Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے رینجرز کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے تین کارکنان اور حقیقی دہشت گردوں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے ایک کارکن کے خلاف کل ہفتہ کو ملک بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان کردیا


ایم کیوایم نے رینجرز کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل  کئے جانے والے تین کارکنان اور حقیقی دہشت گردوں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے ایک کارکن کے خلاف کل ہفتہ کو ملک بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان کردیا
 Posted on: 9/11/2015
ایم کیوایم نے رینجرز کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت کئے جانے والے تین کارکنان اور حقیقی دہشت گردوں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے ایک کارکن کے خلاف کل ہفتہ کو ملک بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان کردیا 
تاجر، صنعتکار اور ٹرانسپورٹرز حضرات یوم سوگ کے موقع پر اپنا کاروبار اور دیگر سرگرمیاں بند رکھیں ،ڈاکٹر فاروق ستار کی اپیل
ظلم کے خلاف 13ستمبر بروز اتوار کو لیاقت آباد شہدائے اردو سے مزار قائد تک بڑی ریلی بھی نکالی جائے گی ، ڈاکٹر فاروق ستار
جبری طور پر گمشدہ کئے گئے 150کارکنان کی فہرست وزیراعظم ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ،وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید ، ، وفاقی وزیر اسحاق ڈار،وزیراعلیٰ سندھ ، ڈی جی رینجرز ، مولانا فضل الرحمن کو بھی دی گئی تھی ، داکٹر فاورق ستار 
تینوں ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنان کا اقوام متحدہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی نوٹس لیاہے اور وہ بھی اس کی چھان بین کررہے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف،وزیراعظم نواز شریف، کور کمانڈر سندھ اور چوہدری نثار ایم کیوایم کے 147جبری گمشدہ کارکنان کی جان بخشی کرکے عدالتوں میں پیش کردیں ، ڈاکٹر فاورق ستار کی اپیل 
ڈاکٹرمحمدفاروق ستارکی خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔11، ستمبر2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے رینجرز کے ہاتھوں گرفتاریوں کے بعد جبری طور پرلاپتا کئے گئے 150کارکنان میں سے ایم کیوایم کورنگی سیکٹر یونٹ 75کے 3کارکنان زوہیب اللہ ، محمدعدیل اور شاہد غلام کے ماورائے عدالت قتل اور ایم کیوایم کورنگی سیکٹر یونٹ 75کی یونٹ کمیٹی کے رکن آفتاب حسین کی حقیقی دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہادت کے واقعات کے خلاف کل مورخہ12ستمبر بروز ہفتہ کو ملک بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان کیا ہے اور تاجروں ، صنعتکاروں اور ٹرانسپورٹر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ یوم سوگ کے موقع پر اپنا کاروبار اور دیگر سرگرمیاں بند رکھیں اور یوم سوگ کو پرامن بنانے کیلئے تعاون کریں ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ یوم سوگ کے موقع پر شہید کارکنان کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کا اہتما م کیاجائے گا ، بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی اور ماورائے عدالت اور ٹارگٹ کلنگ میں شہید کارکنان کے لواحقین سے یکجہتی کااظہار کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے گرفتاریوں کے بعد سے جبری طور پر لاپتا 150سے زائد کارکنان ہیں انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور تین لاشیں ہمارے حوالے کردی گئیں ہیں۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اس سلسلے میں 13ستمبر بروز اتوار کو لیاقت آباد شہدائے اردو سے مزار قائد تک بہت بڑی ریلی بھی نکالی جائے گی ۔ انہوں نے پیشکش کی کہ ایم کیوایم کے150کارکنان میں سے اب جو ایک 147کارکنان پولیس اورینجرز کی تحویل میں ہیں انہیں ظاہر کردیاجائے ہم پچھلا حساب نہیں مانگے گے۔ رینجرز اپنے بیانات کو تبدیل کرے یہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ تین کارکنان رینجرز کی تحویل میں تھے اور رینجرز اہلکاروں نے ہی انہیں ماورائے عدالت قتل کیا ہے ۔ان خیالات کااظہار اوریہ اعلانات خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں مستعفی حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر سید شاہد پاشا ، رابطہ کمیٹی کے اراکین شبیر قائم خانی ، عارف خان ایڈووکیٹ ، کمال ملک اور محترمہ ریحانہ نسرین بھی موجود تھی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ایم کیوایم کے تین کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے جبکہ ایک کارکن کو حقیقی دہشت گردوں نے ٹارگٹ کلنگ میں شہید کردیا ہے ، عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ آفتاب حسین کو حقیقی دہشت گردوں نے قتل کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے جو تین کارکنان سرکاری حراست میں ماورائے عدالت قتل کئے گئے ہیں وہ تینوں کارکنان کم از کم رینجرز کی تحویل میں چار چار ماہ سے تھے اور اس کے ثبوت و شواہد ہمارے پاس موجود ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ کارکنان کب گرفتار ہوئے تھے ، کس ایجنسی یا قانون نافذ کرنے والے ادارے نے گرفتار کیا گیا ، گرفتاری کا وقت کیا تھا ؟ کہاں سے گرفتار کیا گیا ؟یہ تفصیل ہمارے پاس موجود ہے ۔ ایم کیوایم کے ماورائے عدالت قتل کئے گئے تینوں کارکنان کا کوئی آفیشل ریمانڈ نہیں لیا گیا ، یہ تین کارکنان بھی ہمارے ان ڈیڑھ سو گرفتاریوں کے بعد جبری طور پر لاپتا کئے جانے والے کارکنوں کی فہرست میں شامل رہے ہیں ، ان ڈیڑھ سولاپتہ کارکنان کا مقدمہ ہم نے پاکستان کے ہر مقتدر فورم پر ،عدالتوں میں اور میڈیا کے ذریعے بھی پاکستان کی عوام اور ارباب اختیار و اقتدار کے سامنے بھی اٹھایا ہوا ہے ۔ کئی مرتبہ ایم کیوایم کے وفود نے جس میں میں بھی شامل رہا ہوں گرفتاریوں کے بعد سے جبری طور پر گمشدہ کئے گئے 150کارکنان کی فہرست وزیراعظم ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ،وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید ، وفاقی وزری اسحاق ڈار،سینیٹ ، قومی اسمبلی سمیت سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ ، ڈی جی رینجرز اور مفاہمت کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو جبری گمشدہ کارکنان کی فہرست دی ان میں سے تین کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کرکے شمالی بائی پاس پر گزشتہ روز پھینکا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بدنیتی سے کام کرنے والے اپنا ثبوت بھی چھوڑ کر جاتے ہیں، کل رینجرز کے ترجمان نے خود یہ بیان دیا کہ چار دہشت گردوں کو رینجرز مقابلے میں مارا گیا اور ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے ۔رینجرز ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے رینجرز کا اہلکار زخمی ہوا یہ بھی معلوم کیاجائے وہ اہلکار کون تھا؟ ۔ رینجرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا ایک طرف یہ کہا جارہا ہے اور دوسری جانب جب آج سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر دیکھ اور ایدھی سرد خانے جاکر ان چار میں سے تین ماورئے عدالت قتل ہونے والوں کے اہل خانہ نے جب تصدیق کی کہ یہ تین کارکنان زوہیب اللہ ، محمد عدیل اور شاہد غلام تو ہمارے جگر کے گوشے ہیں جو کئی ماہ سے رینجرز کی تحویل میں تھے اور آج ان کی لاشیں ملیں ہیں۔ْ انہوں نے کہاکہ رینجرز کے جعلی مقابے میں ماوراے عدالقت قتل کئے جانے والے کارکن زوہیب اللہ 21مئی کو گرفتار ہوئے تھے اور ان کی پٹیشن 25مئی کو ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی ۔ اسی طرح محمد عدیل ولد محمد شریف یکم اپریل کو گرفتار ہوئے اور 2 اپریل کو ہائی کورٹ میں اس کی پٹیشن دائر کی گئی ، شاہد غلام چھ اگست کو گرفتار ہوئے ، سات اگست کو ان کی پٹیشن بھی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ۔ ہائی کورٹ نے جب پولیس ، رینجرز سے باز پرس کی کہ عینی شاہدین ، گواہ اور اہل خانہ گرفتار کرنے والی ایجنسی اور گرفتاری کا دن بتا رہے ہیں تو آپ بتایئے کہ یہ آپ کی تحویل میں کیوں نہیں ہے جبکہ آپ نے انہیں گرفتار کیا اس کے باوجود رینجرز نے ہائی کورٹ میں جواب دیا کہ یہ ہماری تحویل میں نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب جب کہ یہ پول کھل گیا کہ یہ تینوں کارکنان رینجرز کی تحویل میں تھے ، رینجرز نے قبول کیا ہے کہ کل چار دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے اور اسی وقت یہ بتانا چاہئے تھا کہ یہ چار دہشت گرد کون تھے ایم کیوایم کے تھے اور مطلوب تھے یاپکڑے گئے تھے اورہم نے مار دیئے ۔ آج ان کی شناخت ہوئی تو آج رینجرزکا بیان آرہا ہے ، نئی کہانی بنائی جارہی ہے ، رینجرز اپنے بیانات کو تبدیل کرے یہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ تین کارکنان رینجرز کی تحویل میں تھے اور رینجرز اہلکاروں نے ہی انہیں ماورائے عدالت قتل کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کل رینجرز نے قبول کیا اور آج کہ رہے ہیں کہ یہ کارکنان ایم کیوایم نے ہی لاپتا کئے ہونگے اور ایم کیوایم والوں نے ہی ان کو کل مار دیا ہوگااگر ایسا ہے تو وہ چار لاشیں کن کی تھی جن کو رینجرزنے کل مارا ہے ۔ اگر کل رینجرز نے مارے اور آج یہ کہانی دے رہے ہیں تو ہمیں یہ خطرہ ہے اوریہ ایک سو پچاس پاکستان کے شہریوں کی زندگیوں کا سوال ہے ۔ اگر ان میں سے کسی نے جرم کیا ہے تو پاکستان کا آئین انہیں کسی ادارے اور ایجنسی کو ماورائے عدالت اور ماورائے آئین قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گمشدہ افراد کی فہرست کم ہورہی ہیے اور ماوراے عدالت قتل ہونے والوں کی فہرست میں اضافہ ہورہا ہے ۔یہ کیا قانون کی حکمرانی کی کوئی علامت ہے ؟۔ انہوں نے کہاکہ آٖفتاب حسین ولد الطاف حسین کو کورنگی میں حقیقی دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے قتل کیا ، ایک طرف جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں کی سرپرستی ہورہی ہے ، ایم کوایم کے اکثریتی علاقوں میں ان کا قبضہ کرایاجارہا ہے ، ان کے علاقوں میں مورچہ بندی کرائی جارہی ہے ، رینجرز اور پولیس کی سرپرستی میں بٹھایاجارہا ہے اور وہ ہمارے کارکنوں کو آکر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ حقیقی میں شامل ہوجاؤ ورنہ قتل کردیاجائے ، آفتاب حسین بھی ایم کیوایم کا ایسا ہی بہادر ، جرات مند کارکن تھا جس کو یہ دھمکی دی گئی کہ تم حقیقی میں شامل ہوجاؤ ورنہ تمہیں قتل کردیاجایے اس بے خوف کارکن نے حقیقی کی دھمکی کے باوجود صاف انکار کردیا کہ وہ نظریے کا سودا نہیں کرے گا اور الطاف حسین کو نہیں چھوڑے گا اس کے موقف کی پاداش میں اسے قتل کردیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے کہاکہ ٹارگٹ کلنگ کی واردات کرنے والے بزدل ہیں ، ہم بھی انہیں بزدل کہتے ہیں جو لوگ یہ سازش کررہے ہیں انہیں گرفتار کیاجائے ، صحافیوں کو گھات لگا کر نشانہ بنا کر قتل کیاجارہا ہے، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ جو لوگ سرکاری تحویل میں ماورائے عدالت قتل کئے جارہے ہیں یہ کوئی بہادری والا اقدام نہیں یہ بھی بزدلانہ اقدام ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف نیا پروپیگنڈہ شروع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ،ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاجارہا ہے ،اصل جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، حقیقی دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دینے کے بعد سے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے ، لانڈھی ، کورنگی ، ملیر ، لیاقت آباد سمیت 10علاقے ایسے ہیں جہاں بھتہ خورری کی وارداتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور یہ حقیقی دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی کا نتیجہ ہے ۔ ان کا قبضہ ہمارے علاقوں میں کرایاجارہاہے ۔ ڈکیتیوں، قبضوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وادارتوں میں اضافہ ہورہا ہے اس کا نوٹس وزیراعظم ، چیف آف آرمی اسٹاف لیں ۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف،وزیراعظم نواز شریف، کور کمانڈر سندھ اور چوہدری نثار سے خصوصی طور پر مطالبہ کیا کہ ایم کیوایم کے جو 147جبری کارکنان ہیں ان کی جان بخشی کردیں ان کو عدالتوں میں پیش کردیں ، ان کا اآفیشل ریمانڈ لے لیں ،اگر ان میں سے کسی نے جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں لے جائیں اور مقدمہ چلائیں اور ظاہر کریں کہ ہم نے گرفتار کیا ہے لیکن ماورائے عدالت قتل نہ کریں ۔ مجھے امید ہے کہ آج ہماری اس آواز کو جی ایچ کیو ، کور ہیڈ کوارٹر میں سنا جائے باقی جو 147لوگ ہیں جو پولیس ،رینجرز کی تحویل میں ہیں وہ ظاہر ہوں گے ، ان کے مقدمہ چلیں گے ، کم از کم ان کی زندگیوں کو بخش دیاجائے ، ان کو زندہ سلامت عدالت میں پیش کردیاجائے ۔ اور مقدمہ چلا کر جو ان کے ساتھ سلوک کرنا کریں اگر انہوں نے غلط کام کئے ہیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں اگر سزا دلانی ہے اور غلط کام کئے ہیں لیکن ان کی زندگیوں سے ہرگز نہ کھیلاجائے ۔انہوں نے کہاکہ رینجرز نے جعلی مقابلے میں تین کارکنان اور ایک شخص نامعلوم ہے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا اور اگر یہ رینجرز مقابلہ تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تین کارکنان کے جسموں پر تشدد کے نشانات کیوں ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پاکستان کا قانون نافذ ہے یا جنگل کا قانون ہے اور پاکستان کے عوام سیاسی مفادات کیلئے مسلم لیگ ن کو اور صوبے میں پیپلزپارٹی کو جنگل کا قانون رائج کرنے کی اجازت نہیں دینگے ، ہم احتجاج کریں گے ۔ کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف پوری پاکستانی قوم شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ میڈیا ٹرائل کے زریعے پاکستان کے عوام کو گمراہ کیا گیا ، ہمارے خلاف انسانیت سوز سلو ک ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ذہنوں سے کٖنفیوژن دور ہوگا ،عوام کے سامنے حقائق آئیں گے کہ یہ کراچی آپریشن جرائم عناصر اور دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے نہیں ہے بلکہ اب توکئی مبصرین یہ کہ رہے ہیں کہ یہ آپریشن جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرودں کے خلاف نہیں بلکہ آپریشن متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف ہے ، ایم کیوایم کا گراؤنڈ چھین کر حقیقی دہشت گردوں اور دیگر سیاسی کھلاڑیوں کو دیاجارہا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات سے پہلے جیری مینڈرنگ ہورہی ہے ، ایم کیوایم کے کارکنان کا ماورائے عدالت قتل ، جبری گمشدیاں ، سیاسی پابندیاں، میڈیا ٹرائل یہ سب بلدیاتی انتخابات سے پہلے پری پول ریگنگ ہے اور سیاسی فلاحی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے ، ہمارے دفاتر بند ہیں ۔ قائد تحریک کی گفتگو اور خطاب کو چینلز اور پرنٹ میڈیا پر نشر ہونے پر غیر آئینی اور غیر قانونی پابندی عائد ہے ، ہائی کورٹ کا فیصلہ یکطرفہ ہے اسے چیلنج کررہے ہیں ۔ یہ سب عمل غریبوں کی جماعت کے خلاف ہورہاہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بلدیاتی انتخابات میں آزادانہ حصہ لینے سے روکاجارہا ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ ، ماورائے عدالت کرکے اایسا ماحول بھی پیدا کیاجارہا ہے کہ کوئی بہانہ بنایاجائے اوربلدیاتی انتخابات کو ملتوی کردیاجائے جو کچھ ہورہا ہے یہ ہمارے خلاف سازش ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم ، وفاقی وزیر داخلہ ، چیف آف آرمی اسٹاف ، کور کمانڈ کراچی سے مطالبہ کیا کہ انصاف کیاجائے اور ہمارے تین ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنوں اور ایک ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ میں شہیدکارکن کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف کیاجائے ، لوگوں میں جو اشتعال ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رینجرز کے جعلی مقابلے میں تین کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اور ایک کارکن کی حقیقی دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہادت کے ایم کیوایم کل 12ستمبر بروز ہفتہ کو پورے پاکستان میں پرامن یوم سوگ منائیں گی ، ۔ انہوں نے تاجروں ، صنعتکاروں اورٹرانسپورٹرز حضرات سے اپیل کی کہ وہ اپنے کاروبار ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سرگرمیاں بند رکھیں ، ، بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں ، قرآن خوانی اور دعا ئیہ اجتماعات کا انعقاد کریں اور لواحقین سے مکمل یکجہتی کااظہار کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں 13ستمبر اتوار کو ایم کیوایم نے ایک بہت بڑی ریلی کا اہتمام کیا ہے جو کہ لیاقت آباد شہدائے اردو کے مزار سے قائد اعظم کے مزار تک جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کو اس بات کا اختیار نہیں دیاجاسکتا کہ زیر حراست لوگوں کو قتل کرے اس سے بڑی بزدلی کوئی اور نہیں ہے ، پاکستان کے آئین وقانون کو جنگل کا قانون نہ بنایاجارہاہے ، مہیذب ریاست کے دعوؤں کو پورا کیاجائے اور جمہوریت کی پاسداری کی جائے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ماورائے عدالت قتل کئے گئے ایم کیوایم کے کارکنان زوہیب اللہ ، محمد عدیل اور شاہد غلام سمیت حقیقی دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے کارکن آفتاب حسین کے اہل خانہ سے تعزیت وہمدردی کااظہارکیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سوگواران کو صبر جمیل عطاکرے اور شہیدوں کے درجات بلند فرمائے ۔ 

12/6/2016 1:54:27 PM