Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے کارکنان کیلئے گھروں ، دفاتر اور ملازمتوں پر چھاپے و گرفتاریوں میں تیزی آگئی ہے ،ڈاکٹر فاروق ستار


ایم کیوایم کے کارکنان کیلئے گھروں ، دفاتر اور ملازمتوں پر چھاپے و گرفتاریوں میں تیزی آگئی ہے ،ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 9/4/2015 1
ایم کیوایم کے کارکنان کیلئے گھروں ، دفاتر اور ملازمتوں پر چھاپے و گرفتاریوں میں تیزی آگئی ہے ،ڈاکٹر فاروق ستار
کارکنان کی گرفتاریاں ماورائے آئین اور انسانی حقوق کی صریحاً نفی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
گھروں، ایم کیوایم کے دفاتر ، ملازمتوں اور راہ چلتے کارکنان کو گرفتار کیاجارہا ہے جو کسی جرائم میں ملوث نہیں ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
کارکن مرزا ذیشان بیگ اور سید تنویراحمد کو جنوری 2015سے گرفتار کرکے لاپتا کردیا تھا ، جس پر رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں یہ اقرار کیا تھا کہ یہ کارکنان ہمارے پاس نہیں ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
آج 4ستمبر 2015ء کو رینجرز نے مرزا ذیشان بیگ اور سید تنویر احمدکو240دن غیر قانونی حراست میں رکھنے 
کے بعد مزید 90روزکا ریمانڈ لے لیا ہے تو کیا ہائی کورٹ اس پر سوموٹو ایکشن لے گی ؟ ، ڈاکٹر فاروق ستار
ہماری سیاسی اور فلاحی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار
ہمارے مطالبات کے دو حصے ہیں ایک کا تعلق صرف وزیراعظم کے انتظامی اختیار سے ہے اور دوسرا معاملہ شکایات کے ازالہ کیلئے کمیٹی کے قیام سے ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی :۔۔۔4، ستمبر2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی سے مستعفی پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان کیلئے گھروں ، دفاتر اور ملازمتوں پر چھاپے و گرفتاریوں میں تیزی آگئی ہے جو ماورائے آئین اور انسانی حقوق کی صریحاً نفی ہے ۔کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کودیوار سے لگایاجارہا ہے اور اس کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیر آئینی پابندی بھی عائد کردی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ چھاپے و گرفتاریوں کی کوئی حد ہے یا اس کیلئے کوئی لکیر کھنچی جائے گی ، کہا جاتا ہے انٹیلی جنس اطلاعات اورثبوت کی بنیاد پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں تو چار ہزار کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا تو تین ہزار کوکیوں چھوڑ دیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ رینجرز نے ایم کیوایم کے کارکنان مرزا ذیشان بیگ اور سید تنویراحمد کو جنوری 2015میں گرفتار کرکے لاپتا کردیا تھا اور سندھ ہائی کورٹ میں رینجرز نے یہ اقرار کیا تھا کہ یہ کارکنان ہمارے پاس نہیں ہیں لیکن آج 4ستمبر 2015ء کو رینجرز نے انہیں 240دن غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد مزید 90روزکا ریمانڈ لے لیا ہے تو کیا ہائی کورٹ اس پر سوموٹو ایکشن لے گی ؟ ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان عارف خان ایڈوکیٹ ، اسلم آفریدی ، مستعفی رکن قومی اسمبلی عبد الوسیم ، مستعفی رکن سندھ اسمبلی وسیم قریشی ، ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے صدر محفوظ یار خان اور اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ ایم کیوایم ایک پرامن جمہوریت پسند سیاسی جماعت ہے اور ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور پاکستان کے 98فیصد متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان کے حقوق دلاناچاہتی ہے ، ایم کیوایم کی سیاسی جدوجہد جس کا بنیادی محور پاکستان کے آئین اور پاکستان کی جمہوریت کا تحفظ ہے ، پاکستان کا استحکام اور ملک کا دفاع ہے ۔ ہمارا یہ نصب العین اور بنیادی مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔لیکن اس کے باوجود ایم کیوایم کو کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں دیوار سے لگایاجارہا ہے اور اس کے خلاف بد ترین کاروائیاں کی جارہی ہیں جو آئین و قانون ، انصاف اور عدل کے تقاضوں کے خلاف ہے جو انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے زمرے میں بھی آتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین نے انسانی حقوق کی جو ضمانت دی ہے ہم اس کی ضمانت کے تحت آئینی و قانونی طریقے سے اپنا مقدمہ بار باراٹھا رہے ہیں۔انہوں نے گزشتہ چار روز کے دوران ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے و گرفتاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ یکم ستمبر کو رینجرز نے کورنگی سیکٹر یونٹ 74کے کارکن وسیم قمر ولد قمر علی ، پی آئی بی سیکٹر یونٹ 57کے کارکن منظور الہی کو جبکہ سادہ لباس اہلکاروں نے اورنگی ٹاؤن سیکٹر یونٹ 118-Bکے کارکن پرویز ولد ظہیر ،اورنگی ٹاؤن یونٹ 118-Cکے کارکن شاہد ولد قاسم اور اورنگی ٹاؤن سیکٹر یونٹ 123کے کارکن ارشاد بخاری ولد عبد الحمید بخاری کو گرفتار کرلیا اوراپنے ہمراہ لے گئے ۔ 2ستمبر 2015ء کو سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے گلشن معمار میں چھاپہ مار کاروائی کرکے ایم کیوایم گلشن معمار سیکٹر یونٹ 33-Dکے کارکن شوکت ولد نواز کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ۔ مورخہ 3ستمبر کو اپنی چھاپہ مار کاروائیوں میں رینجرز نے ایم کیوایم قصبہ علی گڑھ سیکٹر یونٹ 125کے کارکن سعید صدیقی ولد رحیم صدیقی ، ایم کیوایم کورنگی سیکٹر یونٹ 74کے کارکن ضامن حسین ولد محمد حسین جبکہ سادہ لباس اہلکاروں نے ایم کیوایم گلشن قبال سیکٹر یونٹ 67-Bکے کارکن محمد وسیم ولد رئیس احمد کوان کی رہائشگاہوں سے بلاجواز گرفتار کرلیا ۔ اسی طرح آج مورخہ4ستمبر 2015ء کو رینجرز نے اپنی چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران ایم کیوایم لیاقت آباد سیکٹر یونٹ 164کے کارکن سید مسعود احمد ولد سید خورشید غنی ، ، پی آئی بی سیکٹر یونٹ 56کے کارکن خضر ولد اظہر ، پی آئی بی سیکٹر یونٹ 56کے کارکن دانش ولد خضر ، پی آئی بی سیکٹر یونٹ 56کے کارکن ارباب ولد خورشید کو گھروں سے گرفتار کرلیا جبکہ رینجرز نے ہی ایم کیوایم رنچھوڑ لائن سیکٹر یونٹ 27کے کارکن محمد نعمان ولد محمد سمیع کو جوبلی سینما نزد ماما پارسی اسکول کے قریب سے موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔ اسی طرح رینجرز نے آج ایم کیوایم پی آئی بی سیکٹر یونٹ 56کے ایک اور کارکن تابش کی گرفتاری کیلئے ان کی رہاشگاہ پر چھاپہ مارا اورتابش کے نہ ملنے پر ان کے بزرگ والد محترم اکبر کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے ۔ آج ایک اور چھاپہ مار کاروائی میں سادہ لباس اہلکاروں نے ایم کیوایم بلدیہ ٹاؤن سیکٹر یونٹ 112-Bکے کارکن جاوید پٹیل ولد علی پٹیل کو ان کی رہائشگاہ سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔ انہوں نے کہاکہ چھاپے و گرفتاریوں کا امتیازی سلسلہ جاری ہے ، ہماری شکایات گرفتاریوں اورچھاپے پر نہیں ہے تو ہم آپ سے بڑھ کر کراچی میں امن کے داعی اور خواہش مند ہیں ، جرائم کاخاتمہ ہمیں اور ووٹر کو سوٹ کرتا ہے ، لیکن ہم بار بار یہ شکایت نامہ ، گلہ شکوہ اور پریس کانفرنس کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ کوئی تو بات ہے اور کوئی تو زیادتی ونا انصافی ہورہی ہے ،ہم آپریشن بند کرنے کی بات نہیں کررہے بلکہ کراچی آپریشن کے قبلے اور سمت کو درست کرنا چاہتے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہماری بات کو کسی نہ کسی کو سننا ہوگا ، ہمیں بھی بنیادی حقوق دینا ہونگے ، ہمارے ساتھ بھی انصاف کرنا پڑے گا، جائز شکایات کا ازالہ کرنا پڑے گا ، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ کارکن گھر پر سورہا ہے ، ملازمت کیلئے جارہا ہے ، دفاتر میں جارہا ہے تو وہاں سے گرفتار کیاجارہا ہے اس بات کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمیں یہ پیغام دیاجارہا ہے کہ ایم کیوایم پر ایک غیر اعلانیہ اور غیر آئینی پابندی عائد ہے ، ہماری سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے ، ہم سیاسی دفتر پر سیاسی سرگرمیاں کریں یا زکوٰۃ ، فطرے ، چندے ، خیرات کی وصولی کا کام کرکے فلاحی کام کریں تو اس میں بھی رکاوٹ ڈالی جائے توہمارا یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان کے آئین و قانون میں ایم کیوایم کی ان سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا اختیار ہے ؟۔ ہمیں انصاف چاہئے ، مظالم کا خاتمہ چاہئے ۔ اب اس سلسلے کو کہیں پر رکنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کی آمد ہے ، سیاسی میدان سجنا ہے ، سیاسی بساط بچھائی جانی ہے تو یہ نہیں ہوگا کہ ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگائیں اور دوسرے کیلئے گراؤنڈ تیار کریں ، ہمارا گراؤنڈ چھین کر کسی اور کو دیں یہ ہمارے حامیوں او ووٹر کو کسی صورت قبول نہیں ہوگا ، ہم بار بار اپیل مطالبہ کررہے ہیں اور سمجھا رہے ہیں کہ کسی بھی سیاسی عمل کو دبانے ، دیوار سے لگانے کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوتے ، خدارا اس سلسلے کو کہیں پر روکاجائے۔ انہوں نے کہاکہ جب گرفتاری وچھاپے ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ گرفتار ہونے والوں کے اہل خانہ کو خدشہ یہ ہوتا ہے کہ گرفتار شدگان کی زندگی کی ضمانت کیسے حاصل کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس رپورٹس صحیح ہوتی تو میرا اعتماد بحال ہوگیا ہوتا ، آپ کی رپورٹس صحیح نہیں ہیں، گمراہ کن ہیں ، وہ ایم کیوایم کے لئے ایسے لوگوں سے تیار کرائی گئی ہیں کہ جن کا ایم کیوایم سے کوئی بغض ہے ایسا ہے اس کو ماناجائے۔اس کو ٹھیک کریں ۔ خدشہ یہ ہے کہ جو لوگ گرفتار ہورہے ہیں وہ 24گھنٹے میں عدالت میں پیش نہ کئے جائیں تو یہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والی فہرست میں شامل ہوجائیں گے ۔ 45لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا ہے ، 150کارکنان جبری لاپتا ہیں جو لوگ گرفتار ہوں گے ہم اتنا تو کریں کہ اپنی طرف سے ان کی گرفتاری کی اطلاع پاکستان کے عوام ، ارباب اختیار و اقتدار اور میڈیا کو دیدیں ۔ اس میں میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے ، گرفتارہونے والوں کی زندگی کی ضمانت دینے میں یہ مسلسل ہورہا ہے اور ہم نے ہر فورم پر یہ مسئلہ اٹھایا ، احتجاج کیا ، کہیں پر نہیں سنا گیا تو استعفے دیئے ، بیس اکیس روز ہوگئے استعفے دینے کے باوجود مولانا فضل الرحمن کی یقین دہانی پر ان کی مثبت کوششوں پر ہم نے رسپانس دیا ، ہم نے مذاکرات کے تین راؤنڈ کئے ، لیکن ہمارے مطالبات کے دو حصے ہیں ایک وہ جن کا صرف تعلق وزیراعظم کے انتظامی اختیار سے ہے اور دوسرا معاملہ شکایات کے ازالہ کیلئے کمیٹی سے ہوسکتا ہے ۔ لیکن بنیادی باتیں ہمارے آئین میں آرٹیکل 17، 19ہیں ، سیاسی ، فلاحی سرگرمیوں کی آزادی کا حق ، قائد کے لاکھوں کروڑوں چاہنے والے اگر سننا چاہتے ہیں تو ان سننے والوں کا حق ، حق سماعت کا حق یہ آرٹیکل 19دیتا ہے اگر ان پر بھی پابندی ہے یہ وہ معاملات ہیں جو وزیراعظم کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ، یہ وزیراعظم کا انتظامی قانونی آئینی اختیار ہے ، اگر بیس روز میں وزیراعظم اس معاملے پر ہماری تشفی نہ کریں اس کے بعد ہمارے پاس کیا وجد رہتی ہے کہ ہم نے اسمبلیوں سے استعفے دیدیں، اسمبلی سے بھی احتجاجاً اور مذاکراتی عمل سے بھی احتجاجاً واپس آئے ہیں ، ہمارے احتجاج کی وجوہات کو سمجھاجائے ، انصاف کیاجائے ، ظلم کو روکا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ چھاپے گرفتاریوں تک معاملہ محدود نہیں ہے ، بے گناہ کارکنان پر تشدد کرکے اعترافی بیانات لئے جاتے ہیں ، پھر کہانی بنائی جاتی ہے اور میڈیا کو دی جاتی ہے اور میڈیا ٹرائل کرکے ایک اور عدالت سجائی جاتی ہے یہ سلسلہ کب تک ہوگا ، ہماری سیاسی فلاحی سرگرمیاں کب بحال ہوں گی ، جب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں ، احتجاج کرتے ہیں ، استعفے دیدتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ کرمنلز کی پشت پنائی کیلئے کیاجارہا ہے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے ثابت نہیں کیا کہ یہ کرمنلز ہیں ، ہزاروں لوگ آپ نے خود چھوڑے ہیں ، اگر یہ جرائم پیشہ ہیں تو چھاپے اور گرفتاریوں میں کہاں سے گولی چلی؟ ، کہیں کوئی مزاحمت ہوئی؟ جواب دیا گیا؟ اگرعسکری ونگ ہوتے تو الطاف حسین کی اس پالیسی پر عمل کرتے کہ ہمیں رضاکارانہ گرفتار ی دینی ہے؟ ایم کیوایم سے زیادہ تعاون کراچی میں امن کے قیام اور جرائم کے خاتمے کیلئے کسی نے نہیں کیا ، اس کے باوجود تعاون کیا ہوسکتا ہے کہ ایک گولی نہ چلے ، مزاحمت نہ ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے پاس موجود ہے جس میں ایم کیوایم کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ مذکورہ بالا حقائق کا نوٹس لیں ، جو جانیں بچائی جاسکتی ہیں ان کو بچانے میں مدد کریں ، وزیراعظم ، آرمی چیف ، وفاقی وزیر داخلہ ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز ، کراچی آپریشن کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ کااحترام کیاجائے ، کراچی آپریشن کے نام پر جہاں ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجارہا ہے اسے روکاجائے ، ایم کیوایم کوجمہوری اور سیاسی عمل سے نکالنے کی سازش کو خاک میں ملایا جائے اورحقیقی دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی کو بند کیاجائے ۔ 

12/3/2016 12:40:47 AM