پر فوج اور رینجرزکی حمایت کی ، فوج کے آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں ایک ملین کی ریلی نکالی ،ر یلی میں خود کھڑے ہوکرفوج اوررینجرزکوسیلوٹ کیا اور لاکھوں افراد سے بھی سیلوٹ کروایا، اس جماعت اوراس کے رہنماپرپابندی لگانا، اس کی زبان پر تالے ڈالنا کیادرست اورجائز ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ موجودہ حکومت کے وزیردفاع خواجہ آصف نے آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہان کے نام لیکر کہاکہ جنرل احمد شجاع پاشا اور جنرل ظہیرالاسلام نے عمران خان کے دھرنے کے انتظامات کرائے ، اس دھرنے کے اخرجات کیلئے فنڈز مہیا کرائے ، سابق گورنر پنجاب مصطفی کھر نے کہاکہ وہ بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کر آئیں گے ۔ لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔جب پرویز مشرف کے دور میں میاں نوازشریف کوگرفتارکیاگیاتو انکے بیٹے نے بھارتی وزیراعظم آئی کے گجرال کو خط لکھ کر درخواست کی کہ میرے والد کو رہا کرانے میں مدد کریں لیکن کسی نے انہیں غدارنہیں کہا، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں عمل کرنے سے پاکستان کمزورہوگالہٰذا یہ عمل نہ کیاجائے تو ہم پر ملک دشمنی کے الزامات لگادیئے جاتے ہیں لیکن جن لوگوں نے کھلے عام مسلح افواج کے جرنیلوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کیے انہیں آج تک کچھ نہیں کہاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض متعصب اینکرپرسنز اور سیاسی تجزیہ نگار ٹی وی ٹاک شوز میں ایم کیوایم کے یوم سوگ اور ریلی کے بارے میں تبصرہ کرتے رہے ہیں کہ پہلے ایم کیوایم شہر بند کرادیا کرتی تھی لیکن حالیہ یوم سوگ ناکام ہوگیا ،ایم کیوایم کا گراف گرگیا ہے،ایم کیوایم میں گروپ بن گئے ہیں اور ایم کیوایم کی ریلی میں زیادہ لوگوں نے شرکت نہیں کی ۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر ایم کیوایم میں گروپ بن رہے ہیں، اس کا گراف گرگیا ہے اور یوم سوگ ناکام ہوگیا ہے تو اس پر الطاف حسین کو پریشانی لاحق ہونی چاہیے تھی، لیکن آپ کیوں پریشان ہیں؟گزشتہ دنوں صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے دیر میں ضمنی الیکشن ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ، اس انتخاب میں جماعت اسلامی ، ن لیگ، تحریک انصاف اور جہادی تنظیموں کو شکست ہوئی لیکن کسی اینکرپرسن یا تجزیہ نگار کو تبصرہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت کم ہوگئی اور اس کا گراف گرگیا۔ اسی طرح سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے فوجی جرنیلوں کو للکارتے ہوئے کہاکہ تمہیں نہیں معلوم جنگ کیسے لڑی جاتی ہے ، ہم جنگ لڑنا جانتے ہیں ، اگر ہم سے جنگ کی تو ہم اینٹ سے اینٹ بجادیں گے لیکن ان کے خلاف نہ کوئی مقدمہ قائم ہوا اور نہ کسی نے انہیں غداری کاسرٹیفیکٹ دیا ۔ جناب الطاف حسین نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ ہم نہ ملک کے دشمن تھے اور نہ ہیں ، ہم بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں جو پاکستان کا استحکام اور سلامتی چاہتے ہیں ، ہمیں مسلح افواج اور رینجرز سے محبت ہے ، ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی پر ظلم نہ کرو اور انصاف سے کام لو کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جناب الطاف حسین نے خدمت خلق فاؤنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس ادارے کے ذریعہ شہداء کے لواحقین ، غریب بیواؤں ، یتیموں ، ناداروں اور مستحق طلبا کی مدد کی جاتی ہے ، اس ادارے کی 200 سے زائد ایمبولینسیں ، کئی میت بسیں، موبائل اسپتال ، کراچی وحیدرآباد میں میڈیکل سینٹرز ، بلڈ بنک اورچار شہروں میں سردخانے چل رہے ہیں۔ اس ادارے کے ذریعہ سیلاب زدگان، زلزلہ ، قحط اور خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کی بلاامتیاز اربوں روپے مالیت کی مدد کی جاتی رہی ہے اور انہیں امدادی سامان فراہم کیاجاتا ہے ۔ انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ جس طرح خدمت خلق فاؤنڈیشن مستحقین کی بلاامتیاز خدمت کرتی ہے کیا اس طرح مدد کرتے آپ نے کسی اور جماعت یا فلاحی ادارے کو دیکھا؟ جس پر شرکاء نے بلند آواز سے کہا’’ہرگز نہیں‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رمضان المبارک کے موقع پر مختلف جماعتیں اور جہادی تنظیمیں کھلے عام زکوٰۃ فطرہ جمع کرتی رہیں لیکن ان کے لوگوں کو کسی نے گرفتارنہیں کیا جبکہ رینجرز کے اہلکاروں نے گھرگھر چھاپے مارکر ایم کیوایم کے کارکنوں کی جیبوں سے زکوٰۃفطرہ کی رسیدیں نکلنے پر الزام لگادیا کہ یہ جبری بھتے لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی تمام فلاحی سرگرمیاں زکوٰۃ، فطرہ،قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم اور عوامی عطیات سے چلتی ہیں لیکن اس سال خدمت خلق فاؤنڈیشن کے رضاکاروں پر زکوٰۃفطرہ کی طرح قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے اور رینجرز کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے نہیں دی جائے گی ۔ جناب الطاف حسین نے حق پرست عوام سے کہاکہ وہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے محفوظ طریقے سوچیں اور اپنی مدد آپ کے تحت قربانی کے جانور کی کھالیں خدمت خلق فاؤنڈیشن کے مرکز تک پہنچائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ صرف اردوبولنے والے مہاجر ہی نہیں بلکہ کراچی میں بسنے والے پنجابی ، پختون، سندھی ، بلوچ، سرائیکی، کشمیری ، ہزاروال ، گلگتی اوربلتستانی عوام بھی آئندہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناکر ثابت کردیں گے کہ کراچی میں رہنے والے ایک ہیں اور ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ومنظم ہیں ۔انہوں نے رابطہ کمیٹی کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ ہرسیکٹرکا دورہ کریں ، رابطہ کمیٹی اور الیکشن سیل کے ذمہ داران آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پسند ناپسند کی بنیاد پر کسی کی حمایت کرنے کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر ایماندار، باکرداراور باصلاحیت امیدواروں کا انتخاب کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم اسٹیبلشمنٹ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ، فوج یا رینجرز کے دشمن نہیں ہیں، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے ، اگر آپ ایک جانب ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کوگرفتارکریں گے اور دوسری جانب جرائم پیشہ عناصر کو لانڈھی ، کورنگی اور لیاری میں لاکر بٹھائیں گے تو اس عمل سے آپ دنیا کی آنکھ میں دھول جھونک سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔انہوں نے رینجرز کے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خداکیلئے ہم سے دشمنی ختم کردو، اگر کوئی ناراضگی ہے توہمیں بتاؤ، تم ہمارے لئے غیرنہیں ہوبلکہ ہمارے اپنے ہو، اگر ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو ہمیں تم سے معافی مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی ۔ اس موقع پر پنڈال میں ایم کیوایم کورنگی کے اسیر کارکن فہد عزیز کی چھ ماہ کی بیٹی کو دیکھ کرجناب الطاف حسین نے ڈی جی رینجرز سے اپیل کی کہ خداکے واسطہ اس معصوم بچی پر ترس کھاؤ، اسکے باپ کو رہا کردو۔ جناب الطاف حسین نے اجتماعات کے شرکاء کی جانب سے اپنی 62 ویں سالگرہ کی مبارکبا د پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حق پرست شہداء کو زبردست خراج عقیدت اور سرکاری عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے اسیرکارکنان کو سلام تحسین پیش کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے ، انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ، لاپتہ ساتھی اگر زندہ ہیں تو انہیں بحفاظت واپس گھروں کو پہنچائے اور اگر وہ خدانخواستہ شہید کردیئے گئے ہیں تو ان کی قبروں کاپتہ بتادے تاکہ ہم ان کے ایصال ثوا ب کیلئے فاتحہ خوانی کرسکیں۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ سیاسی وفلاحی سرگرمیوں پر اپنی بھرپورتوجہ مرکوز رکھیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے بعض رہنماؤں کے بارے میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ وہ ایم کیوایم کو چھوڑ گئے ہیں لیکن وہ آج بھی یہاں موجود ہیں اور ایم کیوایم کا حصہ ہیں۔انہوں نے اپنی سالگرہ کے موقع پر اعلان کیاکہ نظم وضبط کی معمولی خلاف ورزیوں پر جن کارکنان کو معطل کیاگیا ہے وہ نائن زیروپر رابطہ کریں ، ایک کمیٹی ان کے معاملات کا جائزہ لے گی اور اگر ان کی غلطی قابل معافی ہوئی تو وہ ایم کیوایم میں واپس آجائیں گے اور جن کارکنان کوتحریک سے ناجائزخارج کیا گیا ہے وہ بھی نظم وضبط کے دائرے میں رہتے ہوئے مرکزسے رابطہ کریں اگران کے ساتھ ناجائز ہوا ہے تو انہیں بھی تحریک میں واپس لیاجاسکتا ہے ۔انہوں نے رابطہ کمیٹی ، مستعفی منتخب عوامی نمائندوں،حق پرست بزرگوں ، خواتین اور نوجوانوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ نائن زیروپر باربار چھاپے پڑے لیکن انہوں نے نائن زیرو کو بند نہیں ہونے دیا جس پر میں ایک ایک فرد کو دل کی گہرائی سے شاباش پیش کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے بزرگوں اورخواتین سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایم کیوایم کے سیکٹرز اوریونٹ آفسوں میں وقت دیں اور حق پرستی کے پیغام کو عام کرنے کیلئے مزیدبھرپورکردارادا کریں۔
English Viewers









مزید تصاویر

12/4/2016 4:30:38 PM