Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دنیا کی کسی بھی عدالت میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ کراچی آپریشن جانبدارانہ ہے۔ الطاف حسین


دنیا کی کسی بھی عدالت میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ کراچی آپریشن جانبدارانہ ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/26/2015
دنیا کی کسی بھی عدالت میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ کراچی آپریشن جانبدارانہ ہے۔ الطاف حسین
اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کیا گیا
اگر یہ آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تھا تو خدمت خلق فاؤنڈیشن کے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟
فوج پر سخت تنقید کرنیوالے کسی لیڈر کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد نہیں ہے جبکہ الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد ہے
دنیا کے کس آئین یا قانون میں یہ لکھاہے کہ کسی کی تقریرسننے والوں پر بھی مقدمہ بنادیا جائے ؟
کیاآل پارٹیز کانفرنس میں یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کو بائی پاس کرکے پیراملٹری فورسز رینجرز کرپشن کی تحقیقات بھی کریں گی؟
اب تک کرپشن کے کیسوں میں صرف کراچی یاصوبہ سندھ سے گرفتاریاں کی جارہی ہیں،کیا کرپشن کی لعنت صرف سندھ میں ہے ؟
کچھ لوگ اس آپریشن کارخ غلط سمت میں موڑ رہے ہیں،جنرل راحیل شریف نوٹس لیں۔الطاف حسین
میں پاکستان کاکل بھی حامی تھا آج بھی حامی ہوں، کل بھی پاکستان کا خیرخواہ تھا اور آج بھی ہوں
میں پاکستان کومضبوط ومستحکم اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں۔ الطاف حسین
نائن زیروپر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اورتنظیمی شعبہ جات کے ذمہ داروں کے اجلاس سے خطاب
کراچی ۔۔۔ 26 اگست 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی آپریشن کے بارے میں کہاگیاتھاکہ یہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کیاجائے گا بلکہ کرمنلز، دہشت گردوں اورانتہاپسندجہادی تنظیموں اورفرقہ وارانہ فساد کرنے والوں کے خلاف کیاجائے گالیکن کراچی میں آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف ہورہا ہے ، اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکنوں کوگرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کیا گیا۔ میں دنیاکی کسی بھی عدالت میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ یہ آپریشن جانبدارانہ ہے۔انہوں نے جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نیک نیتی کے ساتھ آپریشن شروع کیا تھا لیکن کچھ لوگ اس آپریشن کارخ غلط سمت میں موڑ رہے ہیں ، آپ اس کانوٹس لیجئے۔میں پاکستان کاکل بھی حامی تھا آج بھی حامی ہوں، میں پاکستان کا کل بھی خیرخواہ تھا اور آج بھی خیرخواہ ہوں اورپاکستان کومضبوط ومستحکم اورخوشحال دیکھناچاہتاہوں۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج نائن زیروپر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اورتنظیمی شعبہ جات کے ذمہ داروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کراچی کا دورہ کیااور گیریژن افسران سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کراچی آپریشن جاری رہے گا۔دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا بڑی اچھی بات ہے وہ ہمت وجرات کے ساتھ کرتے رہیں لیکن صرف کراچی کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے ان کی جانب سے پورے پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی بات کی جاتی رہے تو مناسب بات ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بھی تسلسل کے ساتھ کہاجارہا ہے کہ کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہورہا بلکہ یہ آپریشن صرف دہشت گردوں کے خلاف کیاجارہا ہے لیکن میرا سوال ہے کہ کراچی آپریشن میں مصروف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو کیا دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر صرف ایم کیوایم میں ہی نظر آتے ہیں؟ جوکہ پورے پاکستان میں غریب ومتوسط طبقہ کی واحد نمائندہ جماعت ہے ۔ایم کیوایم کے سوا ملک کی باقی تمام جماعتوں میں اگر فرشتے نہیں ہیں تو 2013ء سے آج کے دن تک کسی ایک بھی سیاسی جماعت کے مرکزی دفتریا اس کے سربراہ کے گھرپر نہ تو رینجرز اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور نہ ہی کسی رہنما کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ لہٰذا یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ یہ آپریشن کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں ہورہا، حقیقت یہ ہے کہ کراچی آپریشن صرف ایک ہی جماعت کے خلاف کیاجارہا ہے ، صرف متحدہ قومی موومنٹ کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکیاگیا ، درجنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا اور درجنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔ ایم کیوایم کے سربراہ کی رہائشگاہ نائن زیرو پر دومرتبہ چھاپہ ماراگیااور قمر منصور جیسے بے ضرر رہنما کو گرفتارکرکے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے جوکہ پہلے بھی گرفتارکیے گئے تھے اور حراست کے دوران بہیمانہ تشدد کے باعث شدید علیل ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں ہمت وحوصلہ اور صحت وزندگی عطافرمائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کہاجاتا ہے کہ میں نے فوج اور فوجی افسران کے خلاف بہت سخت جملے استعمال کئے لیکن جب میرے ساتھیوں کو غیرقانونی طورپر گرفتارکرکے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایاجائے گا، انکے ناخن کھینچے جائیں گے ، آنکھیں نکالی جائیں گی اور پھر انہیں ماورائے عدالت قتل کرکے سربریدہ لاش پھینکی جائے گی اور میں ان کی مسخ شدہ لاشیں دیکھوں گا تو لوگ خود ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ ان ساتھیوں کو گرفتارکرنے والے فوجی ہوں یا رینجرز کے اہلکار، پولیس اہلکارہوں یا سی آئی اے کے اہلکارہوں جس نے بھی انہیں گرفتارکیاہوگاکیا ان کیلئے میرے دل سے دعائیں نکلیں گی؟ فاتح قومیں بھی مفتوحہ قوم کے ساتھ ایسا ظلم نہیں کرتیں۔ انہوں نے نبی کریم ؐ کی جانب سے صحابہ کرامؓ کو دی گئی ہدایت کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ سرکاردوعالم ؐ نے ہدایت کی دوران جنگ یا جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد کسی عورت، بچے اور بیمار کو قتل نہ کرنا حتیٰ کہ سایہ دار درختوں کو بھی نہیں کاٹنا۔ جب رینجرز کے غیرقانونی چھاپوں کے دوران ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو بندوق کے بٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایاگیا اور ان کے بارے میں فحش زبان استعمال کی گئی تو میں نے ایسا عمل کرنے والوں کو بددعائیں ضرور دی ہیں لیکن میں نے مسلح افواج ، رینجرز اور پولیس کی شان میں قصیدہ گوئی بھی کی ہے ، ہرکڑے وقت میں ان کے شانہ بشانہ جانی قربانیاں پیش کرنے کی باربار پیشکشیں بھی کی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کی حمایت کیلئے ایک ملین افراد کی ریلی بھی نکالی ہے، اس ریلی میں مجھ سمیت 10 لاکھ افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں کو سیلوٹ پیش کیا لیکن میرے اس مثبت عمل کاکوئی ذکرتک نہیں کرتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو باتیں مجھ سے منسوب کی جارہی ہیں اس سے زیادہ سخت باتیں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف ، چوہدری نثارعلی خان اور پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کرچکے ہیں ، آصف زرداری نے تو یہاں تک کہا ہے کہ وہ فوجی جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بنادیں گے لیکن کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ ماسوائے چند باضمیر اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں کے سب کے سب مجھے برابھلا کہتے رہے ، ان کی جانب سے صرف ایم کیوایم میں ہی برائیاں تلاش کی جاتی رہی ہیں اوران کے نزدیک ملک کی باقی جماعتیں آب زم زم سے دھلی اور گنگا جمنانہائی ہوئی ہیں ۔
جناب الطاف حسین نے آل پارٹیز کانفرنس میں کراچی آپریشن کے مینڈیٹ کے حوالہ سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف ، حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگران میں زرہ برابر بھی خوف خدا ہے تو وہ ٹیلی ویژن پر آکر قوم کو بتائیں کہ اس کانفرنس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان اختر کی موجودگی میں اس آپریشن کے کیامقاصد طے کیے گئے تھے؟ اس آپریشن کا مینڈیٹ یہ تھا کہ یہ آپریشن کالعدم جہادی تنظیموں ، فرقہ وارانہ فسادات کرانے والوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کیاجائے گااور یہ آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہاکہ کیا اس کانفرنس میں یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ ہرصوبہ کی صوبائی حکومت کو بائی پاس کرکے پیراملٹری فورسز رینجرز کرپشن کی تحقیقات بھی کریں گی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں خود کرپشن کے سخت خلاف ہوں لیکن آل پارٹیز کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ مینڈیٹ ہرگزنہیں دیاگیا تھا۔ اب تک کرپشن کے کیسوں میں صرف کراچی یاصوبہ سندھ سے گرفتاریاں کی جارہی ہیں اور سندھ کی حکومت پوری کابینہ کے ساتھ بزدل بن کر بیٹھی ہوئی ہے صرف ایک مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ نے لیٹر لکھ کراحتجاج کیا تھا کہ سوک سینٹر ، کے ایم سی یا دیگر سرکاری اداروں پر چھاپے مارنا رینجرز کے دائرہ کارمیں نہیں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اب یہ الزام لگایاجارہا ہے کہ رشوت کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہوتا ہے ، اگر ایسا ہوتا ہے تو رشوت ستانی یاکرپشن کی لعنت کیا صرف صوبہ سندھ میں ہے ؟ کیا صوبہ پنجاب ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رشوت یا کرپشن نہیں ہے ؟ رشوت اور کرپشن میں ملوث عناصر کی ان صوبوں میں آج تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آرہی ہے ۔ انہوں نے مزید دریافت کیاکہ کیا آل پارٹیز کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان اختر کی موجودگی میں یہ کہاگیاتھا کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کو زکوٰۃ ، فطرہ یا قربانی کی کھالیں جمع نہیں کرنے دی جائے گی ؟ اس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ ’’ہرگزنہیں‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرز نے پورے پاکستان میں صرف خدمت خلق فاؤنڈیشن کو زکوٰۃ فطرہ جمع نہیں کرنے دیا جس سے حاصل ہونے والی رقم سے شہداء کے لواحقین، غریب بیواؤں، یتیموں ، غریب طلباء اور ناداروں کی مدد کی جاتی ہے ۔ رینجرز کی جانب سے بیان دیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت کو زکوٰۃ فطرہ جمع نہیں کرنے دیں گے اور ابھی حال ہی میں یہ بیان دیاہے کہ کسی سیاسی جماعت کو قربانی کی کھالیں جمع نہیں کرنے دی جائے گی یعنی صرف ایم کیوایم کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے سے روکا جائے گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگریہ آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تھا تو خدمت خلق فاؤنڈیشن کے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بحیثیت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف بھی اس کھلی جانبداری کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے جس کا مجھے شدید افسوس ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کیا اے پی سی میں یہ کہاگیاتھاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے سربراہ کی تقریرکوٹی وی پر لائیو نشرکرنے پرپابندی لگادی جائے گی؟ انہوں نے کہاکہ ملک کاکونساایساسیاسی لیڈرہے جس نے فوج پر تنقید نہ کی ہو،کسی نے فوج کے جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی توکسی نے آئی ایس آئی کے سربراہان جنرل پاشااورجنرل ظہیرالاسلام پر دھرنے کی حمایت کاالزام لگایااورکسی نے فوج کے بارے میں سخت تنقید کی لیکن آج ایسے کسی لیڈر کی تقریرنشرکرنے پرپابندی عائدنہیں ہے جبکہ الطاف حسین کی تقریرنشرکرنے پر پابندی عائدہے۔پھراس آپریشن کوغیرجانبدارانہ کیسے قراردیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے کہاکہ میں دنیاکی کسی بھی عدالت میں یہ ثابت کرسکتاہوں کہ یہ آپریشن جانبدارانہ ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب نے یہ بھی کہاکہ یہ آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نہایت ادب کے ساتھ جنرل راحیل شریف صاحب سے بھی یہ سوال کرتاہوں کہ دنیاکے کس آئین یاقانون میں یہ لکھاہے کہ کسی کی تقریرسننے والوں پر بھی مقدمہ بنادیا جائے ؟ایم کیوایم کے تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرزحتیٰ کہ خواتین ارکان پارلیمنٹ پرمقدمات قائم کردیئے گئے ہیں کہ انہوں نے الطاف حسین کی تقریرسنی تھی اوراس پر تالیاں بجائی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ پسندکریں یانہ کریں لیکن مندروں میں جب گھنٹی بجائی جاتی ہے تواسے ہندو ہی نہیں سنتا بلکہ مسلمان بھی سنتاہے، عیسائی بھی سنتاہے۔ گرجاگھرمیں جب گھنٹا بجتاہے تواسے عیسائی ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی سنتاہے، ہندوبھی سنتاہے ۔اسی طرح جب اذان دی جاتی ہے تواسے نہ صرف مسلمان سنتے ہیں بلکہ اسے عیسائی بھی سنتے ہیں، ہندوبھی سنتے ہیں، سکھ بھی سنتے ہیں، لامذہب بھی سنتے ہیں لیکن کیامندر کی گھنٹی ، گرجاگھرکاگھنٹایااذان سننے پر کسی کے خلاف مقدمہ قائم کیاجاسکتاہے؟پاکستان کے آئین میں کہاں لکھاہے کہ کسی کی تقریرسننا قابل سزاجرم ہے؟ نوازشریف کی تقریرہوتی ہے توان کے حامی بھی سنتے ہیں اورمخالف بھی سنتے ہیں، مولانافضل الرحمن کی تقریرکوان کے مخالفین بھی سنتے ہیں، آصف زرداری کی تقریر کوان کے حامی اورمخالف دونوں سنتے ہیں لیکن ان پر کوئی مقدمہ نہیں بنتا، عمران خان، اسفندیارولی، چوہدری شجاعت حسین کسی کی تقریر سننے پر ان کے حامیوں پر مقدمہ نہیں بنتاتوپھرمیری تقریرسننے پر میرے ساتھیوں اورحامیوں پر مقدمہ کیوں بنتا ہے؟پھریہ آپریشن غیرجانبدارانہ کیسے ہوگیا؟ یہ آپریشن قطعی اورقطعی جانبدارانہ ہے۔ جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تقاضائے ایمانداری تویہ ہے کہ جنہوں نے میری تقریرسنکر میری تقریرکوغداری سے تعبیرکیااورتقریرسننے والوں پر غداری کامقدمہ قائم کیاان پربھی مقدمہ بنایاجائے ۔ میں نے توفوج کی بھرپور حمایت کی
، فوج کی حمایت میں ایک ملین کی ریلی نکالی،میں نے کھڑے ہوکرفوج کوسیلوٹ پیش کیااورضرب عضب کیلئے 10لاکھ کارکنوں کودینے کی پیشکش کی لیکن اس کاصلہ یہ دیاگیاکہ میری تقریرپر پابندی لگادی گئی اورمجھے غدارقراردیدیاگیا۔میں پاکستان کاکل بھی حامی تھا آج بھی حامی ہوں، میں پاکستان کاکل بھی خیرخواہ تھا اورآج بھی خیرخواہ ہوں اورپاکستان کومضبوط ومستحکم اورخوشحال دیکھناچاہتاہوں۔انہوں نے جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے نیک نیتی کے ساتھ آپریشن شروع کیاتھا لیکن کچھ لوگ اس آپریشن کارخ غلط سمت میں موڑ رہے ہیں ، آپ اس کانوٹس لیجئے۔رینجرزوالے اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکارآتے ہیں اورہمارے بے گناہ لوگوں کوپکڑکرغائب کردیتے ہیں لیکن اس ظلم پر ہم نے آج تک قانون ہاتھ میں نہیں لیا، ہم اس ظلم پر غصہ اورفریادضرورکرتے ہیں لیکن قانون ہاتھ میں نہیں لیتے۔انہوں نے کہاکہ جب زمین پربے گناہوں پر ظلم بندنہیں ہوتا تو قدرت کانظام انصاف حرکت میں آتاہے اورظلم کرنے والوں سے نمٹتاہے۔انہوں نے اس موقع پر قرآن مجیدکی سورہء فیل پڑھی اوراس کاترجمہ اورتفسیرپیش کی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک کے ممتازاورسینئراینکرسلیم صافی نے میراتفصیلی انٹرویولیاجس میں میں نے ملک کے حوالے سے بہت اہم باتیں کیں، ملی نغمہ گایا اورپاکستان زندہ باد کانعرہ لگایا لیکن میرایہ انٹرویونشرہونے سے روک دیاگیا۔جناب الطاف حسین نے تمام ذمہ داران کوتلقین کی کہ وہ پرعزم رہیں، اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں اورتمام ترنامساعدحالات کے باوجود ثابت قدمی اورمستقل مزاجی سے تحریکی جدوجہدجاری رکھیں انشاء اللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ 

9/27/2016 12:20:17 AM