Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت ، اسکے تمام مطالبات منظور کرے گی تو ہم اسمبلیوں میں جائیں گے ورنہ یہ اسمبلیاں حکومت کو مبارک ہوں، الطاف حسین


ایم کیوایم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت ، اسکے تمام مطالبات منظور کرے گی تو ہم اسمبلیوں میں جائیں گے ورنہ یہ اسمبلیاں حکومت کو مبارک ہوں، الطاف حسین
 Posted on: 8/31/2015
ایم کیوایم بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل کے حل پریقین رکھتی ہے، الطاف حسین
تاہم ایم کیوایم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت ، اسکے تمام مطالبات منظور کرے گی تو ہم اسمبلیوں میں جائیں گے ورنہ یہ اسمبلیاں حکومت کو مبارک ہوں، الطاف حسین
جو عناصرہم پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بغلیں بجاتے تھے آج وہ خود قدرت کے مکافات عمل کا شکار ہوگئے ہیں، الطاف حسین
کل تک جولوگ کراچی آپریشن کو جائز قراردیتے رہے آج وہی لوگ کراچی آپریشن پر انگلیاں اٹھارہے ہیں ، الطاف حسین
ہم نے استعفے دیئے تو کہاگیاکہ ایم کیوایم نے غلط فیصلہ کیا ہے لیکن آج ہرآدمی وہی بات کررہا ہے، الطا ف حسین
ایک انسان کا بلاجواز قتل پورے عالم انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، الطاف حسین
قرآن کے مطابق مقتول کے ورثاء قصاص ، دیت یا قاتل کو معاف کرنے کاحق رکھتے ہیں، الطاف حسین
ایم کیوایم کے تمام رہنما ، ذمہ دا اورکارکنان حالات پر کڑی نظررکھیں ،الطاف حسین
کراچی اور حیدرآباد میں رابطہ کمیٹی ، منتخب عوامی نمائندوں اور شعبہ جات کے ارکان سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل کے حل پریقین رکھتی ہے تاہم ایم کیوایم کے تمام رہنماؤں ، ذمہ داروں اورکارکنوں کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت ، ایم کیوایم کے تمام مطالبات منظور کرے گی تو ہم اسمبلیوں میں جائیں گے ورنہ یہ اسمبلیاں حکومت کو مبارک ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت آئے گا کہ جب ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں پر ظلم کرنے والوں کو عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قدرت نے حق پرستی کی تحریک کو اس موڑ پر لاکرکھڑا کردیا ہے کہ جو عناصرہم پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بغلیں بجاتے تھے آج وہ خود قدرت کے مکافات عمل کا شکار ہوگئے ہیں۔یہ بات انہوں نے نائن زیرو کراچی اور حیدرآباد میں رابطہ کمیٹی کے ارکان اورمختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کے مشترکہ اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں ایم کیوایم کے مستعفی ارکان سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قصاص ودیت ، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، ایم کیوایم اور حکومت کے مابین مذاکرات اور دیگر امورپرتفصیل سے اظہار خیال کیا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے سورۃ البقر کی آیات کریمہ کی تلاوت کی اور ان کا ترجمہ بھی پیش کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ اپنے چاہنے والوں کو آزمائش میں مبتلا کرکے پرکھتا ہے،ایم کیوایم کی تاریخ میں انگنت آزمائشی مراحل آئے ، بسااوقات ایسے فیصلے بھی کرنے پڑے جو بظاہرعہدوفا اور تجدید عہد کرنے والوں کی سمجھ میں نہیں آئے جیسے کہ مہاجرقومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیاگیا تو اس پر بہت اعتراضات کیے گئے، حالانکہ میں نے کہاکہ تھا کہ ہم متحدہ بنارہے ہیں لیکن لفظ مہاجرکو نہیں چھوڑرہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے لوگوں کے ذہن خراب کیے اور انہیں بددل کرنے کیلئے پروپیگنڈہ کیا کہ مہاجرازم کو فراموش کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرنے یا اتحاد ختم کرنے کے فیصلے ہوئے اور حالیہ دنوں میں تحریک کی قیادت نے متفقہ صلاح ومشورہ کرکے اچانک ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں سے کہاکہ اپنے اپنے استعفے اسپیکرقومی اسمبلی کو بھیج دیں ،عوام اورکارکنان کی بھاری اکثریت نے اس فیصلہ کی حمایت کی لیکن ہوسکتا ہے کہ بعض ساتھیوں کو یہ فیصلہ عجیب لگا ہو، یہاں یقین کی منزل آجاتی ہے کہ قیادت پر کتنا یقین ہے اور جوبات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے اسے قیادت کی آنکھ دیکھ رہی ہے ۔ اس وقت انہیں یہ غلط فیصلہ لگا ہو لیکن بعد میں حالات نے ثابت کردیا کہ جس فیصلے کوبعض افراد غلط سمجھ رہے تھے وہ بالکل درست فیصلہ تھا، ہم نے ایوانوں سے استعفے دیئے تو ایک طوفان مچ گیا اور ہرطرف سے کہاجانے لگاکہ ایم کیوایم نے یہ غلط فیصلہ کیا ہے لیکن آج ہرآدمی وہی بات کررہا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب کوئی سربریدہ لاشے اور اپنے پیارے کارکنوں کو گرفتاری کے بعد لاپتہ دیکھے اور اس ظلم پر فریاد کرے تو اسے بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف قراردیدیا جاتا ہے لیکن آپ قدرت کا مکافات عمل دیکھیں کہ کل تک جولوگ کراچی آپریشن کو جائز قراردیتے رہے ہیں اور کہتے تھے کہ یہ آپریشن ایم کیوایم کے خلاف نہیں ہورہا بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہورہا ہے تو آج وہی لوگ کراچی آپریشن پر انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ جب پیپلزپارٹی کے چند بیوروکریٹس اور سابق وفاقی وزیرڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتارکیاگیا تو انہیں فوج ، رینجرز اور وفاق کے وہی اقدامات ناجائز اورغلط لگنے لگے جنہیں وہ کل تک جائز قراردیا کرتے تھے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے توفوج کے بعض افسران کے غلط رویے پرتنقید کی تھی لیکن ان کی جانب سے تو کہاگیا کہ ’’اینٹ سے اینٹ بجادیں گے ، جنگ ہوگی ، وفاق بتائے کہ سندھ کو پاکستان کے ساتھ شامل رکھنا یا نہیں‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ جن باتوں پر ایم کیوایم اور مجھے برابھلا کہاگیا آج وہی لوگ میری باتوں سے زیادہ خطرناک باتیں کررہے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ایک انسان کا بلاجواز قتل پورے عالم انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ۔ قرآن مجید میں قتل ناحق کے بارے میں انتہائی تفصیل سے منصفانہ حل پیش کیے گئے ہیں ۔ قتل ناحق کا ایک حل’’ قصاص ‘‘ہے جس کے مطابق اگروردی یا بغیروردی رینجرزیا پولیس کا اہلکار، ایم کیوایم کے معصوم و بے گناہ کارکن کو گرفتارکرے، اسے عدالت میں قاضی وقت کے سامنے پیش کیے بغیر ظلم وتشدد کا نشانہ بنائے اور ازخودفیصلہ کرکے ہلاک کر ے تو یہ قتل عمد کے زمرے میں آتاہے اورایسا کرنے والے سرکاری اہلکارکی سزا قتل ہے۔قتل ناحق کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس بے گناہ فرد کی حراست کے دوران ہلاکت اور ماورائے عدالت قتل کو جائز قراردینے والا دونوں قرانی تعلیمات کی روشنی میں قتل کی سزا کے مستحق ہیں۔ قران مجیدمیں کسی بے گناہ کے بلاجواز قتل کا دوسرا حل’’ دیت ‘‘کی صورت میں پیش کیا گیا ہے یعنی اگر مقتول کے ورثاء راضی ہوں تو دیت یعنی خون بہا لیکر قاتل کو معاف کرسکتے ہیں اور تیسرا حل یہ پیش کیا گیا ہے کہ مقتول کے ورثاء نہ قصاص لیں اورنہ ہی دیت لیں بلکہ اللہ کے نام پر قاتل کو معاف کرسکتے ہیں اور آگے چل کر بیان کیاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک انسان دوسرے انسان کاادھار واپس نہیں کرتالیکن اللہ تعالیٰ کسی کاادھارنہیں رکھتا کل تک یہ کہاجاتا تھا کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں ہے ، چھاپے گرفتاریاں کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں ہورہی ہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کی جارہی ہیں لیکن یہ باتیں کرنے والے اب خود چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم پر ظلم ہورہا ہے ۔ماضی میں بے نظیر بھٹو ، ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں کو انعامات دیتی تھیں اور انہیں سیلوٹ کرتی تھیں لیکن انہیں بھی مکافات عمل کا سامناکرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے کہ کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت کبھی قائم نہیں رہ سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکرہے کہ میں آج تک جوکچھ کہاہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے میری زندگی میں ہی پورا کیا ہے اورمیری یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ جن جن اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں نے میرے بے گناہ ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل کوجائز قراردیا ، ہم پر جھوٹے و بے بنیاد الزامات عائد کیے اور مطالبے کیے کہ آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمے قائم کیے جائیں ، انشاء اللہ ، ان بہتان تراشی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ذلیل ورسوا کرے گا۔ ایک وقت آئے گا کہ جب ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں پر ظلم کرنے والوں کو عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قدرت نے حق پرستی کی تحریک کو اس موڑ پر لاکرکھڑا کردیا ہے کہ جو عناصرہم پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بغلیں بجاتے تھے آج وہ خود قدرت کے مکافات عمل کا شکار ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کودنیا بھر میں طاقتور سمجھا جاتاہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طاقت اوردولت ایک طرف اور الطاف حسین دوسری طرف ہے اور سب نے مل کر ناتواں الطاف حسین کی براہ راست تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرمیری زندگی میں تحریک کو کامیابی ملی تو ایم کیوایم کو مغلظات بکنے والے ٹی وی چینل کو عوامی احتساب کا سامنا کرناپڑے گا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند جماعت ہے جو افہام وتفہیم ، بات چیف اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل کا حل چاہتی ہے تاہم ایم کیوایم کے تمام رہنماؤں ، ذمہ داروں اورکارکنوں کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت ، ایم کیوایم کے تمام مطالبات منظور کرے گی تو ہم اسمبلیوں میں جائیں گے ورنہ یہ اسمبلیاں حکومت کو مبارک ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو وفاقی وزراء اور سیاسی رہنماء آج بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ کراچی آپریشن میں کسی سے زیادتی نہیں کی جارہی ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیاروں کو سلامت رکھتے ، خدانخواستہ اگر ان کے کسی بھائی بیٹے کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیاجائے اور پھرخدانخواستہ ان کی سربریدہ یاتشدد زدہ لاش سڑک پر پھینک دی جائے تو ہم ان سے پوچھیں گے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا نہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج صورتحال اس قدر کشیدہ ہوچکی ہے کہ افغانستان ، پاکستان سے ناراض ہے اور افغانستان سے پاکستان پر تواتر کے ساتھ حملے ہورہے ہیں، بھارت کی جانب سے سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر انڈیا کی گولہ باری سے پاکستانی شہری شہید وزخمی ہورہے ہیں۔ دوسری جانب پاک چائنا کوریڈور کی تعمیر کی جارہی ہے اور چائنا پوری دنیا میں معاشی طورپر مضبوط ملک کی حیثیت سے آگے بڑھ رہا ہے ، امریکہ جیسا سپرپاورآج چائنا کے اربوں کھربوں ڈالرز کا مقروض ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قرضہ لینے والے کے پاس اتنا پیسہ نہ ہو کہ وہ قرض لوٹاسکے تو پھر بارٹرٹریڈ شروع ہوجاتی ہے اوراگر ایسا نہ ہوا تو پھر آپ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اس صورت میں تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام رہنماؤں ، ذمہ داروں اورکارکنوں پر زوردیا کہ وہ حالات پر کڑی نظررکھیں ، اپنی صفوں میں اتحاد برقراررکھیں اورثابت قدمی کے ساتھ حق پرستی کی جدوجہد جاری رکھیں ، انشاء اللہ فتح حق پرستوں کا مقدرثابت ہوگی اور ایم کیوایم کے دشمن عناصر ماضی کی طرح ذلت ورسوائی کاسامنا کریں گے ۔

12/4/2016 8:23:40 PM