Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطاف حسین کا جیو نیوز کے پروگرام’’ جرگہ ‘‘میں سینئراینکر سلیم صافی کوتاریخی انٹرویو


 Posted on: 8/27/2015
قائد تحریک جناب الطاف حسین کا جیو نیوز کے پروگرام’’ جرگہ ‘‘میں سینئراینکر سلیم صافی کوتاریخی انٹرویو
17؍ اگست 2015ء 
پیش لفظ
یہ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کاوہ انٹرویوہے جوممتازصحافی سلیم صحافی نے درجنوں مرتبہ درخواستیں کرکے لیاجس کی وجہ سے قائدتحریک جناب الطاف حسین کواپنے طے شدہ درجنوں پروگراموں کوملتوی کرناپڑا اورپروگراموں کونئے سرے سے ترتیب دیناپڑا ۔ جناب الطا ف حسین کایہ انٹرویو 17 اگست 2015ء کوریکارڈکیاگیاتھا جسے وعدے کے مطابق 19 اگست 2015ء کونشرہوناتھا۔ جس کے ثبوت میں ہم اہل پاکستان اورعلم وفن کاذوق رکھنے والے اکابرین، اساتذہ کرام اورطالبعلموں سے کہیں گے کہ وہ اس انٹرویو کے اشتہار کوپڑھ کرخود فیصلہ کریں کہ اس انٹرویو کو کس روز اور کس وقت نشر کیاجاناتھا لیکن جناب الطاف حسین کے اس انٹرویوکومقررہ وقت سے آدھاگھنٹہ پہلے متعلقہ ٹی وی نے نشرکرنے سے انکار کردیا اوراس کی وجہ پیمرا اورموجودہ حکومت کے وزراء کی مداخلت بتائی گئی۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں مذکورہ انٹرویو کی نشریات کے سلسلے میں مسلسل اعلانات کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ایم کیوایم کے کروڑوں کارکنان اور عوام،قائد تحریک جناب الطاف حسین کے اس انٹرویو کا بے چینی سے انتظار کررہے تھے لیکن عین وقت پر انٹرویو نشر کرنے سے انکار کے باعث انہیں شدید مایوسی اورذہنی کوفت کا سامناکرناپڑا ۔
بہرحال پھربھی ہم قائد تحریک جناب الطاف حسین کے اس اہم انٹرویوکوایک لفظ کاٹے بغیر عوام کے لئے من وعن پیش کررہے ہیں تاکہ وہ اسے سن کرخود اندازہ کرسکیں کہ اس انٹرویو میں قائدتحریک جناب الطا ف حسین نے ایسی کونسی قابل اعتراض بات کی تھی جس کی بناء پر ان کے اس انٹرویوکو نشرہونے سے روکاگیا۔
شکریہ
متحدہ قومی موومنٹ

قائدتحریک الطاف حسین کاانٹرویو
سلیم صافی : آج اسپیشل جرگے میں ہمارے ساتھ ایک اسپیشل مہمان ہیں اور لندن سے ہمیں جرگے میں جوائن کررہے ہیں متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطا ف حسین صاحب ۔ الطاف بھائی۔۔۔ السلام و علیکم 

قائد تحریک : وعلیکم السلام سلیم صافی صاحب !کیسے مزاج ہیں ۔

سلیم صافی : اللہ کا شکر ہے الطاف بھائی ۔ میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کا مزاج کیسا ہے اور صحت کیسی ہے ؟

قائد تحریک : الحمد اللہ مزاج بھی ٹھیک ہے اور صحت بھی اللہ کا کرم ہے ٹھیک ہے ۔ بس انسان ہونے کے ناطے پاکستان اور دنیا بھر میں جو انتہائی افسوسناک واقعات ہورہے ہیں جیسے کل پنجاب کے گاؤں کے شادی خان میں وزیرداخلہ شجا ع خانزادہ کے ڈیرے پر خود کش حملہ ہوا جس میں وہ شہید ہوگئے ۔۔۔ بہت لوگ شہید ہوئے اس قسم کے واقعات سے دل بہت غمگین اور ذہن پریشان رہتا ہے ۔ 

سلیم صافی : جی یہ تو پریشانی والی باتیں ہیں لیکن ہمارے لئے ایک پریشانی والی بات آپ کی صحت بھی ہے اور پاکستان میں جس طرح افواہیں پھیلتی ہیں تو یہاں پر زیادہ افواہیں پھیلائی جاتی ہیں آپ کی صحت سے متعلق ۔ کوئی کہتا ہے کہ الطاف بھائی کو یہ بیماری ہے۔۔۔ کوئی کہتا ہے ٹانگ کا مسئلہ ہے ۔ اس وقت الطاف بھائی آپ کو کونسی بیماری ہے کیونکہ آپ کے جو مخالفین ہیں وہ بیماری کے خواہش مند اور زیادہ آرزو مند ہیں۔۔۔ اور آپ کے چاہنے والے آپ کی صحت یابی کے آرزو مند ہیں ۔ 

قائد تحریک : دیکھئے سلیم بھائی !۔۔۔اب اگرمیں سائنس کے طالب علم کی حیثیت سے گفتگو کروں کہ ایک چیز ہوتی ہے anabolism اور ایک چیز ہوتی ہےcatabolism ۔جیسے جیسے انسانgrow کرتا ہے (پرورش پاتاہے) تو اس کا جو anabolismریٹ یاپراسس بہت تیز ہوتا ہے اور catabolism بہت کمزور ہوتا ہے۔۔۔ جیسے ہی جیسے وہ 40یا 50 سال کی عمر کراس کرتا ہے تووہ ریزرو ہوجاتا ہے ۔anabolism ریٹ کم ہوجاتا ہے اور catabolism ریٹ اوپر کو چلا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک آدمی کا قد اگر جوانی میں۔۔۔ 40سال کی عمر اگر فرض کریں کہ اس کا قد 6فٹ کا ہے لیکن اگر 40کی عمر سے 80سال لیں گے تو اس کا قد ساڑھے 5فٹ رہ جائے گا۔ تو یہ نیچرل پراسس ہے ۔ سب کے ساتھ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ بیماریاں ۔ کچھ نہ کچھ کمزوریاں آتی رہتی ہے ۔ لیکن اللہ کا کرم ہے ۔ اللہ کا احسان ہے ۔ میں اس وقت بھی پاکستان میں جتنے سیاستدان ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ پوری دنیا میں جتنے سیاستدان ہیں ان میں گھنٹوں کے حساب سے سب سے زیادہ کام کرنے والا ۔۔۔ اللہ کے فضل و کرم سے میں ہی ہوں ۔ اور خدانخواستہ کوئی بیماری ہوتی تو میں بالکل ہی نہیں کام نہیں کرپاتا بلکہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اتناٹائم دے پاتا ۔ 

سلیم صافی : یہ مسئلہ ہے کہ آپ کام بھی بہت زیادہ کرتے ہیں۔۔۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلی ہیں۔۔۔ پھر آپ اتنے عرصے سے لندن میں مقیم ہیں۔۔۔ جلا وطن بھی ہیں۔۔۔ اورجب میں وہاں حاضر ہوا تھا تو آپ نے مجھے بتایا تھا کہ لندن بھی آپ نے پورا نہیں دیکھا ۔۔۔ گھرمیں ہیں ۔ تو کہیں زیادہ کام کرنے کی وجہ سے یا ایک جگہ بیٹھنے کی وجہ سے یہ جو بیماریاں ہوتی ہیں شوگروغیرہ ۔ اس طرح کی خدانخواستہ کوئی بیماری تو آپ کو لاحق نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے یہ لوگ افواہیں پھیلاتے ہیں ؟

قائد تحریک : دیکھئے! ایسی ایسی افواہیں مجھ تک آتی ہیں کہ میں اس کو مناسب نہیں سمجھتا ۔ اللہ نہ کرے کہ اس قسم کی بیماریاں کبھی قریب سے گزریں۔۔۔ لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ میں بالکل صحت مند ہوں ۔ خدانخواستہ کوئی ایسی بیماری کہ جس میں لائف سیونگ ڈرگ(Life saving drug) دینے کی ضرورت پڑ جائے ۔اللہ کا شکر ہے ایسی کوئی بیمار ی نہیں ہے ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی آپ کی عمر اور عمران خان صاحب کی عمر کم وبیش ایک جیسی ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ بھی عمران خان جیسے صحت مند ہیں ؟ 

قائد تحریک: عمران خان صاحب کی بچپن سے جو اٹھان ہوئی ہے وہ کھیل سے ہوئی ہے اور ایک جمناسٹک پلیئر کی ۔۔۔ کھلاڑی کی بھاگ دوڑ کا انداز اور باڈی کاا نداز۔۔۔ پھر باڈی کے اندر Genetically یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ کے اندر موٹاپا(Obesity) ہوتا ہے اور کچھ کے اندر موٹاپے(Obesity) کا عنصر بالکل نہیں ہوتا ۔ مثال کے طو رپر جیسے ہمارے عمرا ن خان صاحب ہیں ۔۔۔میں سنا ہے گاؤں دیہات کی دو قسم کی مرغیاں ہوتی ہیں ۔ ایک تو پولٹری فارم سے آتی ہیں ۔۔۔ دوسری گاؤں کی۔ تو گاؤں دیہات سے عمران خان کا کوئی جاننے والا آتا ہے ۔۔۔کہتے ہیں کہ مرغیاں لے آنا اور سننے میں جو آیا ہے وہ دو ۔۔۔تین ۔۔۔پانچ مرغیاں لے آتا ہے۔۔۔ بہت خوش ہوتے ہیں اور وہ چار پانچ مرغیاں سامنے رکھتے ہیں۔۔۔کھاتے ہیں اور آنے والے سے نہیں پوچھتے کہ آجا بھئی تو بھی بیٹھ جا۔۔۔ کھالے ۔ تو ماشاء اللہ وہ چار چار۔۔۔ پانچ پانچ مرغیاں کھالیتے ہیں ۔اور اللہ کا کرم ہے ان کا جسم پھر بھی slim رہتا ہے۔ میں چار پانچ مرغیاں کھا لوں اگر ایک مہینے تک تو میں تو دروازے سے نہیں نکل سکتا ۔ 
سلیم صافی : دیسی مرغیاں تو وہاں پر ملیں گی بھی نہیں۔ لند ن میں مل جاتی ہیں الطا ف بھائی ؟

قائد تحریک: نہیں یہاں نہیں ملے گی ۔۔۔ہاں !گاؤں دیہات میں جائیں آپ تو وہاں ہر چیز مل جائے گی ۔ 

سلیم صافی : ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کی سنت پر جانے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے ؟

قائد تحریک: میں کھانے میں اللہ کا شکر ہے کہ بہت احتیاط سے کام لیتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ کام کرنے کے باوجود بھی میں یعنی گھنٹوں کے حساب سے پوری دنیا بھر میں سب سے زیادہ کام کرنے والا سیاستدان ہوں ۔ 

سلیم صافی: نہیں میں دوسری سنت کی بات کررہا تھا ۔ 

قائد تحریک : اچھاچھا دوسری سنت ۔

سلیم صافی : جی شادی والی ۔

قائد تحریک: جی جی میں سمجھ گیا تھا۔۔۔ آپ کو ضرورت ہی نہیں کہنے کی ۔۔۔ دوسری سنت۔۔۔ یہ بھی حضور ﷺ کے زمانے میں بھی کچھ لوگوں کو یہ سعادت حاصل ہوتی تھی کہ اس سنت کاان پر کافی کرم ہوتا تھا۔۔۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اوپر یہ کرم نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ شاید ان میں سے ہم بھی ہیں۔۔۔ اور فی الحال میں آپ کو بتا دوں نہ پہلے میر اا رادہ تھا۔۔۔ بس وہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کے حساب سے وہ معاملہ ہوگیا تھا لیکن اب ایسی سنت دوبارہ کرنے کا فی الحال تو کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی ایک مسئلہ ۔۔۔جتنی بھی ایم کیوایم ہے۔۔۔ نہ صرف آپ نے بنائی ہے تو وہ ساری آپ کی ذات پر اکھٹی ہوئی ۔۔۔ بعض اوقات یہ مشکل نظر آتا ہے۔۔۔ خاکم بدہن آپ دنیا میں نہ رہے تو یہ سوال ہے کہ یہ لوگ کیسے اکٹھے ہوں؟ تو آپ کا کوئی ارادہ ہے کہ ایک آپ کی بیٹی ہے۔۔۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ اگر اکھٹے ہوں گے تو آپ کے خاندان کے کسی فرد پرہی اکھٹے رہیں گے تو آپ اپنا سیاسی وارث بیٹی کو بنانا چاہیں گے ؟ 

قائد تحریک : سلیم صافی بھائی !۔۔۔آپ نے دیکھا کہ میں نے اپنے کسی بھائی اور بہن کو کونسلر تک نہیں بنا یا۔۔۔نہ میں انہیں سیاست میں لایا۔۔۔ حتیٰ کہ شادی کے بعد جو سابقہ ہماری بیوی صاحبہ تھی۔ ان کو بھی میں سیاست کے اندر نہیں لایا تھا ۔ جیسے ابھی آپ نے عمران خان کا نام لیا اب تو وہ نظر آتے نہیں ہیں۔۔۔ اب تو بھابھی زیادہ نظر آتی ہیں ۔ تو اس طرح میرا کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ بیٹی کو بالکل کو فری will ہے کہ وہ اپنی تعلیم میں۔۔۔ جو اللہ کا کرم ہے وہ تعلیم میں دلچسپی بھی بہت رکھتی ہے۔۔۔ اچھے گریڈ حاصل کررہی ہے۔۔۔ تو جو بھی وہ شعبہ اختیار کرنا چاہے گی تووہ کرے گی۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کوPolitics سے جوInterestہوتا ہے نیچرلی وہ نہیں ہے ۔ 

سلیم صافی : لیکن الطاف بھائی!۔۔۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ آپ قد کاٹھ میں ۔۔۔ پارٹی کی جو سکینڈ lear ہے۔۔۔ اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کے ہوتے ہوئے۔۔۔ یا خاکم بدہن آپ کے بعد آپ کی پارٹی میں کوئی شخصیت ایسی ہے کہ جس سے آپ کی پارٹی کے یہ لوگ الطاف حسین کے بعد اس کو لیڈر مان سکتے ہیں؟ 

قائد تحریک : سلیم صافی بھائی ! میں یہاں پر ایک چیز کی وضاحت کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں ،
موومنٹ یعنی تحریک ہمیشہ ایک بہت بڑے مقصد کیلئے جنم لیتی ہے۔۔۔ وہاں کاز ہوتا ہے۔۔۔ وہاں مشن ہوتا ہے۔۔۔ مقصد ہوتا ہے۔۔۔ آئیڈیا لوجی ہوتی ہے۔۔۔اس کاحصول ہوتا ہے جبکہ سیاسی جماعت کامقصدصرف اقتدارکاحصول ہوتاہے۔
There is a great difference between a political party and a political movement.
Motive of a political party is only to achieve the governmental power, whereas Movement come into being for a cause.....thats it. My party is a political movement. I want to bring a positive revolution through democracy, through education, through teaching in Pakistan to bring the under privileged, down- trodden, poor and lower middle class masses into the corridor of powers. 
(ترجمہ: سیاسی جماعت اورتحریک میں فرق ہوتاہے۔سیاسی جماعت کامقصدمحض اقتدارکاحصول ہوتاہے جبکہ سیاسی تحریک ایک مقصد کے لئے وجودمیں آتی ہے۔ میری جماعت ایک تحریک ہے۔۔۔میں پاکستان میں مثبت انقلاب لاناچاہتاہوں۔۔۔ غریب،محروم اورنچلے متوسط طبقہ کواقتدارکے ایوانوں میں لاناچاہتاہوں۔۔۔ جمہوریت کے ذریعے ۔۔۔تعلیم کے ذریعے۔۔۔تبلیغ کے ذریعے)
میری پارٹی ایک موومنٹ ہے یعنی تحریک ہے۔۔۔ میں ملک میں تبدیلی لانا چاہتا ہوں۔۔۔میں موروثی سیاست کے خلاف ہوں ۔ اب رہا آپ نے جیسے کہا کہ خدانخواستہ آپ کو کچھ ہوگیاتو۔۔۔’’ کل نفس ذائقتہ الموت‘‘ ۔۔۔ ہر کسی کو موت کامزہ چکھنا ہے ۔ اللہ کا کرم ہے میری نظریاتی پارٹی ہے۔۔۔ میں نے صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ماشاء اللہ اتنے نظریاتی ساتھی بنا لئے ہیں جن کے دامن میں سمجھتا ہوں بے داغ ہیں۔۔۔ یعنی جن کے دامن پرکوئی داغ نہیں ہے ۔ اور انشاء اللہ وہ لوگ تحریک کوسنبھالیں گے۔

سلیم صافی : الطاف بھائی! اس میں ایک مسئلہ ہوا ہے۔۔۔ شروع میں ہم سمجھتے تھے کہ عظیم احمد طارق صاحب آپ کے نمبر 2بنیں گے ۔۔۔ پھر ڈاکٹر عمران فاورق صاحب کے بارے میں کسی وقت یہ تاثر تھا۔۔۔ پھر مصطفی کمال صاحب کے بارے میں تھا۔۔۔ اب کوئی دنیا سے چلے گئے۔۔۔ کوئی آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ ابھی جو باقی لاٹ ہے، ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ آپ کی رابطہ کمیٹی اور ان لوگوں نے کرنا ہے ۔۔۔لیکن آپ کی دی ہوئی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے کریں گے۔۔۔ آپ کو اگر اختیار دیاجائے تو الطاف حسین صاحب کے بعد آپ یہ قرعہ فال کس کے نام نکالنا چاہیں گے؟۔۔۔ فاروق ستار صاحب ہوں گے۔۔۔ حیدر رضوی صاحب ہوں گے۔۔۔ کوئی دوسرے۔۔۔ تیسرے ؟

قائد تحریک : دیکھئے سلیم صافی بھائی !۔۔۔ اسٹینڈنگ وصیت بار بار میں رابطہ کمیٹی کے ساتھ دوہراتا رہتا ہوں ۔ رابطہ کمیٹی میں مستقل لوگ آتے ہیں جاتے ہیں ۔ تو بار بار میں دوہراتا رہتا ہوں کہ جو ہماری رابطہ کمیٹی۔۔۔ سینٹرل ایگزیکٹو کونسل۔۔۔ سیکٹرز انچارجز ہیں۔۔۔ سب مل کر باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعے اپنی رائے دیں گے۔۔۔ اور سب کردار۔۔۔ اطوار۔۔۔ ماضی ۔۔۔ ان کے انداز۔۔۔ طریقہ کار۔۔۔ رہنے کا ۔۔۔ بات کرنے کا۔۔۔ لوگوں سے ڈیل کرنے کا۔۔۔ یہ سب چیزیں دیکھ کر جس کو وہ بہتر سمجھیں گے وہ انہیں چن لیں گے ۔ 

سلیم صافی : نہیں الطاف بھائی!۔۔۔اس لاٹ میں الطاف حسین صاحب اپنا ووٹ ان میں سے کس کو دینا چاہیں گے ؟

قائد تحریک : میں کسی کو جیسے آپ نے خود چند نام لئے۔۔۔ ایسے نام لوگوں کے پاس ہیں۔۔۔ لوگ جانتے ہیں۔۔۔ لوگوں کو بتانے کی ضرور ت نہیں ہے ۔ ماشااللہ سمجھدار ہیں ۔۔۔ پڑھے لکھے ہیں۔۔۔ اور میرے لوگ نظریاتی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ کون کتنا وقت دیتا ہے ۔۔۔ کون کتنا سینئر ہے۔۔۔ سلیم بھائی ! موومنٹ میں اور پولیٹیکل پارٹی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ لوگ ماشاء اللہ نظریاتی ہیں وہ جانتے ہیں تو یہ کام صرف اور صرف رابطہ کمیٹی ، سی ای سی او رسیکٹر مل کر کریں گے ۔ 

سلیم صافی : ٹھیک ، الطاف بھائی !میں معذرت چاہتا ہوں اس جگہ بیٹھ کر بعض اوقات ایسے سوال بھی کرنا پڑ جاتے ہیں جو مناسب نہیں ہوتے ۔۔۔جی نہیں چاہتا لیکن آج کل کچھ لوگ جو مائنس ون پہ ۔۔۔یا مائنس الطاف پہ زور دے رہے ہیں۔۔۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں ۔۔۔ یقیناًکسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ایم کیوایم کے اندر قائد کی تبدیلی کی بات کرے لیکن کچھ لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ الطاف حسین صاحب نے پہلے تو اپنی زندگی۔۔۔ اپنی سہولت ۔۔۔اپنی قوم کیلئے۔۔۔ اور اپنی پارٹی کے لئے قربان کردی۔۔۔ لیکن اب وہ اپنے لئے پارٹی کو یا ان لوگوں کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ تو پارٹی کی خاطر۔۔۔ اور مہاجر قوم کی خاطر کسی وقت پر آپ پارٹی قیادت سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوسکتے ہیں ۔ 

قائد تحریک : دیکھئے سلیم بھائی پہلے تھوڑی سی اصلاح کردوں ۔ ایک ٹائم تھا جب یہ مہاجر قومی موومنٹ تھی ۔ آپ نائن زیرو میرے غریب خانے متعدد بار آچکے ہیں ۔۔۔ پہلے یہ مہاجر قومی موومنٹ تھی ۔ اب یہ پشتون موومنٹ ۔۔۔ گلگت موومنٹ ۔۔۔ سرائیکی موومنٹ ۔۔۔ بلوچ موومنٹ ۔۔۔پنجابی موومنٹ۔۔۔ مہاجر موومنٹ بھی ہے۔۔۔ یعنی یہ پورے پاکستان کے جومحروم لوگ ہیں ان سب کی نمائندہ جماعت ہے ۔ 

سلیم صافی : آپ ہمارے بیرسٹر سیف صاحب کو سینیٹ میں بھی لائے ہیں۔۔۔ اب تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ آپ کی جانشینی کے دعویدار نہ بن جائیں ۔ 

قائد تحریک : دیکھئے سلیم صافی بھائی !بیرسٹر سیف ہوں یا پنجاب کا کوئی ساتھی ہے۔۔۔ آتے ہیں۔۔۔پنجاب کے کتنے لوگ ہمارے سینیٹ کے اندر ہیں ۔۔۔کتنے ہمارے ایم پی ایز ہیں۔۔۔ اسی طریقے سے پشتون بھی ہیں۔۔۔ اگر وہ Talented ہیں تو رابطہ کمیٹی کے ممبر بن سکتے ہیں۔۔۔ سینیٹ کے رکن بن سکتے ہیں۔۔۔تو پارٹی کے لیڈر کیوں نہیں بن سکتے ؟

سلیم صافی : نہیں وہ اتنے Talented لوگ ہیں۔۔۔ اتنے دولتی لوگ ہیں۔۔۔ پارٹی کے وسیع تر مفاد میں کسی وقت خان عبد الولی خان کی طرح آنا پڑ جائے تو پارٹی کی خاطر آپ قربان ہوکر ہٹ جائیں گے؟ 

قائد تحریک : جی بالکل۔۔۔ میں خوش ہوں۔۔۔ مجھے اپنے ساتھیوں پر بہت فخر ہے۔۔۔ اور میں چاہتا ہوں کہ وہ سنبھال لیں ۔لیکن ایسا ہے کہ آپ ذرا میرے وکیل بن جایئے اور میرے ساتھیوں سے کہیے۔۔۔ قائد کو آرام دو۔۔۔ بانی تو وہ ہیں۔۔۔ بانی رہیں گے۔۔۔ مرنے کے بعد ان کا خطاب تبدیل نہیں سکتا۔۔۔ وہ creator۔ انہوں نے پارٹی کو creat کیا ہے ۔۔۔ آپ نئی قیادت چن لیں ۔۔۔اگر ساتھی راضی ہوتے ہیں توٹھیک ہے ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی ان کوآپ سے عقیدت اتنی زیادہ ہے۔۔۔ یا بعض لوگ کہتے ہیں خوف اتنا زیاد ہ ہے کہ جب تک آپ کی طرف سے کوئی اشارہ نہ ہو رابطہ کمیٹی یہ کبھی ہونے نہیں دے سکتی ۔ 

قائد تحریک : میں رابطہ کمیٹی سے کہتا ہوں ۔ بڑے جلسوں میں آپ کو بطور سلیم صافی صاحب ۔۔۔وہ آپ کو وہاں اسٹیج پر لیجا کر صرف جاکر کہیں کہ بھئی قائد کو آرام کرنے دیں تھوڑا۔ آپ لوگ کب تک لیمو میں جتنا رس تھا وہ تو نکل چکا ہے اب کیا چاہتے ہیں ۔ 

سلیم صافی : نہیں الطاف بھائی !مجھے یہ بات تو کہنی وہ لوگ بڑی مشکل سے مجھے زندہ آنے دیں گے ۔ 

قائد تحریک : نہیں ایسی بات نہیں ۔۔۔میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں ۔۔۔آپ کو کوئی ساتھی مجال ہے ، ہاتھ لگانا تو کجا ایک لفظ نہیں کہے گا ۔ ہمارے لوگ تہذیب یافتہ ہیں ۔ 

سلیم صافی : یقیناًوہ تہذیب یافتہ تو ہیں لیکن آپ سے محبت اتنی ہے کہ اس معاملے پر وہ کوئی بھی بات سننا گواراہ نہیں کرتے ہیں ۔ 

قائد تحریک : یہاں میٹافزکس شروع ہوجائے گی۔۔۔یہاں وہ چیزیں شروع ہوجائیں گی جو دماغ میں نہ آنے والی ہوتی ہیں ۔ میں نہ تو صدر ہوں ۔۔۔ نہ میں جاگیردار ہوں ۔۔۔ نہ میں کسی قبیلے کا سردار ہوں۔۔۔ نہ وڈیرہ ہوں۔۔۔ نہ زمیندار ہوں ۔۔۔اور نہ ہی سرمایہ دار ہوں کہ میری دولت کے انبار لگے ہوں۔۔۔ مجھے پچیس سال ہوگئے ہیں۔۔۔ساتھی مجھے اپنے ہی وطن میں آنے نہیں دیتے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ وہیں سے بیٹھ کر قیادت کریں۔ حالانکہ وہ چاہتے ہیں۔۔۔ میرا بھی دل چاہتا ہے۔۔۔ کون اپنے لوگوں سے دور رہنا پسند کرے گا ۔۔۔ کوئی بھی پسند نہیں کرتا ۔ میں یہاں پر مجبوراً رہ رہا ہوں کیونکہ میں پاکستان میں واحدرہنما ہوں کہ جو کھل کر بلا خوف و خطر بات کرتا ہوں ۔ پاکستان میں قائد اعظم اور لیاقت علی خان شہید کے بعد کوئی پاکستان میں سیاستدان ایسا ہے ہی نہیں ، جرات والا ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی آپ آتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔؟ یہ کب تک ہم آپ کو ٹیلی فونوں پر سنتے رہیں گے ؟

قائد تحریک : اچھا جی پھر میں آنے کیلئے تیار ہوں لیکن جو صورتحال آپ نے ابھی کل کا واقعہ جو افسوسناک ہوا ہے جس میں ہوم منسٹر یعنی جو اس لئے ہوتا ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈ ر کو برقراررکھے تو وہی محفوظ نہیں ہے ۔ جب صدر مملکت ہی محفوظ نہیں ہوں ۔۔۔ جس ملک کا وزیراعظم ہی محفوظ نہ ہو۔۔۔ تو بھائی اب ایسی صورتحال میں کوئی چانس میرے ساتھی نہیں لیناچاہتے حالانکہ میں کہتا ہوں کہ مجھے آنے دیں ۔ میں تو آناچاہتا ہوں وہ مجھے نہیں آنے دیتے ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی ! یہ خانزادہ صاحب اور مجھ جیسے بے آسرا لوگ ہیں ۔ آپ کے تو ہزاروں کارکنان ہیں جو آپ پر جان نچھاور کرتے ہیں۔۔۔ کوئی آپ کے قریب بھی نہیں آسکتا ہے۔۔۔ فاورق ستار بھی الحمد اللہ یہاں رہ رہے ہیں۔۔۔ یہ باقی لوگ بھی رہ رہے ہیں 

قائد تحریک : جی آپ جو بات کہہ رہے ہیں اس کیلئے میں نے آج سے ایک سال پہلے جب لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر محترم واجد شمس الحسن صاحب تھے۔۔۔پاکستانی پاسپورٹ بنوانے کیلئے پہلے نادرا کاکارڈبنتاہے۔میں نے وہ کاکارڈبنوانے کیلئے فارم بھرا ۔۔۔تصویریں کھنچوائیں۔۔۔ سب کچھ ہو گیا ۔ اس کا نمبر آج تک میرے پاس موجود ہے ۔ اس فارم کی کاپی آج تک موجود ہے ۔ جو جو چیزیں اس کے متعلق ہیں وہ میرے پاس محفوظ ہیں۔لیکن نواز شریف صاحب کی گورنمنٹ میں وزارت داخلہ نے میراکارڈبننے سے روک دیا۔ میرا خیال ہے چوہدری نثار صاحب یا خواجہ آصف اس کابہتر جواب دے سکتے ہیں۔ یا آپ ایک دفعہ واجد شمس الحسن صاحب سے پوچھ لیں کہ بھئی الطاف حسین صاحب کا کارڈ کیوں نہیں بنا۔۔۔ تو میرا توپورا ارادہ تھاپاکستان آنے کا ۔ اور پھر میں اپنا پاسپورٹ بنواؤں ۔ یہ کیس وغیر ہ نہیں ہوا تھا ، منی لانڈرنگ یا اس قسم کا کوئی کیس بھی ہے ۔

سلیم صافی : الطاف بھائی موقع ملے تو آپ پاکستان کی خاطر برٹش سٹیزن شپ چھوڑنے کیلئے تیار ہیں ؟ 

قائد تحریک: ایک لاکھ مرتبہ۔۔۔پاکستان میرا وطن ہے۔۔۔ پاکستان میری جان ہے۔۔۔ پاکستان میرا دل ہے۔۔۔ میں اس کی خاطر ۔ اس میں ہی تو تبدیلی لانا چاہتا ہوں۔۔۔ اس ملک کو قائد اعظم کے وژن کا پاکستان بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ اس ملک کو ان بزرگوں کے وژن کے مطابق بناناچاہتاہوں جو چاہتے تھے کہ ایک ایسا ملک ہو جہاں انصاف ہو۔۔۔ قانون ہو۔۔۔ بے ایمانی سے وہ ملک پاک ہو۔۔۔ کرپشن فری سوسائٹی ہو۔۔۔ سب کو حقوق ملیں۔۔۔کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔۔۔victimisation نہ ہو۔۔۔ Discrimination نہ ہو ۔۔۔ میرٹ ہو۔۔۔دوہرا تعلیمی نظام نہ ہو۔۔۔تعلیم کا نظام صحیح ہو۔۔۔ ایک ہی درجے کی تعلیم سب کو دی جائے۔ 

سلیم صافی : برٹش سٹیزن شپ آپ نے مجبوراً لی ہوئی ہے، اگر آپ پاکستان آئے تو اس کو چھوڑنے کیلئے تیار ہیں ؟ 

قائدتحریک: بالکل۔۔۔ بالکل 

سلیم صافی : اس وقت وہاںBritinمیں کونسے کیس کوآپ اپنے لئے بڑا سمجھتے ہیں۔۔۔ منی لانڈرنگ کا یا عمران فاروق کا ؟

قائد تحریک: میں دونوں میں سے کسی کو بڑا نہیں سمجھتا۔۔۔ دونوں کیلئے میں تیار ہوں۔۔۔ میرا ضمیر۔۔۔ میرا دل۔۔۔ اوراوپر اللہ جانتا ہے کہ میں دونوں کیسوں میں ملوث نہیں ہوں ۔۔۔ میں کسی کو بڑا اور چھوٹا کہہ ہی کیسے سکتا ہوں ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی ! یہ اتنے پیسے آپ کیوں رکھتے تھے یا پھر یہ جھوٹ بولا جارہا ہے کہ اتنے پاؤنڈ برآمد ہوئے ؟ 

قائد تحریک : دیکھئے ! برطانیہ میں گھرپرپیسے رکھنا کوئی جرم نہیں ہے نمبر1۔۔۔اور نمبر 2 اتنے پیسے ۔۔۔ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ہاں سارا کام چلتا ہے چندے پر۔۔۔ اب وہ جوDonation اووسیز یونٹس ہیں ۔۔۔ہمارے پوری دنیا میں ہیں۔۔۔ میں کس کس نام لوں۔۔۔ وہاں سے غریب بھی آتے ہیں۔۔۔ مڈل کلاس بھی آتے ہیں۔۔۔اور پیسے والے بھی آتے ہیں۔۔۔ تو اس میں جو اکاؤنٹ ہے ایم کیوایم کا وہ میں کبھی ڈیل نہیں کرتا لیکن بعض دفعہ وہ جو پیسے دیتے ہیں۔۔۔جیسے بیس ہزار دے دیئے۔۔۔پچیس ہزار پاؤنڈ دیدیئے۔۔۔ تو اس کو میں رکھتا تھا ۔۔۔ اس لئے کہ جہاں جہاں ۔۔۔جس جس جگہ پارٹی کو ضرورت پیش آتی تھی میں دیدیتا تھا۔۔۔ ورنہ جو ریگولر طریقہ ہے ہمارا خرچے کا تو وہ تو ہمار ااکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ ہے ۔۔۔ اس کے اکاؤنٹنٹ ہیں۔۔۔ کوالیفائڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں وہ دیکھتے ہیں۔

سلیم صافی : ملا محمد عمر صاحب بھی اپنا سارا بکسا رکھتے تھے کہ وہاں کہ جو حکمران تھے جو بھی آتا تھا کہ اس کو دیدیتے تھے اس معاملہ میں آپ کا اور ان کا طریقہ ایک جیسا ہے ۔ 

قائد تحریک: نہیں میں نے کبھی ۔ میں آپ کو بتاؤں سلیم صافی بھائی!۔۔۔ میرے یہاں پر بھی لوگ جانتے ہیں اور پاکستان میں بھی ۔ پاکستان سے جب میں یہاں آیا تھا تو میرے پاس ایک وقت آیا تھا کہ پانچ پاؤنڈ بھی نہیں تھے ۔اس وقت مرکزی کابینہ فوج کے ساتھ چلی گئی تو اس وقت تقریباً کوئی 9کروڑ روپے میں چھوڑ کرآیا تھا وہ میرے پاس نہیں تھے ۔۔۔میرے پاس نہیں ہوتے تھے وہ پیسے ۔ نہ ہی میرے پاس پیسے ہوتے ہیں۔۔۔پیسے ہوتے ہیں پارٹی کے ا کاؤنٹ میں۔۔۔ یہ ہوتے ہیں ہنگامی بنیادوں پر کہ بہت سے لوگوں کوبوقت ضرورت دیئے جاسکیں ۔ 

سلیم صافی : الطاف بھائی کتنے پیسے برآمد کئے تھے انہوں نے آپ کے گھر سے ۔ اس کا کوئی اماؤنٹ؟ 

قائد تحریک : میرا خیال ہے ڈھائی سے تین لاکھ کے قریب ہوں گے ۔ 

سلیم صافی : اچھا۔۔۔ڈھائی سے تین لاکھ پاؤنڈ۔۔۔ اور یہ قانونی رستے سے آئے تھے؟۔۔۔ کس رستے سے آئے تھے؟ قانونی رستے سے آئے ہیں یا بینک کے ذریعے توپھر تو منی لانڈرنگ ہوئی ہی نہیں ہے ۔ 

قائد تحریک : دیکھئے : وکلاء مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ ہمارے پاس ایک ایک رسید موجود ہے ۔ لیکن مثال کے طورپر آپ نہیں چاہتے کہ سلیم صافی صاحب کا نام آئے تو آپ کا نام کہاں سے آئے گا لیکن ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اماؤنٹ دیئے ہیں بڑے بڑے ان کے نام۔۔۔ رسیدیں۔۔۔ ہر چیز ہمارے پاس موجود ہیں ۔ 

سلیم صافی : میں نے کہا کہ جیسے آپ نے دیئے ۔ میں نے تو کبھی نہیں دیئے ایم کیوایم کو میں تو کراچی میں نہیں رہتا ؟

قائد تحریک: نہیں نہیں ۔ میں تو فرض کیجئے ۔ جیسے آپ نے فرض کی بات کی تھی ۔ 

سلیم صافی : اچھا چھا۔۔۔ الطاف بھائی ! آپ کے خیال میں کیونکہ ہر انسان اپنا دوست دشمن چنتا ہے۔۔۔عمران فاروق صاحب آپ کے قریبی ساتھی تھے۔۔۔آپ کے نزدیک ان کو کس سے خطرہ تھا؟۔۔۔ اور کس نے ان کو قتل کرنے کی یہ قوی حرکت کی ہوگی ؟ 

قائد تحریک: دیکھئے ! کیونکہ مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے میں اس پراظہار خیال کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اور یہ بہت خوشی کی بات ہے جب اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم یہاں سے گئی پاکستان اور وہاں ۔ارے سلیم صافی صاحب!۔۔۔ جو سوال آپ مجھ سے کررہے ہیں ناراض نہ ہوں تو آپ سے کہوں ایک بات؟

سلیم صافی : جی جی الطاف بھائی ! ۔۔۔لیکن وہ پھر ہمارا انٹرویو بھی کہیں گے کہ فیکس کردیجئے ۔ 

قائد تحریک : ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کا آپ کو بھی معلوم ہے ۔ 

سلیم صافی : ایک میرے ذہن میں اکثر آتا ہے ڈاکٹر عمران فاروق صاحب سے آپ کے بہت اچھے تعلقات تھے ۔۔۔ ایک ایسے موقع پر جب ایم کیوایم پر مشکل وقت آیا ہوا ہے تو پرویز مشرف صاحب آپ کی مدد کو آگے نہیں بڑھے۔۔۔ آپ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ تھوڑی سی بے وفائی کردی؟ 

قائد تحریک : میرا خیال ہے انہوں نے اس وقت بھی شاید نہیں کی ۔ 

سلیم صافی : وہ تو آپریشن کی بھر پور حمایت کررہے ہیں ؟ 

قائد تحریک ؛ ٹھیک ہے آپریشن کی تو ہم بھی حمایت کررہے ہیں۔۔۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ غیرجانبدارانہ ہونا چاہئے۔۔۔ ٹارگٹڈ نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔جیسے سلیم بھائی! ۔۔۔میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔۔۔ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ سے کوئی شکایات نہیں ہے۔۔۔ فوج سے کوئی ذاتی شکایات نہیں ہے۔۔۔ اسٹیبلشمٹ سے مجھے کوئی ذاتی شکایت نہیں ہے۔۔۔ دو چار طریقہ کار ایسے ہیں جس کو میں ملک کیلئے بہتر نہیں سمجھتا ۔ میں سیاست کاطالب ہوں ۔ سیاست کا طالب علم ہونے کے ناطے مجھے معلوم ہے کہ بعض اقدامات اسٹیبلشمنٹ کے صحیح نہیں ہیں ۔ آپ Creatکریں گے ایسے مونسٹر جو proxy کیلئے creat کئے جائیں تو وہ دشمنوں کو کھانے کے بعد پلٹ کر آپ کو کھاتے ہیں۔۔۔ میری نظر میں یہ کلیہ ہے ۔ اس وقت بھی جب میں آپ سے گفتگو کررہا ہوں کراچی میں رینجرز والے ایک طرف کہتے ہیں کہ 
We are here to operate to aprehend culprits who are involved in Kidnapping for ransom, killings ect. 
یہ حقیقی کے دہشت گرد ۔۔۔ جرائم پیشہ افراد۔۔۔ جن کو لوگ جانتے ہیں ان کو لانڈھی میں۔۔۔ ملیر میں آج بھی رینجرز والے لا لا کر بٹھا رہے ہیں۔ اگر یہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی درست ہے تو کیا اس سے امن قائم ہوگا ؟ تو وہاں کے لوگ جو ہیں وہاں کے دکاندار نائن زیرو آرہے ہیں کہ وہ ہمارے ہوٹل سے کھانا اٹھا کر لے گئے ۔۔۔پیسے نہیں دیئے ۔ بھائی! تو وہ لے گئے تو میں کیا کروں ؟ اب دیکھئے نہ میں کرنہیں سکتا کچھ اس لئے کہ وہاں رینجرز موجود ہے ۔ 

سیلم صافی : آپ بھی تو دیکھئے نہ جنرل پرویز مشرف اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل تھے ۔ آپ نے انہیں اتنے لمبے عرصے تک حمایت کی ۔۔۔ پھر کبھی کبھی آپ فوج کو مارشل لاء لگانے کی بھی دعوت دیتے ہیں ۔۔۔پھر کبھی ان کے خلاف بڑی سخت زبان بھی استعمال کرتے ہیں ۔ آپ کو کونسے رویئے پر پچھتاوا ہے ؟ فوج کو مارشل لاء کی دعوت دینے پر یا ڈی جی رینجرز کو دھمکی دینے پر اور فوج کے بارے میں سخت زبان استعمال کرنے پر ؟

قائد تحریک: میں تو انقلاب کی خاطر۔۔۔یعنی ایسا ایماندار۔۔۔بہادراورنیک جنرل ہو یا فوجی ہو جو واقعتا آئیں اور کرپٹ جرنیلوں کا بھی محاسبہ کریں ۔۔۔ کرپٹ سیاستدانوں کا بھی محاسبہ کریں ، بشمول الطاف حسین۔۔۔ اگر میرا کوئی کرپشن کا کیس نکلتا ہے تو مجھے بھی سزا دیں ۔۔۔ اور ملک کو کرپشن فری سوسائٹی بنائیں اور religious fanaticismکے بغیر ہو کے کریں۔۔۔ قائد اعظم کی11اگست،1947کی تقریرکو آئین کا حصہ بنائیں۔۔۔ سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ آئین کا حصہ نہیں ہے جس کو آئین کا حصہ ہونا چاہئے۔۔۔ یعنی مذہب انسان کاذاتی عقیدہ ہے۔۔۔ ملک کا نظام ٹھیک ہے کہ جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہاں قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔اصل میں لوگوں کو اسلام کے بارے میں معلومات ہی نہیں ہے ۔۔۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں قرآن بھی موجود تھا اور احادیث بھی موجود تھیں۔۔۔چند صحابہ کرامؓ جنہوں نے سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔۔۔ ان سے براہ راست علم حاصل کیا تھا۔۔۔ مثال کے طورپر آج ماہ رمضان المبارک میں تراویح کی نماز ہوتی ہے۔۔۔ عمومی طورپرہم سمجھتے ہیں کہ نمازتراویح فرض ہے جبکہ حضور ﷺ کے زمانے میں کم از کم جو میری ناقص معلومات ہیں کبھی تراویح کی نماز باجماعت نہیں ہوئی۔ خلفائے راشدین نے اپنے زمانے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اجماع کرکے اجتہادکیالیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اجتہاد ختم ہوگیا۔ بعض لوگوں کے خیال میں آپ ٹیلیفون پر میرا انٹرویو لے رہے ہیں یہ شرعاًنا جائز ہے ،

سلیم صافی : میرے خیال میں تو جائز ہے جی 

قائد تحریک : کیسے جائز ہے ، کہاں کب کوئی حدیث تو بتائیے ؟

سلیم صافی: اجتہاد سے جائز ہوگیا۔۔۔ اس میں اگر کوئی غلط چیز تھی تو خیر یہ طویل بحث بن جائے گی 

قائد تحریک : تو میں یہی کہہ رہا ہوں کہ آئین میں شق یہ رکھ دیتے کہ قرآن و سنت کے بنیادی اصول ہیں لیکن زمانہ 21ویں صدی میں داخل ہوگیا ہے۔۔۔ جہاز کے اصول کیا ہوں گے۔۔۔ ریل گاڑی کے اصول کیا ہوں گے۔۔۔ بس کے اصول کیا ہوں گے۔۔۔ اب آپ بتائیے کہ ہمارے یہاں آج بھی بہت سے علماء کہہ رہے ہیں کہ جسمانی اعضاء کیTransplantation حرام ہے ۔

سلیم صافی: الطاف بھائی بعض مولوی تو ایسے بھی ہیں جو انسانی قتل کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔۔۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ الطاف بھائی ایک یہ کہ سب لوگ یہ کہتے ہیں کہ کراچی 21 ویں صدی سے 20 ویں صدی کی طرف پیچھے جارہا تھا۔۔۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ اس آپریشن کے بعد کراچی 21ویں صدی والا شہر بننے جارہا ہے۔۔۔ تواگر کراچی کے لوگوں کو ریلیف مل رہا ہے تو سب سے زیادہ تو الطاف بھائی کو خوش ہونا چاہئے ، لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں الطاف بھائی آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ۔

قائد تحریک: ایک مثال دوں آپ کو سلیم بھائی!۔۔۔جنرل ایوب خان کا جب مارشل لاء لگا تھا۔۔۔ گھی کے ڈبے۔۔۔ دودھ کے ڈبے ۔۔۔ بوریوں کی بوریاں سڑکوں پر پھینک دی گئی تھیں۔۔۔ کچرا کنڈی میں پھینک دی گئی تھیں کہ پکڑے جائیں گے تو گردن اڑ جائے گی۔۔۔ ہر جگہ صاف ستھری چیزیں ملنے لگی تھیں اور وہی جنرل ایوب خان تھے کہ آٹھ آنے اضافہ ہوا چینی کی قیمت میں تواس پر نعرے لگنے لگے ’’ایوب کتا ۔۔۔ہائے ہائے‘‘۔۔۔نتیجہ یہ ہواکہ انہیں جانا پڑا ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بسااوقات حبس ہوتا ہے۔۔۔ لوگ پنکھے جھلتے ہیں۔۔۔ سانس نہیں لی جاتی۔۔۔ تو حبس ہوتاہے۔۔۔ کبھی کبھی حبس میں بالکل خاموشی ہوتی ہے۔۔۔کسی قسم کا شور نہیں ہوتا۔۔۔پھر بادل آتے ہیں۔۔۔ وہ گرجتے ہیں ۔۔۔ شور طوفان بھی آتا ہے۔۔۔بارش بھی آتی ہے۔۔۔ تو عارضی امن کو مستقل امن نہ سمجھا جائے ۔

سلیم صافی : ماشا اللہ ۔۔۔ ماشاء اللہ ابھی آپ جوان ہیں ، بزرگ نہیں ہیں۔۔۔ شکر ہے کوئی آگے بھی نہیں ہے۔۔۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ بعض اوقات یہ کہتے ہیں کہ آپ کے مزاج اور رویے میں۔۔۔ طبیعت میں غصہ زیاد ہ آگیا ہے حالانکہ پہلے ایسا نہیں تھا ۔ پہلے آپ کبھی کسی دن کوئی بات غصے میں کہہ دیتے تھے لیکن اگلے دن آپ اس پر معذرت بھی کرلیتے تھے ۔

قائد تحریک: ارے بھائی یہ عام سی چیز ہے۔۔۔کہ غصہ میں انسان کا ایڈریلین لیول کبھی ہائی ہوتا ہے۔۔۔ گھر میں انسان بچوں پر غصہ کرتا ہے ۔۔۔ انہیں ’’بدمعاش۔۔۔ بے ہودہ ۔۔۔ بدتمیز ‘‘ کہہ دیتاہے۔۔۔ اب بدمعاش کون بولے گا ۔

سلیم صافی : لیکن اس مرتبہ جو آپ نے بات کی اس پر معذرت کرنے پر بڑی تاخیر کردی ہے۔اس لئے آپ کے ساتھیوں کے لئے بھی مشکلات بنیں ۔

قائد تحریک : نہیں ، نہیں ۔۔۔اصل میں فوج کو میں جو پکار رہا تھا ۔۔۔میرا مقصد تھا کہ میری بات چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب تک پہنچ جائے کہ ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی رینجرز کراچی میں جو کام کررہے ہیں اس سے سخت نفرت پھیل رہی ہے ، ایک طرف وہ پکڑا دھکڑی کررہے ہیں دوسری طرف وہ پھر Victimisationکررہے ہیں اور لسانیت پیداکررہے ہیں ۔۔۔اس کو پروموٹ کررہے ہیں ۔

سلیم صافی :۔ لیکن الطاف بھائی دیکھیں کہ ہندوستان سے علیحدگی کیلئے آپ کے آباؤ اجداد نے قربانی دی ۔

قائد تحریک: تو یہ ہمیں پاکستانیت سکھارہے ہیں؟

سلیم صافی :۔ نہیں۔۔۔ وہ آپ نے اس کیلئے ہجرت کی۔ میں کہیں پڑھ رہا تھا کہ آپ نے 71 کی جنگمیں بنگلہ دیش میں جاکر شایدحصہ لیا۔

قائد تحریک : نہیں میں نے بنگلہ دیش میں نہیں ، سونمیانی بیچ میں حصہ لیا۔۔۔ بنگلہ دیش ہم جارہے تھے لیکن ہماری جو رجمنٹ تھی وہ 57بلوچ رجمنٹ تھی۔۔۔ ہماری ڈیوٹی سونمیانی بیچ میں لگ گئی تھی جہاں سمندر سے نچلی پرواز کرکے بھارتی فوج کے طیارے آرہے تھے ۔۔۔ ان سے لڑنے کیلئے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے خندقیں کھودی ہیں۔۔۔ میں خندقوں میں پاکستان کے تحفظ کیلئے بیٹھا ہوں لیکن عصبیت وتعصب نے مجھے ملک کا غدار اور Victimبنادیا۔۔۔اس وقت میرے لب پرہرروزیہی دعا ہوتی تھی۔۔۔ یا اللہ! مجھے شہادت دیجیو کہ میں کم از کم دس بھارتی ماردوں اس کے بعد شہید ہوجاؤں۔۔۔ بس یہ دعا مانگتا تھا میں۔

سلیم صافی : میں کہہ رہا ہوں کہ اس ’’ را ‘‘ جس کے خلاف آپ لڑے اس ہندوستان سے مدد طلب کرنا الطاف بھائی یہ کیا؟

قائد تحریک : میں نے کبھی ہندوستان سے مدد طلب نہیں کی۔۔۔ جب میں دورے پر گیا تھاوہاں میں نے یہ ضرور کہا تھا ۔۔۔ دیکھو! ہم اس زمین سے اٹھ کر گئے تھے اور پاکستان میں19جون 1992ء جو آپریشن ہوا توہمیں جان بچانے کیلئے مجبوراً بھاگنا پڑا ۔سرکار دو عالم ﷺ کو جب مجبور ی میں مکہ چھوڑنا پڑا ، اس سنت پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اپنا وطن مجبوراً چھوڑا ۔۔۔ کوئی لندن گیا ۔۔۔کوئی امریکہ گیا۔۔۔ کوئی کینیڈا ۔۔۔کوئی آسٹریلیا گیا ۔۔۔جس کو جہاں جگہ ملی وہ گیا ۔۔۔ میں نے یہ کہا تھا کہ آپ لوگوں نے ہمارے لئے دروازے نہیں کھولے لیکن اگر دوبارہ آپریشن ہوتا ہے تو کیا ہندوستان والے ہم پر اتنا رحم کرسکتے ہیں کہ ہیومن رائٹس کی بنیاد پر ہمیں پناہ دے دیں؟۔۔۔ ہمیں جگہ دے دیں؟۔۔۔ تو زیادہ لمبا سفر نہ کرنا پڑے ۔

سلیم صافی : لیکن الطاف بھائی ابھی Recently آپ نے یہ کہا کہ ہندوستان میں اگرغیرت ہوتی تو وہ آکر ہمیں مدد کرتا ۔

قائد تحریک : نہیں نہیں ۔۔۔میں نے یہ کہا کہ یہ الزام غلط ہے ۔۔۔یہ جھوٹا ہے۔۔۔اگر ہندوستانی میری مدد کرتے ۔۔۔بھارت میری مدد کرتا۔۔۔ پیسے سے۔۔۔ یا اسلحہ سے۔۔۔ تو یہ رینجرز والے بغیر مقابلہ کیے ایک بھی ہمارے علاقے میں نہیں گھس سکتا تھا ۔

سلیم صافی : ٹھیک۔۔۔ اچھا الطاف بھائی !اس کی کیا وجہ ہے؟ابھی آپ نے فرمایا ۔۔۔درست فرمایا۔۔۔ کہ آپ اپنی جماعت کو قومی جماعت بنانا چاہتے ہیں تو رابطہ کمیٹی میں پنجابی بھی آگئے۔۔۔ آپ نے انہیں سینیٹر بھی بنادیا ۔۔۔ شروع میں اے این پی سے لڑائی ہوگئی ۔۔۔ جماعت اسلامی سے ہوگئی۔۔۔پھرسنی تحریک سے ہوگئی ۔۔۔پیپلز پارٹی سے ہوگئی۔۔۔ رینجرز سے ہوگئی۔۔۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

قائدتحریک : بھائی !۔۔۔میری رینجرز سے لڑائی نہیں ہوئی۔۔۔ رینجرز سے لڑائی۔۔۔ یا فوج سے لڑائی میری نہ کبھی تھی۔۔۔ نہ کبھی ہوگی ۔۔۔ اب اگر اسٹیبلشمنٹ میں جانے کے بعد کچھ لوگ ایسی غلط پالیسیاں بناتے ہیں۔۔۔مثلاً پروکسی وار کیلئے حقیقی بنائی گئی اورجنرل آصف نواز جنجوعہ چیف آف آرمی اسٹاف تھا ، اس کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے ۔۔۔ روزنامہ جنگ میں ہیڈ لائنز میں شائع ہوئی۔۔۔ کوئی سا بھی اخبار لے لیں۔۔۔جتنے اخبار ہیں سب میں ہیڈلائن میں شائع ہوئی کہ ’’ اگر تین مسلم لیگ اورچار فلاں ہوسکتا ہے تو ایم کیوا یم کئی کیوں نہیں ہوسکتیں اور الطاف حسین کا چیپٹر بند ہوگیا‘‘ ۔یہ چیف آف آرمی اسٹاف کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی پارٹی کے گروپ بنائے اورکسی کاچیپٹربندکرے ۔
میں رینجرز کے خلاف نہیں ورنہ تو رینجرز اور فوج کیلئے جلوس نکال رہاہوں۔۔۔ سیلوٹ کررہا ہوں۔۔۔یہ میری اپنی فوج ہے۔۔۔آج بھی میں باخدا ۔۔۔فوجی آئیں ہم سے ملیں۔۔۔ فوج ہمیں گلے لگائے۔۔۔ ہم صرف گلے نہیں ملیں گے بلکہ پاکستان کی خاطر۔۔۔ اس کی حفاظت کی خاطر اپنے گلے بھی دے دیں گے ۔

سلیم صافی : وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی دشمنی نہیں۔۔۔عداوت نہیں ہے۔۔۔ اور یہ جو موجودہ ڈی جی رینجرز ہے ویسے تو وہ بڑے دینی مزاج کے آدمی ہیں۔۔۔ کوئی ان کے مقابلے میں الیکشن لڑنا ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایم کیوا یم جوکرمنلزہیں ان کیلئے اسٹینڈ نہ لے اور ان کو اپنے صفوں سے نکال باہر کرے ، ہم ایم کیوایم کو ایک تنظیم کے طورپرگلے لگانے کیلئے تیار ہیں۔۔۔تو آپ تیار ہیں اس کام کیلئے جو رینجرز کا فورسز کا مطالبہ ہے ؟

قائد تحریک : دیکھئے سلیم بھائی! ، ایم کیو ایم میں یہ شروع سسٹم ہے۔۔۔ قتل و غارتگری ۔۔۔ بھتہ۔۔۔ چوری چکاری۔۔۔ یہ تو بہت بڑے ، میں کہتا ہوں کوئی جواینٹی سوشل سماجی برائیوں میں بھی ہوتا ہے جس سے نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔۔۔مثال کے طورپر ایک آدمی کو چرس پینے کی عادت ہے۔۔۔ یا ہیروئن پینے کی عادت ہے۔۔۔ ایسے آدمی کو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔۔۔اگرچہ یہ اس کا انفرادی فعل ہے لیکن یہ کیونکہ نشہ جو ہے یہ زہر ہے تو ایسی برائی والے۔۔۔کرمنل ایکٹیوویٹی والے افرادکوایم کیوایم واحد جماعت ہے جس میں نکال دیاجاتا ہے ۔ ایم کیو ایم نے آفاق کو نکالا۔۔۔ہم نے عامر کو نکالا ۔۔۔ ہم نے کتنوں کو نکالا ان کو اٹھاکر کون لے کر چلاگیا۔۔۔ ہر ایک کرمنلز کو پھر یہی لے کر گئے جن کو نکالنے کی بات کررہے ہیں۔۔۔انہیں اسلحہ دے کر واپس پھر شہر میں لایا گیا ۔

سلیم صافی: لیکن الطاف بھائی! ایک دوسرا بھی پہلو ہے۔۔۔ اگر ایم کیو ایم میں سب کچھ ٹھیک ہورہا ہے تو پھر یہ انیس قائم خانی صاحب کیوں چھوڑ گئے؟۔۔۔مصطفی کمال صاحب کیوں چھوڑ گئے؟۔۔۔ یہ اس طرح کے لوگ کیوں چھوڑ گئے۔۔۔کل تک آپ پے جان فدا کرنے کو تیار تھے ؟ 

قائد تحریک: صرف یہی نہیں اور لاکھوں لوگ چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ لاکھوں لوگ آگئے۔۔۔ان آؤٹ کا procesموومنٹ میں ہوتا رہتا ہے۔۔۔ باخدا ہم نے نہ مصطفی کمال کو نکالا۔۔۔ نہ انیس قائم خانی کو نکالا ۔۔۔نہ انیس ایڈوکیٹ کو نکالا۔۔۔ نہ ڈاکٹر عمران فاروق صاحب کو نکالا۔۔۔ان کونکالے جانے کی بات سب جھوٹ ہے ۔

سلیم صافی : اچھا الطاف بھائی! آج تو دھرنوں کے حوالے سے انکشافات ہورہے ہیں۔۔۔ میرے دل میں ایک سوال کافی عرصے سے تھا کہ دھرنوں کے دوران آپ سے کسی نے اس کی حمایت کیلئے رابطہ کیا تھا وہ خاص لوگوں میں سے کسی نے؟

قائدتحریک : ہم سے جی جی رابطہ کیا تھا اپنے منہاج القرآن کے مولاناڈاکٹرطاہر القادری صاحب نے۔ انہوں نے رابطہ کیا تھا اور 
Indirectly پی ٹی آئی والوں نے بھی رابطہ کیا تھاکہ آپ لوگ بھی آئیں ملک کے نظام کو بدلیں ۔

سلیم صافی: میں ان کے رابطوں کی بات نہیں کررہاہوں۔۔۔ جنہوں نے دھرنے والوں کو نکالا تھا ان کی طرف سے آپ سے کوئی رابطہ ہوا تھا ؟

قائد تحریک : فوجیوں کی طرف سے ؟

سلیم صافی : اصل میں یہ اتنا۔۔۔ آپ تو وہاں ہیں ماشاء اللہ ، لیکن جن لوگوں نے دھرنے کا اسکرپٹ لیا تھا ۔

قائدتحریک : نہیں نہیں ان میں سے کم از کم مجھ سے تو کسی نے رابطہ نہیں کیاتھا ۔

سلیم صافی : الطاف بھائی یہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی سال ڈیڑھ سال فائر بندی کیسے ہوگئی تھی۔۔۔ بالکل مکمل جنگ بندی تھی ۔۔۔ شانتی تھی۔

قائد تحریک : میری سمجھ میں نہیں آیا آپ کا سوال ۔

سلیم صافی : بس جی میںیہی عرض کررہا ہوں سال ڈیڑھ سال ہم دیکھ رہے تھے خصوصاً دھرنوں کے دنوں میں کہ پی ٹی آئی آپ کے بارے میں مکمل خاموش تھی اس کی وجہ کیا تھی ؟

قائد تحریک : I Dont Know۔۔۔ہم نے تو کبھی پی ٹی آئی کے خلاف بات ہی نہیں کی لیکن وہ تو ذاتی طورپر اگر عمران خان صاحب ذاتی پرخاش میں۔۔۔حسد میں کہ جب انڈیا میں مجھے دوروزہ انٹرنیشنل کانفرنس میں Key Noteاسپیکر کی حیثیت سے بلایاگیا تھا ۔۔۔وہاں میں ،ہینری کسینجر تھا ۔۔۔برطانیہ کا سابق وزیراعظم جان میجر تھا۔۔۔ سری لنکا کی صدر بندرا نائکے تھیں۔۔۔اور نہ جانے کتنے بڑے بڑے لوگ تھے۔۔۔اس میں کانفرنس میں سونیا گاندھی بھی تھیں۔۔۔ منموہن سنگھ بھی تھے۔۔۔میں اس کا Key Note یعنی اہم اور آخری اسپیکر تھا ۔۔۔اس میں عمران خان صاحب بھی تھے لیکن یہ عام اسپیکروں میں بھی نہیں تھے ۔۔۔ ان کو اسٹیج پر بلاکرضرور سوال جواب کیے لیکن میں اب کیا کروں انہوں نے مجھے عالمی رہنماؤں کے ساتھ بٹھایا ۔

سلیم صافی : بہت ہوگیا ۔۔۔آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت زرداری صاحب آپ سے ڈرٹی گیم کھیل رہے ہیں یا نوازشریف صاحب ۔۔۔ دونوں میں سے کون زیادہ ڈرٹی گیم کھیل رہاہے؟

قائد تحریک : دونوں نے کھیلا۔۔۔۔۔۔ زرداری صاحب کا مجھے بہت زیادہ افسوس ہے۔۔۔ بہت زیادہ افسوس ہے ۔

سلیم صافی : نوازشریف صاحب بھی اس وقت یہی کام کررہے ہیں ؟

قائد تحریک : وہ عادی ہوچکے ہیں۔۔۔وہ کئی دفعہ کرچکے ہیں۔۔۔یہ تیسرے دفعہ وہ اس وقت کررہے ہیں ۔

سلیم صافی : آپ نہیں سمجھتے کہ ان دونوں قوتوں کی خواہش ہے کہ آپریشن کرنے والی سیکورٹی فورسز اور ایم کیوایم کوایک دوسرے کے ساتھ الجھا دیا جائے ؟

قائد تحریک : یہ تو سیکورٹی فورسز کو۔۔۔ پاکستان کی دفاع کرنے والی فورسز کو چاہئے۔۔۔ جو سچے پاکستانی۔۔۔جو پاکستان کی خاطر گھر بار ۔۔۔آباؤ اجداد کی قبریں۔۔۔ اور یادگاریں۔۔۔ سب کچھ چھوڑ کے۔۔۔ قربان کرکے۔۔۔ 20لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آئے۔۔۔ انہیں گلے لگائیں ۔۔۔نہ کہ ان کو ۔۔۔جو جانتے ہی نہیں تھے کہ تحریک پاکستان اور پاکستان ہے کیا ۔

سلیم صافی : تحریک پاکستان سے یاد آیا الطاف بھائی !آپ سے آخری سوال میں کرنا چاہوں گا اورمیں چاہتا ہوں کہ ہمارے جرگے کا اختتام بھی ذرا خوشگوارہو۔۔۔ موسیقی سے آپ کا لگاؤ اور شغف ابھی تک برقرار ہے ؟

قائد تحریک : کس چیز سے ؟

سلیم صافی : موسیقی سے جی۔۔۔ تقریروں میں۔۔۔ انٹرویو میں آپ کبھی کبھار گن گنایا بھی کرتے تھے ۔

قائد تحریک : ہا ں دیکھئے۔۔۔ اس میں ملا لوگ فتویٰ دے دیں گے۔۔۔ لیکن دیکھئے ایک سائنسی بات بتارہا ہوں موسیقی کے بارے میں

Music is a part of Human Genetic, Human DNA.It is a Part of Body Chemistery. 
آپ دل کی دھڑکنوں کو دیکھ لیں ، آپ کوموسیقی مل جائے گی ۔۔۔آپ نبض کو دیکھ لیں آپ کو موسیقی مل جائے گی ۔۔۔ انسان میں موسیقی بھری ہوئی ہے جی ۔

سلیم صافی : الطاف بھائی پروگرام کے اختتام پر آپ اپنے چاہنے والوں۔۔۔ اور ہمارے جرگے کے دیکھنے والوں کو جرگے کے اختتام پر کون سا اپنا محبوب گانا سنانا چاہیں گے یا کوئی ملی نغمہ 

قائد تحریک:
اے وطن پیارے وطن۔۔۔ پاک وطن۔۔۔پاک وطن 
اے میرے پیارے وطن۔۔۔ پاک وطن ، پاک وطن
ا ے میرے پیارے وطن ، اے میرے پیارے وطن 

سلیم صافی: بہت شکریہ الطاف حسین صاحب ہماری دعا ہے کہ آپ جلد از جلد اپنے ساتھ پیارے وطن میں ہمارے ساتھ ہوں ۔

قائد تحریک : آمین ، ثمہ آمین دعا کیجئے کہ جلد سے جلدحالات ایسے ہوں کہ میں واپس آجاؤں۔۔۔ اللہ کرے۔۔۔بہت ہوگیا ۔۔۔ دعا کریں۔

سلیم صافی : بہت شکریہ الطاف حسین صاحب ۔

قائد تحریک: اللہ آپ کو بھی خوش رکھے۔۔۔ سب کو خوش رکھے۔۔۔ اللہ پاکستان کو ایک کردے۔۔۔ سب کے اندر اتحاد پیداکر دے ۔۔۔ اور ہم یہ بھی دعا کریں کہ اللہ ہمارے اور فوج کے مابین جو اختلاف کروارہے ہیں وہ قوتیں نا کام ہوجائیں۔۔۔اور فوج اور ایم کیو ایم ایک ہوجائیں۔

سلیم صافی : الطاف بھائی میں کہتا ہوں ۔۔۔پاکستان

قائد تحریک: ۔۔۔زندہ باد 

سلیم صافی : ۔۔۔پاکستان 

قائد تحریک: ۔۔۔زندہ باد 

سلیم صافی : ۔۔۔پاکستان 

قائد تحریک: ۔۔۔زندہ باد 

سلیم صافی: بہت شکریہ الطاف حسین صاحب ، اللہ حافظ


9/28/2016 8:37:52 PM