Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطا ف حسین سے اپنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے کو واپس لیں ،ہم جیسے ہزاروں ،لاکھوں کارکنان پہلے اس مرحلے سے گزریں گے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


جناب الطا ف حسین سے اپنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے کو واپس لیں ،ہم جیسے ہزاروں ،لاکھوں کارکنان پہلے اس مرحلے سے گزریں گے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 7/20/2015
جناب الطا ف حسین سے اپنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے کو واپس لیں ،ہم جیسے ہزاروں ،لاکھوں کارکنان پہلے اس مرحلے سے گزریں گے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
جناب الطاف حسین نہیں پہلے کارکنان اورہم تادم مرگ بھوک ہڑتال یا دھرنے کا فیصلہ کریں گے، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رات گئے منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی۔۔۔20جولائی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قائد تحریک جناب الطاف حسین سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے فیصلے کو واپس لے لیں ۔یہ اپیل ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی و دیگر کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آبا د میں رات گئے منعقد ہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جناب الطاف حسین تکلیف اور کرب میں مبتلا ہیں وہ اپنے کارکنان کو دل کی گہرایوں سے چاہتے ہیں ،کئی سو معصوم و بیگناہ کارکنان جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں گزار نے پر مجبور ہیں،درجنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کا غم ،انکا درد نصف صدی پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70ء کی دھائی کا لسانی بل بھی ہمیں یاد ہے جس کی بنیاد پر پورے سندھ سے مہاجروں کو بے دخل کردیا گیا تھا،پھر 1977ء میں چلائی جانے والی تحریک میں سندھ کے شہری علاقوں میں بے دریغ نوجوانوں کو شہید کیا گیا ، 1986ء میں قصبہ علی گڑھ میں مہاجر بستیوں پر حملے کرائے گئے، مہاجروں کا قتل عام کیا گیا ،پھر کوٹہ سسٹم کے ذریعے اقتصادی ،معاشی ،تعلیمی قتل عام کیا گیا ،انکی نسل کشی کی گئی اور اس ظالمانہ ادوار کا بوجھ جناب الطاف حسین اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام واقعات اور سانحات کی تحقیقات کرائی جائیں اور ان میں ملوث افراد کو سزا دی جائے ۔انہو ں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے پاکستان کی عملی سیاست میں نئی اور مثبت روایات کی بنیاد رکھی لیکن اسکے باوجود ہمیں صرف الزامات کے علاوہ پاکستان سے اور کچھ نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے ہمیشہ اپنا حق ادا کیا جب بھی تحریک کے آغاز میں گرفتاریوں کا وقت آیا تو سب سے پہلے جناب الطا ف حسین نے گرفتاری پیش کی،چاہے وہ 1979ء ہو یا 1986ء یا پھر 1987ء ہو ،جب بھوک ہڑتال کا وقت آیا تو پوری قوم کو ایک جانب رکھ کر تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی جناب الطا ف حسین نے ہی کی تھی اورقوم یہ بات بھولی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جناب الطا ف حسین پوری قوم کے لئے اتحاد کی علامت ہیں ،پورے پاکستان کے غریبوں ،مجبوروں کی امید یں ان سے ہی وابستہ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین ہم کارکنوں اور پاکستان کیلئے قومی اثاثہ ہیں اور جناب الطاف حسین کا نقصان قومی نقصان ہے،اس لئے ہم جناب الطا ف حسین سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے پر نظر ثانی کریں ،ہم جیسے ہزاروں ،لاکھوں کارکنان پہلے اس مرحلے سے گزرینگے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جناب الطاف حسین کی صحت اورحالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ قربانیوں کے اس مرحلے میں پہلے کارکنان آپ سے آگے نظر آئینگے اور پورے پاکستان سے بھی ہم یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ الزامات کی سیاست کا جو تحفہ جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو دیا گیا ہے کیا ہم اس کے حق دار تھے؟جناب الطاف حسین نے تو جاگیر داروں اور وڈیروں کے درمیان غریب اور مڈل کلاس کے لوگوں کو ملک کے منتخب ایوانوں میں بھیجا،جناب الطاف حسین اپنے خاندان کو پاکستان کی موروثی سیاست دور رکھ کر پاکستان کو ایک نئی راہ دکھائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست جس کا انداز گلو بٹ اور جس کا کردار ایان علی ہو وہاں پر کیا ایم کیو ایم کی سیاست پاکستان کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا نہیں تھی؟۔پریس کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق ستار نے گفتگو میں کہا کہ جناب الطاف حسین اپنے کارکنان کو بچانے کے لئے بھوک ہڑتال کررہے ہیں،رابطہ کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ کارکنان موجود ہیں پہلے ہم تادم مرگ بھوک ہڑتال یا دھرنے کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جرائم کی آڑ میں ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے جو کہ ٹھیک عمل نہیں،جب سے آپریشن شرو ع ہوا ہے ہمارے 200سے زائد کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے انکے قاتلوں کو کون گرفتار کریگا؟۔مہاجروں کے قتل عام کی تحقیقات کون کریگا؟۔ تمام واقعات کی صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئے پھر ہم سمجھیں گے کہ اس ملک میں مہاجروں کے ساتھ ظلم و ستم نہیں ہورہا۔

9/27/2016 10:31:31 AM