Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے جناب الطاف حسین کے براہِ راست خطابات پر پابندی پر پیمرا کے خلاف کل احتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا


ایم کیوایم نے جناب الطاف حسین کے براہِ راست خطابات پر پابندی پر پیمرا کے خلاف کل احتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا
 Posted on: 8/20/2015
ایم کیوایم نے جناب الطاف حسین کے براہِ راست خطابات پر پابندی پر پیمرا کے خلاف کل احتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا
جناب الطاف حسین کے براہِ راست خطاب پر پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں ، ڈاکٹر فارو ق ستار
وزیراعظم نواز شریف کے دورہ کراچی پر افسوس ہوا وہ ہمارے مسائل اور نکات کا جواب دیئے بغیر چلے گئے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار
جناب الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی مائنس ون کا فارمولا ہے ، جب ایم کیوایم کو تقسیم کرنے ، گروپ بنانے میں کامیابی نہیں ملی تو اب زبردستی غیر آئینی طور پر الطاف حسین کے خطاب کو روک کر مائنس ون کے فارمولے پر عمل ہورہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔20، اگست2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرمحمد فاروق ستار نے پیمرا کی جانب سے جناب الطاف حسین کے براہِ راست خطابات پر غیر قانونی پابندی کے خلاف کل 21، اگست بروز جمعہ کو سہ پہر 3بجے کراچی پریس کلب کے باہر زبردست اور بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور پیمرا کی جانب سے جناب الطاف حسین کے براہِ راست خطاب پر پابندی عائد کرنے کے بعد اب ان کے ریکارڈ پروگرام کو ٹیلی ویژن پر روکنے کا معاملہ عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں ،پیمرکے نوٹی فکیشن میں کہیں پر بھی قائد تحریک جناب الطاف حسین کا نام نہیں ہے اور اس نوٹی فکیشن میں کہیں پر جناب الطاف حسین کے لائیو خطابات اور تقاریر پر پابندی لگانے کا کوئی حکم نہیں ہے ۔انہوں نے وفاقی حکومت اور پیمرا کی جانب سے جناب الطاف حسین کی تقاریر کو براہِ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 19کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے دورہ کراچی پر افسوس کااظہار کیا اور کہا کہ وہ ہمارے مسائل اور نکات کا جواب دیئے بغیر چلے گئے ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرڈپٹی کنوینر زکیف الوریٰ ، شاہد پاشا ، اراکین رابطہ کمیٹی عبدالحسیب ، اسلم خان آفریدی ، شبیر قائم خانی ، کمال ملک ، محمد حسین ، عارف خان ، ذریں مجید ، ریحانہ نسرین اورعبد القادر خانزادہ کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ ایم کیوایم نے آئین کے بنیادی نکات ایوان اور ایوان سے باہر مسلسل اٹھائے لیکن افسوس صد افسوس وزیراعظم پاکستان دورہ کراچی پر ہمارے ان سوالوں کا جواب دیئے بغیر روانہ ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و جمہوری عمل اسی وقت مضبوط اور مستحکم ہوسکتا ہے جب صحیح معنوں میں آئین کی بالا دستی کو ملک میں قائم کیاجائے اور قانون کی حکمرانی اور قانون کی عمل داری کا پاس کیاجائے ، اگر آئین کی خلاف ورزی آئین و قانون کے محافظ کریں ، اگر قانون کی حکمرانی اور قانون کی عملداری کو قائم کرنے میں ریاست کے ادارے اگر آئین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کریں ، قانون کی صریحاً نفی کریں تو پھر یہ بتائیں کہ اس کے بعد جو انصاف کے طلبگار ہیں وہ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے آئین و قانون کے تحت رجسٹرڈ جماعت ہے ، سپریم کورٹ میں ایم کیوایم پر پابندی لگانے کا حکومت کی طرف سے کوئی مقدمہ دائر نہیں ہے ، ایم کیوایم 1987ء سے مسلسل انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور سندھ کے شہری علاقوں باالخصوص کراچی سے 80سے 85فیصد کا مینڈیٹ ایم کیوایم کے پاس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین کی براہِ راست نشریات پر پہلے ہی غیر آئینی پابندی تھی اور یہ تھا کہ ان کے انٹرویوز جو ریکارڈ ہوکر چلائیں جائیں گے ، چینلز کو اس کی چھوٹ دی گئی تھی جبکہ پیمرا کے نوٹی فکیشن میں کہیں پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کا نام نہیں ہے اور اس نوٹی فکیشن میں کہیں پر جناب الطاف حسین کے لائیو خطابات اورتقاریر پر پابندی لگانے کا کوئی حکم نہیں ہے اس کے باوجود بھی یہ غیر اعلانیہ ، غیر قانونی پابندی عائد ہے ہم اس معاملے کو کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چینلزکی طرف سے یہ پالیسی نظر آئی کہ الطاف حسین کے انٹرویو پر کوئی پابندی نہیں ہے اور جیو چینل کے صحافی اینکر سلیم صافی نے جناب الطاف حسین کا ایک طویل انٹرویو کیا جس میں جناب الطاف حسین نے پاکستان میں عام آدمی کو بااختیار بنانے کیلئے اپنے نظریے ، سیاسی پروگرام اور ایک قومی ایجنڈے کی بات کی، تمام سیاسی جماعتوں کی بات کی اور صرف محبت اور امن کا پیغام دیا اور کوئی ایسی بات نہیں کی اور اگر کوئی ایسی بات کی جو آپ کی نظر میں قابل اختلاف ہے ، قابل اعتراض ہے پھر پیمرا ان حصوں کو کاٹ کر باقی انٹرویو نشر کرنے کی اجازت دے سکتا تھا ، لیکن ہماری اطلاع کے مطابق پیمرا نے قائد تحریک کے اظہاررائے کے حق پر مکمل پابندی عائد کردی ہے ۔ اب ان کے ریکارڈ انٹرویو نشر کرنے کی بھی ممانت کردی گئی ہے ، ہم پیمرا اور وفاقی حکومت کے اس اقدام اور جو لوگ اس کے پس پشت ہیں اس غیر آئینی عمل کی سختی سے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 19کے برخلاف ایک جمہوری حکومت قانون کی خلاف ورزی کا بار بار اطلاق کرے گی اور بنیادی حقوق کو پامال کرے گی تو اس کے بعدایم کیوایم کے کارکنان ، حامی اور ووٹر کدھر جائیں گے اور وہ کہا انصاف کیلئے کس دروازے پر دستک دیں گے۔انہوں نے کہاکہ آئین کا آڑٹیکل 19کہہ رہا ہے اگر کسی تقریر میں کوئی ایسی بات ہے تو آپ کے پاس اختیارتھا لیکن پورے انٹرویو کو کٹ کردینا قابل مذمت اور غیر قانونی ہے جبکہ جناب الطاف حسین کے لاکھوں چاہنے والے محلوں علاقوں میں انٹرویو سننے کیلئے بے تاب تھے اورانہیں شدید مایوسی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین پاکستان شہری ہیں ، نہ صرف انہیں اظہار ائے کا حق استعمال کرنے سے روکا گیا ،آئین کے آرٹیکل 19میں ہے کہ اظہار رائے کے ساتھ سننے کی آزادی بھی ہے ۔ لاکھوں کروڑوں لوگ اگر الطاف حسین کوسنناچاہتے ہیں تو حکومت یا کوئی ادارہ جناب ا لطاف حسین کے خطاب پر پابندی نہیں لگا سکتا ہے ، یہ بھی آرٹیکل 19کی تشریح ہے ، سننے والوں کو بھی روکا گیا ہے جس آرٹیکل 19کے بنیادی حق کو سلب کیا گیا اور اسے پامال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار لاکھ کہ دیں کہ کوئی مائنس ون کا فارمولا نہیں ہے لیکن جناب الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مائنس ون کا فارمولا ہے ، جب ایم کیوایم کو تقسیم کرنے ، گروپ بنانے میں کامیابی نہیں ملی تو اب زبردستی غیر آئینی طور پر الطاف حسین کے خطاب کو روک کر مائنس ون کے فارمولے پر عمل ہورہا ہے ، غیر آئینی ، غیرقانونی طور پر بنیادی حقوق سلب کرکے کیاجارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب ایک آئینی و قانونی اور رجسٹرڈ جماعت ایم کیوایم کے ساتھ اگر یہ سلوک ہورہا ہے تو پاکستان کے عام شہری کے ساتھ کیا سلوک ہورہاہوگا ۔ ایم کیوایم کو نہیں پاکستان کے عوام کو دیور سے لگایا گیا ہے ، یہ ظلم و ستم ناانصافی کا سلسلہ روکا نہ گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر آج ہمارے قائد جناب الطاف حسین کے خطاب پر پابندی لگی ہے تو کل کسی جماعت کے قائد کے خطاب پر اس کی اظہار ائے ، خیال کی آزادی پر ، نقل و حرکت کی آزادی پر پابندی لگ سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب آج کراچی آئے تو انہیں ہمارے مزید کارکنوں کی گرفتاریوں کا تحفہ دیا گیا ، 24گھنٹے سے زیادہ ہوگیا ان کارکنان تک آئین کے آرٹیکل 10کے کلاز Aاور 2کے تحت قانونی رسائی دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی گرفتاری کو قانون کے تحت ظاہر کیا گیا ہے ۔ ایم کیوایم کے کارکنان کی جبری گمشدگیاں اسی آڑٹیکل کی خلاف ورزی کے تحت ہورہی ہے ، 160کارکنان ایم کیوایم کے آج بھی جبری طور پر لاپتا ہیں اور انہیں باقاعدہ کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے گرفتار کیا ہے لیکن انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور یہ دو دن پہلے بھی گرفتاریاں ہوئی ، دو ماہ ، چھ ماہ اور سال بھر پہلے بھی ہوئی ہیں ، کئی کئی ماہ سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ، زیر حراست رکھا گیا اور انہیں آئین قانون کے حقو ق سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آڑٹیکل 10کہتا ہے کہ گرفتار شخص کو بتانا ہے کہ کس لئے گرفتار کیا گیا ہے ہمارے گرفتار شدگان میں سے کسی ایک کا بھی جرم نہیں بتایا گیا ہے کہ کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کراچی آئیں اور انصاف کا خون ہوتا رہے ایسے رویئے سے پائیدار امن کے قیام میں مدد نہیں ملے گی ، نواز شریف کے دورے اور گفتگو سے سخت مایوسی ہوئی ، ملاقات کا گلہ نہیں ہے ۔ ہمارا مسئلہ اور گلہ آئین پاکستان کی نفی ہے اگر یہ نفی نواز شریف کی ناک کے نیچے ہورہی ہے تو نوازشریف کو اس سے آگاہ ہونا چاہئے ۔ یکطرفہ بریفنگ کے نتیجے میں ذہن بنایا جاتا ہے اور ایک پریس کانفرنس کرکے وزیراعظم چلے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مستعفی اراکین پارلیمنٹرین کو قائد تحریک جناب الطاف حسین کی پالیسی سے کوئی ایک اختلاف نہیں ہے ، جناب الطاف حسین کے خطابات اور انٹرویو پر غیر اعلانیہ پابندی لگا کر یہ گمان کیاجارہا ہے کہ ایم کیوایم کو تقسیم کیاجاسکتا ہے، ایم کیوایم کا گراؤنڈ چھین کر کسی اور کو دیاجاسکتا ہے ایسے کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور یہ ان کی خام خیالی ہےء ، مائنس ون فارمولا ایم کیوایم کے کارکنان، نمائندگان ، سپورٹر ، ووٹرز کیلئے قطعی اور قطعی قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19کے برخلاف اظہار رائے کی خلاف کی جارہی ہے ، آرٹیکل 10کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اورگرفتار شدفگان کو جرم سے آگاہ نہیں کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنان کی تعداد 45 ہوگئی ہے یہ محمد ہاشم کے قتل کا حالیہ واقعہ بھی آرٹیکل 9کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان کے ہر شہری کی جان ومال اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے ۔ قانون کے مطابق تو کسی کی زندگی لے سکتے ہیں جب عدالت میں اس کا مقدمہ چلے اور وہ سنگین جرم کا مرتکب ہوا اور عدالت میں ثابت ہو تو طرح سزائے عمرقید اور موت ہوسکتی ہے جو قانون میں ہیں لیکن قانون سے بالا ہی بالا کسی کو ماورائے عدالت قتل کیاجائے ، اس پر جوڈیشل کمیشن نہ بنایاجائے ہمارا کونسا مطالبہ ہے جو غیر آئینی ہے ، ہم نے تو صرف معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ، آپریشن میں شفافیت کا مطالبہ کیا ، آپریشن کی مخالفت نہیں کی، میڈیا کے ذریعے باربار عوام کو مس گائیڈ کیا جاتا ہے اور یہ باآور کرایاجاتا ہے کہ قائد تحریک اور ایم کیوایم آپریشن کے خلاف ہیں اورآپریشن کو بند کرانا چاہتی ہے ، ایم کیوایم کی ایماء اور مطالبے پر یہ آپریشن شروع ہوا تھا لیکن آج ایم کیوایم اس آپریشن کی شفافیت پر کوئی سوال اٹھا رہی ہے تو ہم آئین وقانون کے تحت ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے ، انتخابات لڑ کر آئے ہیں ، وہاں پر بھی ہم نے آواز اٹھائی ، ہمارے مطالبات جائز ہیں ، آئینی ، قانونی ، انسانی ہیں ۔ اگر ہم نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہو، آئین کی بے توقیری کی ہو تو جو چو ر کی سزا و ہ ہماری سزا ۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی شاہ فیصل ، کورنگی ، محمود آباد سے گرفتار یاں ہوئیں ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے ہیں جو کارکن بھی نہیں ہے یہ امر بھی اس بات کا غماز ہے کہ ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر غیر علانیہ پابندی ہے ، انہوں نے کہاکہ کراچی میں جس امن کا دعویٰ کیاجارہا ہے تو رشید گوڈیل کا واقعہ آنکھوں دیکھا ثبوت ہے ، اگر کراچی کی بستیوں ، محلوں سے کرائے کے قاتل ، یپشہ ور قاتل ، سفاک گروہ کے سفاک ہرکارے قتل جن کیلئے بائیں ہاتھ کا کام ہے کیا ایسے عناصر کو کراچی کو مکمل طور پر پاک کردیا گیا اگر ایک ایم این اے کی زندگی محفوظ نہیں ہے تو عام شہری کی زندگی کی ضمانت کیسے دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ کراچی آپریشن کسی صورت بند نہیں ہوگا ، ہمارا سوال یہ ہے کہ نوازشریف یہ کس کو سنایارہے ہیں ،کیاجناب الطاف حسین یا ایم کیوایم نے کہا تھا کہ کراچی آپریشن بندکریں ؟، ہم نے کہا کہ آپریشن غیرجانبدارانہ ہونا چاہئے ، جانبدارانہ نہیں ہونا چاہئے اور شفاف ہونا چاہئے ، جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف ہونا چاہئے ، یہ بار بار کس کوسنایاجارہا ہے صرف عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے ، اپیکس کمیٹی کا ہم احترام کرتے ہیں ، لیکن اپیکس کمیٹی خود ایک ریاستی یا حکومتی ادارہ ہے ، تیسر ا فریق نہیں ہے ، ہمارا شکوہ حکومت یا کچھ ریاستی اداروں اور اہلکاروں سے ہے ، تو ایک پاکستانی شہری اور سیاسی جماعت کے کارکن کے ناطے سے میرا اور الطاف حسین کا حق ہے کہ وہ کہیں کہ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کیلئے جوڈیشل کمیشن بنا دیں تاکہ ایسے آئندہ ایسے واقعات کا سدباب کیاجاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف نے آج اپنی تقریر میں مسلح جتھوں کے خلاف آپریشن کا عندیہ دیا تو ہمارا سوال یہ ہے کہ دو سال تک یہ انتظار کیوں کرتے رہے ، مسلح جھتے تو لیاری میں ہیں جہاں رینجرز ، پولیس جاتے ہیں تو مزاحمت ہوتی ہے ، چھاپوں کا جواب گولی سے ملتا ہے ،عام شہریوں کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں ، لیاری کے عوام امن پسند اور محبت کرنے والے اور وہ خود سات سالوں سے یرغمال ہیں ۔ ایم کیوایم کے مضبوط حلقوں اور سیاسی حلقوں میں چار ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتارکیا گیا، چھاپے مارے گئے ، ایک چھاپے میں مزاحمت اور گولی نہیں چلی ہے تو پھربتائیں کہ مسلح جھتے کہاں پر ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے جناب الطاف حسین کے خطابات پر پابندیپر پیمرا کے خلاف کل کراچی پریس کلب پر ایک بڑے مظاہرہ کا اعلان بھی کیا اور عوام سے اپیل کی وہ احتجاجی مظاہرے میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں ۔ 

12/11/2016 2:05:19 AM