Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا میں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ میں ظالموں کے آگے سرنہیں جھکاؤں گا، اپنی جان دے دوں گا، الطاف حسین


ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا میں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ میں ظالموں کے آگے سرنہیں جھکاؤں گا، اپنی جان دے دوں گا، الطاف حسین
 Posted on: 7/19/2015
ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا 
میں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ میں ظالموں کے آگے سرنہیں جھکاؤں گا، اپنی جان دے دوں گا، الطاف حسین
مہاجروں سمیت پاکستان کے مظلوم عوام کے حقوق کا سودا ہرگزہرگز نہیں کروں گا، الطاف حسین
تادم مرگ بھوک ہڑتال سے اپنی جان دیکر میں اپنا یہ وعدہ پوراکرنے جارہاہوں، الطاف حسین
برسہابرس سے جاری قتل عام میں ہزارہامہاجر شہید کیے جاچکے ہیں مگر کسی ایک قاتل کوبھی گرفتارنہیں کیاگیا، الطاف حسین
میں نے مہاجروں کو پاکستان میں ایک باعزت مقام دلوانے کیلئے اپنی زندگی صرف کردی ہے لیکن میری تمام تر
کاوشوں کے باوجود مہاجروں کی جسمانی اوراقتصادی نسل کشی نہیں رک سکی ، الطاف حسین
بھوک ہڑتال کے انتظامات شروع ہوچکے ہیں اور مقامی انتظامیہ سے اجازت ملتے ہی میں بھوک ہڑتال شروع کردوں گا، الطاف حسین
میری موت کے بعد پارٹی کے معاملات مکمل طورپررابطہ کمیٹی کے ہاتھ میں ہوں گے اور پھر یہ رابطہ کمیٹی کی مرضی ہے کہ
وہ تحریک کو جاری رکھے یا اس کے خاتمے کا اعلان کردے، الطاف حسین
رابطہ کمیٹی کومیری وصیت ہے کہ تحریک کے شہداء کو ہمیشہ یادرکھیں، شہداء کے لواحقین اور اسیران کا بھرپور طریقے سے 
خیال رکھیں اور اس کیلئے کوئی طریقہ کار ضرور وضع کریں، الطاف حسین
بعض سیاسی تجزیہ نگار، کالم نویس، صحافی اور اینکرپرسنز ایم کیوایم پر بہتان تراشی تو کرتے ہیں لیکن عصبیت اور 
سیاسی مخالفت سے باہر آکر کبھی ایم کیوایم کی جائز شکایات پر غور نہیں کرتے، الطاف حسین
قمرمنصور کو پاکستان کے تمام تجزیہ نگار، کالم نویس، صحافی اور اینکرپرسنز اچھی طرح جانتے ہیں، وہ خود فیصلہ کریں کہ
کیا قمر منصور دہشت گرد ہوسکتے ہیں؟الطاف حسین
لندن۔۔۔19، جولائی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ میں ظالموں کے آگے سرنہیں جھکاؤں گا، اپنی جان دے دوں گا مگر مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام مظلوم ومحروم عوام کے حقوق اور مفادات کا سودا ہرگزہرگز نہیں کروں گا۔ تادم مرگ بھوک ہڑتال سے اپنی جان دیکر میں اپنا یہ وعدہ پوراکرنے جارہاہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں یہ قدم اس لئے اٹھانے پر مجبور ہوں کیونکہ وفاقی وصوبائی حکومتیں ، فوج ، رینجرز اورپولیس کالے قوانین کا سہارا لیکر مہاجروں کی معاشی اور جسمانی نسل کشی میں مصروف ہیں ۔ آج پاکستان کے قیام کو 67 سال گزرجانے کے باوجود مہاجروں کو برابر کا پاکستانی شہری نہیں سمجھا جاتا۔ برسہابرس سے جاری مہاجروں کے قتل عام میں ہزارہامہاجر شہید کیے جاچکے ہیں جن میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان بھی شامل ہیں مگر کسی ایک مہاجر کے قاتل کوبھی گرفتارنہیں کیاگیا۔ ان شہداء میں میرے بڑے بھائی 70 سالہ ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین بھی شامل ہیں جن کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ ان کے قاتلوں کو بھی آج تک گرفتارنہیں کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض سیاسی تجزیہ نگار، کالم نویس، صحافی اور اینکرپرسنز ایم کیوایم پر بہتان تراشی تو کرتے ہیں لیکن عصبیت اور سیاسی مخالفت سے باہر آکر کبھی ایم کیوایم کی جائز شکایات پر غور نہیں کرتے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ لوگ عصبیت میں اندھے ہوکر ایم کیوایم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس نے سندھ میں لسانی سیاست کا آغاز کیالیکن برطانیہ کے روزنامہ ’’دی ٹائمز‘‘ کی 8، جنوری 1965 ء (اخباری تراشہ منسلک ہے) کی اس خبر کا وہ کیا جواز پیش کریں گے جس میں واضح طورپرلکھاہے کہ جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کرنے کے جرم میں کراچی میں جشن فتح منانے کے بعد قتل عام کیا جس میں کم ازکم 30 اردوبولنے والوں کو شہید کیاگیا اور انکے گھروں کو آگ لگاکر راکھ کا ڈھیر بنادیا جس سے کم ازکم دوسے تین ہزار مہاجربے گھر ہوگئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس وقت یہ قتل عام کیاگیا اس وقت ایم کیوایم کاکوئی وجود ہی نہیں تھا کیونکہ اس وقت تو خود میری عمر بارہ برس تھی ۔ اہل قلم ودانش اس سوال کا جواب دیں کہ کیا یہ قتل عام عصبیت وتعصب نہیں تھا؟ کیا اس عصبیت وتعصب کی ذمہ دار بھی ایم کیوایم تھی؟ جناب الطاف حسین نے پاکستانی میڈیا کے تمام اینکرپرسنز ، اہل قلم ودانش ، صحافیوں ، کالم نگاروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں سے کہاکہ وہ ایم کیوایم پر الزامات لگاتے وقت اس سوال کا جواب بھی دیں کہ 70ء، 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں ہونے والے مہاجروں کے قتل عام کے درجنوں واقعات کے ذمہ دار کون تھے اورانہیں آج تک کیوں گرفتارنہیں کیاگیا؟
جناب الطاف حسین نے مہاجروں کے خلاف خونی سانحات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ 1970ء کے عشرے میں اس وقت کی سندھ کی صوبائی حکومت نے کوٹہ سسٹم نافذ کرکے اور لسانی بل پیش کرکے سندھ کے مستقل باشندوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ، اس کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے مہاجروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اندرون سندھ میں ایک منظم سازش کے تحت لاکھوں مہاجروں کو ان کی زمینوں ، باغات، جائیدادوں ،مکانات اور کاروبار پرقبضہ کرکے انہیں نقل مکانی پر مجبور کیاگیا۔ ہزاروں بے گناہوں کو قتل ، سینکڑوں کو زخمی اورلاکھوں افراد کو بے گھر کیاگیا۔ اس قتل عام اور ظلم کے ذمہ دارکہاں ہیں اور آج تک ان کے خلاف کیا ایکشن لیاگیا ہے ؟انہوں نے کہاکہ 31، اکتوبر 1986ء کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ اور حیدرآبادکے مارکیٹ چوک پر اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں ایم کیوایم کے پرامن جلوسوں پر فائرنگ کروائی گئی جس کے نتیجے میں ایم کیوایم کے درجنوں بے گناہ اور پرامن کارکنان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 14، دسمبر1986ء کو کراچی کی قصبہ علیگڑھ کالونی کی پرامن اورنہتی مہاجربستیوں پر مسلح افراد نے پہاڑوں سے یلغار کرکے سینکڑوں افراد کو بے رحمی سے قتل کیا، مہاجر خواتین کی عصمت دری کی ، معصوم بچوں تک کو قتل کرکے ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اور اس تمام قتل وغارتگری کے ثبو ت وشواہد ہمارے پاس موجود ہیں ۔ میرا سوال ہے کہ آخر اس قتل عام کے کتنے مجرموں کے خلاف آپریشن کیاگیا اور کتنے افراد کو گرفتارکرکے سزا دی گئی ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ 30، ستمبر1988ء کو گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں نے حیدرآباد میں داخل ہوکر وہاں روزمرہ کی سرگرمیوں میں مصروف بے گناہ ، نہتے اور پرامن مہاجروں پراندھادھند گولیاں برسائیں ، نصف گھنٹہ تک یہ قتل عام جاری رہا ، فوج ، رینجرز اور پولیس کوئی ان مہاجروں کی مدد کو نہ آیا اورصرف آدھے گھنٹے میں سینکڑوں مہاجروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ۔ میں سوال کرتا ہوں کہ اس سانحہ کے ذمہ دار دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے آج تک کوئی آپریشن کیوں نہیں کیاگیا؟ اس بربریت کے ذمہ دار کون تھے ؟ انہیں کون بے نقاب کرے گا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ 26/27 مئی 1990ء کو پولیس کی وردیوں میں ملبوس دہشت گردوں نے حیدرآباد پکا قلعہ کا محاصرہ کرکے وہاں بجلی اورپانی کی سپلائی منقطع کردی ، اس ظلم پر قرآن مجید سروں پراٹھائے دہائی دینے والی خواتین پر سفاک دہشت گردوں نے گولیاں برسائیں، وہاں کے مکینوں کا قتل عام شروع کردیا جو دوروز تک جاری رہا ۔ سینکڑوں مہاجرماؤں ، بہنوں ، بزرگوں اور نوجوانوں کو قتل کیاگیا ۔ ایمبولینسوں تک کواندرجانے کی اجازت نہیں دی گئی حتیٰ کہ لاشیں اٹھانے اور قبرستان لے جاکر تدفین کی اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں پکا قلعہ گراؤنڈ میں شہداء کی تدفین کرنی پڑی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی کی کوئی ایسی بستی نہیں جس پر مسلح حملہ کرکے مہاجروں کا قتل عام نہ کیا گیا ہو۔ 80ء کے عشرہ کے اواخر میں اسٹیبلشمنٹ نے پی پی آئی نامی دہشت گرد تنظیم بناکر گرین ٹاؤن ، رفاع عام ، الفلاح سوسائٹی ، جلال آباد،ماڈل کالونی، خواجہ اجمیرنگری اوردیگر مہاجر بستیوں میں روزانہ مہاجروں کو قتل کرایاگیا لیکن آج تک اس بربریت کے ذمہ داران کو نہ تو گرفتارکیاگیا نہ ہی ان کے خلاف کوئی اورایکشن لیاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کی اس منظم نسل کشی پر ہم نے پوری دنیا کے ضمیر کوجھنجوڑا، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ اوراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا، پاکستان میں انسانی حقوق کے نام نہاد اداروں کو تمام تر حقائق بھیجے لیکن کسی نے اس کھلی بربریت کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ مہاجروں کے خون کے پیاسے ، مہاجروں کو قتل کرکے اپنے خون کی پیاس بجھاتے رہے لیکن کسی نے اس ظلم کے خلاف آوازحق بلند نہ کی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں 37 برس کی جدوجہد کے بعد اس حتمی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ ، جاگیردار، وڈیرے اوراقتدار مافیا نہ صرف مہاجروں سے شدید نفرت اور عصبیت پر یقین رکھتے ہیں بلکہ پاکستان کی سرزمین سے مہاجروں کے وجود کو صفحہ ہستی سے مکمل طورپر مٹادینا بھی چاہتے ہیں ۔ اس اسٹیبلشمنٹ نے 67 برس گزرجانے کے باوجود مہاجروں کو دل سے پاکستانی تسلیم نہیں کیا ، نہیں کیا، نہیں کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کیلئے اس سے زیادہ دکھ کی بات کیا ہوگی کہ آج اس وطن میں ان کی حب الوطنی کے بارے میں سوال اٹھائے جارہے ہیں جسے انہوں نے اپنا خون دیکر قائم کیااور پھر اسے بچانے کیلئے دوبارہ قربانی دی ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطر دو سے زائد مرتبہ قربانی دی ۔ ایک وقت وہ تھا جب تحریک پاکستان چل رہی تھی ، اس وقت انہوں نے جانی قربانی دیکر پاکستان قائم کیا۔ دوسرا وقت وہ تھا جب 71ء میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چل رہی تھی ۔ اس وقت بھی وہاں رہنے والے مہاجروں نے پاکستان توڑنے والوں کا نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کا ساتھ دیا۔ مہاجروں نے پاک فوج کے شانہ بشانہ قربانیاں دیں لیکن پاکستان کیلئے لڑنے اورپاک فوج کا ساتھ دینے والے مہاجرآج کے دن تک بنگلہ دیش میں ریڈ کراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔
جناب الطاف حسیننے کہاکہ کراچی میں امن کی سب سے بڑی داعی ایم کیوایم ہے ، کراچی میں سب سے پہلے آپریشن کا مطالبہ ایم کیوایم ہی نے کیاتھا اور مجرموں ، قاتلوں اوردہشت گردوں کے خلاف ایک بلاامتیاز ، غیرجانبدارانہ اورشفاف آپریشن کامطالبہ کیا تھا۔ اس آپریشن سے پہلے کراچی بدامنی کیس کی سماعت میں بھی سپریم کورٹ کی جانب سے یہ کہاگیاتھا کہ کراچی کی تمام جماعتوں اور گروپوں میں دہشت گرد موجود ہیں لیکن جب آپریشن شروع کیاگیا تو صرف اورصرف ایم کیوایم کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک مرتبہ پھر کراچی کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیاگیا، انہیں ایک مرتبہ پھر عصبیت اور تعصب کا نشانہ بنایاگیا ، اس آپریشن میں ایم کیوایم کے چارہزار سے زیادہ کارکنان کو گرفتارکیاگیا، ہزارں گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن کسی ایک جگہ مقابلہ نہیں ہوا ،کہیں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی ، کوئی گولی نہیں چلی، ہماری بے گناہی اورامن پسندی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سوال کرتاہوں کہ ایم کیوایم کے علاوہ کس سیاسی ومذہبی جماعت کے مرکز پر چھاپہ مارا گیا ؟ کس جماعت کے مرکزی رہنماؤں کوگرفتارکیا گیا؟ کس سیاسی جماعت کے کارکنوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کیا گیا؟پاکستان کی اور کس جماعت کے سب سے زیادہ کارکنان گرفتاری کے بعد سے اب تک لاپتہ ہیں؟ کس اور جماعت کے بارے میں رینجرز نے اعلان کیا کہ اس کے تمام عہدیداروں کو گرفتارکیاجائے گا؟ انہوں نے مزید کہاکہ ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ رمضان المبارک کی مقدس 29 ویں شب کو ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو پر چھاپہ مار کر رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوریٰ اور رکن قمرمنصور کوگرفتارکیاگیا۔ چھاپہ سحری کے وقت ماراگیا جس کی وجہ سے لوگ سحری نہیں کرپائے اورانہیں بغیر سحری کے روزہ رکھنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ قمرمنصور کو پاکستان کے تمام تجزیہ نگار، کالم نویس، صحافی اور اینکرپرسنز اچھی طرح جانتے ہیں ، وہ خود فیصلہ کریں کہ کیا قمر منصور دہشت گرد ہوسکتے ہیں؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ، آئین اور قانون سے ماوراء ہے ، یہ بھی انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی 
جماعت ، صحیح معنوں میں جمہوریت پسند نہیں ہے ، سب کی سب بلواسطہ یا بلاواسطہ طورپر اسٹیبلشمنٹ کی ایجنٹ ہیں اور پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور اسٹیٹس کو، کوبرقراررکھنا چاہتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ کس کس جماعت نے اسٹیبلشمنٹ سے رقومات وصول کیں جن میں موجود ہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر بڑی بڑی جماعتوں اور ان کے سربراہوں اور سینئر رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ وزیردفاع خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں میڈیا کویہ بیان دیا کہ آئی ایس آئی کے دوسابق سربراہوں نے عمران خان کو استعمال کرکے دھرنا کروایا ، سرمایہ کاروں سے دھرنے کیلئے رقوم فراہم کیں ، بڑے بڑے لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا اور میڈیاپر دباؤ ڈال کردھرنے کی کوریج کروائی ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے مہاجروں کے خلاف جاری ظلم وناانصافی کو رکوانے اورانہیں پاکستان میں ایک باعزت مقام دلوانے کیلئے اپنی زندگی صرف کردی ہے لیکن میری تمام تر کاوشوں کے باوجود نہ تو مہاجروں کی جسمانی اوراقتصادی نسل کشی رک سکی ہے اورنہ ہی ان کو انصاف مل سکا ہے ۔ ان حالات میں میرے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں ہے کہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاؤں۔ اس بھوک ہڑتال کے انتظامات شروع ہوچکے ہیں اور مقامی انتظامیہ سے اجازت ملتے ہی میں بھوک ہڑتال شروع کردوں گا۔ جناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی سے کہاکہ میری موت کے بعد پارٹی کے معاملات مکمل طورپر آپ کے ہاتھ میں ہوں گے اور پھر یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ تحریک کو جاری رکھیں یا اس کے خاتمے کا اعلان کردیں ۔ آپ خواہ کوئی بھی فیصلہ کریں لیکن میری آپ کو یہ وصیت ہے کہ آپ تحریک کے شہداء کو ہمیشہ یادرکھیں، شہداء کے لواحقین اور اسیران کا بھرپور طریقے سے خیال رکھیں اور اس کیلئے کوئی طریقہ کار ضرور وضع کریں۔
English
وڈیو 

12/3/2016 5:56:08 PM