Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت کی غیرسنجیدگی کوسامنے رکھتے ہوئے ایم کیوایم کا حکومتی ٹیم سے مذاکرات ختم کرنے کا متفقہ فیصلہ


حکومت کی غیرسنجیدگی کوسامنے رکھتے ہوئے ایم کیوایم کا حکومتی ٹیم سے مذاکرات ختم کرنے کا متفقہ فیصلہ
 Posted on: 9/3/2015 1
حکومت کی غیرسنجیدگی کوسامنے رکھتے ہوئے ایم کیوایم کا حکومتی ٹیم سے مذاکرات ختم کرنے کا متفقہ فیصلہ
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اور حق پرست ارکان کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ
ایم کیوایم کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے اجلاس کو حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا
حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے فوری نوعیت کے تین مطالبات کویہ کہہ کرٹال دیاکہ ان پر وزیراعظم سے بات
کرکے اس کاجواب دیاجائے گا 
حکومت کے غیرسنجیدہ طرزعمل سے صاف ظاہرہے کہ وہ معاملات کوحل کرنے میں قطعی اورقطعی غیرسنجیدہ ہے
ایم کیوایم کے ارکان کے استعفے فوری طورپر منظورکئے جائیں۔اجلاس کافیصلہ
ایم کیوایم کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان فوری طورپر اسلام آبادسے کراچی واپس آرہے ہیں

ایم کیوایم کے اراکین سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کے استعفو ں کے معاملے پر ایم کیوایم اورحکومتی مذاکراتی کمیٹیوں میں براہ راست مذاکرات کا تیسرا دور آج اسلام آبادمیں ہواجس میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار، وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویزرشید، محترمہ انوشہ رحمن ، وزیراعظم کے مشیربرائے قانون بیرسٹرظفراللہ اوراشتراوصاف شریک ہوئے جبکہ ایم کیوایم کی نمائندگی قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرڈاکٹر فاروق ستار، کنورنوید، وسیم اختر، بیرسٹرمحمدعلی سیف ، شبیرقائمی اورخواجہ سہیل منصورنے کی۔
بدھ کوہونے والے مذاکرات میں ایم کیوایم کی ٹیم نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سامنے یہ مؤقف رکھاکہ کراچی آپریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کمیٹی برائے ازالہ ء شکایات (Grievences Redressal Committee) کے قیام کے بعد شائدبڑے معاملات حل ہوسکیں گے اوراس معاملہ پر مزیدبات چیت کاانتظار کیاجاسکتاہے تاہم تین ایسے بنیادی اوراہم مطالبات ہیں جوآئین کے تحت براہ راست وزیراعظم نوازشریف کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں او رجنہیں وزیراعظم اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے حل کراسکتے ہیں ۔ یہ تین مطالبات درج ذیل ہیں۔
(1) ایم کیوایم کی فلاحی سرگرمیوں پر سے عائدغیراعلانیہ پابندی ہٹانا۔
(2) ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پرعائدغیراعلانیہ پابندی ہٹانااوریونٹ سیکٹرآفسز کودوبارہ کھولنے کی اجازت دینا۔
(3) قائدتحریک الطاف حسین کے خطابات کی لائیوکوریج اورانٹرویوز نشرکرنے پر عائدغیرقانونی پابندی کاخاتمہ۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے فوری نوعیت کے ان تینوں مطالبات کویہ کہہ کرٹال دیاکہ ان پر وزیراعظم سے بات کرکے اس کاجواب دیاجائے گااوریہ کہہ کر معاملہ ٹال دیا۔
واضح رہے کہ آج مذاکرات میں حکومت کی جانب سے ثالث کاکردار اداکرنے والے مولانا فضل الرحمن بھی شریک نہیں ہوئے ۔
بدھ کی شب رابطہ کمیٹی پاکستان اورلندن کاہنگامی اجلاس ہواجس میں رابطہ کمیٹی کے ساتھ ساتھ حق پرست ارکان سینیٹ اورقومی وصوبائی اسمبلی بھی شریک ہوئے ۔ ایم کیوایم کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے اجلاس کو حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا۔ رابطہ کمیٹی اورحق پرست ارکان
نے ایم کیوایم کے مطالبات کے حوالے سے حکومت کے طرزعمل کوقطعی غیرسنجیدہ قراردیااورکہاکہ حکومت کے طرزعمل سے صاف ظاہرہے کہ وہ معاملات کو حل کرنے میں قطعی اورقطعی غیرسنجیدہ ہے۔حکومت کی غیرسنجیدگی کوسامنے رکھتے ہوئے حکومتی ٹیم سے مذاکرات ختم کرنے کا متفقہ فیصلہ کیاگیا۔ اجلاس میں ایک بارپھرواضح طورپرکہاگیا ایم کیوایم کے ارکان کے استعفے فوری طورپر منظورکئے جائیں۔اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے تحت ایم کیوایم کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان فوری طورپر اسلام آبادسے کراچی واپس آرہے ہیں۔

*****

9/26/2016 5:28:55 PM