Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کو ایم کیوایم سے جوڑناسراسرزیادتی ہے ۔الطاف حسین


پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کو ایم کیوایم سے جوڑناسراسرزیادتی ہے ۔الطاف حسین
 Posted on: 9/2/2015 1
پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کو ایم کیوایم سے جوڑناسراسرزیادتی ہے ۔الطاف حسین
ڈاکٹرعاصم پرلگائے جانے والے الزامات کارخ موڑکراسے بھی ایم کیوایم کی جانب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
آج چورکوبے قصوراوربے قصورکوچورثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
اگرڈاکٹرعاصم نے کرپشن کی ہے توپیپلزپارٹی کے جن دیگررہنماؤں نے بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے انہیں گرفتارکیوں نہیں کیا گیا؟
کراچی کے حالات کی خرابی اورجرائم کاساراملبہ مہاجروں پرڈال دیاگیاہے، آپریشن کے نام پرہرجگہ اورہرادارے میں مہاجروں ہی کو نشانہ بنایا جارہا ہے
اپنے ساتھیوں کی تشددزدہ لاشیں دیکھ کراحتجاج کریں تواس کی پاداش میں بھی ہم پر مقدمات بنائے جارہے ہیں
ہرواقعہ میں ایم کیوایم کے ذمہ دارورں اور کارکنوں کوملوث کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
سارے حالات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے
ہم پر چاہے جتنا بھی ظلم کیاجائے لیکن اپنی پرامن جدوجہدسے دستبردارنہیں ہوں گے ،
نائن زیروپررابطہ کمیٹی اورتنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب
کراچی ۔۔۔ 2 ستمبر 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سابق وفاقی وزیرڈاکٹرعاصم کی گرفتاری پرافسوس ہے لیکن پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کوبھی ایم کیوایم سے جوڑناسراسرزیادتی ہے ۔ انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپررابطہ کمیٹی اورتنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری اوراس حوالے سے پیداہونے والی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹرعاصم حسین ،سابق صدرآصف زرداری کے قریبی دوست ہیں،انہیں گرفتارکیاگیاتووزیراعلیٰ سندھ نے بھی اس پر اعتراض کیا اور یہ کہا کہ ’’ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری سندھ پرحملہ ہے، میں کراچی آپریشن کا کپتان ہوں، مجھے گرفتاریوں کے بارے میں نہیں بتایا جاتا‘‘۔پیپلزپارٹی کے دیگررہنماؤں نے بھی اس پر احتجاج کیا، خورشیدشاہ نے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر پہلے کہاکہ’’ ڈاکٹرعاصم شریف آدمی ہیں،ان کوپکڑ لیا گیا ،فیصلہ کرلیاجائے کہ ریاست پاکستان کورکھنا ہے یا غیر مستحکم کرنا ہے ‘‘ ۔ آج خورشیدشاہ یہ کہہ رہے کہ ’’ ڈاکٹرعاصم کوایم کیوایم کوسپورٹ کرنے پرگرفتارکیاگیاہے، اگرایم کیوایم دہشت گرد ہے تو اس پر پابندی عائدکی جائے ‘‘ ۔آج قائم علی شاہ بھی کہہ رہے کہ اگرڈاکٹرعاصم نے دہشت گردی کی ہے تواسے پکڑیں لیکن پیپلز پارٹی کے دیگرلوگوں کونہ پکڑیں ۔ قائم علی شاہ اور خورشیدشاہ کواپنے بیانات پرخودہی غورکرناچاہیے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کے وقت قوم کوبتایاگیاکہ انہیں بڑے پیمانے پر کرپشن اوربے قاعدگیوں پرگرفتار کیا گیا اور آج کہاجارہاہے کہ انہیں ایم کیوایم کوسپورٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کوبھی ایم کیوایم کے پلڑے میں ڈال دیا گیا ہے اوریہ کہاجارہاہے کہ ڈاکٹرعاصم کواسلئے گرفتارکیاگیاہے کہ انہوں نے ایم کیوایم کوفنڈزدیے تھے ۔اس طرح چور کو بے قصوراوربے قصورکوچورثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا اس صورتحال کی روشنی میں قوم یہ سمجھنے میں حق بجانب نہ ہوگی کہ اب ڈاکٹرعاصم پرلگائے جانے والے الزامات کارخ موڑکراسے بھی ایم کیوایم کی جانب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری پرافسوس ہے ، ان کی گرفتاری ناجائزہے ، اگرانہوں نے کرپشن کی ہے تو پیپلزپارٹی کے جن دیگررہنماؤں نے بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے جس کے بارے میں ہرکوئی واقف ہے ،انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ ڈاکٹرعاصم چورہیں تو جو دیگر چور ہیں انہیں بھی پکڑیئے،ا س وزیرکوبھی پکڑئیے جس کابیان ریکارڈپرہے کہ میں نے منی لانڈرنگ کی ہے، مسلم لیگ میں جوچورہیں انہیں بھی پکڑیے، اے این پی میں جوچورہیں انہیں بھی پکڑئیے،جماعت اسلامی کے لوگوں کوبھی پکڑیں کہ تمہارے گھرسے القاعدہ کے لوگ پکڑے گئے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج لوگوں میں یہ سوچ پھیل رہی ہے کہ پیپلزپارٹی میں سے ڈاکٹرعاصم کوبھی اسی لئے پکڑاگیاہے کہ وہ مہاجرہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ نے سرکاری ایجنسیوں کی پیش کردہ رپورٹ پر یہ آبزرویشن دی کہ کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں نے عسکری ونگ بنائے ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ نے ایم کیوایم اوردیگرجماعتوں کے نام لئے اوریہ کہاکہ کراچی میں قیام امن کیلئے ان عسکری ونگ کے خلاف کارروائی ضروری ہے لیکن عوام کے سامنے ساری صورتحال ہے کہ کراچی کے حالات کی خرابی اورجرائم کاساراملبہ مہاجروں پرڈال دیا گیا ہے اورکرمنلزاوردہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پرہرجگہ اورہرادارے میں مہاجروں ہی کونشانہ بنایاجارہاہے، اورجھوٹے مقدمات اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے دنیاکویہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مہاجروں میں سب سے زیادہ جرائم پیشہ عناصرہیں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دوسال کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکیاگیا، اس کے درجنوں کارکنوں کوگرفتارکرکے سرکاری حراست میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیاگیا۔ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر چھاپہ ماراگیااورکرمنلائزیشن پالیسی کے تحت دنیاکویہ بتایا گیا کہ نائن زیروپر خطرناک مطلوب دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے چھاپہ ماراگیاتھااوروہاں سے نیٹوکااسلحہ برآمدکیاگیا۔نائن زیروپردوبارہ چھاپہ مار کر قمر منصوراورکہف الوریٰ کوگرفتارکیا گیا اورقمرمنصورکوسرکاری حراست میں اس قدرتشددکانشانہ بنایا گیا کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے ۔ اپنے ساتھیوں کی تشددزدہ لاشیں دیکھ کرہم اس پراحتجاج کریں تواس کی پاداش میں بھی ہم پر مقدمات بنائے جارہے ہیں ۔ ہمارے دفاتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں، ہمارے بے گناہ کارکنوں اورذمہ داروں کوگرفتارکیاجارہاہے ، ہرواقعہ میں ایم کیوایم کے ذمہ دارورں اور کارکنوں کوملوث کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سارے حالات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم پر چاہے جتنا بھی ظلم کیاجائے لیکن ہم اپنی پرامن جدوجہدسے دستبردارنہیں ہوں گے، ہمیں خداکے نظام انصاف پرکامل یقین ہے ،وہ ضرور حرکت میں آئے گااورمظلوموں کے ساتھ انصاف ضرور ہوگا۔

12/3/2016 7:36:42 AM