Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حلفیہ بیان دیتاہوں کہ ایم کیوایم کا بھارتی ایجنسی را سے کوئی تعلق نہیں ہے۔الطاف حسین


حلفیہ بیان دیتاہوں کہ ایم کیوایم کا بھارتی ایجنسی را سے کوئی تعلق نہیں ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 6/28/2015
حلفیہ بیان دیتاہوں کہ ایم کیوایم کا بھارتی ایجنسی را سے کوئی تعلق نہیں ہے۔الطاف حسین
را پاکستان کی دشمن ہے اورجوپاکستان کادشمن ہے ایم کیوایم اس کی دشمن ہے 
اگر بھارت یا را نے پاکستان کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کی اور پاک فوج کو بھارت سے لڑنا پڑا تو ایم کیوایم کے کارکنان ، پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہیں
ہم پاکستان سے سچی اورغیرمشروط محبت کرتے ہیں،پاکستان ہماراوطن تھا،پاکستان ہماراوطن ہے اورہمیشہ رہے گا
رابطہ کمیٹی غورکررہی ہے کہ ظلم وبربریت کے خلاف دھرنے کا اعلان کیاجائے لہٰذا ذمہ داران اس کی تیاری کرلیں
رابطہ کمیٹی ، حق پرست سینیٹرز،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور شعبہ جات کے ذمہ داران کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن ۔۔۔ 29 جون 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ میں اللہ کی قسم کھاکر حلفیہ بیان دیتاہوں کہ ایم کیوایم کا بھارتی ایجنسی را سے کوئی تعلق نہیں ہے، را پاکستان کی دشمن ہے اورجوپاکستان کادشمن ہے ایم کیوایم اس کی دشمن ہے ۔میں تمام ترمظالم کے باوجود یقین دلاتا ہوں کہ اگر بھارت یا را نے پاکستان کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کی اور پاک فوج کو بھارت سے لڑنا پڑا تو ایم کیوایم کے کارکنان ، پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہیں ۔ ہم پاکستان سے سچی اورغیرمشروط محبت کرتے ہیں،پاکستان ہماراوطن تھا،پاکستان ہماراوطن ہے اورہمیشہ رہے گا،ہم اس وطن کوچھوڑکرکہیں اورجانے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رابطہ کمیٹی غورکررہی ہے کہ ظلم وبربریت کے خلاف دھرنے کا اعلان کیاجائے لہٰذا ذمہ داران اس کی تیاری کرلیں۔ جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کااظہارآج لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست سینیٹرز،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب سند ھ کے دیگر شہروں میں بھی براہ راست سنا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد کو 37 برس گزرچکے ہیں اور ان برسوں کے دوران تحریکی کارکنان اور ہمدردوں نے انگنت نشیب وفراز کا سامنا کیا ، حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں مہاجربستیوں پر مسلح حملے کیے گئے ، حملہ آور قانون نافذ کرنے والوں کو قانون اداروں کے اہلکاروں کی سرپرستی حاصل تھی لہٰذا مہاجربستیوں پر حملے کرنے والوں کو گرفتارکرنے کے بجائے ان حملوں سے متاثرہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارکر خواتین اوربزرگوں کی بے حرمتی کی گئی اور نوجوانوں کو ایسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے مناظر صومالیہ اور فلسطین میں نظرآتے تھے ۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے اجلاس کے شرکاء سے دریافت کیا آپ ایماندار ی سے بتائیں کہ کیا مہاجروں نے کسی سندھی، بلوچ، پختون ، پنجابی یادیگر قومیت کی بستی پر مسلح حملہ کیا ہے ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا ’’بالکل نہیں‘‘ ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے ساتھ قیام پاکستان کے وقت سے ہی تعصب اورعصبیت کا مظاہرہ کیاجاتارہا ہے ، اردوبولنے والے مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازے بند کردیئے گئے تھے ،سندھ میں کوٹہ سسٹم 1973ء کو نافذ کیا گیا اس وقت ایم کیوایم اورالطاف حسین میدان میں نہیں تھے ۔ یہ کوٹہ سسٹم دس سال کیلئے نافذ کیا گیا تھا اور اس کامقصد یہ تھا کہ سندھ کی دیہی آبادی کو شہری آبادی کے برابرترقی دی جاسکے اور کوٹہ سسٹم کے تحت 40:60 کا تناسب طے کیاگیا کہ سرکاری ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے شہری علاقے کے لوگوں کو 40 فیصد اور دیہی علاقے کے لوگوں کو60 فیصد حصہ دیا جائے گا۔حقیقت یہ تھی کہ گاؤں دیہات پورے ملک میں تھے لیکن دیہی آبادی کی ترقی کی آڑ میں کوٹہ سسٹم صرف صوبہ سندھ میں نافذ کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ملک میں چار صوبے بنے ،کہاجاتا ہے کہ صوبے انتظامی بنیادوں پر قائم کیے گئے جوکہ تاریخی جھوٹ ، مکروفریب اور دھوکہ ہے ،حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام صوبے خالصتاً لسانی بنیادوں پر قائم کیے گئے ۔ اس موقع پرایم کیوایم کے پختون ، سندھی، بلوچ اورپنجابی ذمہ داروں نے اپنی اپنی زبانوں میں جناب الطاف حسین کے مؤقف کی تائید کی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے سندھی بھائیوں کی ترقی کیلئے دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم قبول کرلیا لیکن یہ کوٹہ سسٹم آج کے دن تک قائم ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب نئے سندھی اور پرانے سندھی سب متحد ہوجائیں ، صوبے سے کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کیاجائے اورصوبے میں سرکاری ملازمتوں کیلئے خالصتاً میرٹ کا نظام نافذ کیاجائے ۔ انصاف کے ساتھ سندھ کے شہری علاقوں میں بھی ترقیاتی فنڈز تقسیم کیے جائیں ، پانی ، بجلی اورگیس کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں کرپشن عام ہے اور کرپشن سے صحافت کا شعبہ بھی محفوظ نہیں رہا ۔حق وصداقت ،اعلیٰ تہذیب اورثقافتی اقدارپر چند باضمیر، غیرت منداورایماندار افرادہی عمل پیرا ہیں جوجھوٹ بولنا اور رشوت لینا گناہ سمجھتے ہیں ۔ ٹی وی اینکرپرسنز کی اکثریت جو ایک دوسرے سے ادھار مانگ کرگزاراکرتے تھے آج قیمتی گاڑیوں اور بڑے بڑے بنگلوں کے مالک بن چکے ہیں اور اپنی محفل سجاکر ایم کیوایم کو ملک دشمن ثابت کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی وی پر خودساختہ بیانات نشر کرکے تمام محب وطن پاکستانیوں کوصرف ایم کیوایم سے متنفر ہی نہیں کیاجارہا بلکہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایم کیوایم ملک دشمن جماعت اور غیرملکی ایجنٹ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بانیان پاکستان کی اولادوں پر یہ جھوٹے الزامات لگانے والے صحافی ، اینکرپرسنز اورتجزیہ نگار خود غیرملکی ایجنٹ ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ پانچ کروڑ سے زائد مہاجر ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ومنظم ہیں ، اگر’’مائنس الطاف‘‘ فارمولے کے تحت الطاف حسین کو سازش کے ذریعہ قیادت سے ہٹایا گیا ان کروڑوں منظم مہاجر تو کجا اس اجلاس کے شرکاء تک کو ایک پرچم تلے متحد نہیں رکھا جاسکے گا اور یہ مجمع ٹکڑیوں میں بٹ کر اپنے طورپر فیصلے کرنے لگے گا۔ یہ کوئی دھمکی نہیں ہے بلکہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ ابھی قوم ایک پرچم تلے متحد ہے اور اپنے قائد پریقین رکھتی ہے ، عوام کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے محبت ڈالی ہے اور یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ میرے ساتھیوں کی اکثریت میری بات مان لیتی ہے اگر مجھے حملہ کرکے ، قتل کرکے یا سازش کرکے قیادت سے ہٹایا جائے گا پھر ان کروڑوں عوام کو سمجھانے والا کون ہوگا؟ آج عوام کو ڈرایا جارہا ہے کہ زکوٰۃ فطرہ کی رقم ایم کیوایم کو نہ دی جائے ، اس سے قبل این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں کہاگیاکہ ایم کیوایم کو ووٹ نہ دیئے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر عالمی سطح پر غیرجانبدار کمیشن تشکیل دیا گیا تو سینکڑوں خواتین اور بزرگ گواہی دینے کیلئے موجود ہیں کہ جن کے ہاتھ سے رینجزر کے اہلکاروں نے بیلٹ پیپرز چھین کر ’’بلے ‘‘ پر ٹھپے لگائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں بھی ایم کیوایم پر بہتان تراشی کی گئی ، روزنامہ جنگ اخبار کی شہ سرخی کے ساتھ یہ خبر نشرکی گئی کہ ایم کیوایم، جناح پور بناناچاہتی ہے، سابق آرمی چیف آصف نوا زجنجوعہ نے بیان دیا کہ اگر مسلم لیگ ، کئی لیگ ہوسکتی ہے تو ایم کیوایم دویا دوسے زیادہ کیوں نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ فوجی جنرل کا یہ کام نہیں ہے کہ کس جماعت میں کتنے گروپ ہونے چاہئیں بلکہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اپنے ملک کا دفاع کیسے ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے لیکن جب ہینڈگرینیڈ سے مجھ پر خود کش حملہ کیا گیا تو ساتھیوں نے مجھے بیرون ملک جانے کا مشورہ دیا کہ آپ دوربیٹھ کر ہماری رہنمائی کریں ۔ دشمن عناصر مجھے قتل کرنے میں ناکامی پر مجھے ملک دشمن، دہشت گرد، قاتل اور نجانے کیا کیا الزامات دیتے رہے ، انہی الزامات کے تحت پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ، حکومت اور پیمرانے میری تقریر پر پابندی عائد کردی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر ہمارے صفوں میں سماج دشمن عناصر کی موجودگی کی اطلاع ہے تو ہمیں اعتماد میں لیاجائے ، ہم ایسے عناصر کو اپنی تحریک سے نکال دیں گے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کیلئے ایم کیوایم میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ بھتہ خوری ، اسٹریٹ کرائمز ، اغواء کی وارداتوں ، چوری چکاری اور زبردستی زکوٰۃ فطرہ یا کھالیں جمع کرنا میری تعلیمات نہیں ہیں۔ اگر کوئی فرد واحد یہ عمل کرے تو ثبوت ملنے پر ایم کیوایم کی جانب سے تنظیمی کارروائی کی جاتی ہے ۔ اگر آپ کے علم میں آئے کہ ایم کیوایم کی صفوں میں فلاں کریمنل موجود ہے تو ہمیں ثبوت کے ساتھ بتایا جائے ،ہم ثبوت کی روشنی میں ایسے شخص کو اپنی پارٹی سے نکال دیں گے پھرآپ اسے گرفتارکرکے عدالت میں پیش کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہم نے غلط حرکات کی بنیادپر ہزاروں افراد کو پارٹی سے نکالا ہے کیونکہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کیلئے ایم کیوایم میں زیروفیصد ٹولیرنس ہے اور جرائم پیشہ عناصر کیلئے ایم کیوایم میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ کیا دنیابھر کی خفیہ ایجنسیوں میں ایسے لوگ نہیں ہوتے جو انفرادی طورپر اپنے ہی ملک کے خلاف کام کررہے تھے اورجب ان ممالک کو یہ علم ہوا تو انہوں نے ایسے عناصرکاکورٹ مارشل کرکے انہیں سزائیں دیں ، ایم کیوایم کسی کاکورٹ مارشل نہیں کرسکتی البتہ سماج دشمن عناصر کو اپنی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، بانیان پاکستان کی اولادوں کی جماعت ہے ، ہم نہ کل پاکستان اورمسلح افواج کے دشمن تھے اور نہ آج ہیں ۔ٹیلی ویژن پر جوعناصر ہمارے خلاف گمراہ کن خبریں نشرکررہے ہیں انہیں خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جن کی سپورٹ پر یہ عمل کررہے ہیں وہ کل اپنی اپنی پوسٹوں پرنہیں رہیں گے جبکہ آپ اورہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنے گزشتہ خطاب میں ڈی جی رینجرز بلال اکبر کے حوالہ سے کہاتھاکہ آپکا نام بڑا مقدس ہے لہٰذا آپ کو ایماندارانہ فیصلے کرنے چاہئیں اور یہ بات خوف خدا کا احساس دلانے کیلئے ہمیشہ کہی جاتی ہے کہ ظلم نہ کرو، اللہ سے ڈرو اورکیاتمہارے بھی والدین، بہن بھائی اور بچے نہیں ہیں ؟ اس بات کودھمکی سے تعبیر کرنا سراسر غلط فہمی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے ڈی جی رینجرز بلال اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جنرل صاحب آپ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور را سے لڑنا ہے میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں نے مذکورہ بالا بات آپ کودھمکی دینے کی غرض سے نہیں کی تھی ۔ جناب الطاف حسین نے ٹی وی چینل کے مالکان اور کرتادھرتا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ایم کیوایم کے خلاف جتنے چاہیں گمراہ کن پروپیگنڈے کرلیں لیکن میں آج حلفیہ اور قسمیہ کہتاہوں کہ ایم کیوایم یا الطاف حسین کا ’’را‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم نہ تو را کے ایجنٹ ہیں اورنہ ہماری را سے دوستی ہے ۔ انڈیا اور اس کی خفیہ ایجنسی را پاکستان کی دشمن ہے اور جو پاکستان کا دشمن ہے وہ ایم کیوایم کا بھی دشمن ہے ۔ میں تمام ترمظالم کے باوجود یقین دلاتا ہوں کہ اگر بھارت یا را نے پاکستان کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کی اور پاک فوج کو بھارت سے لڑنا پڑا تو ایم کیوایم کے کارکنان ، پاکستان کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہیں ۔ ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ پولیس کو مبینہ طورپر دیئے گئے مبینہ اقبالی بیانات کو بنیادبناکرایم کیوایم کامیڈیاٹرائل کیاجارہاہے اوراسے بھارت کا، را کاایجنٹ ثابت کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ میں اس سازش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ میں الطاف حسین ولدنذیرحسین مرحوم، میرادادا کانام حافظ محمدمفتی رمضان ہے جو مفتی اعظم جامع مسجدآگرہ تھے،میں ان کاپوتاہوں۔ میں اللہ کی قسم کھاکر حلفیہ بیان دیتاہوں کہ ایم کیوایم کا را سے کوئی تعلق نہیں ہے، را پاکستان کی دشمن ہے اورجوپاکستان کادشمن ہے ایم کیوایم اس کی دشمن ہے، راپاکستان کی دشمن ہے ، ایم کیوایم اس کی دوست نہیں ہوسکتی بلکہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ ملکر را سے لڑنے کیلئے تیارہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرعوام پاکستان سے سچی محبت کرنے والے ہیں،ہم ان لوگوں کی اولادیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان بنایابلکہ اس وطن کی محبت میں اس سرزمین کوچھوڑدیا جہاں ان کے آباؤاجداد ہزارہاسال سے آبادتھے۔ اس وطن کی محبت میں ہم دلی کی لال مسجد چھوڑ آئے ،آگرہ کاتاج محل چھوڑآئے ،گنگاجمنا کاکنارہ چھوڑآئے ۔وہ گلیاں،وہ کوچے چھوڑ آئے جہاں ہمارے آباؤاجداد پل کرجوان ہوئے،بوڑھے ہوئے ،ہم اپنے بزرگوں کی قبریں ، یادگاریں اوربزرگان دین کے مزارات چھوڑآئے ۔اپنی حویلیاں، باغات اور بھرے بھرائے گھرچھوڑآئے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں نے پاکستان کے لئے صرف ہجرت نہیں کی بلکہ پاکستان کے نام پرکی جانے والی اس ہجرت کے دوران 20لاکھ جیتے جاگتے انسانوں کی قربانی بھی دی ،آگ اورخون کے دریاعبورکئے ،اس ہجرت میں لاکھوں خاندان کٹ گئے ، اجڑگئے،ماؤں کی گودیں اجڑگئیں،بہنوں کے سہاگ ان سے چھین لئے گئے ،حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے ان کے نومولودبچوں کونیزوں پر اچھالا گیا ، ہزاروں باپردہ عورتوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں ، بزرگوں کے سامنے ان کے جوان بیٹوں کوبیدردی سے ذبح کردیاگیا،ہنستے بستے گھروں کو نذر آتش کردیا گیا،کونساظلم تھا جو نہ کیاگیا لیکن تمام ترمظالم اورآگ اورخون کے دریا عبور کرنے کے باوجود ہمارے بزرگ یہی نعرے لگاتے رہے ’’ بٹ کے رہے گاہندوستان ۔۔۔ بن کے رہے گاپاکستان ‘‘ ۔پاکستان کے لئے اتنی لازوال قربانیاں دینے کے باوجود مہاجروں کی حب الوطنی پر شک کرنا کہاں کاانصاف ہے ؟۔انہوں نے کہاکہ آج ہمارے دل دکھی ہیں ، غم سے ہمارے کلیجے بوجھل ہیں سینے چھلنی ہیں۔پاکستان میں الذوالفقاربھی بنی،پی آئی اے کاطیارہ ہائی جیک کیاگیا، غلام مصطفےٰ کھرنے کہاکہ ’’ ہم بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کرآئیں گے ‘‘ ۔ ہم نے توایساکبھی نہیں کہاپھرہم پرغداری کاالزام کیوں لگایاجارہاہے؟ انہوں نے کہاکہ ہمیں ہماراحق نہیں دیتے، ملازمتیں نہیں دیتے ،ہمارے بچوں کوپروفیشنل اداروں میں داخلے نہیں دیتے کم از کم ہماری حب الوطنی پر شک تونہ کریں،ہمیں RAWکاایجنٹ اور غدارتونہ کہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جولوگ آج اچھل اچھل کر ایم کیوایم پر را کاایجنٹ ہونے کا الزام لگارہے ہیں میں ان کو اورپوری قوم کوواضح طورپرحلفیہ ،قسمیہ طورپر بتاتاہوں کہ میرا یا ایم کیوایم کابھارت سے یا RAW سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم پاکستان سے سچی اورغیرمشروط محبت کرتے ہیں،پاکستان ہماراوطن تھا،پاکستان ہماراوطن ہے اورہمیشہ رہے گا،ہم اس وطن کوچھوڑکرکہیں اورجانے والے نہیں ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم نے ماضی میں بھی ہرکڑے اورمشکل وقت میں پاکستان اورافواج پاکستان کاساتھ دیا ہے اوراگرآئندہ بھی بھارت نے یا RAW نے یابھارت سمیت کسی بھی دشمن نے پاکستان کونقصان پہنچانے کی کوشش کی توہم دفاع پاکستان کے لئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختراورڈی جی رینجرزجنرل بلال کومخاطب کرتے ہوئے ان سے کہاکہ آپ میری باتوں کاغلط مطلب نہ لیں،ہمیں فوج کادشمن نہ سمجھیں۔میں نے ضر ب عضب کے موقع پر بھی فوج کوبھرپورتعاون کی پیشکش کی اور آج ایک بارپھریہ پیشکش کرتاہوں کہ اگرپاکستان کے دفاع کے لئے انہیں جب بھی ضرورت پڑے، ایم کیوایم کے کارکنان رضاکارانہ طورپران کے ساتھ دفاع پاکستان کی خاطر شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہیں اورمیں ایک مرتبہ پھر اپنی یہ پیشکش دہراتاہوں کہ ہم فوج کے ساتھ ، بلکہ فوج سے آگے بڑھ کرپاکستان کے دفاع کیلئے حاظرہیں۔ میں ایک بارپھر واضح الفاظ میں کہتاہوں کہ پاکستان کاکوئی بھی دشمن ایم کیوایم کادوست نہیں ہوسکتا خواہ وہ بھارت ہو یا RAW ہو۔ میں رابطہ کمیٹی کوہدایت کرتا ہوں کہ وہ کارکنوں کے ساتھ ملکر ملک دشمنوں پر نظررکھیں۔ اگرکوئی فرد یہ دعویٰ کرے کہ اس نے بھارت سے یاکسی بھی غیرملک سے تربیت حاصل کی ہے تواس کی اطلاع فوری طورپر قانون نافذ کرنے والے اداروں کودی جائے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں ایک بارپھرواضح الفاظ میں کہتاہوں کہ ایم کیوایم حقوق سے محروم مظلوم عوام کی تحریک ہے ۔ایم کیوایم میں جرائم پیشہ عناصر کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔میں رابطہ کمیٹی کوایک بارپھریہ ہدایت کرتاہوں کہ وہ اس بات کی سختی سے کوشش کریں کہ ہماری صفوں میں کوئی بھی جرائم پیشہ شخص داخل نہ ہوسکے ۔میں رابطہ کمیٹی کوتاکیدکرتاہوں کہ وہ پوری دیانتداری اورایمانداری سے کام کریں ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے بارے میں یہ بات باربارکہی جاتی ہے کہ ایم کیوایم میں عسکری ونگ ہے،انہوں نے کہاکہ میں فوج اور رینجرز کے حکام سے پوچھتاہوں کہ آپ 2013ء سے کراچی میں آپریشن کررہے ہیں،ا س آپریشن کے دوران ہمارے دفتروں پر چھاپے مارے گئے ، ذمہ داروں اورکارکنوں کوگرفتارکیاگیا،حتیٰ کہ نائن زیروپر چھاپہ ماراگیالیکن کہیں بھی پولیس یا رینجرز کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہوا، کہیں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی جواس بات کاثبوت ہے کہ ایم کیوایم میں کوئی عسکری ونگ نہیں ہے جبکہ کراچی میں پولیس اوررینجرزنے جہاں جہاں خطرناک علاقوں میں کارروائی کی تووہاں پولیس اوررینجرزپر حملے ہوئے ، کئی کئی گھنٹوں تک مقابلے ہوئے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کاجومیڈیاٹرائل کیاجارہاہے اس میں ایم کیوایم پران گنت الزامات لگائے گئے ہیں ان میں بلدیہ ٹاؤن گارمنٹ فیکٹری کاسانحہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سانحہ میں جولوگ شہید ہوئے وہ ہمارے ووٹرزاورسپورٹرزتھے اوران میں ہر زبان بولنے والے شامل تھے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سانحہ کی مکمل غیرجانبدارانہ طورپر تفتیش کی جائے اورجولوگ بھی اس بربریت کے ذمہ دارہوں انہیں فوری گرفتارکرکے ان کا فیئر( Fair ) اورٹرانسپیرنٹ (Transparent) ٹرائل کرکے انہیں قرارواقعی سزادی جائے خواہ ان کاتعلق کسی بھی جماعت ، گروپ یاطبقہ سے ہو۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بلوچستان میں توحکومت اورعسکری اداروں کے حکام مسلح جدوجہد کرنے والے بلوچوں کیلئے اعلانات کررہے ہیں کہ وہ پہاڑوں سے اترآئیں اور ہتھیارڈال کرمعاشرے کاحصہ بن جائیں،قومی دھارے میں آجائیں،عام شہریوں کی طرح معمول کی زندگی گزاریں۔ ہتھیارڈالنے والوں کومعاف کیا جائے گا۔ ہم بھی اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ بلوچوں سے بات کی جائے اوران کی بات سنی جائے اورانہیں قومی دھارے میں لایاجائے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیوایم کو قومی دھارے سے کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے ،کراچی میںآپریشن کے نام پر ایم کیوایم کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے ،ہمارے بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکرکے جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاجارہاہے ،انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بجائے غائب کیاجارہاہے ،ان سے من پسند بیانات لینے کیلئے مہینوں مہینوں سرکا ر ی حراست میں رکھ کر تشددکانشانہ بنایاجارہاہے، انسانیت سوز تشددکرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے ،آخرہمیں دیوارسے کیوں لگایا جارہاہے؟،ہماری سیاسی سرگرمیوں پرپابندی لگاکر قومی دھارے سے کیوں کاٹا جارہا ہے ؟، ہماری فلاحی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جارہی ہیں؟یہ پالیسی تبدیل کی جائے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں اپنے پرعزم ، باہمت ، باوفااورباحوصلہ کارکنوں، ذمہ داروں، ماؤں بہنوں اور بزرگوں کوسلام پیش کرتاہوں کہ وہ چھاپوں، گرفتاریوں،نامساعدحالات ، مصائب ومشکلات کے باوجود ثابت قدمی اورمستقل مزاجی سے تحریک کاکام کررہے ہیں۔میں عوام ماؤں بہنوں اوربزرگوں کوبھی سلام پیش کرتاہوں کہ وہ تمام ترمظالم اور میڈیا پر چلائی جانے والی زہریلی اور گمراہ کن پروپیگنڈہ مہم کے باوجود گمراہ نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ اتحاد کامظاہرہ کررہے ہیں۔میں تمام ذمہ داران وکارکنان سے بھی کہتاہوں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں ،پرامن رہیں،زہریلے پروپیگنڈوں سے ہرگزمایوس نہ ہوں،ثابت قدمی، مستقل مزاجی اورصبرواستقامت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں اوراس بات پر یقین رکھیں کہ ہم حق پرتھے ،ہم حق پرہیں اورحق پرہی رہیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ قرآن مجیدکی سورۃ ’’ والعصر ‘‘ میں اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے ، ’’ قسم ہے زمانے کی کہ انسان خسارے میں ہے۔ مگروہ لوگ نہیں جوایمان لائے ،جو نیک اورصالح عمل کرتے رہے ،اورحق کی تلقین کرتے رہے اورصبرکرتے رہے ‘‘ ۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کی اس جدوجہدمیں ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔۔۔تاکہ ہم صبرواستقامت کے ساتھ اپنے مقصدکے حصول کے لئے اپنی پرامن جدوجہدجاری رکھیں۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں بہت ادب کے ساتھ فوج سے کہتاہوں کہ آپ دہرامعیارنہ اپنائیں، میں کسی کوگالی نہیں دیتابلکہ حقائق بتاتاہوں،ماضی میں فوج کے جرنیلوں نے غلط پالیسیاں اختیارکیں جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوگیا،بعدمیں بھی حکومتوں کی غلط فیصلوں کے نتیجے میں کارگل چلایا، کشمیرہم آج تک فتح نہیں کرسکے۔الطاف حسین کی تقریرنشرکرنے پر توپابندی عائدکردی گئی ہے جبکہ عمران خان نے پارٹی کے ایک اجلاس میں کہاکہ ’’ 20ہزار لوگوں کوسڑکوں پر لے آئیں توجرنیلوں کاپیشاب نکل آئے گا، یہ اتنے بزدل ہوتے ہیں‘‘ ۔ جب ٹاک شوزمیں یہ بات اٹھائی جاتی ہے تو اینکرزکہتے ہیں کہ وہ بات توپرائیویٹ تقریب میں کہی تھی ۔عمران خان کی یہ گفتگوتوسوشل میڈیاپرعام ہوچکی ہے ،اب وہ پرائیویٹ نہیں رہی۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاجنرل ضیاء الحق کاطیارہ اڑانے میں فوجی شامل نہیں تھے؟کیاکامرہ ایئربیس اورنیول بیس مہران اورجی ایچ کیوپر حملہ کرنے والوں میں فوج سے تعلق رکھنے والے افراد شامل نہیں تھے؟کیا اسامہ بن لادن کی مخبری کرنے والوں میں فوج کے لوگوں کانام نہیں آرہاہے؟ انہوں نے کہاکہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، ہم بھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ایم کیوایم فرشتوں کی جماعت ہے، اگرایم کیوایم میں بھی کچھ لوگ گندے تھے توہم نے انہیں تحریک سے نکالااورنکالاجاتارہے گا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ رابطہ کمیٹی غورکررہی ہے کہ ظلم وبربریت کے خلاف دھرنے کا اعلان کیاجائے لہٰذا ذمہ داران اس کی تیاری کرلیں۔ انہوں نے ذمہ داران سے کہاکہ عمران خان نے دھرنادیاتواس کے خلاف توفوج اوررینجرزنے ان کے دھرنے کوہٹانے کیلئے گولی نہیں چلائی لیکن یہ آپ کے دھرنے کومنتشرکرنے کیلئے گولیاں چلانے میں شرم محسوس نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم ظلم کے آگے سرنہیں جھکائیں گے اور اپنے شہیدوں کی قربانیوں کوکسی بھی قیمت پررائیگاں جانے نہیں دیں گے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کومشکوک بنانے اورعوام کوگمراہ کرنے کیلئے ٹی وی پر طرح طرح کے منفی پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ میرے کارکنان وعوام ان پروپیگنڈوں میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ حقوق کی بات کرنے پر ہم پر غداری کاالزام لگایاجارہاہے، ہم ملک سے فیوڈل ازم کاخاتمہ چاہتے ہیں، ہم پاکستان میں حقیقی جمہوری نظام قائم کرناچاہتے ہیں،ہم لبرل ہیں اورمذہبی رواداری پر یقین رکھتے ہیں، ہم ہرقسم کی دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہیں، ہم دہشت گردی اورکرپشن سے پاک پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہرشہری کو رنگ،نسل، زبان، جنس، فقہ، مسلک اورمذہب کے امتیازکے بغیر یکساں حقوق حاصل ہوں۔ ہندو، سکھ ، عیسائی، احمدی چاہے کسی بھی مذہب اورعقیدے کاماننے والاہو اگر وہ پاکستانی ہوتواس کے ساتھ مساوی سلوک ہوناچاہیے۔ جناب الطا ف حسین نے ایم کیوایم کے سینیٹرز،ایم این ایزاورایم پی ایزسے کہاکہ وہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کے لئے زکوٰۃ فطرے کے عطیات جمع کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کریں۔انہوں نے ذمہ داران وکارکنان سے کہاکہ آپ قطعی مایوس نہ ہوں، اللہ کے انصاف پریقین رکھیں، اللہ نے پہلے بھی مددفرمائی ہے اوروہ آئندہ بھی مددکرے گا۔ 


12/7/2016 8:05:46 PM