Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں ایم کیوایم کے لوگوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیاجارہا ہے، الطاف حسین


پاکستان میں ایم کیوایم کے لوگوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیاجارہا ہے، الطاف حسین
 Posted on: 8/3/2015 1
پاکستان میں ایم کیوایم کے لوگوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیاجارہا ہے، الطاف حسین
انہیں غیرقانونی طورپر گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایاجارہا ہے اور ہمیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہا، الطاف حسین
کوئی ملک مذہب، لسانیت، ثقافت، کلچریازبان کی بنیادپر اپنے لوگوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے تو 
مظلوم قوم اپنے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کرسکتی ہے،الطاف حسین
آج تک ماورائے عدالت قتل میں ملوث کسی ایک فوجی اہلکار یاپولیس اہلکار کو نہ تو گرفتارکیاگیا اورنہ ہی کسی کو سزا دی گئی ، الطاف حسین
اس ظلم وستم اور کھلی ناانصافی پر میں عالمی عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹاؤں تو انصاف کیلئے کس دروازے پر دستک دوں؟الطاف حسین
میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ،سانگھڑ،ٹنڈوالہیار اور جامشورو زون کے ذمہ داران اور کارکنان سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن ۔۔۔3،اگست2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں ایم کیوایم کے لوگوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیاجارہا ہے، انہیں غیرقانونی طورپر گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایاجارہا ہے اور ہمیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہاکہ کوئی ملک مذہب، لسانیت، ثقافت، کلچریازبان کی بنیادپر اپنے لوگوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے تو مظلوم قوم اپنے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کرسکتی ہے ۔ آج تک ماورائے عدالت قتل میں ملوث کسی ایک فوجی اہلکار یاپولیس اہلکار کو نہ تو گرفتارکیاگیا اورنہ ہی کسی کو سزا دی گئی ۔ اس ظلم وستم اور کھلی ناانصافی پر میں عالمی عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹاؤں تو انصاف کیلئے کس دروازے پر دستک دوں؟
یہ بات انہوں نے پیرکی شب میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ،سانگھڑ،ٹنڈوالہیار اور جامشورو زون کے ذمہ داران اور کارکنان سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں گزشتہ 37 برسوں سے مہاجروں کوان کے جائز حقوق دینے کے بجائے طاقت کے بل پر ان کے حقوق کی آوازکو کچلنے کاعمل کیاجارہا ہے اور مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں روارکھے گئے امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد کرتا چلاآرہا ہوں۔انہوں نے کہاکہ اے پی ایم ایس او کے قیام کی جدوجہد کی پاداش میں 3، فروری 1981ء کوہمیں جامعہ کراچی اور دیگر تعلیمی اداروں سے جماعت اسلامی کی طلبا تنظیم جمعیت کے تھنڈراسکواڈ نے بندوق کی طاقت کے زورپر بیدخل کردیا ۔ ہم نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی اور کراچی کے علاقوں میں اپنے نظریہ اورپیغام کو پھیلانا شروع کردیا، تنظیم سازی شروع کی تاکہ تحریکی کام کو منظم انداز میں چلایاجاسکے ۔ اس مقصد کیلئے 26 سرکل اور 200 یونٹس قائم کیے ۔ جناب الطاف حسین نے اسپتال اور یونیورسٹی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح کسی بھی بڑے اسپتال یا یونیورسٹی میں علیحدہ علیحدہ شعبہ جات ہوتے ہیں جن کی علیحدہ علیحدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں اسی طرح پوری دنیا بھی ممالک میں تقسیم ہے ۔ جیسے جیسے دنیا بڑھنے لگی تومختلف ممالک میں جھگڑے بھی بڑھنے لگے۔مختلف ممالک کے یہ جھگڑے 1914ء میں پہلی جنگ عظیم اور 1935ء میں دوسری جنگ عظیم کا سبب بنے ۔ طاقتور ملک ، کمزورملک پر قبضہ کرتارہالیکن جن ممالک پر قبضہ کرلیاجاتا تھا وہ مجبوری کے باعث غیروں کا قبضہ تو قبول کرلیتے تھے کیونکہ مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن وہ ذہنی طورپر قابض قوتوں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتے تھے ۔ جب دنیا نے دیکھا کہ اس طرح وہ ممالک اور لوگ زندہ رہیں گے جن کے پاس طاقت ہوگی اور کمزور ممالک پریاتوقبضہ ہوجائے گا یا سب کے سب کمزور لوگ مارے جائیں گے تو اس کا حل نکالا گیا اور لیگ آف نیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیا کے ممالک کی یہ تنظیم آج اقوام متحدہ کی شکل میں موجود ہے ، مختلف ممالک کے باہمی جھگڑوں کی صورت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کسی ملک کے خلاف قرارداد پاس کرتی ہے یا سوموٹو ایکشن لیکر جارحیت کرنے والے ملک کو نوٹس بھیج دیتی ہے کہ فلاں فلاں دن نیٹو کی افواج اس ملک کاکنٹرول سنبھا لے گی تاکہ کوئی طاقتور ملک کسی کمزور ملک کانقصان نہ کرسکے ۔ اس وقت بھی پوری دنیا کے 2 درجن سے زائد ممالک میں اقوام متحدہ کی فوج تعینات ہے جن میں سیریا(شام) ، اردن، یمن ، افغانستان اور عراق شامل ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اقوام متحدہ جب یہ دیکھتی ہے کہ فلاں ملک میں امن عامہ کے قیام کے ذمہ دارادارے مذہب، ثقافت، کلچر، نسل یا زبان کی بنیاد پر کسی گروپ کو ظلم کا نشانہ بنارہے ہیں تو وہ عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے اپنا کردارادا کرتی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسپتال ، یونیورسٹی کی طرح اقوام متحدہ میں مختلف شعبہ جات ہوتے ہیں جن میں ہیومن رائٹس ، ماورائے عدالت قتل، کسی ملک کے شہریوں پر تشدد، اوران کی گمشدگی کے معاملات کا جائزہ لینے کے علاوہ مذہب، لسانیت، ثقافت اور زبان کی بنیادپر امتیازی سلوک اور ظلم وستم کا جائزہ لینے کے بھی شعبہ جات شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے بالکل کہاکہ لوگ خط لکھ کر اقوام متحدہ کو بتائیں کہ مہاجروں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، اقوام متحدہ اورنیٹو اپنی فوج بھیجے کیونکہ پاکستان میں ایم کیوایم کے لوگوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیاجارہا ہے ۔ اس پرکہاجارہا ہے کہ میں نے اقوام متحدہ یا نیٹوافواج بلانے کی بات کی ہے اور اس بنیادپر مجھے غدارقراردیاجارہا ہے ۔میں نے یہ بات اسلئے کہی ہے کہ میرے لوگوں کو غیرقانونی طورپر گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایاجارہا ہے ، جب زخموں سے چور گرفتارشدگان کوعدالت میں پیش کیاجاتاہے اور ایم کیوایم کارکن جج سے کہتا ہے کہ مجھ پر بہت تشددکیاگیا ہے ، تشددسے میرے گردے ناکارہ ہوگئے ہیں اورپیشاب سے خون آرہا ہے تو جواب میں جج کہتا ہے کہ زیادہ پانی پیاکرو اورپھر اس کا مزید ریمانڈ دے دیا جاتاہے تاکہ اسے مزید تشددکا نشانہ بنایاجائے ۔ اب اگر عدالت بھی مظلوموں کو انصاف نہ دے اور پاکستان میں کوئی ہماری فریاد تک سننے کو تیار نہ ہوتو پھر میں کہاں جاؤں ؟ کس سے فریاد کروں؟ کس سے انصاف مانگوں؟انہوں نے کہاکہ کہتے ہیں کہ الطاف حسین نے بڑا ظلم کردیا، ایسا بیان دیکر پاکستان میں رابطہ کمیٹی کو مصیبت میں ڈال دیا اور ا یم کیوایم کے لوگوں سے جواب تک نہیں دیاجاتاتو میں تمام کارکنان سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ آپ نے بہت قربانیاں دے دیں ، میری خاطر خود کومزید مصیبت میں نہ ڈالیں،یہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ مجھے قتل بھی کراسکتی ہے ، آپ کو تشددکا نشانہ بناکراور ایم کیوایم کا میڈیاٹرائل کرکے بددل بھی کرسکتی ہے اس سے پہلے کہ آپ بددل ہوجاؤمیں خود آپ کی جان چھوڑدیتا ہوں یاآپ مجھے چھوڑدیں۔اس پر تمام کارکنان نے یک زبان ہوکر کہاکہ آپ نے جوکچھ کہا وہ سچ ہے اور ہم ہرقسم کے حالات کاسامنا کرنے کیلئے تیارہیں لیکن آپ کو ہرگز نہیں چھوڑسکتے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پھرایک بات ذہن نشین کرلیں کہ میں ظلم کو ظلم ہی کہوں گا، جبرکو جبرہی کہوں گاکیونکہ میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ کراچی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کے درجنوں کارکنوں کو شہید کیاجاچکا ہے ، ماورائے عدالت قتل کیے گئے کارکنان کی پٹیشن عدالتوں میں موجود ہے لیکن آج تک ماورائے عدالت قتل میں ملوث کسی ایک فوجی اہلکار یاپولیس اہلکار کو نہ تو گرفتارکیاگیا اورنہ ہی کسی کو سزا دی گئی ۔ اس ظلم وستم اور کھلی ناانصافی پر میں عالمی عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹاؤں تو انصاف کیلئے کس دروازے پر دستک دوں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ کوئی ملک مذہب، لسانیت، ثقافت، کلچریازبان کی بنیادپر اپنے لوگوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے تو مظلوم قوم اپنے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کرسکتی ہے ۔

12/9/2016 7:04:42 PM