Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بی بی سی کی رپورٹ میں لگائے جانے والے الزامات کی کھل کرتردیدکرتے ہیں، الطاف حسین


بی بی سی کی رپورٹ میں لگائے جانے والے الزامات کی کھل کرتردیدکرتے ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 6/25/2015
بی بی سی کی رپورٹ میں لگائے جانے والے الزامات کی کھل کرتردیدکرتے ہیں، الطاف حسین
لندن۔۔۔25، جون2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطا ف حسین نے کہاہے کہ ہم بی بی سی کی رپورٹ میں لگائے جانے والے الزامات کی کھل کرتردیدکرتے ہیں، یہ سارے الزامات جھوٹے ہیں۔انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم کے جنرل ورکزاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین کا یہ خطاب امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ اور پاکستان بھرکے مختلف شہروں میں بیک وقت براہ راست سناگیا ۔ جنرل ورکرز اجلاس کامرکزی اجتماع لال قلعہ گراؤنڈعزیزآباد میں منعقد ہوا جس میں ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں نے بہت بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے سورۃ الکوثر کی تلاوت کے بعد اپنے خطاب میں کہاکہ ایم کیوایم کی تحریک 37 برسوں سے جاری ہے اور ان برسوں کے دوران 37 ہزار سے زائد مرتبہ ایم کیوایم کو ختم کرنے کی سازشیں کی گئیں ، ایم کیوایم کوکچلنے کیلئے کئی بار آپریشن کیے گئے ، ہزاروں کارکنوں کو سفاکی سے ماورائے عدالت قتل کردیا گیا اور ایم کیوایم کے خلاف باربار جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیالیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ایم کیوایم کوختم کرنے کی سازشیں کرنے والے خود ختم ہوگئے اور ایم کیوایم آج بھی دائم وقائم اور سلامت ہے ۔ہزارہا سازشیں کرنے کے باوجود نہ ایم کیوایم کو ختم کیا جاسکا، نہ ایم کیوایم میں گروپس بنائے جاسکے اور نہ ہی کارکنان وعوام کے دلوں سے الطاف حسین کی محبت نکالی جاسکے لہٰذا استحصالی قوتوں کے سامنے واحد راستہ رہ گیا ہے کہ الطاف حسین کوراستے سے ہٹا دیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آج تحریک اس نہج پر آگئی ہے کہ اس کے گردچاروں اطراف سازشوں کا جال بچھادیا گیا ہے ، اگر ایم کیوایم قوتیں(خدانخواستہ) آپ کے الطاف بھائی کو قتل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو آپ اس تحریکی جدوجہد کو جاری رکھنا، ظلم اورجبرکی طاقتوں کے آگے سرینڈر نہیں کرنا اور صبروتحمل کے ساتھ تحریکی مشن پر گامزن رہنا ، اللہ تعالیٰ ایک دن پوری قوم کوشہداء کی قربانیوں کا پھل اور منزل عطافرمائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 19، جون1992ء میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آصف نواز نے یہ اعلان کیا تھا کہ سندھ میں فوجی آپریشن اغواء برائے تاوان ، چوری ڈکیتی،قتل وغارتگری ، اسٹریٹ کرائمز اور بھتہ خوری میں ملوث 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیا جائے گا۔موجودہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے قومی اسمبلی میں 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست بھی پیش کی تھی ۔ میں چوہدری نثارعلی خان سے کہتا ہوں کہ وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں قرآن مجید اٹھاکر بتائیں کہ 72 بڑی مچھلیوں کی جو فہرست قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی اس فہرست کے مطابق فوجی آپریشن ہوا یا وہ آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف ہوا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کے دوران کاغذات کی لین دین کررہے تھے اورفرمارہے تھے کہ بی بی سی کی دستاویزی رپورٹ کے حوالہ سے صحیح نتیجے پر پہنچا جائے گا۔ اسی طرح وفاقی وزیردفاع جن کی حرکات سے پاکستان کا دفاع تو کجا پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، انہوں نے قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر رشید گوڈیل کو للکار کرکہاکہ آج شام تمہاری لوڈشیڈنگ ہونے والی ہے ۔ لوڈشیڈنگ کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ کسی علاقے کے خلاف ہوتی ہے لہٰذا وزیردفاع کو کیسے معلوم ہوا کہ اس شام بی بی سی کی جانب سے ایم کیوایم کے خلاف ڈاکومینٹری نشر کی جائے گی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹرعمران فاروق کو 16 ، ستمبر2010ء کو شہید کیا گیا تھا لیکن ہماری ماہرایجنسیوں کے اہلکارجن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ قبر سے بھی ملزم کو نکال لاتی ہیں انہیں پانچ سال تک ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل نہیں ملے اور موجودہ وزیردفاع فرماتے ہیں کہ ڈاکٹرعمران فاروق کے مبینہ قاتلوں کوپاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے چمن سے گرفتارکیاگیا ہے ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان افراد کو پانچ سال تک کس نے اورکہاں رکھا اور افغانستان کیسے پہنچایا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف ، محمود خان اچکزئی کے ساتھ چمن جاتے رہے ہیں اورافغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی خاد کے کمانڈر سے ملتے رہے ہیں ۔ وزیراعظم کسی ملک کے وزیراعظم سے تو ملاقات کرسکتا ہے لیکن کسی ملک کی خفیہ ایجنسی کے کمانڈر سے نہیں ملتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بی بی سی برطانیہ کا نشریاتی ادارہ ہے اورہم اس ادارے کا احترام کرتے ہیں لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے سچ اورجھوٹ میں تمیز کرنے کیلئے عقل بھی دی ہے ۔ آج پاکستان میں بی بی سی کی دستاویزی فلم کو ایسے بیان کیاجارہا ہے جیسے کہ نعوذباللہ وہ کوئی قرآنی آیت یا حدیث ؐ ہو ۔ جبکہ بی بی سی ، سی این این اور دیگرنشریاتی اداروں کی جانب سے مسلسل کہاجاتارہا ہے کہ عراق میں weapons of mass destruction (WMD) ہیں لہٰذا عراق پر حملہ کیاجائے لیکن کیا عراق میں ایک بھی WMD نکلا ؟ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے بھی یہی الزام لگایا گیا لیکن بعد میں سی آئی اے کے سربراہ نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا کہ سی آئی اے نے عراق میں WMD کے حوالہ سے جھوٹ بولاتھا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اگر برطانوی نشریاتی ادارہ اتنا ہی معتبر ہے تو اس کی ہرڈاکومینٹری پر یقین کرنا چاہیے ۔ 26، نومبر2008ء کو بی بی سی چینل فور نے اپنے معروف پروگرام Dispech میں ایک تحقیقاتی پروگرامTerror in Mumbai کے عنوان سے نشر کیا جس میں کہاگیا کہ بھارت میں لشکرطیبہ کے لوگ بھیجے گئے جنہوں نے جگہ جگہ گولیاں چلائیں اور انہیں بھارت بھیجنے والی ایجنسی کا نام آئی ایس آئی ہے ۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے مذکورہ تحقیقاتی پروگرام کے چند اقتباس بھی سنائے جن میں لشکرطیبہ کے دہشت گردوں کی ٹیلی فون پرگفتگو بھی شامل تھی۔ جناب الطاف حسین نے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ کل قومی اسمبلی کے ایوان میں آکر قوم کو جواب دیں کہ بی بی سی چینل فور کی رپورٹ پر ان کا کیا مؤقف ہے ۔ جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ قانون کونہ ایم کیوایم کوہاتھ میں لیناچاہیے نہ ہی آئی ایس آئی اوررینجرزکوقانون ہاتھ میں لیناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ جب سے آپریشن شروع ہواہے میرے 41کارکن ماورائے عدالت قتل کئے گئے ، 198 کارکن کی ٹارگٹ کلنگ گئی، 20کارکن لاپتہ ہیں۔فاروق ستارکی ڈی جی رینجرزسے ملاقات ہوئی ، ڈی جی رینجرزنے ان سے کہاکہ آپ ا پنے دفاترکھولیں اورسیاسی سرگرمیاں شروع کریں،آج رینجرزکوپتہ تھاکہ ہمارا جنرل ورکرزاجلاس ہے تورینجرزنے نائن زیروکے اطراف میں اسنیپ چیکنگ کے نام پر کارکنوں اورہمدردوں کوہراساں کیاگیا۔ ہم کراچی میں شدیدگرمی سے متاثرین کی مددکررہے ہیں، فلاحی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اورہم پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاسارے دہشت گردایم کیوایم میں ہیں؟سارے خلاف قانون کام ایم کیوایم کے لوگوں نے کئے ہیں؟ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمیدگل نے آئی جے آئی بنائی، سیاستدا نوں میں پیسے تقسیم کئے گئے ،سپریم کورٹ میں مشہوراصغرخان کیس چلا، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسددرانی نے پیسے تقسیم کرنے کااعتراف کیا، سپریم کورٹ میں مقدمہ ثابت ہوگیا لیکن نوازشریف کو جیل بھیجنے کے بجائے وزیراعظم بنادیاگیا۔حدیبیہ پیپر مل کیس میں اسحاق ڈارنے منی لانڈرنگ کااعتراف کیالیکن متعصب تجزیہ نگاروں کونہ نوازشریف قصوروارنظرآتے ہیں ،نہ اسحاق ڈار اور نہ ہی جنرل اسددرانی بلکہ انہیں ایم کیوایم نظرآتی ہے، انہیں غریب پنجابی، غریب سندھی، غریب بلوچی،غریب پختون، غریب مہاجر قصوروارنظرآتے ہیں،ان کی نظرمیں بڑے بڑے سرداراوروڈیرے محب وطن ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ وزیرداخلہ چوہدری نثاربرطانیہ کے عزت مآب ہائی کمشنرکوکل پھربلائیں اوران سے اسحاق ڈارکے منی لانڈرنگ اوربجلی کے سلسلے میں وزیردفاع نے جو کٹ لگایااس کی بھی تحقیقات کرائیں۔ چوہدری نثار چینل 4کی ڈاکومنٹری کی بھی تحقیقات کروائیں اوراس میں جن لوگوں کاذکرہے ان کے خلاف بھی مقدمہ چلائیں ۔چوہدری نثارنے اگر ایمانداری سے کام نہ کیاتوان کاکوئی روزہ قبول نہیں ہوگا۔چوہدری نثارنے کراچی آپریشن کے بارے میں بھی اعلان کیاتھاکہ ایک مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جائے گی جونہیں بنائی گئی۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مجھ پر ملک دشمنوں کاایجنٹ ہونے الزام لگایاجاتاہے، جولوگ ملک دشمنوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں ان کے محل ہوتے ہیں، جوایجنٹ نہیں ہوتے ان کاوہی گھرہوتاہے جوابتدامیں ہوتاہے۔ہمارے بزرگوں نے 20لاکھ جانیں دے کر پاکستان بنایا ، تم ہمیں را کا ایجنٹ کہتے ہو اوررا سے تربیت لینے کاالزام لگاتے ہو۔ ہم ان سارے الزامات کی کھل کرتردیدکرتے ہیں، یہ سارے الزامات جھوٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کی سلامتی وبقاء چاہتی ہے، اسے مضبوط ومستحکم دیکھناچاہتی ہے، ایم کیوایم کوختم کرنے کامطلب پاکستان کوختم کرناہے۔ہم پاکستان کو بچائیں گے اورپاکستان کے محر وم ومظلوم عوام کوظالموں سے نجات دلائیں گے۔انہوں نے کہاکہ 1992ء میں بریگیڈیئرآصف ہارون نے ایم کیوایم پر الزام لگایاکہ وہ جناح پوربناناچاہتی ہے،اگرخدانخواستہ ہم جناح کاپاکستان توڑناچاہتے توکیاہم اس کانام جناح کے نام پر رکھتے ؟ انہوں نے کہاکہ خدارا ہم پر جھوٹے الزامات لگانا بندکردو، نفرتیں ختم کردو، پانچ کروڑمہاجروں اوران کی نمائندہ جماعت کوختم کرنے کی سوچ ختم کردو،ہم پرظلم بندکرو اوراللہ سے ڈرو ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے پیمراکے ذریعے میرے خطابات ٹی وی پر لائیونشرکرنے پر توپابندی لگادی ہے لیکن عمران خان جس نے اپنی پارٹی کے ایک اجلاس میں یہ کہاکہ ’’ 20 ہزار لوگ سڑکوں پر لے آؤ ، جرنیلوں کاپیشاب نکل آئے گا، یہ اتنے بزدل ہوتے ہیں ‘‘۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آج رینجرزنے ایک اورجھوٹا الزام لگایاکہ ہم نے وقاص شاہ کے قاتل آصف کوپکڑلیا ہے جبکہ اسے ڈیڑھ ماہ قبل گرفتارکیاگیاتھا،وقاص کورینجرزکے اہلکاروں نے گولی ماری تھی لیکن رینجرز نے اس کاالزام بھی ایم کیوایم کے کارکن آصف پرلگادیاہے اس طرح وقاص شاہ کے قاتل اہلکاروں کوبچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بی بی سی نے اپنی ڈاکومنٹری میں خودکہاکہ اس کوپاکستان کے ذرائع نے بتایا، چوہدری نثارقوم کوبتائیں کہ یہ ذرائع کون سے ہیں۔انہوں نے چوہدری نثارسے کہاکہ کیامیں یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں کہ پاکستان کی اتھارٹیزنے اس ڈاکومنٹری کی تیاری میں مدد کی تاکہ ایم کیوایم کاامیج خراب کیاجاسکے؟انہوں نے کہاکہ میرے ساتھی بی بی سی کی رپورٹ کاجائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں وکلاء سے قانونی مشاورت کررہے ہیں۔ہم میدان میں آکر سامناکرنے والے ہیں، پیٹھ دکھاکربھاگنے والے نہیں ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کارکنوں کوشاباش اورخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ اس قدرکڑے حالات میں ثابت قدم ہیں اورتحریک سے جڑے ہوئے ہیں، میں آپ کوسلام پیش کرتاہوں۔ 
تصاویر
وڈیو

9/30/2016 5:01:20 AM