Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیراعلیٰ سندھ اورسندھ اسمبلی کے ارکان اگر سندھ کودھرتی ماں سمجھتے ہیں تووہ یہ بل پاس کریں کہ اب ہمیں سندھ دھرتی پرمظلوموں پر ظلم کرنے والی رینجرزنہیں چاہیے۔الطاف حسین


وزیراعلیٰ سندھ اورسندھ اسمبلی کے ارکان اگر سندھ کودھرتی ماں سمجھتے ہیں تووہ یہ بل پاس کریں کہ اب ہمیں سندھ دھرتی پرمظلوموں پر ظلم کرنے والی رینجرزنہیں چاہیے۔الطاف حسین
 Posted on: 7/7/2015 1
وزیراعلیٰ سندھ اورسندھ اسمبلی کے ارکان اگر سندھ کودھرتی ماں سمجھتے ہیں تووہ یہ بل پاس کریں کہ اب ہمیں سندھ دھرتی پرمظلوموں پر ظلم کرنے والی رینجرزنہیں چاہیے۔الطاف حسین
رینجرزکی جانب سے ایم کیوایم کے سیکٹراوریونٹ انچارجزکوگرفتارکرنے کے اعلان کانہ تووزیراعلیٰ نے کوئی نوٹس لیا اورنہ ہی عدلیہ نے۔ عدالتیںآزادہوتیں توجج حضرات رینجرزکے اس اعلان پرایکشن لیتے 
رینجرز کے مظالم ،گرفتاریوں،تشدداورماورائے عدالت قتل کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنادیں گے
اگررینجرزنے دھرنے کے شرکاء پر گولی چلائی توپھرتمام ترنتائج کی ذمہ داری ر ینجرزاوررینجرزکے کپتان پرعائدہوگی
نوازشریف ایف آئی اے کو جو اختیارات دے رہے ہیں کل اس کااستعمال نوازشریف کے خلاف ہی ہوگا
ہم پرراسے مددلینے کا الزام لگانے اوررا کوبرابھلاکہنے والے وزیراعظم ، وزیرداخلہ ،وزیردفاع خواجہ ،ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی رینجرز کی سربراہی میں کفن پہن کر مقبوضہ کشمیرجائیں اوررا اورانڈیاکی فوج سے لڑیں
کشمیر کو آزادکرانے کیلئے رینجرزوالوں کوکشمیربھیجاجائے، مقبوضہ کشمیرکوانڈیاکے قبضے سے آزادکراکے 1971ء کی شکست کابدلہ لیں، ہمیں موٹروے اوربڑے بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں کشمیر کی آزادی چاہیے
سندھ خصوصاً کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورذیاں ہورہی ہیں مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں اور ممالک ان مظالم پر خاموش ہیں
عالمی اداروں کوپاکستان میں مہاجروں، سندھیوں ، بلوچوں اورپختونوں پر مظالم کے خلاف آوازبلند کرنا چاہیے
افغان جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پختونوں کاہوا، طالبان اورالقاعدہ کے خلاف بمباری میںآج بھی عام پختون مارے جارہے ہیں
ایم کیوایم کے ذمہ داران عالمی اداروں کوخطوط لکھ کرانہیں پاکستان میں مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں اورپختونوں پر ہونے والے
مظالم سے آگاہ کریں۔ نائن زیروپرایم کیوایم کے تنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب
کراچی ۔۔۔ 7 جولائی 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ اورسندھ اسمبلی کے تمام ارکان سے کہاہے کہ وہ یاتوسندھ کودھرتی ماں کہنا چھوڑدیں اوراگروہ سندھ کودھرتی ماں سمجھتے ہیں تووہ ملکر یہ بل پاس کریں کہ اب ہمیں شاہ لطیف کی امن اورپیارکرنے والوں کی سندھ کی دھرتی پرمظلوموں پر ظلم کرنے والی رینجرزنہیں چاہیے۔انہوں نے یہ بات آج نائن زیروپرایم کیوایم کے تنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرزنے اپنی پریس ریلیزمیں اس بات کااعلان کیاکہ ایم کیوایم کے سیکٹرانچارجزاوریونٹ انچارجزکوگرفتارکریں گے کیونکہ ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی انہیں عسکری تربیت دیتی ہے جبکہ ایم کیوایم میں کافی عرصہ سے تنظیمی کمیٹی کاکوئی وجودنہیں۔رینجرزکے اس اعلان پر نہ تووزیراعلیٰ نے کوئی نوٹس لیااورنہ ہی عدلیہ نے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیںآزادہوتیں توججزرینجرزکے اس اعلان پرایکشن لیتے کہ آپ نے یہ غیرقانونی اعلان کیسے جاری کیا اور رینجرزکویہ حکم دیتے کہ اگر آپ نے کسی کوغیرقانونی طورپرگرفتارکیاتوآپ پرآئین اورقانون توڑنے کے جرم میں کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے ملک کے سینئروکلاء کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئین اورقانو ن کی کس شق میں لکھاہے کہ فلاں فلاں سیاسی جماعت کے یونٹ انچارچ یاکسی عہدیدارکو بغیرکسی مقدمہ کے صرف اس جماعت سے وابستگی کی بنیادپر گرفتارکرلیاجائے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرزکی جانب سے اس ظالمانہ اعلان ،رینجرزکی جانب سے ریاستی مظالم ،گرفتاریوں،تشدداورماورائے عدالت قتل کے خلاف ہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنادیں گے اوراگررینجرزنے اس دھرنے کے شرکاء پر گولی چلائی توپھرتمام ترنتائج کی ذمہ داری رینجرز اوررینجرز کے کپتان پر عائدہوگی۔رابطہ کمیٹی جلد ہی اس دھرنے کی تاریخ کااعلان کرے گی۔ جناب الطاف حسین نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ اورسندھ اسمبلی کے تمام ارکان کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یاتو صوبہ سندھ کودھرتی ماں کہنا چھوڑدیں اوراگرآپ سندھ کوواقعی دھرتی ماں سمجھتے ہیں تو ملکر یہ بل پاس کریں کہ اب ہمیں شاہ لطیف کی امن اورپیارکرنے والوں کی سندھ کی دھرتی پرمظلوموں پرظلم کرنے والی رینجرزنہیں چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے ایف آئی اے کوپولیس کے اختیارات دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف سے کہاکہ آپ نے ماضی میں بھی خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں جن کی ہم نے مخالفت کی تھی اور آپ کویہ سمجھایا تھا کہ یہ عدالتیں مستقبل میں آپ ہی کے خلاف استعمال ہوں گی ، آپ نے ہماری بات نہ مانی بالآخر انہی خصوصی عدالت نے آپ کو سزادی۔آج پھر نوازشریف ایف آئی اے کو جو اختیارات دے رہے ہیں اس کااستعمال کل نوازشریف کے خلاف ہی ہوگا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جواینکرپرسنز ، تجزیہ نگار اور رہنما ایم کیوایم پر را سے مددلینے کاالزام لگاتے ہیں ہم ان سے کہتے ہیں کہ وہ ہم پر الزام لگانے اوررا کوبرابھلاکہنے کے بجائے وزیراعظم نوازشریف،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار ، وزیردفاع خواجہ آصف ،ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی رینجرزجنرل بلال کی سربراہی میں کفن پہن کر مقبوضہ کشمیر جائیں اوررا اورانڈیاکی فوج سے لڑیں اور مقبوضہ کشمیر کو انڈیاکے قبضے سے آزادکراکے 1971ء کی شکست کابدلہ لیں۔ ہمیں موٹروے اوربڑے بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں کشمیر کی آزادی چاہیے لہٰذا کشمیر کو آزادکرانے کیلئے رینجرزوالوں کوکشمیربھیجاجائے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمیں افسوس ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں مگرانسانی حقوق کی ملکی وغیرملکی تنظیمیں اورانسانی حقوق کی باتیں کرنے والے ممالک بھی ان مظالم پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی اداروں کوپاکستان میں مہاجروں، سندھیوں ، بلوچوں اور پختونوں پر مظالم کے خلاف آوازبلند کرنا چاہیے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بلوچوں کو انڈیا کا ایجنٹ کہہ کروہاں کئی بار فوج کشی کی گئی، سندھ میں فوج کشی کی گئی ، خیبرپختونخوا میں مظالم کئے گئے ، کراچی میں فوج کشی کی گئی ،ہزاروں معصوموں کوقتل کیا گیا لیکن پنجاب میں کبھی ایسانہیں کیاگیا۔ 1977ء کی تحریک نظام مصطفےٰ کے دوران کراچی، بلوچستان اورصوبہ سرحدمیں احتجاج کرنے والوں پر فوج نے گولیاں چلائیں لیکن جب لاہورمیں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیاتوفوج کے افسران نے ان پر گولی چلانے سے یہ کہہ کر انکارکردیا کہ ہم اپنے بھائیوں پر گولی نہیں چلاسکتے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نبی کریم ؐ کو اہل مکہ صادق، امین ، نیک سیرت اور شریف تسلیم کرتے تھے ، جب حضور ؐ نے حق کی تبلیغ شروع کی اور عرب کے لوگوں کوبتایا کہ تمام کائنات ، زمین آسمان اور جن وبشرکا مالک ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے سوا کوئی معبودنہیں ہے تو کفارنے نبی کریم ؐ اور صحابہ کرامؓ پر مظالم شروع کردیئے لیکن تمام ترمظالم کے باوجود سرکاردوعالم ؐ اورصحابہ کرامؓ کو حق کی تبلیغ سے روکانہیں جاسکا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کی مقدس جگہیں ہوتی ہیں، مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ مقدس مقام کعبۃ اللہ ہے اوردنیابھرکے مسلمان خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے سجدہ کیا کرتے ہیں مگر جن لوگوں نے مسلمانوں کے مقدس مقام خانہ کعبہ پر گولیاں چلائی ہوں اگر وہ بنگالیوں، پختونوں، سندھیوں ، بلوچوں اور مہاجروں پر گولیاں چلائیں توکسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ ، رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کا سوچ رہے ہیں لیکن وزیراعلیٰ سندھ ، رینجرز کو اختیارات دیکر بھول جاتے ہیں اور انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ سندھ کے بچوں کے ساتھ کیاسلوک ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی میں اسٹیبلشمنٹ کا کتنا کردار رہا ہے اور ان عناصر کے مذموم عزائم میں اردوبولنے والے سندھی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اردوبولنے والے سندھیوں کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وفاق کی سربراہی ہمیشہ صوبہ پنجاب کے پاس رہی ہے جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے ۔پاکستانی فوج ، بیوروکریسی اورزندگی کے ہرشعبہ میں پنجاب کا حصہ دیگر صوبوں سے زیادہ ہے ، بڑا صوبہ ہونے کی حیثیت سے پنجاب کو بڑے بھائی کا کرادا ادا کرنا چاہیے تھا مگر پنجاب کے حکمراں چھوٹے صوبوں کے ساتھ سوتیلا پن اور غیروں جیسا سلوک کرتے رہے ، اس ظلم کے خلاف جس نے بھی آواز اٹھائی اسے ریاستی طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا ۔اس ظلم کے خلاف سب سے زیادہ اتحاد کا مظاہرہ اردوبولنے والے سندھیوں نے کیا ہے اسی لئے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈہ ہے اردوبولنے والے سندھیوں کو پاکستان کی سرزمین سے صفایاکردیا جائے ، ایم کیوایم اور اردوبولنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت میرے ہزاروں ساتھی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں، حراست کے دوران ان پر انسانیت سوز تشددکیا جارہاہے اورجتنی بڑی تعدادمیں مہاجروں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیاہے اتنی بڑی تعداد میں کسی قومیت کے افراد کاقتل نہیں کیاگیا، مہاجروں کے بعد بلوچوں کا قتل عام کیاگیااورپھر پختونوں کاقتل عام کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ میں پختون قوم ، ایک غیرت مند اوربہادر قوم کی حیثیت رکھتی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد بھی پختونوں کا عمل وکردار، روایات وثقافت، سوچ وفکر کاانداز اور رہن سہن کا الگ طریقہ کارتھا، پختون پانچ وقت کی نماز پڑھنے کے باوجود مذہبی انتہاء پسند نہیں تھے ۔ پاکستان میں سیاحت کیلئے سب سے بڑے مراکز صوبہ خیبرپختونخوا میں ہیں جن میں وادی سوات، کالام، کاغان، ناران ، چترال ، دیر، خاران ،ہنزہ ، ایبٹ آباد،جھیل سیف الملوک، گلگت اوربلتستان شامل ہیں ۔پوری دنیا سے سیاح ان مقامات پرآتے اوراپنے اپنے کلچر کے لحاظ سے ہرچیز کھایاپیا کرتے تھے اور غیرمسلم خواتین برقعہ پہنے بغیر ان علاقوں میں سیروتفریح کیا کرتی تھیں۔ اگر پختون عوام انتہاء پسند ہوتے تو وہ غیرملکی سیاحوں کو ان کے کلچر اورثقافت کے مطابق کھانے پینے اورگھومنے پھرنے کی اجازت نہ دیتے ۔ آج صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ صوبہ سرحد کے یہ جنت نظیرمقامات خوف ودہشت کی علامت بن گئے ہیں اور اب غیرملکی سیاح سیروتفریح کرنے کیلئے خیبرپختونخوا کے ان تفریحی مقامات پرآناپسندنہیں کرتے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پختون امن پسنداور اعتدال پسندقوم تھی اوروہ مذہبی انتہاپسندنہیں تھے، باچہ خان کافلسفہ عدم تشدد کاتھا کہ کسی کونہ مارو اورسب سے محبت کرولیکن باچہ خان اورولی خان کوانڈین ایجنٹ کہاگیااوریہ الزام لگایاگیاکہ انہیں انڈیاسے مدد ملتی ہے۔ جب افغانستان پر روس نے قبضہ کیاتو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے صوبہ سرحدمیں بڑے پیمانے پر مدرسے بناکرپختونوں کی برین واشنگ کی، انہیں یہ سبق پڑھایاکہ روس نے افغانستان پر قبضہ کرلیاہے وہ پاکستان پربھی حملہ کرے گا ، روس کافرہے جبکہ امریکہ اہل کتاب ہے لہٰذاہمیں امریکہ کی مددکرنی چاہیے۔یہ درس دے دیکرپختونوں کوروس کے خلاف استعمال کیاجس میں سب سے زیادہ نقصان پختونوں کاہوا ۔افغانستان مجاہدین بھیجنے کے لئے خیبرپختونخوا میں تومدرسے قائم کئے گئے لیکن پنجاب میں مدرسے قائم نہیں کئے گئے ،پنجاب کے لوگوں کوروس کے خلاف استعمال نہیں کیاگیا اوروہاں مذہبی انتہاپسندی پھیلنے نہیں دی گئی بلکہ پنجاب کے قلمکاروں ، لکھاریوں او رتجزیہ کاروں کومجاہد بنانے کااستاد بناکرپیش کیا جانے لگااوروہ پختونوں کویہ درس دیتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ تعدادمیں جہادپرجاؤ لیکن نہ وہ خود گئے اورنہ ہی پنجاب کے لوگوں کوبھیجا۔ انہوں نے کہاکہ اگرافغانستان پر روس نے قبضہ کیاتھاتوآپ اپنی سرحدوں کادفاع کرتے لیکن افغانستان سے روس کونکالنے کیلئے پاکستان کے پٹھانوں کواستعمال کیاگیا۔جب روس شکست کھا کر افغانستان سے چلاگیاتوپختونوں کوانتہامذہبی انتہاپسندبنادیا کہ روس کے چلے جانے کے بعدانہوں نے اپنے ہی لوگوں کاقتل عام شروع کردیا۔پختونوں کوطالبان، القاعدہ اورداعش سے جوڑ دیاگیا۔انتہاپسندی کی وجہ سے صوبہ سرحدطالبان، القاعدہ کا مرکزبن گیا توپوری دنیانے کہنا شروع کردیاکہ یہ علاقے دہشت گردی کے مراکز ہیں۔ جب امریکہ اوراتحادیوں نے طالبان اورالقاعدہ کومارنے کیلئے بمباری کی توطالبان اورالقاعدہ کی قیادت توافغانستان چلی گئی لیکن عام پختونوں کانقصان ہوا اور آج بھی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں عام پختون ہی مارے جارہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے تنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے کہا کہ وہ عالمی اداروں کو خطوط لکھ کرانہیں پاکستان میں مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں اورپختونوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کڑے حالات میں جرات وہمت اور صبرواستقامت کامظاہرہ کرنے اورتحریک کاکام جاری رکھنے پر تمام شعبہ جات کے ارکان اورتمام کارکنوں، ماؤں ، بہنوں اوربزرگوں کوخراج تحسین پیش کیا۔

12/7/2016 8:03:15 PM