Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنرل راحیل شریف فو ج اور ایم کیوایم کے درمیان غلط فہمیوں کو دورکرنے کیلئے ایم کیوایم کے وفد کو ملاقات کا موقع دیں،قائد ایم کیوایم الطاف حسین کی آرمی چیف سے درخواست


جنرل راحیل شریف فو ج اور ایم کیوایم کے درمیان غلط فہمیوں کو دورکرنے کیلئے ایم کیوایم کے وفد کو ملاقات کا موقع دیں،قائد ایم کیوایم الطاف حسین کی آرمی چیف سے درخواست
 Posted on: 8/14/2015
جنرل راحیل شریف فوج اور ایم کیوایم کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے ایم کیوایم کے وفد کو ملاقات کا موقع دیں، قائد ایم کیوایم الطاف حسین کی آرمی چیف سے درخواست
مسلح افواج، رینجرز، پولیس، تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستان کو جشن آزادی کی مبارکباد
حق کی جدوجہد میں ہزاروں ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیاجن میں میرے دوبڑے بھائی ، جوان سال بھتیجا اور بہنوئی بھی شامل ہیں، الطاف حسین
ظلم وجبرکی حکومت یاحکمراں خواہ وہ سویلین ہوں یا فوجی ہوں میں ان کی حاکمیت ماننے سے انکارکرتا ہوں، الطاف حسین
مجھے اقتدارکا شوق ہوتا تومیں یا میرا کوئی بھائی گورنر، میئر، وفاقی یا صوبائی وزیربنتا ، الطاف حسین
لانڈھی میں جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف ایم کیوایم کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو گرفتارکیاگیا، الطاف حسین
بے گناہ کارکنوں کو قتل کرنے والوں کو پکڑنے اور سزادینے والا کوئی نہیں ہے، الطاف حسین
1992ء کی طرح ایک مرتبہ پھر کراچی کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں کے قبضے کرائے جارہے ہیں، الطاف حسین
جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں پاکستان کے 69 ویں جشن آزادی کے عظیم الشان اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب
تصاویر
لندن۔۔۔14، اگست2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی وبقاء اورمسلح افوا ج اور ایم کیوایم کے درمیان پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دورکرنے کیلئے ایم کیوایم کے وفد کو ملاقات کا موقع دیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں 69 ویں جشن آزادی کے سلسلے میں منعقدہ عظیم الشان اجتماع کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جشن آزادی کے اجتماع میں ہزاروں بزرگوں ، خواتین ،نوجوانوں اور بچوں نے شرکت کی، اجتماع کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان اور ایم کیوایم کے پرچم تھامے ہوئے تھے ، اس موقع پر شرکاء بالخصوص خواتین اور بچوں کا جوش وخروش قابل دید تھا ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف، مسلح افواج کے تمام افسران وجوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، رینجرز، پولیس کے سربراہان، اہلکاروں ، آزادکشمیر، گلگت ،بلتستان اور قبائلی علاقہ جات سمیت چاروں صوبوں کے عوام ، بیرون ملک مقیم تمام پاکستانیوں کے علاوہ اجتماع کے تمام شرکاء ،تمام فنکاروں اورآرکسٹرا کے ارکان کوپاکستان کے 69 ویں جشن آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی ۔ جناب الطاف حسین نے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں بشمول پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور ان کی اہلیہ محترمہ ریحام خان کو بھی جشن آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حکومت نے میری تقاریر ٹی وی پر نشرکرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے ، یہ پابندی 19، جون 1992ء کو بھی عائد کی گئی تھی لیکن نہ اس وقت میرے حوصلے پست تھے نہ آج میرا حوصلہ ٹوٹا ہے ، اللہ کے کرم سے میرا عزم اور حوصلہ آج بھی مکمل طورپر جوان ہے ۔ میں نے 37 سالہ جدوجہد کے دوران اپنا گھربار چھوڑا ، قوم کی بقاء وسلامتی کی خاطر جدوجہد کی ، اس جدوجہد میں میرے ہزاروں ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیاجن میں میرے دوبڑے بھائی ، جوان سال بھتیجا اور بہنوئی بھی شامل ہیں، شہداء کے لواحقین کی فہرست میں الطاف حسین کا نام بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میری گزشتہ تقاریر پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی لیکن میں نے نہ کل کوئی سخت بات کہی تھی نہ آج کررہا ہوں، جو میں نے کل کہاوہی آج کہہ رہا ہوں کہ ظلم وجبرکی حکومت یاحکمراں خواہ وہ سویلین ہوں یا فوجی ہوں میں ان کی حاکمیت ماننے سے انکارکرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اقتدارکا شوق ہوتا تومیں یا میرا کوئی بھائی گورنر، میئر، وفاقی یا صوبائی وزیربنتا ، ان چیزوں کی نہ مجھے کل خواہش تھی ، نہ آج ہے اور نہ کبھی میں اس قسم کے منصب کی خواہش کروں گا۔ 2013ء سے کراچی میں آپریشن شروع کیا گیا کہ فلاں فلاں جماعت میں عسکری ونگ ہیں جن میں ایم کیوایم کا نام بھی لیاگیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے عسکری ونگ رکھنے والی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے نام لیے گئے لیکن آج تک ایم کیوایم کے سوا کسی جماعت کے مرکزیا سربراہ کے گھر پر چھاپے نہیں مارے گئے نہ ہی کسی جماعت کے رہنما کے خلاف دھڑادھڑایسی ایف آئی آر درج کروائی گئیں جیسی میرے خلاف درج کرائی گئیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے ہمیشہ حقائق بیان کیے ہیں ،اگر میرے ساتھیوں کو پولیس نے گرفتارکیا، سادہ لباس والے اہلکاروں یا رینجرز نے گرفتارکیا تو میں نے جھوٹا الزام یا جھوٹی کہانی نہیں سنائی بلکہ گرفتارکرنے والوں کاہی نام لیا۔ دوسال سے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کے دوران کارکنوں کو پکڑ کر انہیں ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کیاجارہا ہے ۔ میں نے سینکڑوں مثالیں دیں کہ سیاسی جلسوں حتیٰ کہ سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلی میں کن کن لوگوں نے فوج پر تنقید کی لیکن صرف الطاف حسین کے خطابات پر پابندی لگائی گئی ۔ اگر پابندی لگانے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے کوئی بڑافائدہ حاصل کرسکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے ۔ گزشتہ روز ایم کیوایم کے فوٹو گرافر محمدہاشم کی دوبارہ نمازجنازہ ادا کی گئی جنہیں 6، مئی 2015ء کو گرفتارکرکے حراست کے دوران تشددکا نشانہ بناکر شہیدکردیا گیاپھر ان کی لاش سڑک پر پھینک دی گئی جسے ایدھی سینٹر نے لاوراث سمجھ کر دفنادیاتھا۔جھوٹے الزامات میں میرے بے گناہ کارکنوں کو تو گرفتارکیاجارہا ہے لیکن میرے بے گناہ کارکنوں کو قتل کرنے والوں کو پکڑنے اور سزادینے والا کوئی نہیں ہے ۔ اس ظلم ،دکھ اور صدمات کے باوجود ہم نے اعلان کیاکہ ہم پاکستان کا جشن آزادی شایان شان طریقے سے منائیں گے اور خوشیاں منائیں گے لیکن گزشتہ روز لانڈھی میں جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف ایم کیوایم کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو گرفتارکرلیاگیا، ہم اس ظلم کے خلاف فریادیں کرتے رہے ، اخبارات اور ٹی وی کے ذریعہ عوام کو آگاہ کرتے رہے لیکن ہم نے جشن آزادی کی تقریبات منسوخ نہیں کیں۔جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں، تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں ، مسلح افواج ، رینجرز اورپولیس کے افسران وجوانوں کو پاکستان کے یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی کہ جہاں آپ ہمت وجرات اور بہادری سے کام کررہے ہیں وہاں وہ پاکستان کی سلامتی ، خوشحالی اور بہتری کیلئے ایم کیوایم کے وفد کو ملاقات کا موقع فراہم کریں توان کی بڑی مہربانی ہوگی تاکہ مسلح افواج اور ایم کیوایم کے درمیان جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں انہیں دورکیاجاسکے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں نے آج دیکھا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے چوکا لگایا ہے ، جنرل راحیل شریف صاحب !خدا کیلئے انصاف کے معاملے میں بھی ایک ایسا ہی چوکا لگادیں۔ جناب الطاف حسین نے حلفیہ کہاکہ کل ہم جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ رینجرز کی سرپرستی میں حقیقی دہشت گردوں نے 19، جون 1992ء کی طرح لانڈھی کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرلیا۔1992ء میں بھی مسلم لیگ کی حکومت تھی اور میاں نواز شریف وزیراعظم تھے ، انہوں نے اس وقت بھی بارباریقین دہانی کرائی تھی کہ یہ آپریشن ایم کیوایم کے خلاف نہیں ہوگا لیکن بعد میں یہ آپریشن ایم کیوایم کے خلاف ہی کیاگیا۔ میں نے میاں نوازشریف سے لندن میں ملاقات کرکے کہاکہ میں نے ہرکڑے وقت میں آپ کا ساتھ دیا لیکن اس کاآپ نے یہ صلہ دیا ہے جس پر انہوں نے یقین دلایا کہ یہ غلط ہواہے ، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ہم اسے روکیں گے اس کے دوروز بعد چوہدری نثارعلی خان نے فون کرکے کہاکہ یہ غلط ہورہا ہے ، فوج نے ایجنڈے کے خلاف کام کیا ہے ہم اس عمل کو روکیں گے ، اس کے بعد ایجنسیوں کے اہلکارچوہدری نثارعلی خان کے پیچھے لگے تو انہوں نے ایسی خاموشی اختیارکی کہ آج تک خاموش ہیں ۔ وہ مجھے تو قصور وار ٹھہراتے ہیں لیکن رینجرز کے جو لوگ میرے کارکنوں کاماورائے عدالت قتل کررہے ہیں ان کے خلاف مذمت کا ایک لفظ تک بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ 19، جون1992ء کی طرح ایک مرتبہ پھر کراچی کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں کے قبضے کرائے جارہے ہیں اور اس وقت بھی ملک پر مسلم لیگ کی حکومت ہے اور میاں نوازشریف وزیراعظم ہیں۔
کل رینجرزوالے ، مسلح حقیقی دہشت گردوں کو اپنی گاڑیوں میں بٹھاکر لانڈھی کے مختلف علاقوں میں لائے اور جگہ جگہ انکا قبضہ کرادیا۔ یہ اطلاع ملنے پرعلاقے کے عوام میں شدید غم وغصہ تھامیں نے اپنے ساتھیوں پرزوردیا کہ وہ عوام کو سمجھائیں اورانہیں صبر کی تلقین کریں کیونکہ یہ جشن آزادی کاموقع ہے ۔ اس وقت ہمیں پھولوں کی بارش کرنی ہے ، خون کی بارش نہیں کرنی۔ رینجرز کے اہلکاروں نے لانڈھی کے علاقے یونٹ 80 سے 89 تک کے علاقوں میں جگہ جگہ حقیقی دہشت گردوں کو بٹھادیا ہے جن میں اردوبولنے والوں کی تعداد کم ہے اور 90 فیصد جرائم پیشہ عناصر ہیں جوکہ مختلف لسان اور زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میری اور میرے ساتھیوں کی کوششوں سے لانڈھی میں حقیقی دہشت گردوں کے قبضے کے خلاف کوئی عوامی ردعمل نہیں ہوا۔ جناب الطاف حسین نے لانڈھی اورشہر کے مختلف علاقوں میں رینجرز کی سرپرستی میں حقیقی دہشت گردوں کی شرانگیز کاررائیوں کے باوجود عوامی جذبات کو قابومیں رکھنے کی کاوشوں پر رابطہ کمیٹی اورتمام  سابق اراکین اسمبلی بالخصوص ڈاکٹرفاروق ستار اورعامر خان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پولیس ،رینجرزاورسرکاری اداروں کے ہاتھوں کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، ان کی گرفتاریوں اورلاپتہ کئے جانے کے واقعات اورزیادتیوں کی وجہ سے ہم نے سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اورسینیٹ سے استعفے دیے ، ہمارامعاملہ اقتداراورکرسی کانہیں انصاف کاہے۔انہوں نے کہاکہ وزیرداخلہ چوہدری نثار نے حکومت کی جانب سے وعدہ کیاتھاکہ آپریشن کی نگرانی کیلئے ایک مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی لیکن وعدے کے باوجود حکومت نے مانیٹرنگ کمیٹی قائم نہیں کی؟ انہوں نے کہاکہ آپریشن کے دوران ہونے والی زیادتیوں او رماور ائے عدالت جوقتل ہوئے ہیں ان کاخون بھی حکمرانوں کی گردن پرہے۔ جناب الطاف حسین نے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے نوجوانوں کاماورائے عدالت قتل ہورہاہے،، شہیدکارکنوں کی لاشیں قبروں سے نکال کردوبارہ دفنائی جارہی ہیں، قوم کوفیصلہ کرناہوگاکہ ہمیں روزانہ ایک ایک کرکے لاشیں دفنانی ہیں یاقوم کو کوئی حتمی فیصلہ کرکے کسی حتمی نتیجہ پرپہنچناہے کہ چاہے لاشیں گرتی رہیں اور ہم خون دیتے رہیں لیکن ہم تحریک جاری رکھیںیاپھر ہم اپنی جدوجہداورشہیدوں اورلاپتہ ساتھیوں کوبھول جائیں اورالطاف حسین سے قطع تعلق کرلیں۔جس پر اجتماع میں موجود عوام نے کہا’’ ہرگزنہیں ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے عوام سے پھر کہاکہ اگرآپ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کی صحیح قیادت نہیں کرپارہاتو تحریک میں مجھ سے زیادہ باصلاحیت اورپڑھے لکھے افرادموجودہیں ، آپ ان کوقائدبنالیں، اسٹیبلشمنٹ یہی چاہتی ہے، چوہدری نثار نے بھی یہی کہاکہ ایم کیوایم سے کوئی شکایت نہیں، معاملہ الطاف حسین کی تقریروں کاہے۔ 1992ء میں جنرل آصف نوازنے بھی مائنس الطاف کی بات کی تھی اورآج بھی یہی بات چل رہی ہے۔ اگرمیرے ہٹنے سے قوم کی جاں بخشی ہوسکتی ہے تومیں ہٹ جاتاہوں۔ اس پر جناح گراؤنڈ میں موجود ہزاروں افرادنے نہایت جذباتی اندازمیں ’’ مائنس ون ‘‘ فارمولے کومستردکردیا اورکہاکہ ’’ ہمیں صرف آپ اورآپ کی قیادت چاہیے ‘‘ ، ’’ مائنس ون کی بات کرنے والے الطاف فوبیا کاشکارہیں ‘‘۔ اس موقع پر حاظرین نے کافی دیرتک ’’ دیوانے کس کے ۔۔۔قائد کے ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں گزشتہ 37سال میں تین مرتبہ جیل گیا لیکن میں نے سرنہیں جھکایا، آج بھی ملک بھرمیں میرے خلاف سینکڑوں مقدمات قائم کردیئے گئے مگر مجھے ان مقدمات کاکوئی خوف نہیں ، اگرمجھے گرفتارکرکے پاکستان بھی لے جایاگیاتومیں خوشی سے پھانسی کے پھندے کو چوم لوں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم تمام مظلوم عوام کی تحریک ہے خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں،ان کی قومیت ، زبان ، فقہ یامذہب کچھ بھی کیوں نہ ہو،ایم کیوایم ہراس مظلوم کی جماعت ہے جومظلوم ہے اورجوکہتاہے کہ مجھ بے گناہ کوکیوں مارتے ہو۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں ان تمام اراکین رابطہ کمیٹی اورشعبہ جات کے ذمہ داروں کوسیلوٹ پیش کرتاہوں جنہوں نے آزمائش کے اس کڑے وقت میں پیٹھ نہیں دکھائی اورڈٹے رہے ۔میں ان سینیٹرز اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کوبھی سیلوٹ پیش کرتاہوں جنہوں نے جرات وہمت کے ساتھ استعفے دیکر قوم کاسرفخرسے بلند کیا۔ انہوں نے اسیروں کی قانونی معاونت کرنے والے وکلاء کوبھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔


9/25/2016 3:50:09 PM