Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم پرالزامات لگانے اور ظلم کانشانہ بنانے کاسلسلہ بندکیاجائے۔ الطاف حسین


ہم پرالزامات لگانے اور ظلم کانشانہ بنانے کاسلسلہ بندکیاجائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 7/16/2015
ہم پرالزامات لگانے اور ظلم کانشانہ بنانے کاسلسلہ بندکیاجائے۔ الطاف حسین
جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا نے والے جواب دیں کہ اگر انکے بھائی بیٹوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جائے تو کیا وہ ایسا عمل کرنے والوں کا ہارپھول کے ساتھ استقبال کریں گے ؟
تمام تر مظالم کے باوجود ایم کیوایم نے خدمت خلق کاکام بندنہیں کیا
میں نے آصف زرداری کااس کڑے وقت میں ساتھ دیا لیکن اسکے صلہ میں آصف زرداری نے میرے ساتھ دھوکہ کیا
خدمت خلق فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد کئے گئے سالانہ امدادی پروگرام سے خطاب
لندن۔۔۔16، جولائی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ جو لوگ ایم کیوایم پرجھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں وہ اس سوال کا جواب دیں کہ اگر خدانخواستہ ان کی خواتین کی بے حرمتی کی جائے ، ان کے بھائی بیٹوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جائے تو کیا وہ ایسا عمل کرنے والوں کا ہارپھول کے ساتھ استقبال کریں گے ؟ ہم پرالزامات لگانے اور ظلم کانشانہ بنانے کاسلسلہ بندکیاجائے۔ الطاف حسین نے قومی خزانے سے ایک پائی کی بھی چوری نہیں کی ہے اور الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جس کا دامن کرپشن کی آلودگی سے پاک ہے ۔میں نے آصف زرداری کااس کڑے وقت میں ساتھ دیا جبکہ پیپلزپارٹی کے لوگوں نے ان کاساتھ چھوڑدیاتھا لیکن اس کے صلے میں آصف زرداری نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہارآج جناح گراؤنڈعزیزآبادمیں خدمت خلق فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد کئے گئے سالانہ امدادی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر غریب ومستحق بیواؤں، یتیموں اورناداروں میں لاکھوں روپے کاامدادی سامان تقسیم کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1947ء سے آج تک پاکستان میں فوج کی حکمرانی قائم رہی ہے اور جمہوری حکومتوں کو بھی اقتدارمیں آنے کیلئے فوج کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ ایم کیوایم نے بھی جنرل پرویز مشرف سے ہاتھ ملایا ،8 سال تک ان کے ساتھ رہے اور جب ہمیں عوام کی خدمت کا بھرپور موقع ملاتو ہم نے کراچی اورحیدرآباد کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ایم کیوایم ہرسال غریبوں ، بیواؤں ، یتیموں ، مساکین اور دیگر مستحقین کی امداد کیلئے ہرسال امدادی پروگرام کا انعقاد کرتی ہے اوراس سلسلے میں زکوٰۃ ، فطرہ اوردیگر عطیات جمع کرتی ہے لیکن اس سال پاکستان کے مسلمان فوجیوں نے ڈی جی رینجرز بلال اکبر اور کورکمانڈر نوید مختار نے وزیراعظم نوازشریف ، آپریشن کے کپتان سید قائم علی شاہ اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ایماء پر فیصلہ کیا کہ ایم کیوایم اور اس کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو زکوٰۃ ، فطرہ ، صدقات اور دیگر عطیات جمع نہ کرنے دیں تاکہ وہ اس سال امدادی پروگرام نہ کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تمام تررکاوٹوں کے باوجود آج بھی سالانہ امدادی پروگرام منعقد کیاجارہا ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈی جی رینجرز نے شاہی فرمان جاری کیا کہ ایم کیوایم کے سیکٹرانچارجز اور یونٹ انچارجز کو گرفتارکرلیا جائے گا، میں غیرقانونی اور غیرآئینی اقدامات کرنے والوں کے نام لئے تو کہاگیا کہ اب الطاف حسین فوجی افسروں کے نام لے رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کہاں کی شرافت ہے کہ فوجی افسران ، منتخب وزیراعظم کے کان پکڑ کر اقتدار سے نکال دیں لیکن جب غیرآئینی اورغیرقانونی حرکتیں کرنے والوں کا نام لیا جائے تو انہیں آگ لگ جاتی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے بعض اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ الزام لگاتے ہیں کہ 1992ء میں دہشت گردوں کو مارنے والے پولیس افسران کو چن چن کر قتل کردیاگیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ الزام لگانے والے مسلمان ہیں ، اللہ تعالیٰ اورقرآن مجید پر یقین رکھتے ہیں تو ثابت کریں کہ ان پولیس افسران کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد دہشت گرد تھے ۔ان شہیدوں کی اکثریت کو میں ذاتی طورپر جانتا ہوں جوکہ انتہائی شریف النفس تھے اور انہوں نے زندگی میں کسی کو نقصان تک نہیں پہنچایاتھا، ان معصوموں کو گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔انہوں نے کہاکہ میں نے کسی پولیس افسر کے قتل کادرس نہیں دیا بلکہ کسی کونقصان پہنچانے کے بجائے معاف کرنے کا ہی پیغام دیا،مگر جس کے دو ،دو بھائیوں ، والد کو ماورائے عدالت قتل کردیاجائے ، حراست کے دوران بہیمانہ تشدد کرکے آنکھیں نکال دی جائیں اور استری سے جسم جلادیاجائے قتل کردیاجائے، اگرمرنے والے کے چاربھائی صبر کرلیں اورایک بھائی صبر کرنے کے بجائے ظالم پولیس افسر سے بدلہ لے لے تو اس کا الزام کس کو دیاجائے گا؟ انہوں نے کہاکہ جو لوگ ایم کیوایم پرجھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں وہ اس سوال کا جواب دیں کہ اگر خدانخواستہ ان کی خواتین کی بے حرمتی کی جائے ، ان کے بھائی بیٹوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جائے تو کیا وہ ایسا عمل کرنے والوں کا ہارپھول کے ساتھ استقبال کریں گے ؟ جناب الطاف حسین نے مزید کہا کہ اگر خدانخواستہ ان اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں کا کوئی بھائی ماورائے عدالت قتل کیاجاتا اور وہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے اورپھر ہم پوچھتے کہ آپ کیوں چلارہے ہو تو ان کے دل پر کیا گزرتی؟انہوں نے مزید کہاکہ رینجرز نے پانچ کروڑ مہاجروں کے خلاف اعلان جنگ کررکھاہے ، ہم ہرظلم وستم کا بہادری سے سامنا کریں گے لیکن ظالموں کے آگے اپنا سرہرگزنہیں جھکائیں اورانشاء اللہ ،نہ صرف بے گناہوں کے قاتلوں بلکہ ان کا ساتھ دینے والے اینکرپرسنز اورتجزیہ نگاروں سے قرآنی احکامات کے تحت قصاص اوردیت وصول کیاجائے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ نوا زشریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا توانہوں نے مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کی ، یہی عمل محترمہ بے نظیربھٹو نے بھی کیا اور حال ہی میں آصف علی زرداری نے فوج کے بارے میں کھلم کھلا کہا کہ وہ اینٹ سے اینٹ بجادیں گے لیکن ان سے تمام فوجی ڈر کے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈر اور خوف اس کے دل میں ہوتا ہے جس نے چوری کی ہو، الطاف حسین نے قومی خزانے سے ایک پائی کی بھی چوری نہیں کی ہے اور الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جس کا دامن کرپشن کی آلودگی سے پاک ہے ۔انہوں نے پنڈال میں موجود افراد سے دریافت کیا کہ رینجرز نے میری رہائش گاہ نائن زیرو پرتو چھاپہ مارا لیکن آپ بتائیں کہ کیاانہوں نے آصف علی زرداری ، میاں نوازشریف ، عوامی نیشنل پارٹی ، لشکرجھنگوی اور سپاہ صحابہ کے ہیڈکوارٹرز پر چھاپہ مارا؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’جی نہیں‘‘۔ جناب الطاف حسین نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کوایم کیوایم کے خلاف جتنازہراگلنا ہے اگلیں لیکن وقت ایک جیسانہیں رہتا ، کل تمہیں بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور تمہارا احتساب کیاجائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاک فوج کے ٹاپ موسٹ لوگوں نے مجھ سے کہاتھا کہ ہم، ایم کیو ایم سے غلط فہمیاں دوکرکے ہاتھ ملارہے ہیں، اگر وہ جرنیل اپنے وعدے میں سچے ہیں اور انہوں نے ہم سے سچا وعدہ کیا تھا تو وہ موجودہ جرنیلوں کو پیغام پہنچادیں کہ ہم پر ظلم وستم کا سلسلہ بند کردیں۔انہوں نے کہاکہ مفاد پرست عناصر نے پاکستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا ہے ، اللہ ایسے بے غیرتوں سے پاکستان کو بچائے ، اگر یہ عناصر رہے تو غیرت مندوں کا بنایا ہوا پاکستان قائم ودائم نہیں رہ سکے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 37سالہ جدوجہدمیں کئی نشیب وفرازآئے لیکن ایم کیوایم کے کارکنوں، الطاف حسین کے بیٹوں، بھائیوں نے کٹھن حالات میں جس جرات وبہادری کامظاہرہ کیا، جب ایم کیوایم کی تاریخ لکھی جائے گی توان بہادروں کے کارنامے لکھے جائیں گے۔صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ ضعیف العمر بزرگوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246میں جس طرح جبرکے سامنے کھڑے ہوگئے اس پر انہیں جتناخراج تحسین پیش کیاجائے کم ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکنوں کاماورائے عدالت قتل کیا گیا، بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کی گئیں،ریاستی مظالم کے پہاڑتوڑے گئے لیکن تمام ترمظالم کے باوجود ایم کیوایم نے خدمت خلق کاکام بندنہیں کیا۔آزادکشمیرمیں زلزلہ آیاتوہم نے وہاں بڑے پیمانے پرامدادی سرگرمیاں انجام دیں جس سے کوئی انکارنہیں کرسکتا،خیبرپختونخوا،بلوچستان میں سیلاب آیاتوہم نے وہاں متاثرین کی امداد کی، تھرمیں قحط پڑااورجہاں بھی کوئی قدرتی آفت آئی ہم نے وہاں امدادکی لیکن ہماری ان فلاحی سرگرمیوں کے باوجود ہم پرالزامات لگائے گئے اورہمیں مظالم کانشانہ بنایاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری کوشش ہوتی ہے عیدکے موقع پرغریبوں کے بچے بھی نئے کپڑے پہن سکیں، وہ بھی سوئیاں کھاسکیں اورعیدکی خوشیاں مناسکیں لیکن غریب ومستحقین کی مددسے روکنے کیلئے رینجرزنے ہمیں زکوٰۃ فطرے کے عطیات جمع نہیں کرنے دیئے اورہم پر مظالم کے پہاڑتوڑے جارہے ہیں اوراس میں حکومت سندھ پوری طرح شریک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آصف زرداری اورفوج کے کرپٹ جرنیلوں کامک مکا پہلے بھی تھااورآج بھی ہے۔ میں نے یہ سمجھاتھاکہ آصف زرداری واقعی پاکستان کے لئے کچھ کرناچاہتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم تھاکہ ان کامقصدپاکستان کوبنانا نہیں بلکہ لوٹناہے۔میں نے آصف زرداری کااس کڑے وقت میں ساتھ دیا جبکہ پیپلزپارٹی کے لوگوں نے ان کاساتھ چھوڑدیاتھا لیکن اس کے صلے میں آصف زرداری نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمدچوہدری نے بدامنی کوجوازبناکرکراچی میں سوموٹو لیکرعدالت لگائی جیسے کہ پنجاب میں امن وامان کی صورتحال بہت اچھی ہے اوروہاں قتل نہیں ہوتے ، پنجاب میں اگرکوئی غریب کسی جاگیردار کی حکم عدولی کرے تواس کی بیٹی کواٹھالیاجاتاہے اورعورتوں کوننگاکرکے بازارمیں گھمایاجاتاہے لیکن فوج اوررینجرزوالوں کویہ نظرنہیں آتا لیکن کراچی کا شور کیا جاتاہے۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ کراچی میں بدامنی کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جماعتوں اورگروپوں نے عسکری ونگ بنائے ہوئے ہیں، ایم کیوایم، اے این پی، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی ، سنی تحریک، سپاہ صحابہ اوردیگرگروہوں کانام لیالیکن سوائے ایم کیوایم کے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہاکہ رینجرزوالوں نے لیاری میں کارروائی کی تووہاں رینجرزپر فائرنگ ہوئی اور اگر وہاں گینگ وار کے پانچ لوگ رینجرزکے ہاتھوں مارے گئے توتین رینجرزوالے بھی نشانہ بنے جبکہ ایم کیوایم کے خلاف جب بھی کسی مہاجر بستی میں رینجرزآئی تولوگوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی، کسی نے قانون ہاتھ میں نہیں لیااسلئے کہ میں نے لوگوں کو صبروبرداشت اور امن پسندی کی تعلیم دی ہے،آج تومیں قیادت کررہا ہوں لیکن کل اگرکسی اورکے ہاتھ میں قیادت آئی اورلوگوں نے صبروبرداشت کا دامن چھوڑدیاتوکیاہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ والوں کواسلئے تکلیف ہوئی کہ میں نے ایک خطاب میں 1971ء میں پاکستا ن کی فوج کے ہتھیارڈالنے کاذکرکیا، یہ سب کچھ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہابلکہ میں نے توتاریخی حقائق بیان کئے اس پرتکلیف کیوں ہوتی ہے؟ کیااس تاریخی حقیقت سے انکارکیاجاسکتاہے کہ 1971ء میں پاکستان کے فوجیوں نے 93ہزارکی تعدادمیں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیارڈالے اور دوسال تک بھارت کی قیدمیں رہے؟جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ستمبر2013ء میں آپریشن
شروع ہوااس کے دوران ایم کیوایم کے کئی کارکنوں کوبدترین تشددکانشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔میں ساتھیوں کووصیت کرتاہوں کہ جولوگ بھی ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں ان کے ساتھ قانون کے تحت نمٹاجائے ۔انہوں نے کہاکہ رینجرز کی جانب سے ایم کیوایم کے سیکٹرانچارجز اوریونٹ انچارجزاوردیگرذمہ داروں کوگرفتارکرنے کاجواعلان کیاگیا ہے ، آخرایم کیوایم کے ان ذمہ داروں نے کیاجرم کیا ہے؟جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں برطانیہ میں بھی جیل میں زندگی گزارنے کیلئے تیارہوں،میں حسینی تھا، حسینی ہوں اورحسینی ہی رہوں گا ۔ میں اپنی گردن کٹواناقبول کرلوں گا لیکن قافلہ یزید میں شامل نہیں ہوں گا۔جناب الطا ف حسین نے تمام ترمصائب ومشکلات اوررکاوٹوں کے باوجود تحریک کے کام کوجاری رکھنے پراراکین رابطہ کمیٹی، منتخب نمائندوں، تمام شعبوں کے ذمہ داروں اورکارکنوں کوسلام تحسین پیش کیا۔انہوں نے ایم کیوایم اوورسیزکے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تحریک کودرپیش مالی بحران کے پیش نظرزیادہ سے زیادہ عطیات پارٹی فنڈ میں جمع کرائیں۔ 

9/29/2016 3:24:37 PM