Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کا مشترکہ ہنگامی اجلاس


ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کا مشترکہ ہنگامی اجلاس
 Posted on: 8/21/2015
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کا مشترکہ ہنگامی اجلاس
ایم کیوایم کے استعفوں ،مولانا فضل الرحمان کی ثالثی میں مذاکرات اور حکومتی رویے کا تفصیلی جائزہ لیاگیا
کراچی آمد پروزیراعظم پاکستان کے غروروگھمنڈ اور دھمکی آمیز لب ولہجہ پر اظہارمذمت
وزیراعظم نواز شریف نے مولانافضل الرحمان کے ثالثی کردار کی قدر نہیں کی، رابطہ کمیٹی
وزیراعظم نے کراچی کے لاکھوں غم زدہ اورروتے تڑپتے ہوئے خاندانوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا، رابطہ کمیٹی
مولانا فضل الرحمان ، ایم کیوایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کیلئے صلح کار یا ثالث کی حیثیت سے مزیدزحمت نہ کریں ، رابطہ کمیٹی
پوری پارٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت کو ایم کیوایم کے ارکان کے استعفے ہرقیمت پر تسلیم کرنا ہوں گے، رابطہ کمیٹی
آج کے بعد ایم کیوایم کے ایک ایک منتخب رکن کو تینوں ایوانوں سے مستعفی سمجھا جائے،رابطہ کمیٹی
ایم کیوایم عارضی طورپر پارلیمانی سیاست سے الگ ہوکر اپنی تمام تر توجہ صوبے کے قیام اورفلاحی سرگرمیوں پر مرکوز رکھے گی،رابطہ کمیٹی
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کے رویے کو دیکھ کریہ کہہ ڈالا کہ میری موجودگی میں مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،رابطہ کمیٹی
عوام دلگرفتہ ہیں کہ وزیراعظم نے اپنے ایوان کے رکن رشید گوڈیل کی عیادت کیلئے اسپتال نہیں گئے، رابطہ کمیٹی
کراچی ۔۔۔21، اگست2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کا مشترکہ ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ایم کیوایم کے تمام شعبہ جات کے ارکان نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں ایم کیوایم کے ارکان سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے استعفوں کے حوالہ سے سینئر سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمان کی ثالثی میں مذاکرات اور حکومتی رویے کا تفصیلی جائزہ لیاگیا ۔ اجلاس میں ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں کے استعفوں ، حکومت سے جاری مذاکرات اور علیحدہ صوبے کیلئے جدوجہد کے حوالہ سے اہم فیصلے بھی کیے گئے ۔ اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ روز مورخہ 20، اگست 2015ء کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی گورنر ہاؤس کراچی میں تشریف لانے کے موقع پر غروروگھمنڈ ، تمکنت اور دھمکی آمیز لب ولہجہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ۔ اجلاس میں کہاگیا کہ انتہائی معتبر ،صلح کار اور بہت بڑی شخصیت مولانا فضل الرحمان تین روز قبل یعنی مورخہ 18، اگست2015ء کو ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروعزیزآباد تشریف لائے تھے اور رابطہ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں یہ طے کیاگیا تھا کہ باقی مذاکرات اسلام آباد میں کیے جائیں گے لیکن گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کراچی آکر غروروتکبر اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرکے نہ تو مولانافضل الرحمان کے ثالثی کردار کی قدر کی اور نہ ہی کراچی کے لاکھوں غم زدہ اورروتے تڑپتے ہوئے خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے دھمکی آمیز لہجہ اختیارکرکے کراچی کے مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کا عمل کیاہے لہٰذا ہم اراکین رابطہ کمیٹی بڑے ادب سے مولانافضل الرحمان صاحب کی خدمت میں عرض گزارہیں کہ مصالحت کاری کیلئے ہم ان کی نیک کاوشوں کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن جس طرح وزیراعظم نوازشریف نے مولانا صاحب کی نیک کاوشوں کو سبوتاژ کیا اور کراچی آکر ایک جملہ تک کہنے کی زحمت گوارانہیں کی کہ مذاکرات کے عمل میں مولانافضل الرحمان ثالث کی حیثیت سے درمیان میں موجود ہیں انشاء اللہ ایم کیوایم کی جائز شکایات یا تحفظات کاحکومت سنجیدگی سے نوٹس لیکر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے گی ۔ اجلاس میں کہاگیا کہ ہم رابطہ کمیٹی کے ارکان کی دلی خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب ہمارے بزرگ کی حیثیت سے جب چاہیں ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں لیکن ہم ان سے انتہائی معذرت کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایم کیوایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کیلئے صلح کار، مذاکرات کار یا ثالث کی حیثیت سے مزید زحمت نہ کریں ۔
اجلاس میں کہاگیا کہ پوری پارٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ایم کیوایم کے ارکان سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلی نے احتجاجاً اپنے استعفے دیدیے ہیں انہیں حکومت کو ہرقیمت پر تسلیم کرنا ہوگااور اس پریس ریلیز کے بعد ایم کیوایم کے ایک ایک منتخب رکن کو تینوں ایوانوں سے مستعفی سمجھا جائے ۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیاکہ ایم کیوایم عارضی طورپر پارلیمانی سیاست سے الگ ہوکر اپنی تمام تر توجہ صرف صوبے کے قیام اور فلاحی سرگرمیوں پر مرکوز رکھے گی اور اس کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی ۔اجلاس میں چہ پدی اور چہ پدی کے شوربے کے مصداق سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے اس رویے کی بھی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی جس میں انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کے رویے کو دیکھ کر جوش جذبات میں یہ کہہ ڈالا کہ میں کراچی آپریشن کا کپتان ہوں اور میری موجودگی میں مزید تین رکنی مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،میں صرف وہاں بولوں گا جہاں پیپلزپارٹی والوں کو گزند یا زرا سا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوگا اور وہاں بغلیں اور شادیانے بجاؤں گا جہاں ایم کیوایم اور مہاجروں کو مشق ستم بنایاجائے گا۔ 
دریں اثناء اجلاس میں کہاگیا کہ عوام نے دلگرفتہ ہوکراس بات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ وزیراعظم نوازشریف کراچی تشریف لائے لیکن وہ اپنے ہی ایوان کے رکن رشید گوڈیل کی عیادت کیلئے اسپتال نہیں گئے ۔


10/1/2016 5:19:31 PM