Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آج پی پی پی کے رہنماؤں کو رینجرز کے اقدامات سندھ پر حملہ کیوں نظر آرہے ہیں ؟ الطاف حسین


آج پی پی پی کے رہنماؤں کو رینجرز کے اقدامات سندھ پر حملہ کیوں نظر آرہے ہیں ؟ الطاف حسین
 Posted on: 8/28/2015
آج پی پی پی کے رہنماؤں کو رینجرز کے اقدامات سندھ پر حملہ کیوں نظر آرہے ہیں ؟ الطاف حسین
پیپلزپارٹی نے ہی رینجرز کے سندھ میں قیام میں توسیع کی تھی اور ا سکے اختیارات کی مدت میں توسیع کی تھی
میں نے اپنی کسی تقریر میں نہیں کہا کہ فوج سے جنگ ہوگی، یہ ہماری اپنی فوج ہے ،الطاف حسین
ہم اپنی فوج کیلئے جان دینے کاجذبہ رکھتے ہیں ، جان لینے کا نہیں ،الطاف حسین
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کراچی کی جیلوں کادرہ کرکے ایم کیوایم کے اسیروں سے پوچھیں کہ انہیں کیوں گرفتارکیاگیا؟
ہم پورے ملک کے محروموں کے حقوق اور پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے
ہماری نظرمیں سب برابرکے پاکستانی ہیں چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں اوران کامسلک ، مذہب اورعقیدہ کچھ بھی کیوں نہ ہو
نائن زیرو پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور دیگر تنظیمی شعبہ جات کے اراکین کے مشترکہ اجلاس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔28، اگست2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ آج پی پی پی کے رہنماؤں کو رینجرز کے اقدامات ، سندھ پر حملہ نظر آرہے ہیں لیکن کل یہی پیپلزپارٹی تھی جس نے جولائی میں رینجرز کے سندھ میں قیام میں توسیع کی تھی اور اسے پولیس کے اختیارات دینے کے فیصلہ میں توسیع کی تھی ۔میں نے اپنی کسی تقریر میں نہیں کہا کہ فوج سے جنگ ہوگی ۔ یہ ہماری اپنی فوج ہے ، ہم اس کیلئے جان دینے کاجذبہ رکھتے ہیں ، جان لینے کا نہیں ۔ جناب الطا ف حسین نے یہ بات جمعہ کی سہ پہر نائن زیرو کراچی پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور دیگر تنظیمی شعبہ جات کے اراکین کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جنا ب الطاف حسین نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے ادروں کے اہلکاروں نے دو روز قبل کراچی میں چھاپہ مار کر پی پی پی کے سابق وفاقی وزیر اور سابق صدر پاکستان کے مشیر ڈاکٹرعاصم حسین کو گرفتارکرلیا۔ گزشتہ روز انہیں عدالت میں پیش کرکے ان کا 90 دن کا ریمانڈحاصل کرلیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاکہ’’ اب وفاق کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے پاکستان کو رکھنا ہے یا مستحکم کرنا ہے ۔ اگر آصف علی زرداری پر ہاتھ ڈالاگیا تو جنگ ہوگی‘‘۔ گزشتہ روز پی پی پی کے رہنماؤں قمرالزماں کائرہ اور شیری رحمان نے پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ رینجرز کی جانب سے پی پی پی کے خلاف کارروائی کی بھی شدید مذمت کی اور کہاکہ’’ یہ صوبہ سندھ کے خلاف گہری سازش ہے ۔رینجرز کو صرف دہشت گردوں کو پکڑنے کا مینڈیٹ ہے اور اسے صوبائی معاملات میں مداخلت اور کرپشن وغیرہ کے معاملات میں پکڑ دھکڑ کاکوئی قانونی وآئینی حق نہیں ہے‘‘ ۔ پی پی پی کے ان رہنماؤں نے بھی خورشید شاہ کی طرح یہ کہاکہ اگر اس معاملہ میں رینجرز والوں نے مداخلت کی اور پی پی پی کے رہنماؤں کی گرفتاریاں جاری رکھیں تو پھر جنگ ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے بھی کراچی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سندھ پر حملہ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پی پی پی کے رہنماؤں کو رینجرز کے اقدامات ، سندھ پر حملہ نظر آرہے ہیں لیکن کل یہی پیپلزپارٹی تھی جس نے جولائی میں رینجرز کے سندھ میں قیام میں توسیع کی تھی اور اسے پولیس کے اختیارات کی مدت میں توسیع کی تھی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے درجنوں رہنماؤں کے وہ بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں انہوں نے ایم کیوایم کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ سندھ میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہورہی اور رینجرز صرف اورصرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب نائن زیروپرچھاپے مارے جائیں تواسے جائز قراردیاجائے ، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی اندھادھند گرفتاریوں ، انکے گھروں پرچھاپوں ، چھاپوں کے دوران توڑپھوڑاور ان کی قیدوبند کوجائز قراردیاجائے ، سابق رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر قمرمنصور کی گرفتاری اور قید کو جائز قراردیاجائے ، ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر جنگی قیدی کی طرح پیش کرنے کو جائز قراردیاجائے لیکن جب پی پی پی کے کسی رہنما کو گرفتار کیاجائے تو اس کو سندھ پر حملہ قراردیاجائے اور جنگ کی بات کی جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری تقاریر کی لائیو کوریج پر پابندی ہے جبکہ میں نے کبھی جنگ کی بات نہیں کی ۔ اپنی کسی تقریر میں نہیں کہا کہ فوج سے جنگ ہوگی ۔ یہ ہماری اپنی فوج ہے ، ہم اس کیلئے جان دینے کاجذبہ رکھتے ہیں ، جان لینے کا نہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، مہاجروں سمیت ملک کے تمام مظلوم ومحروم عوام کے حقوق کا حصول چاہتی ہے ۔ ہم پورے ملک کے محروموں کے حقوق کیلئے سندھ سمیت پورے پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء سے پوچھا کہ آپ اپنے ہاتھ کھڑے کرکے بتائیں کہ کیا آپ کو صوبہ چاہیے ، جس پر تمام شرکاء نے ایک ساتھ ہاتھ کھڑے کرکے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے اپنی حمایت کا پرجوش طریقہ سے اظہار کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہماراصوبہ ہوگاتوصوبہ میں پولیس وانتظامیہ اور بیوروکریسی صوبہ سے باہر کی نہیں بلکہ صوبہ کی ہوگی ۔ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبہ کی ترقی اورعوام کی بہتری کیلئے اقدامات کریں گے، صوبہ میں کوئی لینڈمافیا، کوئی چورمافیانہیں ہوگی۔صوبہ میں ایسی کوئی پولیس مافیا نہیں ہوگی جوصبح وردی پہن کرہمیں گرفتارکرے ،شام کوچوری کرے اوررات کوہمارے گھروں میں گھس کرڈاکے ڈالے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں ، زیادتیوں ، نفرت وتعصب اورتیسرے درجے کے شہریوں جیساسلوک بندکیاجائے ۔جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی کہ وہ ملکی سلامتی واستحکام کے واسطے جیلوں خصوصاً کراچی کی جیلوں کادرہ کریں اوروہاں قیدایم کیوایم کے اسیروں سے فرداً فرداً ملاقات کریں اوران سے پوچھیں کہ انہیں پولیس یارینجرزنے کیوں گرفتارکیاتھا؟ انہوں نے جنرل راحیل شریف سے درخواست کی کہ وہ ایم کیوایم کے اسیروں سے قرآن مجیدپرہاتھ رکھوا کران سے بیان لیں تاکہ پتہ چل جائے کہ انہیں گرفتارکرنے والے کتنے سچے ہیں اورایم کیوایم کے اسیر کارکنان کتنے مظلوم ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم صرف مہاجروں کی جماعت نہیں بلکہ اس میں مہاجروں کے ساتھ ساتھ پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری ، گلگتی ، بلتستانی، شیعہ ، سنی، دیوبندی، بریلوی، ہندو ، سکھ، عیسائی، احمدی تمام فقہوں ،مسلکوں اورمذاہب کے ماننے والے الطاف حسین کے پرچم تلے متحدہیں اورآپس میں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہم کسی بھی زبان بولنے والے یاکسی بھی فقہ ، مسلک یامذہب کے ماننے والے سے نفرت نہیں کرتے ، ہماری نظرمیں سب برابرکے پاکستانی ہیں چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں اوران کامسلک ، مذہب اورعقیدہ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں صرف مسلمانوں ہی کونہیں بلکہ جوہندو، سکھ ، عیسائی، احمدی یاقادیانی بھی پاکستانی ہیں انہیں پاکستانی شہری کی حیثیت سے مساوی حقوق ملنے چاہئیں اورانہیں ان کے عقائدکے مطابق عبادت کرنے اور زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے تمام ترمظالم ، مصائب ومشکلات اورنامساعدحالات کے باوجود تحریک سے جڑے رہنے اورثابت قدمی ومستقل مزاجی سے تحریکی فرائض انجام دینے پر تمام ذمہ داروں اورکارکنوں کوسلام تحسین پیش کیا۔ 
وڈیو

12/8/2016 5:51:59 AM