Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

رینجرز نے سہولت کار قرار دیکر رابطہ کمیٹی کے انچارج کہف الوریٰ اور رکن قمر منصور کو گرفتار کیا ، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جناب الطاف حسین کی تقریر سننا یااس کی تائیدکرنا کس آئین وقانون کے تحت جرم ہے ، محترمہ نسرین جلیل


رینجرز نے سہولت کار قرار دیکر رابطہ کمیٹی کے انچارج کہف الوریٰ اور رکن قمر منصور کو گرفتار کیا ، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جناب الطاف حسین کی تقریر سننا یااس کی تائیدکرنا کس آئین وقانون کے تحت جرم ہے ، محترمہ نسرین جلیل
 Posted on: 7/17/2015
رینجرز نے سہولت کار قرار دیکر رابطہ کمیٹی کے انچارج کہف الوریٰ اور رکن قمر منصور کو گرفتار کیا ، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جناب الطاف حسین کی تقریر سننا یااس کی تائیدکرنا کس آئین وقانون کے تحت جرم ہے ، محترمہ نسرین جلیل
نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ غیر قانونی تھا کیونکہ چھاپے کے وقت سرکاری اہلکاروں کے پاس کوئی وارنٹ نہیں تھا ، نسرین جلیل 
سندھ اور وفاقی حکومت کے جمہوری دور میں ہونے والے سیاسی کارکنان پر مظالم نے مارشل لاء کے دور کے مظالم کو بھی مات دیدی ہے، کنور نوید جمیل 
جسمانی و ذہنی تشدد کرنا بین الاقوامی جرم ہے ،ایم کیوایم جنیوا میں ہیومن راٹئس کونسل میں جارہی ہے 
اور وہاں ہماری درخواستیں جمع ہوچکی ہیں، سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔17، جولائی 2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کی رکن و حق پرست سینیٹر محترمہ نسرین جلیل نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ غیر قانونی تھا کیونکہ چھاپے کے وقت سرکاری اہلکاروں کے پاس کوئی وارنٹ نہیں تھا ۔ انہوں نے پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر دوسری بار چھاپے اور رابطہ کمیٹی کے انچارج کہف الوریٰ اور رابطہ کمیٹی کے رکن قمرمنصور کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ جب رینجرز کے اہلکار رابطہ کمیٹی کے انچارج و رکن کو گرفتار کررہے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ آپ سہولت کار ہیں اس لئے آپ کو گرفتار کیاجارہا ہے تو ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ جناب الطا ف حسین کی تقریر سننا یا اس کی تائید کرنا کس آئین و قانون کے تحت جرم ہے ۔انہوں نے شکوہ کیا کہ رینجرز کا رویہ آئین و قانون کی تمام شقوں ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے ۔انہوں نے کہاکہ رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین اسمبلی کو گرفتار کرنا ہی ہے تو ہمیں بتا دیاجائے ہم خود آکر اپنی گرفتاریاں پیش کردیں گے اور گرفتاریوں پر ضمانتیں نہیں کروائیں گے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل ، حق پرست سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف اور حق پرست سینیٹر میاں عتیق بھی موجود تھے ۔ محترمہ نسرین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 11مارچ 2015ء کوبھی رینجرزکی جانب سے ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپربغیروارنٹ چھاپہ ماراگیاتھاجس میں رابطہ کمیٹی کے رکن عامرخان سمیت مختلف شعبہ جات کے ذمہ داروں اورکارکنوں علاقے کے عوام سمیت سوسے زائد افرادکوگرفتارکیاتھا۔ جن میں سے متعدد کارکنان تاحال سرکاری حراست میں ہیں اوران پر مختلف جھوٹے مقدمات قائم کردیے گئے ہیں ان میں سے 56لوگوں کو رینجرز نے رہا کیا جنہیں ریمانڈ کے دوران بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آج شب ایک بار پھررینجرزکی جانب سے نائن زیروپرچھاپہ ماراگیا۔رینجرزکے اہلکارخورشیدبیگم میموریل ہال پہنچے اور وہاں سے رابطہ کمیٹی کے ارکان کنورنوید، عظیم فاروقی ، قمر منصوراورسفیان یوسف کوبات چیت کے بہانے رابطہ کمیٹی کے آفس سے لیکر گئے اوران میں سے قمرمنصورکوحراست میں لے لیاگیااورباقی ارکان کوواپس جانے دیاگیا ۔نائن زیرو پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد رینجرزکے اہلکاروں نے خورشیدبیگم ہال میں دوبارہ پہنچ کر رابطہ کمیٹی کے انچارج کہف الوریٰ کوحراست میں لے لیا۔اس وقت رینجرز کا کہنا تھا کہ کیونکہ آپ سہولت کار ہیں اس لئے آپ کو گرفتار کیاجارہا ہے تو کیا قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقریر سننا جرم ہے ؟۔ ہم آئینی و قانونی ماہرین سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کسی کی تقریر پر سننا کس آئین و قانون کے تحت جرم ہے ؟۔ یہ چھاپہ اورایم کیوایم کے رہنماؤں کی گرفتاری چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ کراچی میں آپریشن صرف اورصرف ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے ۔ جس کامقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ ایم کیوایم کو کچلناہے ۔ ایم کیوایم کوکچلنے کیلئے بڑے پیمانے پرکارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کے لئے رمضان المبارک کی 29ویں شب کابھی خیال نہیں کیاگیا جبکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایم کیوایم اور اس کے کارکنان کو خوف اور ڈر میں مبتلا کرنے کیلئے پاکستان کے تینوں منتخب ایوانوں کی تذلیل کی گئی ہے ،تینوں ایوانوں کے اراکین کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے جن میں قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر رشید گوڈیل ، سندھ اسمبلی پارلیمانی لیڈر سردار احمد ، ، ڈاکٹر فاروق ستار اور حیدر عباس رضوی جنہیں ستارہ جرات دیا گیا ہے اس کے علاوہ سینیٹر زاور خواتین اراکین پربھی ایف آئی آرز درج کرادی گئیں اور انہیں مقدمات میں نامزد کردیا گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین اراکین پارلیمنٹرین کے خلاف ایف آئی آرز اور مقدمات کا اندراج جمہوری دور میں آمریت کی بد ترین مثال ہے اور اس بات کا ثبو ت ہے کہ کراچی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کو کچلنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل کیاجارہا ہے ۔ موجودہ سندھ اور وفاقی حکومت کے جمہوری دور میں ہونے والے سیاسی کارکنان پر مظالم نے مارشل لاء کے دور کے مظالم کو بھی مات دیدی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی حکومتی جماعت پیپلزپارٹی کو کراچی اور سندھ کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، کراچی میں پانی و بجلی کا سنگین بحران برقرار ہے ، پیپلزپارٹی کی انتظامیہ نے 3، 4لوگوں کو فارغ کردیا جن میں منظور کاکا ، ثاقب سومرو کہاں ؟ اصل بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے اربوں کھربوں روپے کھا کر شمون منظور کاکا اور ثاقب سومرو نکال دیا ہے ، ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کرپشن کا یہ اربوں ، کھربوں روپیہ کہاں ہے ؟ اس تمام صورتحال میں یہ واضح ہے کہ ایک جانب اداروں کے درمیان مک مکا کی سیاست عروج پر ہے اور دوسری جانب ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی و سینیٹ کو گرفتار کرنا ہی ہے تو ہمیں بتا دیں ہم خود آکر اپنی گرفتاریاں دیدیتے ہیں کیونکہ نائن زیرو پر باربار چھاپہ مارنے سے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے جذبات اور احساسات مجروح ہوتے ہیں اور اس سے لوگوں میں ایک منفی ردعمل بھی پیدا ہوتا ہے ۔انہوں نے انسانیت پر یقین رکھنے والے تمام سیاسی ومذہبی رہنماؤں خصوصاً انسانی حقوق کی تنظیموں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ ایم کیوایم کے رہنماؤں ،کارکنان اور ہمدردوں پر ڈھائے جانے والے غیرانسانی مظالم اورغیرقانونی گرفتاریوں کافوری نوٹس لیں اور اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور ایم کیوایم دشمن عناصر کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے ظلم اور جبر کے ذریعے ہمارے حوصلوں کوپست نہیں کیاجاسکتا۔ بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے رکن نوید جمیل نے بتایا کہ ہمیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ رابطہ کمیٹی کے انچارج کہف الوریٰ کو رینجرز نے چھوڑ دیا ہے جبکہ رابطہ کمیٹی کے رکن قمر منصور ابھی تک رینجرز کی تحویل میں ہیں ۔ ایم کیوایم خیبر پختونخواہ کے صدر اور حق پرست سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بین الاقوامی چارٹرڈ کے ٹارچر کی کنونشن کی خلاف ورزی کررہی ہے ، جسمانی ذہنی تشدد کرنا بین الاقوامی جرم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے انصافی اور ظلم کے معاملے کو بین الاقوامی عدالت اور ہر فورم پر اٹھائیں گے ، جو لوگ وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہیں یہ قانون کو مس یوز کررہے ہیں ۔ ایم کیوایم اقوام متحدہ سمیت جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل میں جارہی ہے اور وہاں ہماری درخواستیں جمع ہوچکی ہیں۔

9/26/2016 12:22:26 AM