Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کسی ملک سے کوئی پیسہ یامدد نہیں لیتی۔الطا ف حسین


ایم کیوایم کسی ملک سے کوئی پیسہ یامدد نہیں لیتی۔الطا ف حسین
 Posted on: 7/5/2015 1
ایم کیوایم کسی ملک سے کوئی پیسہ یامدد نہیں لیتی۔الطا ف حسین
ہم پر انڈیاسے تعلق اوراس سے پیسہ لینے کابہتان لگایاجارہاہے
ہم پاکستان بنانے والے ہیں اورہم پاکستان کوسلامت دیکھناچاہتے ہیں
پاکستا ن میں جس نے بھی عوام کے حقوق کے لئے آوازاٹھائی اس رہنما پر غداری کے الزامات لگائے گئے
باچہ خان کوغدارکہاگیا، بلوچ رہنماؤں پر غداری کے الزامات لگائے گئے،بینظیربھٹوکوسیکوریٹی رسک قراردیاگیا
سندھ کے دیگررہنماؤں کوغدارقراردیاگیااوراب ایم کیوایم کوغدار قراردیا جارہا ہے
ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایالیکن چارپانچ نسلیں گزرجانے کے بعدبھی ہمارے ساتھ غیروں جیساسلوک کیاجارہاہے
نجانے کن وجوہات کی بناء پر جی ایچ کیواورآئی ایس آئی کی فائلوں سے ایم کیوایم کے خلاف جھوٹی سچی باتوں کوختم کرکے اسے دل سے تسلیم نہیں کیاجاتا
ہم پر طرح طرح کے الزامات تھوپے جارہے ہیں کراچی آپریشن کی آڑ میں ہمیں ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے 
رینجرزکی جانب سے لگایاجانے والا یہ الزام سراسرغلط اوربے بنیاد ہے کہ ایم کیوایم کی تنظیمی کمیٹی یونٹ اورسیکٹرکوعسکری تربیت دیتی ہے
کہاجاتاہے کہ عمران خان کے دھرنے پر 30 ارب روپے خرچ ہوئے ، اگر 6 ارب روپے لوگوں سے چندہ لیاتوپھر 24 ارب روپے کہاں سے آئے ؟
ذمہ داروں اور کارکنوں پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے ، بزرگ ، مائیں اور بہنیں میدان عمل میں آکر تحریک کے کام کوسنبھالیں
لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں خواتین اوربزرگ کارکنوں کے اجلاس سے فون پر خطاب

کراچی ۔۔۔ 5 جولائی 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم پاکستان بنانے والے ہیں اورہم پاکستان کوسلامت دیکھناچاہتے ہیں لیکن کراچی آپریشن کی آڑ میں ہمیں ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے اورہم پر انڈیاسے تعلق اوراس سے پیسہ لینے کابہتان لگایاجارہاہے۔انہوں نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاکہ ایم کیوایم کسی ملک سے کوئی پیسہ یامدد نہیں لیتی۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج شام لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں خواتین اوربزرگ کارکنوں کے اجلاس سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستا ن میں جس نے بھی عوام کے حقوق کے لئے آوازاٹھائی اس رہنما پر غداری کے الزامات لگائے گئے ،خان عبدالغفارخان المعروف باچہ خان کوغدارکہاگیا، نیپ کوغدارکہاگیا، بلوچ رہنماؤں پر غداری کے الزامات لگاکر انکے خلاف فوج کشی کی گئی،بینظیربھٹوکوسیکوریٹی رسک قراردیاگیا، سندھ کے دیگررہنماؤں کوغدارقراردیاگیااوراب ایم کیوایم کوغدار قراردیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غداری کے الزامات لگانے کاسلسلہ بندہوناچاہیے اورسیاسی جماعتوں کے وجود اوران کے مینڈیٹ کااحترام کیاجاناچاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف 19جون 1992ء سے جوریاستی آپریشن شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے اورنجانے کن وجوہات کی بناء پر جی ایچ کیواورآئی ایس آئی کی فائلوں سے ایم کیوایم کے خلاف جھوٹی سچی باتوں کوختم کرکے اسے دل سے تسلیم نہیں کیاجاتااوراس پر طرح طرح کے الزامات تھوپے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں انتہاپسندہندؤں کے ہاتھوں مارے جانے والے مسلمانوں کویہ تواحساس ہوتاہے کہ انہیں ہندو مارتے ہیں لیکن ہمیں تویہاں کلمہ گو مسلما ن ظلم وستم کانشانہ بنارہے ہیں، ہمارے آنسو پونچھنے والاکوئی نہیں ہے اورہم خودہی ایک دوسرے کوتسلیاں دیتے ہیں۔ 
ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایالیکن چارپانچ نسلیں گزرجانے کے بعدبھی ہمارے ساتھ غیروں جیساسلوک کیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کو کچلنے اورصفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل کیاجارہا ہے ایم کیوایم دشمنی میں مہاجروں کے سیاسی ، آئینی ، قانونی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے اور ایم کیوایم کے ذمہ داروں اور کارکنوں پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے ۔ایم کیوایم کے خلاف کارروائیوں میں رمضان المبارک تک کاکوئی احترام نہیں کیاجارہاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرزکی جانب سے لگایاجانے والا یہ الزام سراسرغلط اوربے بنیاد ہے کہ ایم کیوایم کی تنظیمی کمیٹی یونٹ اورسیکٹرکوعسکری تربیت دیتی ہے ۔ رینجرزکی جانب سے فخریہ طورپریہ اعلان کرنا کہ ہم ایم کیوایم کے سیکٹراوریونٹ کے انچارجزکوگرفتارکریں گے ،اس بات کااقرارہے کہ کراچی میں آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہائیکورٹ، سپریم کورٹ ، انسانی حقوق کی انجمنیں بھی موجود ہیں لیکن نہ توعدالتیں اس ظلم کانوٹس لے رہی ہیں اورنہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ظلم کے خلاف آوازبلندکررہی ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل تک کہاجاتاتھاکہ ایم کیوایم زورزبردستی سے ووٹ لیتی ہے آج یہ بہتان تراشی کی جارہی ہے کہ ایم کیوایم زبردستی زکوٰۃ ، فطرہ ، عطیات اور قربانی کی کھالیں جمع کرتی ہے ۔رینجرز کی جانب سے زکوٰۃ فطرے کے عطیات جمع کرنے کے عمل کوبھتہ قراردیکر ایم کیوایم کے فلاحی ادارے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں اورکھلے کھلے اعلانات کئے جارہے ہیں کہ اسے زکوٰۃ فطرہ جمع کرنے نہیں دیاجائے گاجبکہ مذہبی جماعتوں حتیٰ کہ کالعدم جہادی تنظیموں کوبھی زکوٰۃ فطرے اورفنڈزجمع کرنے کی اجازت ہے ۔انہوں نے سوال کیاکہ کس آئین اورکس قانون کے تحت کسی فلاحی ادارے کیلئے زکوٰۃ فطرے کے عطیات جمع کرنا جرم ہے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان شوکت خانم اسپتال کیلئے پوری دنیاسے مددلے تووہ چندہ اورفنڈریزنگ ہے لیکن ایم کیوایم چندے لے تواسے بھتہ قراردیدیاجاتاہے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیانوازشریف نے سعودی عرب سے مددنہیں لی؟کیا مولانا طاہر القادری دنیابھرمیں فنڈجمع نہیں کرتے ؟انہیں لوگ پیسہ دیں تووہ چندہ ہے اورعوام ہمیں دیں تو اسے بھتہ کیوں کہاجاتاہے؟انہوں نے کہاکہ ہم پرکیسے ہی الزامات لگائے جائیں لیکن ہم عوام کے عطیات سے غریب ومستحقین کی مددکرتے رہیں گے۔جناب الطا ف حسین نے عمران خان کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات کے حوالے سے کہاکہ کہاجاتاہے کہ عمران خان کے دھرنے پر 30 ارب روپے خرچ ہوئے ، اگر 6 ارب روپے لوگوں سے چندہ لیاتو پھر 24 ارب روپے کہاں سے آئے ؟ انہوں نے کہاکہ دراصل 2004ء میں ہندوستان ٹائمزنے ساؤتھ ایشیامیں امن واستحکام اور لیڈرشپ کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس کی جس میں انڈیاکے وزیراعظم من موہن سنگھ، برطانیہ کے سابق وزیراعظم جان میجر ، امریکہ کے سابق سیکریٹری خارجہ ہینری کسنجر، سری لنکاکی سابق صدربندرانائیکابھی شریک تھیں۔ اس کانفرنس میں مجھے Key note مقررکے طورپرمدعوکیاگیاتھا۔ کانفرنس میں عمران خان کوبھی مدعو کیا گیا تھالیکن کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایک ہی ٹیبل پر بٹھایاگیاتھا جبکہ عمران خان کودوسری ٹیبل پر سرمایہ داروں کے ساتھ بٹھایاگیا۔کانفرنس سے میری اختتامی تقریر کے دوران کانفرنس ہال کھچاکھچ بھراہواتھا ۔مجھے دی جانیوالی اس اہمیت اورعزت افزائی پر عمران خان کوبہت جلن ہوئی اورلگتاہے کہ ان کی یہ جلن آج تک ختم نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف پروپیگنڈہ کیاجاتا ہے کہ ایم کیوایم اسلحہ کے زور پر ووٹ حاصل کرتی ہے اوردھاندلی کے ذریعہ انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے لیکن 2013ء کے ضمنی انتخابات خصوصاً قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں جب پولنگ اسٹیشنوں اور پولنگ بوتھ کے اندر اورباہر رینجرز تعینات تھی،رینجرزکی نگرانی میں ووٹوں کی گنتی کرائی گئی، پولنگ بوتھ کے اندرسی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے،کئی جگہ ووٹنگ کا عمل جان بوجھ کر تاخیرسے شروع کیا گیا،رینجرز اہلکاروں کی جانب سے خواتین ووٹروں کو ہراساں کیا گیا ،زبردستی ان کے بیلٹ پیپرز لیکر ’’بلے ‘‘ پر مہرلگائی اورینجرزنے عوام کوطرح طرح سے تنگ کیا،اس کے باوجود عوام نے ایم کیوایم کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی 37 سالہ جدوجہدمیں ماؤں ، بہنوں اور بزرگوں نے بھی مجاہدانہ کردارادا کیا ہے ، جب جب تحریک پر کڑی آزمائش آیااور ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرکے ایم کیوایم کو دیوارسے لگانے کا عمل کیاگیا تب تب قوم کے بزرگوں اورماؤں بہنوں نے میدان عمل میں آکر تحریک کی باگ ڈورسنبھالی اور تنظیمی اموراپنے ہاتھوں میں لے لیے ۔ماضی میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کے دوران بہادرماؤں بہنوں اوربزرگوں نے ہی نائن زیروکوکھولے رکھا۔حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیاجب ہمارے نوجوانوں اوربزرگوں کواپنے شہیدوں کے جنازے تک اٹھانے نہیں دیئے گئے توایسے میں ہماری بہادرماؤں بہنوں نے خودآگے بڑھ کر شہیدوں کے جنازے ا ٹھائے اورجنازوں کوکاندھادے کرانہیں قبرستانوں تک پہنچایا۔حق پرست ماؤں، بہنوں اوربزرگوں نے ماضی میں ظلم وبربریت کاجس جرات وبہادری سے سامناکیااس پر انہیں سلام پیش کرتاہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر تحریک پر کڑی آزمائش کا وقت آگیا ہے،استحصالی قوتیں جبروتشدد اورظلم وبربریت کے ذریعہ ایم کیوایم کو کچلنے کی سازش میں مصروف ہیں،کراچی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کو کچلنے اورصفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل کیاجارہا ہے اورایم کیوایم دشمنی میں مہاجروں کے سیاسی ، آئینی ، قانونی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، پولیس اور رینجرز کی جانب سے رمضان المبارک کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کیاجارہا ہے اور اس ماہ مقدس میں بھی چھاپے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے سینکڑوں ذمہ داروں اورکارکنوں کوبھیڑ بکریوں کی طرح گرفتارکیاجارہا ہے،حراست کے دوران ان کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیاجارہا ہے اوراب تک 50 سے زائد کارکنان لاپتہ ہیں اوران کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جارہا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ رینجرز نے پورے سندھ بالخصوص کراچی کو مقبوضہ علاقہ بنارکھا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ملک بھر کے مظلوم عوام بشمول خواتین اورمذہبی اقلیتوں کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد کررہی ہے ، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہتی ہے اورملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ پاکستان میں صحیح معنوں میں جمہوریت کو مضبوط کیاجاسکے۔ایم کیوایم کے فکروفلسفہ کو عوام میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ایم کیوایم کے خلاف منفی پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں ، ٹی وی ٹاک شوز میں بعض متعصب اینکرپرسن جج بن کر ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کررہے ہیں تاکہ عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرکے انہیں ایم کیوایم سے بدظن کیاجاسکے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر تحریک پر کڑی آزمائش کا وقت آیا ہے ،ان حالات میں جبکہ تحریک کے ذمہ داروں اور کارکنوں پرعرصہ حیات تنگ کیاجارہا ہے ، قوم کے بزرگوں ، ماؤں اور بہنوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ میدان عمل میں آکر ہمت وجرات کے ساتھ حالات کاسامنا کریں ۔جناب الطاف حسین نے صوبہ کے مستقل باشندوں بالخصوص سندھی بولنے والے سندھیوں اور اردوبولنے والے سندھیوں پرزور دیا کہ وہ آپس کے اختلافات ختم کرکے ایک ہوجائیں اورآپس میں لڑنا بند کرکے صوبے اور عوام کی ترقی کیلئے ایک ہوجائیں ، تاکہ صوبہ ترقی کرے ، صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل حل ہو،صوبہ میں مقامی پولیس کا نظام نافذکیاجاسکے اور امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنایاجاسکے ۔انہوں نے کارکنوں، ذمہ داروں، ماؤں بہنوں بزرگوں کواس کڑے اورآزمائش کے وقت میں ثابت قدمی اورجرات وہمت سے کام کرنے پر سلام تحسین پیش کیا۔ 

9/29/2016 6:47:53 PM